ایڈز ۔ وائرس (7) ۔۔۔وہاراامباکر

بیماریوں پر قابو پانے کے ادارے کے ہفت روزہ رسالے میں 4 جولائی 1981 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ لاس اینجلس میں اکتوبر 1980 سے مئی 1981 کے درمیان پانچ مریض داخل ہوئے تھے۔ ان سب کو ایک نایاب بیماری نیموسسٹس نمونیا تھی۔

یہ بیماری ایک عام پائی جانے والی فنگس سے ہوتی ہے۔ اس کے ذرات اس قدر عام ہیں کہ یہ بچپن میں ہی جسم میں داخل ہوتے رہتے یہں۔ امیون سسٹم ان کو جلد ہی مار دیتا ہے اور آئندہ کے لئے محفوظ کر دیتا ہے۔ لیکن بہت کمزور امیون سسٹم ہو جانے کے بعد یہ فنگس تباہی مچا سکتی ہے اور پھیپھڑے ناکارہ کر دیتی ہے۔ مریض کو زندہ رکھنے کے لئے آکسیجن دینی پڑتی ہے۔ یہ پانچوں مریض اس حالت میں تھے کہ ان کو یہ بیماری لاحق نہیں ہونے چاہیں تھی۔ نوجوان مرد جو کچھ عرصہ پہلے تک ہر لحاظ سے صحت مند تھے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے رسالے کے مدیر نے لکھا کہ “یہ ممکنہ طور پر خلیوں کے امیون سسٹم میں ہونے والی خرابی ہے”۔

انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ جدید تاریخ میں آنی والی بدترین وبا کا بتا رہے ہیں۔ یہ پانچ افراد خلیاتی امیون سسٹم کی خامی کا شکار تھے اور اس کی وجہ ایچ آئی وی وائرس تھا۔ بعد میں محققین نے معلوم کیا کہ یہ خاموشی سے پچھلی نصف صدی سے لوگوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اسی کی دہائی میں یہ وبائی صورت اختیار کر گیا اور کروڑوں لوگوں میں پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھوں ساڑھے تین کروڑ لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

موت کا یہ عدد خوفناک اس لئے ہے کہ یہ آسانی سے منتقل ننہیں ہوتا۔ اس کو کسی کو ہاتھ ملانے سے یا چھینکنے سے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ صرف جسم کے کچھ مادوں کے ساتھ منتقل ہوتا ہے۔ غیرمحفوظ جنسی فعل سے۔ خون کے تبادلے سے، ماں سے بچے میں۔ منشیات استعمال کرنے والوں میں سرنج کو شئیر کرنے سے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک بار یہ جسم میں آ جائے تو امیون سسٹم پر ہی بے خوفی سے حملہ کرتا ہے۔ یہ خاص قسم کے خلیوں، CD4 ٹی سیل، کو پکڑتا ہے اور ان کے ممبرین میں ویسے جا کر مل جاتا ہے جیسے صابن کے بلبلے آپس میں ملتے ہیں۔ یہ ایک ریٹرو وائرس ہے۔ یعنی اپنے جینیاتی مواد کو خلیے کے جینوم میں داخل کر دیتا ہے۔ اس سے ایچ آئی وی وائرس کی نئی کاپیاں بنتی ہیں جو فرار ہو کر ودسرے خلیوں کو متاثر کرتی ہیں۔

شروع میں اس وائرس کی آبادی تیزی سے بڑھتی ہے۔ جب امیون سسٹم کو معلوم ہوتا ہے تو یہ انفیکٹ ہونے والے خلیوں کو مارنے لگتا ہے اور وائرس کی آبادی کم ہونے لگتی ہے۔ انفیکٹ ہونے والے مریض کو یہ سب جنگ معمولی فلو کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔ امیون سسٹم اس کو شکست دے دیتا ہے اور تقریباً تمام ایچ آئی وی وائرس کو مار دیتا ہے۔ لیکن شکست دیکھ کر ایچ آئی وی وائرس خاموش ہو جاتے ہیں۔ جن ٹی سیلز میں جا کر یہ چھپا ہوتا ہے وہ بڑھتے اور تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ پھر کسی وقت یہ سر اٹھاتا ہے اور وائرس کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔ امیون سسٹم اس نئی بغاوت کا سر کچل دیتا ہے۔ یہ جاری رہتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ امیون سسٹم نڈھال ہو کر شکست کھا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ امیون سسٹم یہ شکست ایک سال میں ہی کھا جائے یا پھر بیس سال تک بھی نہ کھائے۔ لیکن نتیجہ کبھی نہ کبھی ایک ہی نکلتا ہے۔ اس کا شکار ہونے والے اپنے آپ کو ان بیماریوں سے نہیں بچا پاتے جو ایک نارمل امیون سسٹم روک دیتا ہے۔ یہ وجہ تھی کہ اسی کی دہائی میں لوگ ہسپتالوں میں عجیب بیماریوں کے ساتھ آنا شروع ہو گئے۔

اس بیماری کے وائرس کی دریافت فرانسیسی سائنسدان نے 1983 میں کی۔ ملیریا یا تپدق انسانوں کو ہزاروں سال سے مارتے آئے ہیں۔ یہ نئی بیماری اسی کی دہائی میں دریافت ہونے کے چند سال کے اندر ہی دنیا بھر میں تباہی مچا رہی تھی۔ یہ کیا تھا؟ اس وبا کا اسرار تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے سائنسدانوں نے اس کے جین کو مختلف مریضوں سے حاصل کر کے سیکوئنس کیا اور یہ دنیا کے کئی ممالک میں کیا گیا۔ اس سے وائرس کا ارتقائی درخت بنے۔ ہر سٹرین ایک مشترک جد کی شاخ تھی۔ محققین نے دریافت کی کہ اس کی دو الگ اقسام ہیں۔ HIV-1 جو جارحانہ ہے۔ اور HIV-2 جس نسبتاً اتنی جارحانہ نہیں۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ آہستہ بڑھنے والے وائرس کے بڑی گروپ سے تعلق رکھتا ہے جس کو لینٹی وائرس کہتے ہیں۔ یہ بلی، گھوڑے، گائے اور بندر کو متاثر کرتے ہیں۔ 1991 میں دریافت ہوا کہ HIV-2 افریقہ میں بندروں کی ایک قسم کو انفیکٹ کرنے والے وائرس کا قریبی رشتہ دار ہے۔ سوٹی منگابے نامی انواع مغربی افریقہ میں پالی بھی جاتی ہے اور کھائی بھی جاتی ہے اور یہ بندر کا انسانوں کو دانت سے کاٹ لینے کے سبب بھی منتقل ہو سکتی ہے۔

سائنسدانوں کو HIV-1 کا پتا لگانے میں زیادہ دیر لگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان نوع میں تھا جس کو سٹڈی کرنا آسان نہیں۔ چمپینزی۔ یہ چالاک ہیں، طاقتور ہیں اور سوئی لگوانا پسند نہیں کرتے۔ ان کے فضلے کا تجزیہ کر کے اس وائرس کو شناخت کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ وائرل درخت میں اس کا ارتقا چمپینزی کے وائرس سے کئی مرتبہ ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے آغاز کی کھوج لگانے کے لئے پرسرار طریقے سے انتقال کرنے والے پرانے مُردوں کی باقیات کا تجزیہ کیا گیا۔ 1976 میں ہلاک ہونے والے ناروے کے ملاح کے ٹژو میں یہ نکلا۔ اس کے ابتدائی شکار غریب ممالک کے تھے جہاں پرانے جسم کے ٹشو کا ملنا بہت مشکل تھا۔

نوے کی دہائی میں ایک اور طریقہ معلوم ہو گیا۔ ہزاروں مریضوں سے لے کر ایچ آئی وی کو سیکونس کیا گیا۔ سپرکمپیوٹر سے تجزیہ کر کے ان کی جینیاتی میوٹیشن کا ماڈل بنایا گیا۔ ان سب سے اندازہ ہوا کہ میوٹیشن ایک خاص رفتار سے ہوتی ہیں۔ یعنی کہ اس کو ریت گھڑی کی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ ریت کا ڈھیر کتنا اونچا ہے؟ اس کا جواب ہمیں یہ بتا دے گا کہ وقت کتنا گزر گیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اس کا مشترکہ جد 1933 میں تھا۔

اس اندازے کو ایک اور حیران کن دریافت سے تقویت ملی۔ یہ کانگو میں کنشاسہ ہسپتال میں ایک مرنے والے مریض کا 1959 کا محفوظ کیا ہوا خون کا سیمپل تھا۔ 1998 میں اس پر تجزیہ اور 2008 میں کنشاسا میں ایک اور پیتھولوجی کی کلکشن کے 1960 کے تجزئے نے اس ریت گھڑی کے ماڈل کو کنفرم کر دیا۔ ایچ آئی وی کی انسان میں منتقلی بیسویں صدی کے شروع میں ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مالیکیولر کلاک نے ایک اور نئی چیز کی جھلک دی۔ کنشاسا میں 1960 میں یہ دونوں وائرس ایک جیسے نہیں بلکہ HIV-1 کی الگ شاخوں کے تھے۔ اس نے ہمیں اس وائرس کی کہانی سمجھنے میں مدد کی۔

ایسا وائرس چمپینزی میں پایا جاتا ہے۔ شکاری چمپینزی کو گوشت کے لئے عرصے سے استعمال کرتے تھے۔ کبھی اس دوران یہ شکاری کو انفیکٹ کر دیتا تھا۔ لیکن شکاری میں آنا وائرس کے لئے کارآمد نہیں تھا۔ یہ آگے نہیں پھیلتا تھا۔ بیسویں صدی میں اس علاقے میں آبادیاں اور شہر بسنے لگے۔ دریاوٗں کے ساتھ تجارتی راستوں نے پیتھوجن کا سفر جنگل سے شہروں کی طرف ممکن کر دیا۔ اس وائرس کے حامل چمپینزی جنوب مشرقی کیمرون کے جنگلوں میں رہتیں ہیں۔ یہاں کے دریا جنوب کی طرف بہتے ہوئے کنشاسا کی طرف جاتے ہیں۔ تو یہ محض اتفاق نہیں کہ ہمیں اس وائرس کے ابتدائی نشان کنشاسا میں نظر آتے ہیں۔

اس بڑھتے شہر میں وائرس بھی بٖڑھ سکتے تھے۔ انہیں وہ آبادی مل گئی جس میں یہ اپنے قدم جما سکتے اور ارتقا سے انسانوں میں رہنے کی مطابقت حاصل کر سکتے۔ 1960 تک ان میں جینیاتی ورائٹی خاصی آ چکی تھی اگرچہ غالباً انہوں نے صرف چند ہزار لوگوں کو متاثر کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب تک اس کی شناخت 1983 میں ہوئی، یہ ایک عالمی بحران بن چکا تھا۔ اس کو روکنے کی سٹریٹیجی اگلے کچھ برسوں کے بعد کارآمد ہونا شروع ہوئی۔ لوگوں کا رویہ بدلنا موثر رہا۔ یوگنڈا نے اس پر ایک بڑی تحریک شروع کی۔ 1991 میں اس ملک میں بڑی پیمانے میں اموات ہو رہی تھیں۔ اس کی آبادی میں پندرہ فیصد اس مرض کا شکار تھے۔ یہ تناسب 2001 میں پانچ فیصد رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پر ادویات بنانے کی کوششیں کی جاتی رہیں ہیں۔ کئی ملین افراد اب ادویات کی ایک کاک ٹیل استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ڈرگ تھراپی ایچ آئی وی کے شکار لوگوں کو بڑی حد تک صحت مند زندگی گزارنا ممکن کرتی ہیں۔ یہ سستا نہیں۔ غریب ممالک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد وہ ادویات افورڈ نہیں کر پاتے جو انہیں چند سال، حتیٰ کہ دہائیوں کی اضافی زندگی دے سکیں۔ لیکن یہ اب تبدیل ہو رہا ہے۔ کئی این جی او اس وقت متاثرہ ممالک میں ادویات تک رسائی کا کام کر رہی ہیں۔

لیکن یہ ادویات اچھا علاج نہیں۔ ان کے مضر اثرات چند برسوں میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اور وائرس کا ان کے خلاف مدافعت بنانے سے نئی ادویات کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے۔ ایچ آئی وی کا بہترین حل کوئی ویکسین ہونا چاہیے تا کہ اس کا شکار ہونے سے پہلے ہی بچا جا سکے۔ لیکن ویکسین بنانے کی کوشش میں ابھی تک مایوسی ہاتھ آئی ہے۔ 2008 میں مرک کی بنائی جانی والی ویکسین بڑی خبر بنی تھی۔ ٹرائل کے بعد اس کو ترک کر دینا پڑا تھا کیونکہ یہ موثر نہیں تھی۔ اس نے امکان میں کمی کے بجائے کچھ اضافہ نظر آیا تھا۔

اور اگر کسی چھوٹے ٹرائل میں ویکسین اثر دکھا دیتی ہے تو بھی یہ اس بیماری کے خلاف کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ایچ آئی وی وائرس بھی اپنی کاپی بنانے میں، فلو کی طرح، نکما ہے۔ بہت جلد بہت میوٹیشن اکٹھی کر سکتا ہے۔ یہ نیچرل سلیکشن کے لئے بہت سا خام مال مہیا کرتا ہے۔ اس کا ارتقا اس وائرس کے امیون سسٹم کے شناختی نظام سے فرار ممکن بناتا ہے۔

فلپ گولڈر نے 2008 میں سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم کی مدد سے دنیا بھر میں 2800 لوگوں کی سٹڈی کی جس سے معلوم ہوا کہ مختلف لوگ مختلف قسم کا دفاعی لیکوسائٹ اینٹی جن رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ ہر علاقے میں وائرس اس علاقے کی لیکوسائٹ اینٹی جن سے مطابقت حاصل کر چکا ہے۔ یہ تحقیق ایچ آئی وی کی ویکسین بنانے کی کوششوں کے لئے بری خبر ہے۔

لیکن یہ ممکن ہے کہ ویکسین بنانے والے ایچ آئی وی کا فرار رولنگ ویکسین سے روک سکیں۔ یہ وائرس سے ایک قدم آگے رہنے کا طریقہ ہو گا۔ اور اس وائرس کا مستقبل دیکھنے کے لئے اس کے ماضی سے مدد لینی ہو گی۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے HIV-1 کی سب ٹائپ بی کے سٹرین کا موازنہ کیا اور اس کے مشترک جد کی بنائی ایک پروٹین تیار کر لی۔ اس پروٹین کو استعمال کرتے ہوئے ویکسین بنائی جس کا رپسپانس ایچ آئی وی کے سٹرین کی بڑی رینج پر تھا۔ یہ تجربات بندروں پر کامیاب رہے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ اس کی ویکسین بنانا ممکن ہو سکتا ہے۔

ایک ویکسین کا تجربہ اس سال موثر نہ ہونے کی وجہ سے ترک کر دیا گیا جبکہ ایک اور ویکسین اس وقت فیز تھری ٹرائل میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ ایڈینووائرس کی مدد سے انجینر کی گئی ویکسین ہے جو بہت سے گلوبل سٹرین کو روک سکتی ہے۔

یہ وائرس ہر سال سترہ لاکھ لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ہر سال اس سے سات سے آٹھ لاکھ اموات ہوتی ہیں جن میں سے ایک سال بچے ہیں۔ ایچ آئی وی سے لڑنے کا مستقبل ایچ آئی وی کے ماضی میں ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *