اک کہانی جو مکمل نہ ہو پائی(قسط1)۔۔۔صائمہ بخاری

کہانی۔۔ تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
زندگی ایک ایسا کھیل ہے جسے “Make Believe” کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا گویا میک بیلیو ایسا عمل ہے کہ جس میں تمنا (نفس) خواب سجھاتی ہے اور ہم تعبیر کی سعی کو جت جاتے ہیں۔۔ یوں تو ہم سبھی بچپن سے بڑھاپے تک اپنی اپنی تمناؤں سے جڑے اپنے ہی خواب کی تعبیر کرنے کی دھن میں ہر روز ، ہر پہر، ہر لمحہ یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ بچپن میں ہمارے props یا آلہء کار ہمارے کھلونے، گڑیا، ڈول ہاؤس، ٹیڈی بئیرز، ریسنگ کارز، بیٹ بالز، ایرو پلینز، سپورٹس سائیکل، گیم بوائے وغیرہ ہوتے ہیں تو بڑے ہوکر ہماری ڈگری، کیرئیر، نوکری، محبوبہ، من پسند گھر یا گاڑی، بچوں کا مستقبل اور پھر بڑھاپے میں صحت، آسان موت اور جنت کا تصور ہمیں مسلسل اسی ایک کھیل میں مصروف رکھتا ہے۔۔۔۔ گویا props یا آلہء کار بدل جاتے ہیں، البتہ کھیل اسی طرح جاری رہتا ہے اور اس کھیل کا سب سے بڑا محرک ہے ہمارا نفس (بیتاب تمنا) جو ہمیں ان گنت خواب سجھاتا اور دکھاتا ہے پھر ہم انکی تعبیر کرنے کو جت جاتے ہیں، بےقرار رہتے ہیں۔
ریور لائین ٹریک پر چلتے چلتےجب میں تھک سی گئی تو وہیں بچھے اک بنچ پر بیٹھ گئی، آج ہوا میں خنکی تھی، میں نے شانوں کے گرد شال کو لپیٹا اور اپنے کینوس شو سے زمین پر بچھی گیلی مٹی کو کھرچنے لگی، ڈیلور ریور تاحدِ نگاہ پھیلا اپنی ہی وسعتوں پر اترا رہا تھا، سامنے فلیڈلپھیا کے ساحل سے نظر آنے والی فیریز کی جگمگاتی ہوئی روشنیاں دور سے چمکتے ہوئے ستارے معلوم ہو رہی تھیں۔ ابھی کل تک تو وہ میرے ساتھ اس کھلے میدان پر اسی لائین ٹریک پر میرے کاندھے سے اپنا کاندھا جوڑے، میرا ہاتھ اپنی مٹھی میں دبائے میرے ساتھ چل رہا تھا۔جانے کیوں مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ جاچکا ہے، یا پھر میں یقین کرنا ہی نہیں چاہ رہی تھی۔۔ وہ میری زندگی میں لوٹ جانے کے خیال سے تو نہ آیا تھا، جس روز اس نے مجھ سے عہدِ تعلق باندھا تھا اسی روز ہاں اسی روز، اس نے اپنی گھمبیر اور وزنی آواز میں کہا تھا کہ، “حور شمائل ! تم بہت خوبصورت شے ہو، تم میرے لئے محض جسمانی تعلق نبھانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ میری روح و دل کی پکار ہو۔۔ تم سے میرا بندھن صرف دو روز، دو ہفتے، یا چند ماہ کا نہیں ہے بلکہ میں تمہیں تمام عمر اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔۔” پھر ایسا کیا ہوا ، کیا غلطی ہو گئی کہ وہ یکدم مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا؟۔۔اپنے وعدوں کا پاس رکھا نہ ہی اپنی محبت کا بھرم، یہی سوچتے سوچتے میرا ذہن بالکل سن ہو چلا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمائیلی کہاں ہو تم ؟
میں نے اپنے پیچھے گاڑی کے رکنے کی آواز سنی، مڑ کر دیکھا تو دانیال آنکھوں میں پریشانیاں بھرے مجھے دیکھ رہا تھا، اس کے دونوں بازو کھلے تھے۔ میں بھاگ کر اس کے سینے سے لگ گئی اور سسکنے لگی۔۔
سمائیلی مائی لٹل بےبی سسٹر!
بس اتنا ہی کہہ کر وہ خاموش ہو گیا اور میرے سر کو شفقت سے سہلاتا رہا جب تک کہ میں دل بھرکر رو نہ لی۔۔
آؤ بیٹھو تم پیدل یہاں تک آگئیں؟
(دانی نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئےمجھے سیٹ پر بٹھادیا)
جی، واک کرتے کرتے یہاں تک نکل آئی، تم کب آئے دانی؟
میں نے ٹشو سے اپنی آنکھیں اور ناک رگڑتے ہوئے پوچھا
بس ابھی just now کل مجھے نانو با نے فون کیا تھا، مڈ نائیٹ کوئی ساڑھے تین بجے لیکن میرا آج کا سکیڈوئیل بہت ٹائیٹ تھا
So، I couldn’t make it
پھر جیسے ہی فارغ ہوا تو فوراً گھر پہنچا، نانو نے بتایا کہ تم تین گھنٹے سے غائب ہو۔۔ سیل بھی آف تھا تمہارا۔۔
اوہ! سیل تو گھر پر ہے میرا، میں نے شرمندگی سے کہا۔۔
میں انتظار کر رہی تھی کہ دانی مجھے ڈانٹے گا یا کم از کم یہ تو ضرور باور کروائے گا کہ اس نے مجھے کس طرح اس سب سے روکنے کی کوشش کی اور میں نے اس کی ایک نہ سنی،
کچھ کہو گے نہیں دانی؟ میں نے سر جھکائے جھکائے پوچھا
تو اس نے موڑ کاٹتے ہو میری طرف دیکھا
There’s nothing left to say۔۔۔
کیا کہوں؟ کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں، کوشش کرو کہ اس تجربے سے کچھ سیکھو اور سچائی جلد از جلد قبول کر لو،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمائیلی۔۔بہت اچھوتا اور اَن سُنا سا نام تھا اس کا۔۔
پہلی بار میں نے اسے جیکسن ہائیٹس پردیکھا۔ شاید یہ چار سال پرانی بات ہےجب میں کولمبیا یونیورسٹی آف آرٹس میں فلم میکنگ کی ڈگری MFA کے لیے نیا نیا (enrolled) ہوا تھا۔۔ اس روز میں اپنے دیسی دوستوں دانیال سید اور وقاص ریاض کے ساتھ ایک پاکستانی ریستورانت میں کھانے پر آیا تو اس سے ملاقات ہوئی وہ دانیال کی بہن تھی اور واپسی پر اسے پِک کرنے آئی تھی۔ دانیال نےاسکا تعارف کرواتے ہوئے کہا، آدم شی از سمائیلی، مائی لٹل سسٹر
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ خوش دلی سے بول اٹھی
“السلام علیکم! ۔۔۔آدم”
میں نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے ہلکے سے جھک کر اسے وعلیکم السلام کہا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔ اس وقت شاید اس نے اپنا ہائی سکول ختم کیا تھا، دانیال سید اکثر اس کا ذکر بہت پیار سےکرتا تھا اسی کی باتوں سے پتا چلا کہ وہ کسی ایشئین لوکل نیٹ ورک پر آر جے (RJ) ہے
اور اپنےہم عمر نوجوانوں (peer group) میں بہت شدت سے پسند کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ دانیال اکثر اس کے پروگرامز کی ریکارڈنگ ایف بی (FB) پر شئیر کرتا یا کبھی گاڑی میں اس کا پروگرام لگا ہوتا تو ضرور سنتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہی دنوں سمائیلی نے مجھے فیس بک پر فرینڈز ریکویسٹ بھی دی جو میں نے اگنور کر دی ،شاید اس کے انداز، اطوار، آواز، لہجہ، الفاظ کا چناؤ سبھی اس قدر امریکن اور ماڈرن تھا کہ مجھ جیسے روایتی، دیسی اور اپنی ریت و رواج سے جڑے شخص کے لئے وہ کسی قسم کی کشش کا باعث نہ بن پائی
آج میں اسے چار برس بعد شاید دوسری مرتبہ دیکھ رہا تھا لیکن یہ دوسرا تعارف اس کے پچھلے تعارف اور امیج سے بالکل الگ سا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کالے رنگ کا چوغے نما لمبا سا سکرٹ اس پراونٹ کی کھال کے رنگ کی جالی دار قمیض، سلک کا سرخ دھاریوں والا سکارف جو گلے سے زیادہ اسکے ہاتھ میں جھول رہا تھا جسے وہ بار بار اپنی کلائی کے گرد لپیٹنے اور اتارتے میں مشغول تھی، وہ کسی انجان و سحر زدہ نگر کی باسی دکھائی دیتی تھی، اس لباس اور چاند رات کی روشنی میں اس کی سنہری رنگت دمک رہی تھی، گلے میں باریک سی چین جس میں ایک چھوٹی سی گول گیند لٹک رہی تھی اور کانوں میں بھی ویسے ہی بال اینڈ چینڈ ائیررنگز، ایک ہاتھ میں گول ڈائیل کی سنہری گھڑی تو دوسرے میں زرقون یا شاید ہیروں سے مزین بریسلیٹ، اس نے اپنی ناک میں بھی ایک چھوٹی سی بالی نما شے پہن رکھی تھی، ہمارے دیہات میں اسے نتھنی کہا جاتا ہے۔۔
(exotic and unique, indeed)
اور یہ چھوٹی سی نتھنی اس کی شخصیت کو مزید نادر اور اچھوتا رنگ دے رہی تھی۔ آج اس کی سرپرائز برتھ ڈے پارٹی تھی لیکن یہ دن اس سے زیادہ میرے لئے سرپرائز کا باعث بنا۔ جاوید سید، جو اس پارٹی کے میزبان اور اس کے ڈیڈی تھے وہ میرے چینل کے میڈیا پارٹنر تھے، کھانے کے بعد انہوں نے اسے گانا گانے کے لئے کہا تو اس نے مائیلی سائیرس کا کور سونگ جولین (Jolene) سنا کر وہاں موجود سبھی مہمانوں سے خوب داد سمیٹی، اسکی آواز بہت میٹھی تھی مائیلی کی طرح تھروٹی نہ تھی، میرا کام اور فیلڈ ہی ایسی تھی کہ دن رات عورتوں کے ساتھ ہی کام کرنا ہوتا تھا اور سوئےاتفاق اس فیلڈ میں عمومی خواتین حد درجہ خوب صورت اور پڑھی لکھی ہوا کرتی ہیں۔۔ میرا دل کسی عورت یا لڑکی کے لئے کبھی بھی اس طرح نہیں کھنچا تھا لیکن یہ رات میرے لئے بہت بڑی آزمائش اور حیرانی کا باعث رہی، اس رات نے مجھے میرے اندر چھپے ایک نئے شخص سے متعارف کروایا، جو شاید میرے لئے بہت اجنبی تھا لیکن میرے اپنے ہی اندر کہیں موجود تھا اور مجھ سے بھی چھپا ہوا تھا کہ ایک ایریز aries ینگ مین ہمیشہ اپنی ایک سائیڈ ہڈن اور چھپی ہوئی رکھتا ہے۔۔ میری ذات کے اسی رخ کو سمائیلی کے وجود اور قربت نے زبان، شناخت اور کئی رنگ بخشے۔۔ یکایک جاوید سید کی آواز پر میں چونکا اور صرف اتنا ہی سن پایا کہ وہ کہہ رہے تھے سمائیلی! آج تم میری پسندیدہ غزل سناؤ گی، چند لمحوں میں دانیال اندر سے ستار اٹھا لایا، وہ بہت اچھا ستار بجاتا تھا، اسی کی سنگت میں سمائیلی نے غزل گانا شروع کی
“آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو۔۔”
اس نے غزل بہت عمدگی سے ادا کی اور کئی نازک جگہیں بہت ہی خوبصورتی سے لیں، اس کی اردو، لہجہ، ادائیگی، تلفظ، پختگی، سر، آواز، مٹھاس ایک کے بعد ایک میرے دل میں اترتے چلے گئے، اسے گاتا سننا زیادہ خوشگوار تھا یا پھر دیکھنا، میرے لئے یہ فیصلہ کرنا ذرس مشکل ہو چلا تھا۔۔
اپنے ایک ایک بول کے ساتھ وہ قطرہ قطرہ میری روح میں اتر رہی تھی، میں بے خودی و سپردگی کے عالم میں اسے سن رہا تھا، دیکھ رہا تھا، محسوس کر رہا تھا، جذب کر رہا تھا، وہ میرے قالب میں ڈھل رہی تھی یا شاید میں اس کے کلبوت میں پگھل چکا تھا۔۔ ایک لمحے کو تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ کیسا عجب کیف و سرور و نشہ ہے، یہ کیا سماں ہے، جو مجھے اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دے رہا۔۔
کہنے کو تو سانس بھی چل رہی ہے، یہ دل بھی دھڑک رہا ہے، میں بھی موجود ہوں، حسیات بھی کام کر رہی ہیں، لیکن میری روح ہاں میری روح وہ کہیں دور چلی گئی ہے، بہت دور، شاید اس کی روح سے ملنے۔۔ میں نے بارہا خود کو جھٹکنا چاہا۔۔ میں نہایت مضبوط قوتِ ارادی کا مالک اور باکردار مرد تھا، چھ ماہ پہلے ہی میری خالہ زاد سے میرا نکاح ہوا تھا اور اس کے بی۔ایس کےبعد ہماری فورا ً رخصتی ہونا طے تھی۔۔ میں نے خود کو ڈانٹا ڈپٹا بلکہ لتاڑا کہ سید آدم بخاری زندگی کے ستائیس سال اتنی شرافت اور وقار سے گزارنے کے بعد تم کس راہ پر لگ چکے ہو، لیکن میرا سینہ عجیب سی سرشاری، کیف و سرور سے بوجھل ہوتا چلا جارہا تھا اور میرا وجود ہلکے سے ہلکا ترین ہوتا چلا گیا، لمحہ بھر کو یوں محسوس ہوا کہ میں مکمل طور پر تحلیل ہو چکا ہوں اور میرا وجود اپنا ہی وجود کھو بیٹھا ہے۔۔
دانی ہو از دیس آئی کینڈی ان بلیک چیکس ڈریس سوٹ
ارے تمہیں یاد نہیں؟
اس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
سمائیلی یہ میرا کلاس فیلو تھا MFA میں آجکل ڈیڈ کے پاکستان بیسڈ ڈرامہ چینل پارٹنر کا موسٹ ڈیمانڈڈ ڈائریکٹر اور سکرین پلے رائٹر ہے۔۔ کیا تم یقین کرو گی کہ پچھلے دو برس میں یہ چار کامیاب سیرلز، یکے بعد دیگرے بنا چکا ہے۔۔
ا۔۔gee، سمائیلی نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئےکہا۔
میں نے سنا کہ وہ اپنے بھائی سے میرے ہی بارے میں بات کر رہی ہے ۔۔۔۔ اس کے آئی کینڈی والے کومنٹ پر میں بے ساختہ مسکرا اٹھا۔۔ دانیال اسے میری طرف ہی لے آیا، اسے آتا دیکھ میں نے اپنا ادھ پیا سگریٹ جھکتے ہوئے میز پر رکھی ایش ٹرے میں مسل کر بجھا دیا۔۔ مجھے لگا کہ اتنی پیاری لڑکی کے سامنے سموک کرنا از ناٹ آ گڈ آئیڈیا۔۔
سمائیلی تم آدم سے ملی؟
دانیال نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر عین میرے سامنے لا کھڑا کیا اس کے لباس، بالوں اور جسم سے اٹھتی مہک سیدھی میرے نتھنوں سے ہوتی ہوئی پھیپھڑوں تک چلی گئی۔
السلام علیکم۔۔۔ آدم!
اس بار بھی اسی نے سلام میں پہل کی، میں نے جھک کر اسے وعلیکم السلام کہا، دانیال ہمیں چھوڑ کر کسی اور مہمان کر پاس گیا تو وہ بولی اگر آپ کو دقت نہ ہو تو یہیں بیٹھیے۔۔
ہم وہیں بچھی کرسیوں پر پول کے کنارے بیٹھ گئے، وہاں مصنوعی واٹر وال سے زور دار جھٹکے کیساتھ پول میں گرتا پانی ہوا کے ساتھ مل کر دلفریب جلترنگ بجاتا رہا اور اس کے شہد کی رنگت کے سے ہلکے گھنگھریالے بال اڑتے رہے۔۔ میری نگاہیں مسلسل اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں اور میں اپنی اس بے خودی، بے قراری پر کچھ شرمندہ اور کچھ حیران اور کچھ شاداں سا تھا۔۔
آپ اردو بہت اچھی بولتی ہیں، باقی دیسی امریکن لڑکیوں کی طرح لہجہ نہیں بگاڑتیں، بہت شستہ اردو ہے آپ کی اور بہت خوب صورت آواز، جیسا کہ میں نے آپ کو گاتے ہوئے سن کر سوچا تھا، بالکل ویسی ہی۔۔ بیٹھیے، اٹھے، لیجیے اور دقت تو نہ ہو گی۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے اسے ایمیٹیٹ کیا تو وہ بچوں کی طرح کھل اٹھی۔۔
نوازش! مجھے اردو میرے نانو ابا نے سکھائی ہے۔۔ وہ میرے بچپنے سے ہی مجھے شاعری اور نثر کی بہت سی دبیز و ثقیل کتب پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔۔ ممی کی وفات کے بعد میں وہیں نیو جرسی ان کے پاس رہتی تھی، صرف ویک اینڈز پر نیویارک آتی ہوں اور میں ریڈیو بھی کرتی تھی تو وہ بھی ویک اینڈز پر ہی کرتی تھی یہیں نیو یارک سے۔۔ وہ بچوں کی طرح اپنے بارے میں مجھے وہ معلومات دے رہی تھی جن سے میں پہلے ہی کسی حد تک واقف تھا۔
ارے واہ! تم تو بہت مشکل اردو بولتی ہو، میں نے دوبارہ وہی بات دہرائی کیونکہ میرا ذہن صرف اس کے اندازِ گفتگو پر آن کر ٹک گیا تھا، میری بڑھتی ہوئی دل چسپی اس کی نظر سے چھپی نہ رہ سکی، وہ مسکرا دی۔۔ اس کی مسکراہٹ شاید بہت انوکھی تھی یا اس وقت میرے احساس نے اس کی ایک ایک ادا کو حسین بنا دیا تھا۔۔ مجھے وہ دنیا کی سب سے الگ اور اچھوتی عورت لگی جو میرے ہر سوال کا جواب، خیال کی تصویر اور خواب کی تعبیر کے روپ میں میرے سامنے بیٹھی تھی، شاید اسے بھی میرے ساتھ بات کرنا اچھا لگ رہا تھا یا شاید نہیں۔۔۔۔۔۔
شکریہ! اگر آپ اسی طرح میری مسلسل تعریف کرتے رہے تو ہوسکتا ہے کہ مارے شرم کے مجھ سے بولا ہی نہ جائے، میں بہت عجیب (weird) ہوں اپنی تعریف سننا مجھے بہت پسند ہے لیکن اس پر ری ایکٹ کیسے کرنا ہے یہ مجھے نہیں علم، بلکہ میں فمبل کرنا شروع ہو جاتی ہوں اور میرے الفاظ ٹوٹنے لگتے ہیں۔۔ اس نے سادگی سے اپنی سوچ کا اظہار کیا اور اپنے ہلکے ہلکے سے کرلی بالوں کا جوڑا سا بناتے ہوئے کہا
آدم ! آئیے اندر چلتے ہیں، مجھے ہوا بہت پسند ہے لیکن میں اس کی شدت سے گھبرا جاتی ہوں۔۔ وہ اپنے دل کی بات اور جذبات کو بہت خوبی سے الفاظ کے پیرائے میں باندھنے پر ملکہ رکھتی تھی۔۔ ہم اندر فیملی روم میں آ کر بیٹھے تو اس کی نہ ختم ہونے والی کہانیاں شروع ہو گئیں۔۔ وہ زیادہ بولتی تھی یا خوب صورت بولتی تھی یہ بات ابھی تک میرے لئے معمہ بنی ہوئی تھی، میرے بنا پوچھے اور بنا کہے اس نے اپنے بارے میں بہت سی باتیں کر ڈالی اور میں محض اس کی آواز و انداز کی خوب صورتی سے فیض اٹھانے کو اسے خامشی سے سنتا رہا
صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں تیرا حسن تیرے حسن بیاں تک دیکھوں
اک حقیقت سہی فردوس میں حورں کا وجود
حسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
کسی کو سننا اور وہ بھی مسلسل سنتے ہی چلے جانا، میرے مزاج کے بالکل الٹ سی بات ہے مجھےصرف کہنے کی عادت تھی، میں نےصرف سامعین دیکھے تھے اور آج اس کا سامع بننا بھی بہت دل چسپ اور حیران کن عمل تھا۔۔
سنو! میں نے اسے ٹوکا

ہمم۔۔۔کہیے
تمہارا نام کیا ہے؟
سمائیلی
یہ کیا نام ہوا؟ کوئی اصل نام بھی ہو گا نا تمہارا۔۔
اوہ! اچھا! ہاں میرا نام، میرا نام سیدہ حور شمائل ہے، مما مجھے شمائل کہتی تھیں تو دانی مجھے سمائیل کہنےلگا پھر آہستہ آہستہ یہ سمائیلی بن گیا۔ ویسے یہ آدم بہت عجیب سا ساونڈ کرتا ہے کیا میں تمہیں ایڈی کہہ سکتی ہوں؟ اس نے اچانک سوال کر دیا اور میں گڑبڑا گیا؟
نہیں، نہیں، میرا نام آدم ہے اور مجھے یہی اچھا لگتا ہے کہ مجھے اس نام سے پکارا جائے، ہمارے گھرمیں نیک نیمز کا رواج نہیں۔۔ میں نے قطعیت سے جواب دیا
او کے! آدم۔۔
اس نے مسکرا کر کہا اس کی شخصیت کا ایک اور خوب صورت پہلو جو اس ملاقات کے دوران میں نے محسوس کیا کہ اس میں متکبر انا نہیں تھی بلکہ وہ بہت ہی
easygoing اور 8⁰flexible
فطرت کی مالک تھی، جبکہ میری طبیعت میں تحکمانہ اور قائدانہ خو غالب تھی۔۔
A perfect yet lethal combination
اس کی قربت کااحساس اپنی روح اور روم روم میں سموتے ہوئےمیں نے مسکرا کر سوچا۔ اس رات واپس لوٹ کر میں نے اپنا اسٹیٹس چیک کیا تو اس کی فرینڈز ریکویسٹ دیکھ کر مجھے عجیب سے خوشگوار احساس نے گھیر لیا۔۔ میں نے بنا ایک لمحہ ضا ئع کئے اس کی ریکویسٹ کو ایکسیپٹ کر لیا اور اس کا پروفائیل دیکھنے لگا۔۔ اس کے ریڈیو پروگرامز کی ریکارڈنگز، اس کی گائی ہوئی غزلیں، اس کی تصاویر ایک کے بعد دوسری پوسٹ دیکھتے دیکھتے مجھے احساس ہوا کہ رات بہت بھیگ گئی ہے اور میں کچھ ایسا کر رہا ہوں جو میں نے کبھی اپنی ٹین ایج میں بھی نہ کیا تھا، اپنی اس حالت پر میں کھکھلا کر ہنس دیا اور سونے کا ارادہ کیا۔۔
ہفتے کی صبح دیکھا کہ اس نے FB پر رات والی غزل کی ویڈیو شیئر کی تھی میں ابھی اس کی وال ہی دیکھ ہی رہا تھا کہ اس نے وہی پوسٹ مجھے ان باکس کر دی، وہ اس وقت آن لائین تھی اور میں نے بے اختیاری میں اسے میسج بھیج دیا۔
حور شمائل!
آدم!
مجھے لگا جیسے اس نے بھی مجھے ایسی ہی بے اختیاری اور بے قراری سے پکارا ہو۔۔ یہ میرے اپنے اندر کے جذبات تھے یا وہ بھی میری طرح محسوس کر رہی تھی، اور پھر جانے کتنی دیر میں اس سے چیٹنگ کرتا رہا اور وہ تو شاید ایک چھوٹا سا چیٹر باکس تھی جس کے قصے ختم ہونے پر ہی نہ آتے، میں اس کی بچکانہ باتوں پر مسکرا اٹھتا کہ یہ کس مان سے مجھے اپنی کہانیاں سنا رہی ہے، صرف ایک رات میں مجھے وہ اس قدر عزیز ہو چلی تھی کہ میں اس کا مان توڑنا نہیں چاہتا تھا، وہ بہت پیاری شے تھی میں اسے کہیں اپنے دل میں بہت سنبھال رکھنا چاہتا تھا۔۔
آہستہ آہستہ یہ میرا معمول بن گیا کہ میں اس کے آن لائین ہونے کاانتظار کرتا، شاید وہ بھی کرتی ہو، وہ مجھے بہت موڈی لگی اور کسی کے موڈز سہنا تو میرے مزاج کے بالکل ہی خلاف تھا لیکن اس کے لئے میرے دل میں ایک عجیب سی شفقت اور نرمل سا احساس پیدا ہو چکا تھا کہ مجھے اس کے نخرے سہنا بھی بہت بھلا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ مجھے نہیں کہے گی تو کسے کہے گی۔۔
میرے ڈرامے کی پوسٹ پروڈکشن ایڈیٹنگ چل رہی تھی، مجھے ہر حالت میں بارہ سے چودہ گھنٹے سٹوڈیو میں بیٹھنا ہوتا تھا، ایسے میں مسلسل اس کا خیال مجھ پر اپنے گھیرے تنگ کئے رہتا، خدا جانے یہ اس کے خیال کا حسن تھا یا میری چاہت و عقیدت کا کمال کہ اس کا تصور و یاد مجھے کبھی میری کام سے دور نہیں کرتے، بلکہ میں نے ان دنوں خود کو زیادہ متحرک اور مطمئن محسوس کیا۔۔ میری پر فارمنس اور میرےکام سے میری dedication کبھی بھی ایوریج نہیں رہی تھی لیکن ان دنوں اسکی چاہت کی انرجی نے مجھے اتنا مکمل کر رکھا تھا کہ
I was at my best….
میں اپنا سو فیصدی دے رہا تھا۔۔ جہاں میرا کرو اور سٹاف میرے مزاج کی اس تبدیلی پرحیران اور خوش تھے وہیں میں نے بھی خود کو اکثر ہواؤں میں اڑتے پایا، میں بلاوجہ خوش رہنے لگا تھا، مجھے بات بات پر ہنسی آتی، اپنے سٹاف سے اکثر مذاق کرتا، سبھی نے میری اس تبدیلی کو محسوس کیا تھا اور میں خود اس کے تصور، آواز، خیال، الفاظ اور معصومیت میں کبھی کبھی اتنا کھو جاتا کہ مجھے یاد ہی نہ رہتا کہ وہ میرا بخت نہیں ہے، میں خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا، میری انا میری سامنے دو زانو بیٹھ کر ہار تسلیم کر چکی تھی اور میں کئی بار خود کو کہہ چکا تھا کہ سید آدم بخاری یو آر جسٹ کلین بولڈ۔۔ میں اپنی تکبر بھری انا کی اس ہار پر ہرگز نالاں یا فکر مند نہ تھا بلکہ اس کی محبت کا نشہ میرے رگ و پے میں ایسے گھل مل گیا تھا جیسے وہ ہمیشہ سے ہی میرے وجود کا حصہ رہا ہو اور میں اپنی طبیعت و قلب و روح کے اس میلان اور بہاؤ کے ساتھ بہتا چلا جارہا تھا۔۔

صائمہ نسیم بانو
صائمہ نسیم بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *