گھٹیا افسانہ نمبر 30۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

“لگتا ہے ایک سو اٹھائیس جی بی بھی اب کم پڑ جائے گا، اب کوئی دو سو چھپن جی بی والا فون ڈھونڈنا پڑے گا”، سارا دن خود اپنے آپ سے باتیں کرتے گزر رہا ہے۔ دماغ اپنے آپ تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔
“تو بھائی میموری کو غیرضروری فائلوں کی وجہ سے کیوں بھرا ہوا ہے، نیا موبائل خریدنے کی بجائے اسی موبائل کی صفائی کرو، لوگوں کی بھیجی ہوئی فضول چیزی‍ں اپنے موبائل میں خواہ مخواہ ٹھونس رکھی ہیں”، اپنی بات کا خود جواب تراش کر خود کے کورٹ میں پھینکنے کا عمل شرانگیز ہوتا ہے، میں اسی شر کا سامنا کر رہا ہوں۔
“اتنی فرصت میسر آتی تو کتنے کام ہیں جو کب کے کر لیے ہوتے”
“تم اپنا آپ بدلو، اپنا کمفرٹ زون توڑو، مشکل ٹاسک بناؤ، اُن پہ مکمل تحقیق اور مکمل پلاننگ کرو، اُن ٹاسک پہ عمل درآمد کرو”، خود کو سکھا رہا ہوں کہ زندگی کیسے جینی ہے۔ کائنات کا ہر ذی روح ایک خاص طریقے سے جینے کا ڈھنگ جانتا ہے۔ کچھوے کا بچہ ہے، انڈے سے نکلتا ہے پانی کی طرف چَل پڑتا ہے۔ چڑیا کا بچہ ہے انڈے سے نکلتا ہے، کچھ مدت کے بعد اڑان بھرتا ہے، تادم مرگ وہی کام نبھاتا رہتا ہے، واحد یہ اشرف المخلوقات ہے جو روز بےعزت ہوتی ہے روز نیا سبق سیکھتے ہیں، روز خوار ہوتے ہیں روز نیا ڈھب تراشتے ہیں، روز نیا جبر دیکھتے ہیں روز نئی راہیں متعین ہوتی ہیں، روز ناکامی کا ٹیکا ماتھے پہ سجتا ہے روز نئی روشنائی کا متلاشی ہوتا ہے۔ میری انگلیاں موبائل کو تھامے ہوئے ہیں، ویڈیوز اوپر کی طرف سکرول ہوتی جا رہی ہیں۔ موبائل فون بھی ایک پوری مصروفیت ہے۔ گیلری کھولتے ہوئے معلوم ہوا کہ آپ کی کئی ایپلیکیشن کھلی ہوئی ہیں۔ ان کو بند کرنا پڑتا ہے پھر ایپلیکیشنز میں سے گیلری ڈھونڈئیے۔ گیلری میں کون سے فولڈر میں جانا ہے۔ آل ویڈیوز والا فولڈر کھولنا ہی بہتر ہے۔ اب کون دماغ کو اتنا کھپائے کہ کون سی ویڈیو کون سے فولڈر میں پڑی ہے۔ بس موبائل فون میں ہی ہے ناں، ڈھونڈ لیتا ہوں آل ویڈیو والے فولڈر میں۔۔۔۔ ویڈیو کی لمبی فہرست سکرول ہو رہی ہے۔ کسی میں کوئی عورت ناچ رہی ہے۔ کسی میں ایک حبشی نظر آ رہا ہے۔ ایک ویڈیو میں فساد برپا ہے۔ کوئی ویڈیو کیا ہے۔ کوئی کیا ہے۔ ویڈیو اوپر سکرول ہوئی جا رہی ہیں۔ صبا کی ویڈیوز شروع ہو گئی ہیں۔ ہاں یہ والی ویڈیو ہے۔ پَلے کا بٹن ٹچ کیا ہے۔ ویڈیو چل پڑی ہے۔ بہتے پانی کا منظر ہے۔ پانی پتھروں کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔ پانی کی رفتار نہ دھیمی ہے نہ ہی مہمیز ہے۔ پانی بالکل صاف شفاف ہے۔ پتھروں کے اوپر کائی کی مضبوط تہہ جم چکی ہے۔ پانی اُس کائی کے اوپر سے گزرتا ہوا بالکل سبز رنگ کا ہو رہا ہے۔ صبا کا ایک پاؤں نظر آیا ہے۔ پھر آواز سنائی دی ہے۔ جلد باز، تیزطرار اور بےدھیان لہجہ میری سماعتوں کے لیے پانی کی طرح شفاف و عیاں ہے:
“میں نے پانچ سات پیگ لگائے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ “، میرے چہرے پہ ہنسی پھیل جاتی ہے، جب جب بھی یہ فقرہ سنتا ہوں “اور میرے پاؤں پھسل رہے ہیں۔۔۔”، میں فوراً پتھروں پہ جمی کائی کو دیکھتا ہوں، کہیں یہ پھسل کر گر نہ جائے، کہیں اس کو کچھ ہو نہ جائے۔ کئی بار، دسیوں نہیں بیسیوں نہیں سینکڑوں بار یہ ویڈیو دیکھ چکا ہوں۔ صبا ٹور سے صحیح سلامت واپس آ گئی تھی۔ میں نے اس کو صحیح سلامت دیکھ بھی لیا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد اس نے کئی دیگر ویڈیوز بھی بنا کر بھیجی تھیں۔ لیکن میں جب بھی یہ ویڈیو دیکھتا ہوں اور اس سین پر پہنچتا ہوں تو بے اختیار پتھروں پر جمی کائی کی طرف نظریں لوٹ جاتی ہیں۔ کہیں صبا واقعی کائی کے اوپر پھسل کر گر نہ جائے کہیں اس کو کچھ ہو نہ جائے، “اور میں اُن سے الگ ہو گئی ہوں۔۔۔۔”۔ تم اُن سے الگ ہو ہی جاؤ تو اچھا ہے۔ جو گروپ گیا ہوا ہے اُس میں دیگر لڑکے لڑکیوں کے ساتھ صبا کے دو لڑکے دوست بھی ہیں۔ ایک کے ساتھ تو اسکی گرل فرینڈ بھی آئی ہوئی ہے۔ وہاں اُس کا کسی لڑکے کے ساتھ سین بن ہی نہیں سکتا۔ پھر بھی میری تمنا ہے کہ وہ اُن لڑکوں سے دور ہی رہے تو بہتر ہے، “یہ Zرا جگہ دیکھو۔۔۔۔۔”، صبا نے کیمرے کو ایک موڑ پہ آگے پودوں پہ فوکس کرکے مجھے دکھا رہی ہے، “اور اِن پانچ سات پیگ کے دوران، ساری ڈرائیونگ کے دوران، ہر موڑ پہ، ہر لمحے میں تمہارے ساتھ بیتے ہوئے وقت کو یاد کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”، ویڈیو تو آگے جاری ہے، سینتیس سیکنڈز کا ویڈیو کلپ ہے جس میں صبا نظر نہیں آئی  بس اُس کی آواز سنائی دی،صبا اس سے آگے کچھ بھی نہ بولتی، کچھ بھی نہ کہتی تب بھی یہ ویڈیو میرے لیے اثاثہ حیات ہے، بیسیوں مرد و عورت صبا کے ساتھ بیٹھ کر چائے کافی کو فینٹیسائز کرتے ہیں اور وہی صبا مجھے کہہ رہی ہے کہ وہ حسین وادیوں میں مدہوش جھمیلے میں مجھے یاد کر رہی ہے،  میرے لیے  یہ ویڈیو سرمایہ حیات ہے، “میں نے تمہیں یاد کیا ہے۔۔میں نے تمہیں یاد کیا ہے۔۔۔” مجھے اور کیا چاہیے، مجھے باقی دنیا سے کیا سروکار ہونا چاہیے، مجھے یہی کافی ہے کہ صبا مجھے یاد کر رہی ہے، میں سرشار ہوں، مکمل محسوس کر رہا ہوں، “مجھے تم سے کچھ بھی نہیں چاہیے، تم نے مجھے بہت پیار کیا ہے، میں اب مَر بھی جاؤں ناں تو مجھے کوئی غم نہیں ہے”۔ سینتیس سیکنڈز گزر چکے ہیں۔ ویڈیو ختم ہو چکی ہے۔ دنیا لُٹ چکی ہے۔ سورج ڈوب گیا ہے۔ جو میلہ سجا تھا وہ چھَٹ چکا ہے۔ جو بارات آئی تھی رخصت ہو چکی ہے۔ جو شادیانے تھے وہ تھم چکے ہیں۔ جو روشنیاں تھیں وہ مدہم ہو چکی ہیں۔ جو رنگینیاں تھیں وہ اندھیر ہو چکی ہیں۔ کیف رُک چکا ہے۔ دف بند ہو گئے ہیں۔ ۔ خودکلامی نے خودکشی میں نمو ڈھونڈ لی ہے۔ “ایسی عورت کو کیا یاد کرنا جو ایسے پیار کو دنیا کے لیے دھتکار کر چلی گئی جو تجھے پیسوں میں تولتی تھی، جو تیری قدر نہیں کرتی تھی، جس کے ساتھ ہوتے ہوئے تم کسی کے نہ ہوتے تھے، وہ اب تمہارے ساتھ نہیں ہے، بےقدرے بندے کے ساتھ متعلق ہو کر اب تنہا بیٹھے آنسو مت بہاؤ”۔ میرے لفظ میرے اوپر قہر سے کم نہیں ہیں۔ “تم اپنی بکواس بند رکھو، وہ ایسی نہیں ہے، وہ بھی انسان ہے، اسی سماج کا حصہ ہے”۔ میں نے خود کو رد کر دیا ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *