فرضی ہیرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سجاد حیدر

لیکن جب حقائق کی کڑی دھوپ میں اس طاقت کی آزمائش شروع ہوئی تو سب کچھ دھوپ میں پڑی برف کی طرح پگھل گیا۔ امریکہ نے پورے عالم اسلام کو بغیر کسی اضافی قوت صرف کیے ایسا مایوس کیا کہ آج تک ہم اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں جہاں سے باہر نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہے اور نہ امید۔ ہماری امیدوں کے غبارے کو فضا میں ہی پھوڑ دیا گیا۔ آج امت مسلمہ جس قحط رجال کا شکار ہے اس میں کوئی بھی انہیں امید کی جھوٹی روشنی دکھا کر اپنے بتائے راستے پر چلا سکتا ہے۔ وہ ہر لٹیرے کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیتے ہیں۔
یہ ہر زوال پذیر قوم کا المیہ ہے کہ وہ اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنے کی بجائے کسی نجات دہندہ کے انتظار میں رہتی ہے جو آسمان سے اترے اور چٹکی بجاتے ہی انکے تمام مسائل کو حل کر دے۔ ہمارا حریف ہماری اس کمزوری سے بخوبی واقف ہے وہ وقفے وقفے سے کوئی جعلی ہیرو کھڑا کرتا ہے جو ہماری امیدوں کے بجھتے دیئے کو پھر سے روشن کر دیتا ہے اس ہیرو کی امانت, دیانت اور شجاعت کی جھوٹی داستانوں سے اخباروں کے کاغذ سیاہ کیے جاتے ہیں۔ ٹی وی کی سکرینوں پر بھاڑے کے ٹٹو ان کی شان میں رطب السان ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ بس ہماری تمام مشکلات کا حل چند دنوں کی دوری پر ہے۔ اور پھر ایک صبح جب آنکھ کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارا ہیرو تو تکریت کے غاروں سے چوہے کی مانند پکڑا گیا ہے۔ صدام کی گرفتاری یا پھانسی اصل مقصد نہیں تھا بلکہ اسکی نمائش اور اسکے پردے میں تمام امت مسلمہ کی امیدوں اور آرزوؤں کو خاک میں ملانا اصل مقصد تھا۔ مسلمانوں کے نجات دہندہ کو میڈیا پر ایک مخبوط الحواس شخص کی صورت میں پیش کرنا اصل مقصد تھا۔ پھر اسی صدام حسین کی پھانسی کے لیئے عید سعید کا دن منتخب کرنا کیا ایک اتفاق تھا؟ مسلمانوں کو انکے فرضی ہیرو کی لاش کا تحفہ انکے سب سے بڑے تہوار والے دن دیا گیا۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جب کسی ڈمی ہیرو نے اپنی حد سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو کبھی اسکے طیارے کو ہوا میں پھوڑ دیا گیا اور کبھی بین الاقوامی سرحدوں کو پامال کر کے اپنے مطلوبہ شخص کو مار کر اسکی لاش کو سمندر برد کرنے کا ڈرامہ کر دیا۔
یاد رکھیئے جب تک امت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو گی اور اپنے آپ کو وقت کے جدید ترین ہتھیاروں ( آج کے ہتھیار علم اور ٹیکنالوجی ہیں ) سے مسلح نہیں کرے گی, اپنے زور بازو ہر اعتماد کرتے ہوئے اپنے حقیقی دشمنوں غربت, جہالت اور کم ہمتی کو شکست نہیں دے گی، کسی نجات دہندہ کے انتظار کی بجائے اپنی صلاحیت کو پہچان کر اپنے آپ کووقت کی ضروریات کے مطابق طاقتور نہیں بنائےگی تب تک ایسے ہی فرضی ہیرو اسکا مقدر بنتے رہیں گے۔

(جھنگ کے لہجے اور طبیعت کے مالک سجاد حیدر ایک استاد اور سما نیوز پیپرز کے ساتھ بطور کالمسٹ منسلک ہیں۔ معاشرے میں پھیلی ذہنی پسماندگی دور کرنے کی خواہش آپ کو لکھنے پر اکساتی ہے۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *