فرد واحد اپنے گناہ کا خود ذمہ دار ہے ۔ عبدل رؤف خٹک

یہ بھی اک انوکھا امتزاج ہے کہ گناہ اک شخص کرتا ہے ،لیکن اس کا ملبہ ان سے جڑے ان لوگوں پر گرتا ہے جنھوں نے اس کی سیاسی اخلاقی مذہبی تربیت کی ہوتی ہے ، بچہ شرارت کرتا ہے تو زمہ داری والدین پر آتی ہے ،شاگرد کوئی حرکت کرتا ہے تو اس کی تمام تر زمہ داری استاد پر عائد ہوتی ہے ۔
لیکن اگر اک استاد سے کوئی بیہودہ حرکت سرزد ہوجائے تو اس کے زمہ دار پھر والدین نہیں ہوتے ،بلکہ وہ مکتب زمہ دار ہوتا ہے ، جہاں اس کی اخلاقی اور ذہنی تربیت ہوئی ، وہ اسکول زمہ دار ہوتا ہے ،جہاں اس نے اعلیٰ اخلاق کی ڈگریاں حاصل کیں۔
اسی طرح اگر کوئی کارکن یا سیاسی لیڈر ایسی کوئی حرکت کرتا ہے جس میں شرمندگی کا سامان ہو اس کی زمہ داری بھی سیاسی جماعت یا اس کے قائد پر ڈال دی جاتی ہے ،اور عوام کی طرف سے جو رد عمل آتا ہے اس سے یہی تاثر ابھرتا ہیکہ مخالف جماعت نے اپنے لیڈر یا کارکن کی تربیت اخلاقی بنیادوں پر استوار نہیں کی ، آپ کہیں بھی دیکھ لیں جب بھی ملک کے کسی کونے میں کسی شخص سے ایسا کوئی واقعہ یا سانحہ سرزد ہوجائے؟ چاھے وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی یا کسی بھی مکتبئہ فکر سے تعلق رکھتا ہو ؟ اگر وہ کوئی جرم یا گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے مجرم سمجھنے کے بجائے، اس سیاسی یا مذہبی مکتب کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جہاں اس کی تربیت ہوئی ہوتی ہے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کی بنیادی تربیت کہیں پروان چڑھتی ہے تو وہ جگہ اک مکتب کی شکل کی ہوتی ہے جہاں لوگوں کی تربیت استوار کی جاتی ہے وہ تربیت کسی بھی شکل میں ہوسکتی ہے ،مذہبی سیاسی سے لیکر اخلاقی تربیت تک ہوسکتی ہے ، لہذا لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ اک شخص جو گناہ کا مرتکب ہوا ہے ،اس میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی کوتاہی ضرور ہوئی ہے ،لہذا عوام کا اک بہت بڑا طبقہ اس گناہ گار سخص کے ساتھ ساتھ اس مکتب اور نرسری کو بھی کوستے ہیں جہاں اس شخص کی تربیت ہوئی ہوتی ہے ،
اس ضمن میں اگر دیکھا جائے تو یہ اک انتہائی غلط اقدام ہوتا ہے عوام کی طرف سے ،آپ سارا ملبہ کسی سیاسی جماعت ،مذہبی مکتبہ فکر یا کسی بھی نظرئیے کے فروغ دینے والوں کو صرف اک شخص کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے مورد الزام نہیں ٹھرا سکتے۔
ہر انسان کا اپنا بھی اک عمل ہے اور وہ اسی عمل کے ساتھ جیتا ہے اور اسی عمل کو اپنے ساتھ لیکر بھی چلتا ہے ، ہر شخص اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی بھی ایسا فعل جو مجھ سے سرعام سرزد ہوجائے اس پر عوام کی طرف سے سخت رد عمل آئے گا ،اور اگر آپ کسی جماعت یا مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہو تو بجائے آپ پر تنقید کرنے کے وہ مکتب اور جماعت نشانے پر ہوگی ۔
ہر وہ شخص جو سیاسی یا مذہبی حیثیت سے اپنی اک پہچان اور شناخت رکھتا ہو اسے ان باتوں کا خیال رکھنا پڑے گا کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا ،عوام باشعور ہوچکی ہے وہ اب خود کو زیادہ پامال ہوتا نہیں دیکھ سکتی ، اور یہ دور بھی اب سوشل میڈیا کا دور ہے پل میں چھوٹی سی چھوٹی خبر سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا بھی ہر وقت اسی تاڑ میں رہتا ہے ،لہذا عوامی نمائندوں کو چاھیئے کہ وہ جب عوامی حلقوں میں جاتے ہیں تو ان باتوں کا خیال ضرور رکھیں کہ آپ پر سب کی نظر ہوتی ہے ،اور لوگ آپ کی اک اک حرکت پر نظر رکھے ہوتے ہیں ، ایسے میں اگر کوئی سیاسی یا مذہبی مخالف جماعت کا کارکن یا کوئی بھی عام آدمی کوئی ایسی حرکت کرے جو آپ کو ناگوار گذرے تو آپ کو حالات کی نزاکت کو۔مدنظر رکھتے ہوئے اس شخص کو جس نے آپ سے بدتمیزی یا کوئی بھی ایسی بداخلاقی حرکت جو آپ کو بری لگی ہو اسے نظر انداز کرنا ہوگا ۔

اکثر پبلک مقامات پر اس قسم کے واقعات ہوجاتے ہیں ،اور لوگ انھیں اپنے موبائل کے کیمروں کی نظر کرلیتے ہیں ،اور اسے سوشل میڈیا پر بھیج دیتے ہیں ،اور تھوڑی ہی دیر میں عوام کی طرف سے اک سخت رد عمل آتا ہے ، اور وہ بندہ جس سے یہ حرکت سرزد ہوئی ہوتی ہے وہ پریشان کے مجھے کس نے اور کب دیکھا ؟ اس وقت یہ عمل جب کسی شخص سے ہوتا ہے وہ غصے کی حالت میں ہوتا ہے ،وہ نہیں جانتا کہ وہاں کون لوگ موجود ہیں اور کون کس حالت میں ہے ؟
اور یہ بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے ایک ایم پی اے پبلک مقام پر اچانک سے اک راہگیر کو مکے اور تھپڑ ماررہا ہو ، ایسے بہت سارے واقعات ہیں جو لوگ اپنے کیمروں میں محفوظ کئیے ہوئے ہیں ۔
یہاں تو لوگ پوری کی پوری گاڑیاں عام آدمی پر چڑھائے بیٹھے ہیں ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ کسی کو بھول سکتا ہے جہاں سینکڑوں لوگوں کو جلادیا جاتا ہے ، سانحہ ماڈل ٹاؤن کس کے گلے کا طوق ہے ؟ جہاں اک حاملہ خاتون کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، کیا لال مسجد کا واقعہ بھول گئے جہاں نہتی بچیوں پر گولیاں برسائی گئیں ؟۔
کیا نبول گبول نے ایئرپورٹ پر ایک شخص کو زدوکوب نہیں کیا اس پر کیا ایکشن ہوا ؟ ایسے درجنوں واقعات بھرے پڑے ہیں جہاں عام شہریوں اور لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں اس ملک کے اشرافیہ کے ہاتھوں ،سیاستدانوں کے ہاتھوں ،وڈیروں اور جاگیر داروں کے ہاتھوں ، لیکن کسی بھی متاثرہ شخص کو انصاف ملا ہو تو بتائیں ؟ لیکن اب اک سیاسی جماعت کے نومولود سے زیادتی ہوئی تو تمام لوگوں نے شورمچانا شروع کردیا کہ یہ اک سیاسی جماعت کا ایم پی اے ہے اور اس نے اک عام شہری کو زدوکوب کیا ہے ،اسے سزا دی جائے ،بالکل سزا تو ملنی چاھیئے تاکہ دوسروں کو۔ہمت نہ ہو ،لیکن اک شخص کے کرتوت کو پوری جماعت پر تھوپنا یہ زیادتی ہے ،ہر شخص اپنے کئیے کا زمہ دار ہے اس کی بدمعاشی جماعت کے کھاتے میں ڈالنا ناانصافی ہے ۔
کوئی بھی جماعت ہو وہ اپنے لوگوں کی آبیاری ان بنیادوں پرنہیں کرتی کہ وہ راہ چلتے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنائے ، یہ انسان کا اپنا اک زاتی فعل ہوتا ہے اس میں رہ کر وہ اگر برے یا غلط کام کرتا ہے تو اس کی زمہ دار جماعت نہیں ہوگی ،ہاں ! جماعت اسے اپنی پارٹی سے دستبردار کرسکتی ہے کیونکہ اس اک شخص کی وجہ سے جماعت پر نزلہ گرتا ہے ،لیکن اسکی زاتی گندگی کو اک گروہ یا جماعت سے نتھی کرنا یہ زیادتی ہوگی ۔

Avatar
عبدالرؤف خٹک
میٹرک پاس ۔اصل کام لوگوں کی خدمت کرنا اور خدمت پر یقین رکھنا اصل مقصد ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *