ہم ہیں پاکستانی۔۔صائمہ حیات

رات کے اس پہر اٹالین، جرمن، امریکن، برٹش میڈیا کی کرونا وائرس سے متعلق اپڈیٹس دیکھ لینے کے بعد دل بہت اداس ہے۔ شاید لفظ اداس اس کیفیت کو بیان کر نے سے قاصر ہے۔ کرونا نامی وبا کا جو شعلہ چین سے اٹھا تھا وہ اب تک 200 ملکوں میں آگ لگا چکا ہے۔
اٹلی پچھلے ڈھائی سال سے میرا مسکن ہے، یہاں تو اس جان لیوا وائرس سے ایسی ویرانی اور مردنی چھائی ہے کہ بہار کے رنگ بھی مائند پڑ گئے ہیں۔ ہر سو موت رقص کرتی ہے۔ لوگ سہمے اور مرجھائے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں۔ اٹلی میں اب تک 10 ہزار افراد جاں بحق چکے ہیں اور ہزاروں اس موذی وائرس کا شکار ہیں۔ اٹلی کے بعد  سپین یورپ کا دوسرا ملک ہے ،جہاں یہ مہلک وائرس اب تک پانچ ہزار افراد کی جان لے چکا ہے۔

ہر گزرتا لمحہ صرف موت کی اطلاع دیتا ہے اور پھر سسکیوں کی اذیت ناک گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ ایسی وحشت، ایسی ویرانی تو پہلی محبت کے مایوس کُن انجام پر بھی نہیں ہوتی۔
میں یہاں اٹلی میں پچھلے چھبیس، ستائیس دنوں سے لاک ڈاؤن میں رہتے ہوئے کرونا کی ہولناکیوں کو تحریر نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی ان اذیت ناک گھڑیوں کو  صفحہ قرطاس پر رقم کر سکتی ہوں۔ بس خوف و جبر کے عالم میں بیٹھی اپنے کتھارسس کے لئے کبھی قلم اٹھا کر لکھنے لگتی ہوں اور کبھی موبائل پر ٹائپ کرنے لگتی ہوں لیکن کچھ مکمل نہیں ہوتا۔۔۔۔ کچھ مکمل ہو بھی تو کیسے۔
آج محمود شام صاحب نے فیس بُک پر مجھے کہا کہ ہمت کرو، حوصلہ رکھو، سب ٹھیک ہو جائے گا تو دل کو بس تھوڑی دیر کے لئے تسلی سی ہوئی اور پھر بہت دن بعد میوزک سننے کا من ہوا ،تو اپنے موبائل پر یو ٹیوب آن کر کے میں جنید جمشید کا گانا سننے لگی۔ گانے کے بول تھے؛
“تمھارا اور میرا نام
جنگل میں درختوں پر
ابھی لکھا ہوا ہے تم
کبھی جا کے مٹا آؤ”
آج اس گانے کو میں نے دسیوں بار سُنا۔

میں یہ گانا  سن ہی رہی تھی کہ لیپ ٹاپ کی  سکرین پر ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ پر میری نظر پڑی۔ یہ رپورٹ  سپین سے ڈی ڈبلیو کے نمائندے حافظ احمد نے بنائی تھی۔ رپورٹ بہت متاثر کن تھی۔ اس رپورٹ کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ایسا لگا کہ زندگی موت کو شکست دیدے گی۔

یہ رپورٹ  سپین میں موجود پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز کی ایک مہم سے متعلق تھی۔ رپورٹ چونکہ مختصر تھی اس لئے میرا تجسس بڑھا اور اس مہم سے وابستہ لوگوں کو سوشل میڈیا پر تلاش کر نا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے اس مہم سے جڑی ایک شخصیت میری فیس بک کی فرینڈ لِسٹ پر پہلے سے ہی موجود تھی۔ سید شیراز سے رابطہ کر کے میں نے تفصیلات معلوم کیں تو دل خوشی سے نہال ہو گیا۔ سید شیراز اور ان کے تین دوستوں نے مشترکہ کاوش کے نتیجے میں سپین کے شہر بار سلونا میں پاکستانی ٹیکسی سروس سے وابستہ لوگوں کو مہم Fightagainstcovid19 # کے تحت جمع کیا اور بارسلونا کے درجنوں ہسپتالوں سے منسلک ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل  سٹاف کو فری پِک اینڈ ڈراپ سروس دینے کی مہم کا آغاز کیا۔ شروع میں اس مہم میں چالیس کے قریب پاکستانی ڈرائیوروں نے حصہ لیا لیکن کچھ دنوں میں ہی تقریباً  200 سے زائد ڈرائیور حضرات اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس مہم  کو نا صرف بارسلونا کے لو کل میڈیا نے کوریج دی بلکہ نیشنل میڈیا پر بھی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز کی مہم کے چرچے ہوئے اور وائرس کی اس مشکل گھڑی میں  سپین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو کافی سراہا گیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا لیکن سید شیراز اور ان کے دوستوں کی انتھک محنت کے باعث انجام پایا۔

آج جب کرونا وبا کے خوف سے ہر فرد خوف زدہ ہے اور اپنے آپ کو اس موذی وائرس سے بچانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے تو ایسے عالم میں پاکستان کے ٹیکسی ڈرائیوز کی یہ مہم ہمت،  بہادری اور جرات کی ایک الگ داستان رقم کر رہی ہے۔ یہ مہم وبا کے اس دہشت زدہ کردینے والے ماحول میں انسان دوستی کی اعلیٰ  مثال ہے۔ جس طرح کرونا وائرس کی کوئی سرحد نہیں اسی طرح احساس کا رشتہ بھی رنگ، نسل، مذہب اور قومیت سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت پر معمور ہوتا ہے۔

پاکستان کا یہ روشن اور اُبھرتا ہوا چہرہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کے لئے باعث فخر ہے۔ وبا کے یہ دن بھی گزر جائیں گے۔ خوف کے یہ گھنے کالے بادل چھٹ جائیں گے تو دنیا اپنی ڈگر پر چل پڑے گی پھر جب کبھی کرونا وبا کی یہ خوف ناک راتیں اور بے چین صبحیں یورپ کے لوگوں کو یاد آئیں گی تو، انہیں پاکستانیوں کی بھی یہ خدمت لازمی طور پر یاد رہے گی کہ وبا کے دنوں میں موت سے بے پرواہ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز اپنا نام ہمیشہ کے لئے اَمر کر گئے ہیں۔

میں خوشی سے سرشار پاکستانی ڈرائیوروں کی اس لگن اور جذبے کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہوئے اپنے موبائل فون پر یوٹیوب آن کر کے مرحوم جنید جمشید کا ایک اور گانا سننے لگتی ہوں اور یہ گانا جنید جمشید نے شاید ان ہی دنوں کے لیے برسوں پہلے ہی ریکارڈ کروایا تھا۔ جنید جمشید تو ہمارے درمیان نہیں لیکن اس کے گیتوں کے یہ بول میں یوٹیوب پر سننے لگتی ہوں اور پھر سنتی ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔
آنے والے دور کے انساں ہم سے جینا سیکھیں گے،
ہم ہیں پاکستانی!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *