پبلک ٹرانسپورٹ یا نائی خانے۔۔۔اے وسیم خٹک

آپ جب کبھی کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں تو یہ بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ آپ اکیلے سفر نہیں کر رہے بلکہ آپ کے ساتھ بہت سے لوگ محو سفر ہیں ۔ جن میں مختلف اذہان اور کیفیات سے دوچار لوگ ہیں۔ جن کومختلف قسم کی پریشانی لاحق ہے ۔ کوئی غم میں شرکت کرنے کے لئے جنازے میں شرکت کررہاہوگا تو کسی کا اپنا سگا شایدماں باپ میں سے کوئی بیماری کا شکا ر ہوگا ۔ اور وہ اُن سے ملنے کے لئے جارہاہوگا مگر آپ اُس کے ساتھ بیٹھ کر نائی کی دُکا ن بنادیتے ہیں اور سیاست سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت شروع کردیتے ہیں ۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ ہاں ہوں کرتا رہے گا۔ پھر کچھ دیر کے بعد ڈرائیور حضرات تیز موسیقی کے ساتھ گا نے لگادیتے ہیں ۔ جس کو نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے سننا پڑے گا ۔ جو انہیں ڈسٹرب کرے گا ۔ مگر ہم نے کب کسی کی پروا ہ کی ہے جوگاڑی میں کسی کی پرواہ کریں گے ۔

ملک بھر میں اسی فی صد سے زیادہ لوگ روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ میں اپنا سفر کرتے ہیں ۔ جہاں بمشکل انہیں جگہ ملتی ہے ۔ پھر ڈرئیوار حضرات کی اگرمرضی نہ ہو تو آپ اُس گاڑی میں سفر بھی نہیں کرسکتے۔ فرنٹ سیٹ توہمیشہ اپنے من پسند سواریوں کی  حصے میں ہی آتی ہے ۔ من مانے کرایوں کی وصولی ایک علیحدہ جھنجٹ ہے ،جس پر کسی نہ کسی کی منہ ماری لازمی عنصر ہے۔ کیونکہ ٹرانسپورٹ ایک علیحدہ مافیا ہے ۔ خدا خدا کرکے آپ کو سیٹ مل جاتی ہے ۔ آپ سکون کے ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ساتھ بیٹھا ہوا شخص آپ کے سکون کو غارت کرنے کے لئے فون نکال دیتا ہے۔ اور اسے جہاں بھر کے کام یاد آجاتے ہیں۔ دوستوں رشتہ داروں سے گاڑی میں بیٹھ کر تیز آواز میں بات کرنا شروع ہوجاتا ہے ۔ اور یہ گفتگو تب تک جاری رہتی ہے جب تک بیٹری ختم نہیں ہوجاتی ۔خدا بیڑہ غرق کرے موبائل کمپنیوں کا جنہوں نے ہزاروں منٹ کی اسکیمیں نکالی ہیں ۔ جو صرف گاڑی میں سفر کے دوران ہی ختم کرنے کی کوشش ہوتی ہے ۔ روزانہ سفر کرتے ہوئے آپ لوگوں کو ایسے افراد سے سامنا کرنا پڑے گا ۔ جو پبلک ٹرانسپورٹ خاص کر فلائنگ کوچ میں بیٹھ کر فون پر لگے ہوں گے۔ اور پوری گاڑی کو سر پر  اٹھایا  ہوگا۔ میں نے بہت سے لوگوں سے اس بارے میں بات کی تو اُن کا جواب تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کا رویہ بہت گستاخانہ ہوتا ہے ۔ پھر جب گاڑی میں سوار ہوجاتے ہیں تو لوگوں کے روئیے پریشانی کا شکار کردیتے ہیں ۔۔ خاص کر جب گاڑی میں آپ فیملی کے ساتھ سفر کرتے ہوں ۔ آپ یہ سوچیں گے کہ یہ سفر کب ختم ہوگا۔ کیونکہ گاڑی میں ہمیشہ ایک بندہ ایسا بیٹھا ہوگا۔جو فضول قسم کی باتیں یا پھر فون پر بے مقصد گفتگو کرکے آپ کو غصہ دلائے گا ۔ ۔ کیونکہ وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ساتھ میں سفر کرنے والا کس اذیت کا شکار ہے ۔ اُسے کیا پریشانی لاحق ہے ۔وہ میت پر جارہا ہے یا وہ اپنے کسی عزیز کے ہاں جارہا ہے جو پریشانی کا شکار ہے ۔ ایسے افراد کو بس گاڑی ہی اچھی لگتی ہے جس میں بیٹھ کر وہ اپنے کارخانے چلاتا ہے اور دوستوں کے ساتھ پکنک پارٹیوں پر جانے کی بات کرتا ہے ۔ اپنے باس کے ساتھ اچھے تعلقات اور دوستوں کو نوکریاں دینا ،ان کا خیال رکھنا، موضوع گفتگو ہوتا ہے ۔ اگرآج گراہم بیل زندہ ہوکر ٹیلی فون اور موبائیل کا استعمال دیکھ لے تو وہ توبہ تائب ہوجائے کہ میں نے فضول بات کرنے کے لئے کو  ایسی  ایجاد نہیں کی  تھی ۔

دوسری طرف کوئی سیاسی گفتگو سے گاڑی میں اودھم مچائے بیٹھا ہوگا جن کے سامنے حامد میر اور جاوید چوہدری کچھ نہیں ہونگے اگر بندہ پی ٹی آئی کا ہو تو پھر تو گاڑی بدلنے میں عافیت ہوتی ہے ۔ کیونکہ عمرانی قصیدے پورے سفر میں آپ کو سننے کو ملیں گے ۔ اور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ میں کسی گاڑی میں نہیں بلکہ نائی خان میں بیٹھا ہواہوں جہاں کوئی پرائیویسی نہیں ۔ کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ ساتھ بیٹھنے والے مسافر کی نظر آپ کے موبائل سکرین پر بھی لگی ہوگی کہ آپ کس کے ساتھ ٹیکسٹنگ کر رہے ہو ۔ کیونکہ تجسس کا مادہ انسان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے وہ اس  کھوج  میں لگا ہوتا ہے کہ مجھے بس معلومات مل جائیں ۔ تو خدارا اگر کوئی اس قسم کی عادتوں کاشکار ہو تو یہ عادت چھوڑ دیجیے کیونکہ اکثریتی لوگ اس عادت کو پسند نہیں کرتے وہ اپنی پرائیویسی میں دخل اندازی نہیں چاہتے۔ وہ آرام کے ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں لہذا پبلک ٹرانسپورٹ میں انسانوں کی طرح سفر کریں کیونکہ آپ کی عادتوں اور حرکتوں سے آپ کے خاندان کا پتہ چلتا ہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *