کورونا وائرس اور پاکستان۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

چین نے گزشتہ ایک ماہ سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے قابل ستائش اقدامات کیے اور وہ آج بھی بہت دلیری کیساتھ اس سے نبرد آزما ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی تعداد چالیس تک پہنچ چکی ہے۔ کورونا وائرس دیگر ممالک کا سفر کرتے کرتے بالآخر پاکستان پہنچ گیا۔ ہمارے ہمسائے ایران اور بھارت میں بھی کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تشخیص ہو چکی تھی۔ ایسے میں پاکستان کو اس سے بچانا بہت مشکل بلکہ قریب قریب ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ بالآخر پاکستان میں بھی ابتدائی طور پر دو مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کا مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے اب مزید مریض بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

ہماری حکومت نے گزشتہ ایک ماہ سے کورونا کے مریضوں کی پاکستان آمد سے متعلق جو اپنی پالیسی بنائی وہ بلاشبہ قابل ستائش ہے۔ اس پر بہت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن بہرحال یہ ایک احسن اقدام تھا کہ کورونا سے متاثرہ پاکستانیوں کو ملک میں فی الحال نہ لایا جائے ,بلکہ انکا چین کے اندر ہی علاج کروایا جائے اور صحتمند افراد کو آنے دیا جائے۔ راقم الحروف نے اس پر ایک کالم بھی لکھا تھا۔ اس کے علاوہ چین کیساتھ بہترین تعلقات ہونے کے باوجود اپنے فلائٹ آپریشن معطل کر دئیے گئے۔ بلاشبہ یہ بھی ایک احسن اقدام تھا۔

اب چونکہ کورونا وائرس پاکستان کے اندر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر ایک خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ سوشل میڈیا بھی کورونا کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں سے بھرا پڑا ہے جن میں سے بیشتر باتوں کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ کورونا سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹرز کے نزدیک ٹائیفائیڈ، ٹی بی تو کورونا سے کہیں بڑی بیماریاں ہیں۔ لہٰذا یہ بیماری ہونے کی صورت میں گھبرانے کی بجائے فوری طور پر ہسپتال ایمرجنسی جائیں اور علاج کی طرف توجہ دیں۔ ہم کورونا کو بڑھنے سے مکمل طور پر تو شاید نہ روک سکیں لیکن احتیاطی تدابیر اور اپنے سخت حفاظتی اقدامات سے اس کے پھیلنے کی رفتار کو سست ضرور کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کیلئے پوری قوم کو یکجا ہونا پڑے گا اور سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کیلئے سب سے بڑی اور اہم بات تو یہ ہے کہ جب ایک ماہ سے ہمیں معلوم تھا کہ کورونا وائرس مختلف ممالک میں پہنچ چکا ہے تو ہماری حکومت کو پاکستان کے اندر اس کیلئے تیاری کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنے چاہیے تھے۔ کوئی بھی ایسا مسئلہ ہو اس میں سب سے پہلے آگاہی کیلئے شہری اور دیہی سطح پر بھرپور تشہیری مہم لانچ کی جاتی ہیں جس میں متعلقہ محکمہ جات، میڈیا،اور دیگر زرائع سے عوام کو اس آفت یا بیماری کے بارے میں نہ صرف مکمل آگاہی دی جاتی ہے بلکہ اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے  ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے لیکن ہم نے بدقسمتی سے گزشتہ ایک ماہ سے اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کئے جس کے نتیجے میں آج سوشل میڈیا پر عوام کو مختلف طریقوں سے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے سسٹم کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔

اگرچہ گزشتہ روز ایک ہیلپ لائن بنائی گئی جو کہ قابل ستائش ہے لیکن یہ ابھی ناکافی ہے۔ آگاہی مہم کے ذریعے عوام کو بتایا جائے کہ یہ بیماری کیا ہے۔ اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے۔ اس سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے۔ کورونا ایک متعدی وائرس ہے جو اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور مریض صحت مند ہو جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں ہلکا بخار، نزلہ   ذکام اور کھانسی شامل ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی میں یہ تشخیص ہو جائے تو فکر مندی کی کوئی بات نہیں ہے۔ فوری طور پر علاج شروع کر دیا جائے۔ اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قابل علاج بیماری ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس وائرس کی وجہ سے وفات پا گئے ورنہ یہ وائرس اپنی مدت مکمل کرکے خود ختم ہو جاتا ہے۔ بس ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ اپنی بیماری کو مت چھپائیں۔ یہ کوئی خدانخواستہ ایڈز کا وائرس نہیں ہے کہ جس کو چھپایا جائے۔ اسے ایک عام بیماری کے طور پر لیا جائے۔ مریض کیساتھ اچھا رویہ اختیار کیا جائے۔ صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔ ماسک استعمال کیجئے۔ ایسی جگہوں پر جانے سے اجتناب کیجئے جہاں بہت سے لوگ اکٹھے ہوں۔ ہسپتال جاتے وقت ماسک لگائیں اور بچوں کو مریض کی عیادت کیلئے بلاوجہ ہسپتال مت لیکر جائیں۔ پبلک مقامات پر جانے سے حتی الوسع اجتناب کیجئے۔

Advertisements
julia rana solicitors

دوسرا یہ کہ ہماری حکومت کو چاہیے تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تمام ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر الگ سے وارڈز مختص کر دئیے جاتے جو کہ صرف کورونا کے مریضوں کیلئے مخصوص ہوتے اور ڈاکٹرز کی ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا جاتا۔ لیکن ایسا بھی ہمیں نظر نہیں آیا۔ ابھی فوری طور پر تمام ہسپتالوں میں وارڈز مخصوص کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ڈاکٹرز کیساتھ ساتھ پیرا میڈیکل  سٹاف کو اس حوالے سے ٹریننگ بھی دی جانی چاہیے تاکہ مریضوں کا علاج بہتر طریقے سے ہو سکے۔ ہسپتالوں میں علاج کیلئے متعلقہ ادویات اور سٹاف کیلئے خفاظتی سامان فی الفور فراہم کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس بلایا جائے جس میں کورونا سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اور جامع پالیسی بنائی جائے اور اسے لاگو کرنے کے بعد گائیڈ لائنز کے مطابق اس پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے کیونکہ اب ہمارے پاس غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم من حیث القوم ایک بےحس قوم ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی پاکستان میں آمد کے ساتھ ہی ہمارے ملک میں زخیرہ اندوز مافیا پھر سے متحرک ہو گیا اور سرجیکل ماسک ہی مارکیٹ سے غائب کر دئیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ماسک دوگنی سے بھی زیادہ قیمت میں مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے لیکن ہمارے مافیا اس سب سے عاری ہیں کہ جو حرام کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ حکومت نے اس سلسلے میں فوری طور پر سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور اب یہ ماسک مارکیٹ میں اکثر جگہوں پر دستیاب بھی ہو گئے ہیں۔ اگرچہ اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے لیکن ہم ہر بات حکومت پر نہیں ڈال سکتے۔ ہمیں خود بھی اپنی زمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔

Facebook Comments

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply