پچھتاوا اسد عمر۔۔اعظم معراج

(25 اپریل 2019)
اس نے وزارت خزانہ کا حلف لیا تو تو وہ بڑے بڑے منصوبے لے کر کپتان سے ملا، کپتان نے کہاں جاؤ کرو ،وہ کام جس سے معاشرے میں سماجی انصاف کا بول بالا ہو۔ وہ جب کرنے بیٹھا تو کہیں قانون و آئین آڑے آیا ،کہیں بیوروکریسی کی رکاوٹیں ،کہیں مافیاز کی بلیک میلنگ، کہیں عالمی طاقتوں کے دباؤ تھے، اسے چین نہ  آتا، اسے اپنے آپ میں شرم آتی کہ  کیا میں چھ سال جھوٹ بولتا رہاہوں ؟ لوگ کیا کہیں گے ،یہ وہی ہے جو کہتا تھا۔۔ میں ستر لاکھ تنخواہ چھوڑ کر صرف غریب پاکستانیوں کی خدمت کے لئے سیاست میں آیا ہوں اور اب ان کی کھال کھینچ رہا ہے۔معاشی حالات ابتر ہوتے گئے کبھی ڈالر بڑھ جاتا ،کبھی دوائیں مہنگی ہو جاتیں، ضرورت اشیاءکی قیمتیں آسمان  کو چھونے لگی، سارے اہم عہدوں پر مثلاً  گورنر  سٹیٹ بینک تک، وہی رکھنا مجبوری ٹھہرا  جو بیمار معیشت کے اسباب میں سے ایک تھا ۔اینکرز بار بار وہ کلپ چلاتے، جن میں وہ سماجی و معاشی انقلاب کی نوید سناتا۔ اسمبلی کی وہ  تقاریر دکھائی جاتیں  جس میں وہ اپنے زور ِ بیان سے بطورِ اپوزیشن ممبر حکومت کو لتاڑتا تھا۔ وہ کلپ والی بڑھکیں اور اپنے اعمال دیکھ کر اسے اپنے آپ سے گھن آتی ،اسے لگتا جیسے وہ اس اشرفیہ کا سہولت کار بن گیا ہے، جن کا روزگار ہی اکیس کروڑ کی افلاس ہے۔

آخر نوے دن بعد اسں نے کپتان کو کہا میں اپنی ہار مانتا ہوں ،یہ ہے میرا استعفیٰ ، یہ ملک نرم انقلاب سے نہیں  خونی انقلاب سے ہی بدل سکتا ہے، معاشرے کا اخلاقی دیوالیہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ  ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین پر حلف لینے والے چوروں کو ٹانگنے کے دعوے دار ،انھیں عام معافی دینے کا سوچ رہے ہیں، ایک نیب کے ملزم کو ہم سرکاری تمغہ دینے کا سوچ رہے ہیں، اور پھر اگر ہم نے معاشی دہشت گردوں کی بجائے غریبوں کی نسوں میں سے ہی قطرہ قطرہ کر کے زندگی نچوڑنی ہے تو میں انتہائی شرمندگی سے اپنی کوتاہی مانتے ہوئے اپنا یہ استعفیٰ  دے رہا ہوں اور میں یہ بات قوم کو بھی بتانے کو تیار ہوں کہ میں غلط تاثر دیتا رہا۔ یہ میرے بس کی بات نہ تھی۔

کپتان نے مجبور کیا تو اس نے کہاں ،پھر ٹھیک ہے مجھے تین مہینے دیں اور اسلام آباد تو ہماری عمل داری میں ہے ، مجھے وہ کرنے دیں جو میں کہتا رہا ہوں ،یہاں تو صوبائی خودمختاری میں دخل دینے کا الزام نہیں لگے گا۔ اور پھر اگر ہم چند مربع کلومیٹر اور(2006572) (بیس لاکھ چھ ہزار پانچ سو بہتر ) کی آبادی والے شہر پر پوری ریاست کے وسائل ہوتے ہوئے بھی اپنے پروگرام پر عمل درآمد نہیں کرواسکتے تو پھر تین مہینے بعد آپ بھی میری طرح قوم سے معافی مانگ لیجیے گا ۔

کپتان نے کہا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔

اس نے اسلام آباد کی انتظامیہ کی اعلیٰ سطح کے عہدے داروں کی میٹنگ بلائی اوراسلام آباد کے نیشنل اسمبلی کے تین حلقوں اور پچاس کی پچاس یوسیوں کی زمین جائیداد کو زیادہ سے زیادہ کیٹگریوں میں تقسیم کیا اور اسٹیٹ ایجنٹ بلڈرز و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر انتہائی منصفانہ سرکاری قیمتوں کو مارکیٹ قیمت کے تقریباً مساوی مقرر کر کے  سٹیمپ ڈیوٹی اور دیگر سرکاری اخراجات کو نہایت کم ریٹ مقرر کرنے کا حکم دیا اور رجسٹرار، پٹواری کی حدود کی سطح پر عام شہریوں اور متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری لوگوں پرمبنی بورڈ تشکیل دیئے، جو ماہانہ بنیادوں پر ان قیمتوں کا جائزہ لیں تاکہ کہیں حکومت یا عام شہری کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ اور ماسٹر پلان کے مطابق جو زمین جس کام مثلاً  زرعی، کمرشل رہاشی صنعتی و دیگر کاموں کے لیے دی گئی تھی وہ انھیں کاموں کے لیے استعمال ہوگی اور ریاست اس بات کو یقینی بنائے گی ۔ پھر اس نے انتظامیہ کو کہا مجھے پورے اسلام آباد کے رہائشیوں کا شفاف ڈیٹا چاہیے بشمول غیر ملکیوں کا، وزیراعظم جو کہ وزیر داخلہ بھی تھے ان سے نادرہ کو کہلوایا کہ اسلام آباد کا سو فیصد ڈیٹا بینک تیار کریں اور اعلان کروائیں جتنے بھی غیر ملکی ہیں وہ بطور غیرملکی رجسٹر ہو جائیں پاکستانی شہری کوئی بغیر شناختی کارڈ نہ ہو ،ہنگامی بنیادوں پر شناختی کارڈ حاصل کریں۔

رہائشیوں کا ڈیٹا بینک کے بعد اس نے کچی آبادیوں کا سروے کروایا۔5آبادیوں کومنتخب کرکے کچی آبادیوں کے رہائشیوں سے کہا تمہیں حکومت پاکستان کی گارنٹی دیتے ہیں تم ایک سال کے لئے کرائے پر چلے جاؤ، کرایہ حکومت دے گی ،سال بعد تمھیں تمہاری زمینوں پر خوبصورت مہنگے فلیٹ ملیں گے، پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کا بہتر نمونہ سامنے آیا۔ بڑے بلڈروں کو بلوایا اور مڈل کلاس طرز ِ رہائش کے خوبصورت فلیٹ بنانے کے لئے پلاننگ کی ،جہاں سے پانچ ہزار گھراٹھائے وہاں پندرہ ہزار شاندار فلیٹ تیار کرنے کے منصوبے بنالئے۔ دن رات صَرف کیا، غریب کچی آبادیوں والے کو عزت سے رہائش  ملنے کی امید لگی، نسلوں سے غربت کی چکی میں پسے ہوؤں کو عزت نفس سے لاکھوں کروڑوں کے اثاثوں کی ملکیت کی آس لگی۔ یک دم روزگار بڑھا تعمیراتی صنعتوں میں کام بڑھا تو پی ٹی آئی پی ٹی آئی ہونے لگی۔۔

وزارت داخلہ کے تعاون سے اسلام آباد میں کوئی گاڑی بغیر رجسٹریشن کے داخل ہونا ممنوع قرار پایا۔ ایک خاص حد سے بڑی گاڑی خود ایف بی آر والے چیک کرتے کہ کس کے نام پر ہے، اثاثوں میں ڈیکلئر ہے مالک کتنا ٹیکس دیتا ہے۔ غرض اسلام آباد میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کے مالک کا ایف بی آر میں درج اس کے مالک کے درج اثاثوں سے موازنہ ہونے لگا۔ زیادہ تر اس کارروائی میں سینٹ ایم این ایز اور وزیر آنے لگے، معاشرے میں سماجی اونچ نیچ کے نظام کا ٹیبو  ٹوٹا ۔ پھل سبزیاں اُگانے کے لیے مختص زمینوں پر شاہانہ گھر بنانے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا تو۔۔ ہاہا کار مچی لیکن قانون سب کے لئے ایک، کے نعرے کے  آگے سب کو سر جھکانا پڑا۔ اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی مشاورت سے اور صدارتی آر ڈیننس سے معاشی دہشتگردوں  کے مقدمے جلد نمٹانے کی منظوری لی۔جس سے بڑے بڑے معزز معاشی دہشت گردی کے مقدمے بھگتنے لگے ،سپیڈی ٹرائل میں کئی وزارتوں والے بھی رکنیت سے ہاتھ دو بیٹھے۔ لیکن ملک بھر جہاں اس کارروائی کے نتیجے میں کوئی سیٹ خالی ہوتی وہاں اس سے دوگنے ووٹوں سے اسکی پارٹی جیتتی۔ملکی سلامتی کے اداروں نے جب یہ دیکھا کہ  سماجی انصاف ہر طرح کے دہشتگردوں کے خلاف ایک بڑا ہتھیار ہوتا ہے تو وہ اس ماڈل کو سراہنے لگے اور انھوں نے سماجی انصاف کو قومی سلامتی کا اہم جز و قرار دے کر اپنے تعلیمی اداروں میں اس پر تحقیقی مقالے لکھوانے شروع کیے۔ ساتھ ہی انہوں نے بھی اپنے ذیلی اداروں کو ہاؤسنگ برائے کاروبار نہیں صرف اپنے لوگوں کی فلاح کے بنیادی اصول پر چلانے کے پیغامات بھجوا دیے اور بجائے کاروبار کے، اپنی اولین ترجیح دفاع وطن کے نصب العین پر زور دینے کے صاف احکامات جاری کردیے۔

اس نے وزیر اعظم کو آ رڈیننس کے ذریعے معاشی دہشتگردوں کے مقدمات دہشتگردی کی عدالتوں میں بھجوانے پر قائل کیا اور ایف بی آر کو شرفافرینڈلی اور معاشی دہشتگردوں کے لئے انتہائی سخت قوانین وضع کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی میڈیا پر علماء اور دانش وروں کی مدد سے معاشی دہشتگردی کے قوموں کی زندگیوں میں اثرات پر بحث کا آغاز کیا۔ ایک قتل والے کو دہشتگرد اورلاکھوں شہریوں کے معاشی قتل کرنے والوں کو اشرافیائی مخلوق قرار دینے والے معاشروں کے زوال کے اسباب پر مباحثوں کا آغاز ہوا ۔اور معاشی دہشتگردی کو سب سے بڑا جرم قراردیا جانے لگا۔ مختلف مکتبہ فکر کے معیشت دانوں پر مبنی تھنک ٹینکس بنائے، جن کے بنائے ہوئے بیانئے پر مافیاز کے بیانیوں کا میڈیا پر جوا ب دیا جاتا۔ وزارت داخلہ کی مدد سے ٹریفک پولیس کو طاقتور کیا ،کوئی اَن ٹیکس، اَن رجسٹرڈ گاڑی ان کی اجازت کے بغیر سڑکوں پر نہیں آسکتی۔ جب ریاست سماجی انصاف کے لیے حرکت میں آئی اور ریگولیٹری اتھارٹیز مضبوط ہوئیں تو معاشرے کے بڑے بڑے اژدھے چھوٹے چھوٹے سرکاری اہلکاروں کے سامنے کیچوے ثابت ہونے لگے۔کئی اپنے آپ کو بادشاہ گر سمجھنے والےآئی ٹی او کی مار نکلے۔

اس طرح پھر جب سرمایہ پیداواری صنعتوں میں خون کی طرح دوڑنے لگا تو اسلام آباد میں خوشحالی کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچنے لگے۔ زمین جائیداد کی قیمت خرید عام پاکستانی کی پہنچ میں آنے لگی۔اگر کوئی دم توڑتی مافیا چند سو لوگوں کو سڑکوں پر لاتی تو ہزاروں عام لوگ انکے خلاف سڑکوں پر آجاتے اور انھیں دم دبا کر بھاگنا پڑتا۔ میڈیا پر مسلسل معاشی دہشتگردوں کی وارداتوں کے طریقے زیر بحث آتے اور اسکے عام آدمی پر اثرات کو زیر بحث لایا جاتا۔ مثلاً کسی بھی شعبے کا سٹہ کس طرح آنے والی نسلوں کو بھی ایڈوانس میں کئی کئی بار لوٹ لیتا ہے۔ کچھ دو نمبر سرمایہ دار سرمایہ کو باہر نکال کر لے جانے کی دھمکی دیتے۔ حکومت کہتی ضرور لے جائیں، ملکی قوانین کے مطابق غیر قانونی سرمایہ باہر لے جاتے ہوئے جو پکڑا جائے گا اس کا کیس دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائیں گے۔

آپ اپنا ٹیکس شدہ جائز پیسہ ملکی قوانین کے مطابق جہاں مرضی لے جائیں، معاشی دہشت گردی اور چوری چکاری اب نہیں چلے گی باقی آپ اپنے ملک میں ٹیکس نہ دے کر جس کو مرضی ٹیکس دینا چاہتے ہیں وہ آپ کی مرضی۔باقی بھی ریاست جو ایسے غیر قانونی اقدامات کے خلاف کر سکتی ہے کرے گی۔ زمین جائیداد میں ٹریڈنگ کرنے والے کبھی دیگر 48 اور کبھی 72 دوسری صنعتوں کے تباہ ہونے کی شیند سناتے۔ حکومت کہتی وہ ٹریڈنگ سے نہیں تعمیرات سے چلتی ہیں۔ آؤ  مثبت رویوں سے تعمیراتی کام کرو ، ہم سہولتیں دیتے ہیں۔ نجی ہاؤسنگ والوں کو صاف پیغام دیا گیا۔ اس جغرافیائی حدود میں جو کام کرو گے حکومت کو ٹیکس دینا پڑے گا۔ کسینو معیشت کے مضمرات کو میڈیا پر اجاگر کیا جانے لگا۔ صرفِ دو حرفی بیانیے” سماجی انصاف“ نے قوم کے اجتماعی شعور کو یکسو کردیا۔سرکاری نمائندے، دانشوراور علمائی  دلیل اورحقیقت پر مبنی بیانیوں کا پرچار کرنے لگے، جب حکومت اور ریاست نے اپنا قبلہ درست کیا تو اس طرح دو نمبر بیانیے، بلیک میلر اور مافیا دم توڑنے لگے۔ساتھ ہی اس نے گاڑی، زمین ،جائیداد اور ایک خاص قیمت سے بڑھ کر کسی بھی مہنگی پُرتعیش اشیاءکی خریداری کیلئے فائلر ہونے کی شرط کو لازم کیا اوراستثناء  والے شہریوں کو چھوڑ کر وفاقی انتظامیہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے احکامات دیئے۔

دوسرے منسٹر بھی اس کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے اس نے تمام وفاقی وزراءسے ا پیل کی کہ اسلام آباد کو ماڈل شہر بنانے میں میری مدد کرو۔ آؤ  ان آس امیدوں کو پورا کریں جو ہم نے عام پاکستانی کے دلوں میں جگائیں تھیں ۔ دنیا بھر کے پی ٹی آئی کے بے لوث ورکر اس کی مدد میں لگ گئے آمدنی سے زائد اثاثے والے رکن اسمبلی اسلام آباد میں گزارے اپنے دنوں اور استعمال ہونے والی گاڑیوں کی وجہ سے اور ڈیکلئر کیے گئے اثاثوں کی بدولت ریڈار میں آنے لگے۔ جب اسلام آباد میں ہر طرف ہرطرح کی اشرافیہ قانون کے دائرے میں آئی تو پورے ملک میں شور مچنے لگا، ہمیں بھی یہ معاشرہ ،سماج اور انصاف چاہیے ،صوبائی حکومتوں پردباؤ بڑھنے لگا، لیکن وہ خاموشی سے اسلام آباد کو پائلٹ پروجیکٹ بنا کر سنجیدگی سے اپنے کام میں لگا رہا ،روٹی،کپڑا،مکان،صحت تعلیم صاف پانی جان ومال کی حفاظت، عزتِ  نفس سے عام آدمی کے لئے دستیاب ہوئی، عام شہری کو  ہر ایک کے لیے ایک قانون ،ایک نصاب، ایک سا انصاف، اور سب کا پاکستان لگنے لگا۔کپتان اور حکومت کی نیک نامی بڑھنے لگی ہر طرف اس کی بلے بلے ہونے لگی۔ لوگ اسے اسلام آباد کی سڑکوں پر روک کر اس کےساتھ سلفیاں بنانے لگے ، عزت اور احترام بلکہ عقیدت سے ملتے  ۔

ایک دن وہ پاکستان ہاؤ سنگ کے زیر انتظام بننے والے پروجیکٹ پر پہنچا تو قریبی کچی آبادیوں سے لوگ نکل آئے اور اس کے گرد جمع ہو گئے اور نعرے لگانے لگے اسد عمر زندہ باد ، پی ٹی آئی زندہ باد، وہ بھی جذباتی ہو گیااور لوگوں کو بولا نہیں سب سے پہلے پاکستان زندہ باد اور وہ جذبات میں بہہ گیا ۔۔اس کا گلہ رِندھ گیا اور دیوانہ وار نعرے لگانے لگا پاکستان زندہ باد اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور اپنا جسم ہوا میں تیرتا ہوا محسوس ہوا اور پھر اس کی آنکھ کھل گئی ۔۔وہ خواب سے حقیقی دنیا میں آیا تو وہ رو رہا تھا ،اسے یاد آیا اس سے استعفیٰ لے لیا گیاہے اور وہ
“بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلیں”
کےمترادف نکالا گیا ہے، پھر اے اسحاق ڈار کا فون یاد آیا جب اس نے لندن سےروتے ہوئے فون کرکے کہا تھا۔۔۔
” اسد دیکھو اس قوم کی بدقسمتی کہ  میرے جیسا اکاونٹس کا آدمی اور تمہارے جیسا مارکیٹر اس ملک کے وزیر خزانہ لگتے ہیں۔ جب کہ حقیقت میں یہ کام کسی درویش اور ولی صفت معیشت دان بلکہ انسان کا ہے۔ اسد ان اکیس کروڑ کے لئے کچھ کرلو۔ تمہیں تو یہ بھی سہولت ہے کہ تمہیں اچھا کام کرنے میں رکاوٹ نہیں ملے گی۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں، میں جو کام ایک دو خاندانوں کے لئے کرتا تھا تم چند گروہوں اور گروپوں مثلاً چند کاروں کے پرزے جوڑنے والوں یا  پھر اسی طرح کی دیگر اشیاءضروریات زندگی کی کساد بازاری و سٹہ بازی کرنے والوں کے لئے     کررہے ہو۔ ہوش کے ناخن لو خوف خدا کرو میرے بھائی، وقت گزر جاتا ہے ، بعد میں کوئی کام نہیں آتا۔ ٹھنڈے ملکوں کے  ہسپتالوں کے گرم کمرے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی لعن طعن اور قبروں تک ساتھ دینے والے پچھتاوے ہوتے ہیں ،اسد عمر میرے بھائی70سال میں پاکستان کے21کروڑ لوگوں میں سے یہ اعزاز اب تک صرف 36 لوگوں کے حصے میں آیا ہے جن میں سے ایک میں بھی تھا اور آج تم ہو،کوشش کرنا یہ اعزاز ہی رہے لعنت نہ بن جائے۔70سال میں آج تک کسی نے مجھ سمیت ملک کے ان خاک نشینوں کے لئے دستیاب محدود وسائل کی منصافانہ تقسیم کا نظام وضع کیا ہی نہیں ۔ بجائے انکے لئے صحت ،تعلیم ،جان و مال کے تحفظ کا بندوست کرنے کے بس ان وسائل سے چند لوگوں کی لامحدود خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اور اپنی دنیا کے لئے ذلت اور آخرت کے لئے عذاب کماتے رہے۔ اب تک کے تمہارے اعمال بتا رہے ہیں تم بھی اسی طرف چل نکلے ہو ،خدارا تم ایسا نہ کرنا ،ورنہ سوچ لو آخر میں کچھ ہاتھ نہیں آتا ،سوائے اس جہاں کی ذلت اور اگلے جہاں کے عذابوں کے ،خدارا کچھ کر لو۔۔ان کے لئے جن اکیس کروڑ کی معیشت درست کرنے کے لئے حلف لیا تھا، روز یہ مواقع   نہیں ملتے ورنہ میری طرح پچھتاؤ گے ،ساری عمر”

وہ روتا اور کہتا، کاش میں نے وہ تو کیا ہوتا جو میں کر سکتا تھا ،تو آج یہ ساری عمر کا پچھتاوا نہ ہوتا ،آٹھ سال بڑھکیں مارنے کی بجائے کچھ منزل کا تعین بھی کیا ہوتا کیونکہ منزل کا تعین کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔
جیسے بقول بابا نجمی
منزل دے متھے دے اُتے تختی لگدی اوہناں   دی
جیہڑے گھروں بنا کے ٹُردے نقشہ ،اپنے سفراں داں!
ترجمہ
منزل پر وہ ھی کامیابی سے پہنچے ھیں
جو گھر سے منزل کا نقشہ بنا کر نکلتے ہیں

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *