انجام ۔۔( 13،آخری قسط) وہارا امباکر

شام میں، ترکی کی سرحد کے قریب ادلب کا علاقہ تھا، باریشا کا دیہات۔ 26 اکتوبر 2019 کو رات کی تاریکی میں آپریشن کیلا میولر جاری تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیلا میولر امریکہ سے تعلق رکھنے والی چھبیس سالہ انسانی حقوق کی ایکٹیوسٹ تھیں۔ “بغیر سرحدوں کے ڈاکٹر” کی تنظیم کے ساتھ تھیں۔ شام کے مہاجرین کی مدد کے لئے ترکی پہنچی تھیں۔ اس سے پہلے افریقہ میں مہاجرین کے کیمپوں کے لئے کام کر چکی تھیں۔ ترکی میں چھ ماہ کام کر کے وہ 3 اگست 2013  کو حلب پہنچیں۔ ایک ہسپتال میں کام کرنا چاہتی تھیں۔ ان کی میزبان این جی او نے انہیں منع کیا کہ یہ علاقہ محفوظ نہیں اور واپس چلی جائیں۔ جب وہ ترکی کے لئے بس پر سوار ہونے کے لئے لے جائی جا رہی تھیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا۔

میولر کو لونڈی قرار دے کر ابوبکرالبغدادی کے تصرف میں دے دیا گیا، ان سے جنسی زیادتی کی جاتی رہی۔ (اس کی تصدیق بعد داعش کے سینئر راہنما ابوسیاف کی بیوہ نے اپنے اعترافی بیان میں کی، امِ سیاف کو اس کی معاونت میں عراق میں سزا سنائی گئی)۔ میولر کی رہائی کے لئے آپریشن کئے گئے، لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ ان کی آزادی کی شرط داعش نے عافیہ صدیقی کی رہائی رکھی۔

ڈیڑھ سال قید میں رہنے کے بعد 10 فروری 2015  کو ان کے خاندان کو انکی تصاویر ارسال کر دی گئیں۔ سیاہ حجاب اور چہرے پر خراشیں۔ کیلا میولر اس دنیا میں نہیں رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس آپریشن کا نام کیلا میولر کی یاد میں رکھا گیا۔ ادلب پر بشار الاسد حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ باریشا کا دیہات ترک سرحد سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اس آپریشن کے لئے روس اور ترکی کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا تا کہ یہ سب کسی کے لئے سرپرائز نہ ہو۔ شہر سے باہر ایک بڑا کمپاوٗنڈ تھا۔ آٹھ عسکری ہیلی کاپٹر اس آپریشن میں شرکت کر رہے تھے۔ ڈیلٹا فورس کے فوجی اس کمپاوٗنڈ کے باہر اترے۔ اندر سے نکلنے والوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ کمپاؤنڈ کی ایک دیوار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑی تیزی سے پھیل جانے والی داعش اب آخری دموں پر نظر آ رہی تھی۔ اپنے عروج میں 2015 کو اس تنظیم کے پاس ایک لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقہ تھا۔ (یہ کوریا یا پرتگال جیسے ممالک سے زیادہ تھا)۔ اس کے چیپٹر عراق اور شام تک ہی نہیں، کانگو، مصر، نائجیریا، فلپائن، ترکی سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ داعش کے ردِعمل میں بننے والے عالمی اتحادوں نے ان کو ایک ایک کر کے علاقوں سے بے دخل کیا۔ سنجار کے قتلِ عام، لونڈیوں اور غلاموں کی منڈیاں لگانے، لوگوں کو مصلوب کرنے، قتل کو ایک آرٹ بنانے اور اپنا اثر و رسوخ دنیا بھر میں رکھنے والی یہ تنظیم چند سال میں دنیا میں نئے باب رقم کر چکی تھی۔ عراق میں نمرود سے شام میں تدمر کے قدیم اور اہم ترین آرکیولوجیکل نشانوں کو تباہ کرنے، سری لنکا میں خود کش حملے، مصر میں سینا پر روسی مسافر طیارے کو گرانے جیسے کاموں میں ان کا اثر دنیا بھر تک پہنچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگست 2019 میں بغدادی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔ طویل عرصے بعد ان کو دیکھا گیا تھا۔ اس بار وہ موصل کی مسجد کے منبر پر نہیں تھے بلکہ ایک کمرے کے فرش پر دوزانو ہو کر بیٹھے تھے۔ ایک رائفل ان کے ساتھ تھی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے گروپ کو کچھ جگہ پر شکست ہو چکی ہے اور اب داعش دفاعی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے سپورٹرز کو کہا کہ وہ دشمن کے افراد، معیشت، لاجسٹکس اور ملٹری، جہاں ممکن ہو، نشانہ بنائیں۔ یہ ویڈیو یہ دکھانے کی کوشش تھی کہ ابھی وہی کنٹرول میں ہیں۔ اس سے اگلا پیغام ستمبر میں آیا جو آڈیو تھا اور اس میں بتایا گیا تھا کہ داعش مختلف محاذوں پر روزانہ کارووائیاں کر رہی ہے۔ اور اس کے سپورٹر داعش سے منسلک جنگجووں، خواتین اور بچوں کو سیرین ڈیموکریٹک فورس کی جیلوں سے رہائی میں مدد کریں۔ کرد ان ہزاروں مجاہدوں کو باغوز کی جیلوں اور کیمپوں میں قیدی بنا چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلی کاپٹر سے اترنے والی فوج اب کمپاوٗنڈ کے اندر تھی۔ پچیس ملین ڈالر انعام ان پر تھا۔ بغدادی کا پتا اور جگہ کا اندرونی احوال کی تفصیلات ایک مخبر نے بتا دی تھیں۔ اس مخبر کو بھرتی کرنے میں کرد فورس نے مدد کی تھی۔ اس کی مدد سے سمگلنگ رنگ توڑا گیا تھا جو اس گروپ کی نقل و حمل کا کام کرتا تھا۔ بغدادی کی بیوی ان کے ہاتھ آ گئی تھیں۔ ان کے سالے محمد علی ساجد الزوبے کی گرفتاری سے سرنگوں اور بغدادی کی ٹھیک جگہ کا پتا لگ گیا تھا۔ مخبر  داعش کو لاجسٹکس میں مدد کرتا تھا۔ اس کی اور انٹیلی جنس ذرائع سے نگرانی سے یہ کنفرم ہو گیا تھا کہ بغدادی اس روز اپنے کمپاؤنڈ میں تھے۔ جب ڈیلٹا فورس یہاں پہنچی تو رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بغدادی کی موت کی افواہ جون 2017 میں بھی آئی تھی جب روس نے کہا تھا کہ ایک فضائی حملے میں وہ بغدادی کو نشانہ بنا چکا ہے لیکن اس سے اگلے ماہ داعش نے بغدادی کی آڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا اور کہا تھا کہ “جنگ کی آگ میں ہمارے دشمن جھلسیں گے”۔

اگلی افواہ سمتبر 2018 میں آئی تھی جب مشرقی شام کو داعش سے خالی کرواتے ہوئے ہجین میں شکست کے دوران کردوں نے یہ دعویٰ کیا تھا۔ یہ خبر بھی غلط نکلی۔

مارچ 2019 میں شام میں باغوز وہ آخری جگہ تھی جہاں سے داعش کو بے دخل کر دیا گیا۔ بغدادی کی خلافت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ادلب بھی اس وقت جہادی گروپ حیاة تحریرالشام کے قبضے میں تھا۔ یہ کمپاونڈ تنظیم حراس الدین کے کمانڈر ابو محمد الحلبی کا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ شام کی جنگ سے امریکہ کو باہر نکالنا چاہتے تھے۔ جانے سے پہلے بغدادی ایک بڑا پرائز تھے۔  انہوں نے اپنی انٹیلجنس کو اس بارے میں صاف ہدایت کر دی تھی۔ پچھلے پانچ ماہ سے ابوبکر البغدادی کی تلاش اولین ترجیح تھی۔ اس آپریشن میں شرکت کرنے والے سو فوجی اب کمپاؤنڈ کے اندر تھے۔

یہ آپریشن دو گھنٹے جاری رہا۔ اس میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی کل تعداد بیس کے قریب تھی جن میں ابوبکر البغدادی  بھی شامل تھے۔ ڈیلٹا فورس اس کمپاؤنڈ کو تباہ کر کے یہاں سے صبح ساڑھے تین بجے رخصت ہو گئی۔ داعش کی طرف سے اس بار اس کی تردید نہیں آئی۔ آپریشن کیلا میولر کامیاب رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

داعش کے اعماق میڈیا نے چار روز بعد اس کی تصدیق کر دی۔ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی داعش کے نئے سربراہ بنے۔ داعش کے ترجمان حمزہ القریشی نے پیغام جاری کیا “امریکہ کے پاگل بڈھے صدر کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ داعش بغدادی کی موت کا بدلہ لے گی”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بغدادی کی ہلاکت کی خبر پر دنیا بھر سے ری ایکشن فوری آنا شروع ہو گیا۔ ترک صدر رجب اردگان نے ٹویٹ کیا کہ یہ دہشتگردی کے خلاف ایک اہم سنگِ میل ہے۔ سعودی شاہ نے امریکی صدر کو مبارکباد بھیجتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف یہ ایک تاریخی قدم ہے۔ مصر، افغانستان، اسرائیل، اردن، بحرین، فرانس، جاپان، فلپائن، آسٹریلیا، برطانیہ کی طرف سے اس کامیابی پر پیغامات جاری کئے گئے۔ برطانیہ اور فرانس نے ساتھ یہ اضافہ کیا یہ اگرچہ یہ اہم ہے لیکن یہ ایک شخص کی موت ہے، تنظیم ابھی باقی ہے (ان تمام پیغامات کی تفصیل آخر میں دئیے لنک سے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

داعش بڑی حد تک ختم ہو چکی۔ اس کے پاس سے تمام علاقے چھن گئے۔ البتہ، دنیا بھر میں اس کے نہ صرف حامی اور ہمدرد موجود ہیں بلکہ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس آپریشن کی کامیابی کے بعد داعش سے منسلک تنظیمیوں نے کامیابی سے تاجکستان اور ازبکستان کی سرحد پر حملہ کیا، نائجیریا سے گیارہ لوگوں کے سر قلم کئے جانے کی ویڈیو جاری کی، جنوبی فلپائن میں حملہ کیا۔ شام اور عراق میں ان سے منسلک تربیت یافتہ جنگجو اگرچہ منظم نہیں لیکن موجود ہیں۔ افریقہ میں ساحل کا غیرمستحکم علاقے میں ان سے منسلک گروپ یہاں پر سردرد ہیں۔ برکینا فاسو، چاڈ، مالی، ماریطانیہ اور نائیجر کی حکومتوں نے ملکر اس بڑھتے خطرے کے خلاف فورس قائم کی ہے۔

داعش اپنے جیسی دوسری تنظیموں کی طرح عسکری میدان میں جلد شکست کھا گئی۔ اس کے بڑے پیمانے پر منظم ہو جانے کی صلاحیت نہیں رہی۔ اس کی فکری پسپائی ہو چکی۔ سیاہ جھنڈے ہر جگہ سے اتار لئے گئے۔ اس کے حامیوں کو زیرِزمین دھکیل دیا گیا۔

البغدادی کی موت اس تنظیم کے لئے دھچکا ہے۔ القاعدہ کی طرح داعش بھی اپنے عروج کی پرچھائیں رہ گئی ہے۔ لیکن، ابھی یہ باب ختم نہیں ہوا۔

گزشتہ تمام اقساط اور لکھاری کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے اُن کے نام پر کلک کیجیے وہارا امباکر

ساتھ لگی تصویر بغدادی کی آخری ویڈیو سے
7610db746f9e4fee8d937a59f20e3d7f_18

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *