اردو لغت بورڈ میں تین سال۔۔عقیل عباس جعفری

14؍دسمبر2016ء تا13 دسمبر 2019ء
تین سال پہلے 9؍ دسمبر2016ء کو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، حکومت پاکستان کی جانب سے میرا تقرر اردو لغت بورڈ میں بطور مدیراعلیٰ کیا گیا۔ مجھے خط تقرری14 دسمبر2016ء کو موصول ہوا اور اسی روز میں نے ادارے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
ذمہ داریاں سنبھالنے کے فوراً بعد میں نے ڈویژن کے گراں مایہ تعاون اور سرپرستی سے بائیس(22) جلدوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی اردو لغت (تاریخی اصول پر) کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اُردو لغت (تاریخی اُصول پر) کی برخط (آن لائن) فراہمی اور موبائل ایپ کی صورت میں پیشکش کے لیے ’’کمپیوٹرائزیشن آف اُردو ڈکشنری، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ فار موبائل فون، ویب ہوسٹنگ اینڈ اسٹیبلشمنٹ آف سرور روم کا منصوبہ تیار کیا گیا جو مئی 2017ء میں تکمیل کے مراحل طے کرنے میں کامیاب ہوا۔

اس منصوبے کی بدولت عمائدین اردو کی باون سالہ محنت کا ثمر اور سرکاری وسائل سے بائیس جلدوں میں مرتب شدہ عظیم الشان اُردو لغت (تاریخی اُصول پر) کی موبائل ایپلی کیشن محبانِ اردو کے لیے بلامعاوضہ میسر ہوئی۔ ان بائیس جلدوں کے تمام لوازمے سے استفادے کے لیے سرچ انجن تیار کیا گیا اور یہ عظیم الشان لغت انٹرنیٹ پر اردو لغت بورڈ کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوگئی۔
جنوری2018ء میں اردو لغت کے اس کمپیوٹرائزڈ ورژن کا افتتاح ایوان صدر اسلام آباد میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہاتھوں انجام پایا۔ اسی دوران اس اردو لغت کو تلفظ سے ہم آہنگ کرنے کے ایک نئے منصوبے کا آغاز ہوا۔ اس منصوبہ کا نام ’’ریکارڈنگ آف فرسٹ ڈیجیٹل اُردو سائونڈ ڈکشنری، اُردو ڈکشنری بورڈ،کراچی‘‘ ہے۔ جو الفاظ کے درست تلفظ اور ادائی سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا۔ الحمدللہ! یہ منصوبہ بھی ایک سال کی شب وروز محنت کے بعدکامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیایوںاس منصوبے کی تکمیل کے بعداب کوئی بھی شخص دُنیا کی دیگر ترقّی یافتہ زبانوں کی طرح اُردو کے مطلوبہ لفظ کا تلفظ موبائل ایپلی کیشن یا انٹرنیٹ پر سن کر دُرست ادا کرنے پر قادر ہوسکتا ہے۔ اس منصوبے کی مختلف میڈیا ہائوسز نے بھرپور ستائش کی اوریوںمیڈیا ہائوسز کے ذریعے اردو کے غلط تلفظ کی ترویج کے سلسلے کو روکنے میں بڑی مدد ملی۔

دسمبر2016ء میں جب میں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیںتو معلوم ہوا کہ اردو لغت کی بائیس (22) جلدوں میں سے پانچ (5) جلدیں اسٹاک میں ختم ہوچکی ہیں اور جو بھی خریدار آتا ہے وہ یہ جاننے کے بعد کہ سیٹ نامکمل ہے بقیہ جلدیں بھی نہیں خریدتا، چنانچہ ہنگامی بنیادوں پر پانچ آئوٹ آف اسٹاک جلدوں کی اشاعت مکمل ہوگئی اور یوں اردو لغت کا مکمل سیٹ دستیاب ہوگیا، جس کے بعد اس لغت کے متعدد سیٹ فروخت ہوچکے ہیں۔
2017ء میں 22 جلدوں پر مشتمل اردو لغت (تاریخی اصول پر) کے مختصر ایڈیشن کی تیاری کا کام شروع ہوا جو بحمدللہ مکمل ہوچکا ہے، یہ مختصر ایڈیشن جو دو جلدوں پر مشتمل ہے شائع ہوچکا ہے۔
2017ء میں اردو لغت بورڈ کے تحقیقی جریدے اردونامہ کی ازسرنو اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یہ سلسلہ چالیس (40) سال کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہوا جس کی اہل علم نے بے حد پزیرائی کی۔

2018ء میں اردو کے مشاہیر شعرا کی فرہنگوں کی تیاری اور اشاعت کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلے کی تین فرہنگیں فرہنگ یگانہ، فرہنگ غالب اور فرہنگ انیس اشاعت پزیر ہوچکی ہیں، جبکہ جوش ملیح آبادی، ذوق دہلوی،داغ دہلوی اور ن م راشد کی فرہنگیں تیار ہوچکی ہیں اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث اشاعت کی منتظر ہیں۔اسی نوع کی ایک اور فرہنگ جس میں تصوف کے موضوع پر اصطلاحات کی تفصیل درج کی گئی ہے، فرہنگ تصوف کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔
اسی دوران طلبہ و طالبات کی نصابی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، فرہنگ طلبا کی تدوین کا کام شروع کیا گیا۔ اس فرہنگ کے لیے پاکستان کے چاروں صوبوں کے تعلیمی بورڈ، فیڈرل بورڈ اور کیمبرج نظام کی اردو کی نصابی کتب کو حاصل کیا گیا اور ان کی مدد سے اس فرہنگ کو مکمل کیا گیا۔ یہ فرہنگ اب پروف ریڈنگ کی آخری مرحلے سے گزر کر تصحیح کے مرحلے میں ہے اور اس کی اشاعت کا بھی جلد امکان ہے۔

اردو لغت (تاریخی اصول پر) کی جلد اوّل میں قارئین سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس لغت کی تکمیل کے بعدان تمام حوالہ جاتی کتب اور جرائد کی ایک مفصل کتابیات شائع کی جائے گی جن سے اس لغت میں اسناد حاصل کی گئی ہیں۔ یہ کتابیات (کتابیات اردو لغت)بھی شائع کردی گئی ہے۔
2018ء میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، محترمہ غزالہ سیفی کی ہدایت پر پاکستان کے مختلف میڈیا ہائوسز اور اخبارات کی رہنمائی کے لیے ایک ضابطہ بعنوان صحیح تلفظ، درست اِملا تیار کیا گیا۔ جس نے میڈیا ہائوسز اور اخبارات کے علاوہ عوام الناس میں بھی زبردست پزیرائی حاصل کی۔
حال ہی میں اردو لغت (تاریخی اصول پر) کی 22 جلدوں کی اسکیننگ کا کام بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔یہ جلدیں سی ڈی کی شکل میں محفوظ کرکے نہایت کم قیمت میں پیش کی جارہی ہیں۔
2018ء میں اردو لغت بورڈ کے قیام کی ساٹھویں سال گرہ کے موقع پر محکمہ ڈاک سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا کی درخواست کی گئی۔ محکمہ ڈاک نے اس درخواست کو پزیرائی عطا کی اور یوں 14؍جون 2018ء کو ادارہ کے قیام کی ساٹھویں سال گرہ کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔

اردو لغت بورڈ کو قیام سے تاحال ادارے کو اردو کے جید اکابر کی وابستگی اور سرپرستی کا اعزاز حاصل ہے۔ اردو لغت بورڈ نے ان نامور ہستیوں کی خدمات کے پیش نظر ادارے کے مختلف شعبوں کو ان نامور ہستیوں سے موسوم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت اردو لغت بورڈ کے کتب خانے کو بورڈ کے اولین مشیر ادبی و نامور شاعر ’’جوش ملیح آبادی‘‘ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ گوشہ مطالعہ کو مدیر اول ’’نسیم امروہوی‘‘ سے موسوم کیا گیا گیا، شعبہ ادارت کو ’’بابائے اردو مولوی عبدالحق گوشۂ علمی‘‘ کا نام دیا گیا اور گوشۂ نواردات کو ’’شان الحق حقی‘‘ کے نام معنون کیا گیا۔ اس سے قبل بورڈ کا سمعی اور بصری ہال ’’ڈاکٹر فرمان فتح پوری‘‘ سے موسوم تھا۔ علاوہ ازیں اردو لغت بورڈ کی ابتدائی عمارت اردو منزل کے نام سے موسوم کی گئی تھی چنانچہ اسی تسلسل میں بورڈ کی موجودہ عمارت کو بھی اسی نام سے موسوم کردیا گیا ہے۔
2018ء میں اردو لغت بورڈ میں دیوار رفتگاں کے نام سے ایک تصویری گیلری قائم کی گئی جس میں ادارے سے وابستہ مرحوم شعرا، ادبا اور محققین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے تصویری فریمز آویزاں کیے گئے۔

اسی دورانیے میں اردو لغت بورڈ کے کتب خانے میں موجود ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ نادر اور نایاب کتب پر مشتمل گوشہ نایاب کتب قائم کیا گیا۔ کتب بینی کے مشغلے کو فروغ کے لیے ادارہ میں ایک منفرد گوشہ قائم کیا گیا جسے گوشہ تبادلۂ کتب کا نام دیا گیا۔ اس گوشے میں ابتدائی طور پر سو کتابیں رکھی گئیں اور طلبا و طالبات، اہل علم اور صاحبان ذوق کو دعوت دی گئی کہ وہ ان کتابوں کو بلاتعین قیمت و تعداد اپنی کتابوں سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ اس گوشے کے قیام کی بڑی پذیرائی ہوئی اور متعدد افراد نے اس گوشے میں رکھی گئی کتابوں کو اپنی کتابوں کے ساتھ تبدیل کیا۔ ادارے میں ایک کتاب گھر بھی قائم کیا گیا جہاں سردست تو اردو لغت بورڈ کی مطبوعات پچاس فیصد رعایت پر دست یاب ہیں تاہم مستقبل میں اسے توسیع دینے کا منصوبہ ہے، جہاں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تمام علمی اداروں کی مطبوعات رعایتی قیمت پر دستیاب ہوں گی۔
اردو لغت بورڈ کے کتب خانے کو مزید وقیع بنانے کے لیے جناب قدرت نقوی، جناب محسن بھوپالی اور محترمہ فہمیدہ ریاض کے ذاتی کتب خانے حاصل کیے گئے۔ ان کتب خانوں میں کتب و جرائد کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ان کتب و جرائد کی شمولیت کے بعد اردو لغت بورڈ کا کتب خانہ مزیدثروت مند ہوگیا ہے اور اب کراچی کی مختلف جامعات اور کالجز کے طلبہ و طالبات اس کتب خانے سے بھرپور استفادہ کررہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری منصوبے
2010ء میں اُردو لغت بورڈ نے بائیس جلدوں کی شکل میں اُردو لغت (تاریخی اُصول پر) کی تکمیل سے اپنے قیام کا اہم ترین ہدف حاصل کیا۔ اور اس کے بعد بیک وقت متعدد منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جو بتدریج تکمیل کے مراحل طے کر رہے ہیں۔ اہل علم کی تحقیقی ضروریات کی تسکین اور عوام الناس کی ضروریات کی کفایت کرنے والی لغت کی ترتیب و تدوین کے بعد قومی خزانے کے بہترین استعمال سے کیے گئے اس عظیم کام کی اہمیت اورافادیت کو برقرار رکھنے کے لیے اُردو لغت (تاریخی اُصول پر) کی بائیس جلدوں پر نظرثانی کے کام کا آغاز کیا جا چکا ہے۔
اُردو ایک زندہ زبان ہے اور زندہ زبانوں میں لغت نویسی کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا۔ (تاریخی اُصول پر) لغت نویسی کے ذریعے تہذیبی تاریخ محفوظ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ لغت کے ابتدائی خد و خال کا تعین کرتے وقت اُردو زبان کے تین اَدوار کا تعین کیا گیا تھا جس کو بنیاد بنا کر الفاظ کے لیے اسناد یک جا کی گئی تھیں۔ اُردو لغت کی پہلی جلد1978 ء میں منظرعام پر آئی۔ اس وقت سے تاحال قریب چالیس برس میں زبان و اَدب میں جو تبدیلیاں رُونما ہوئی ہیں بالخصوص نئے ہزاریے کے آغاز کے بعد زبان کے تیزی سے بدلتے خد و خال نے کیا رنگ اختیارکیا ہے اس کو مذکورہ لغت میں تاریخی اُصول پر محفوظ کرنا اس عظیم اور اہم کام کے لیے تکمیلی لزوم کا حامل ہے۔ انگریزی زبان کے لیے ایسی ہی خدمات سرانجام دینے والا ادارہ اس وقت قریباً ڈیڑھ سو سال سے مسلسل فعال ہے اور لغت نویسی کے لیے بین الاقوامی سطح پر قابل قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے اور دی گریٹر انگلش ڈکشنری تیسری مرتبہ ترمیم و اضافے کے لیے عملۂ ادارت کی محققانہ نظر سے ہم کنار ہے۔ اس کے مقابلے میں اُردو لغت بورڈ نے محدود وسائل کے ساتھ بائیس جلدوں پر نظرثانی کے کام کا آغاز کیا ہے جس کے لیے پہلے مرحلے میں گزشتہ چالیس برس میں شائع ہونے والے زبان و اَدب کی ماخذ ہزاروں کتب کا ذخیرہ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد لغت نویسی کے بنیادی اُصول کے تحت کتب خوانی کے کام کا آغاز کروایا جا رہا ہے ۔اس منصوبے کے تحت مختلف کتب کا مطالعہ کرکے ان میں شامل الفاظ کو نشان زد کر کے کارڈ تیار کیے جائیںگے، اس کے ساتھ ہی ماضی میں لغت نویسی کے لیے استعمال کیے گئے کارڈز کو دوبارہ زیرغور لانے کے لیے ان کو کمپیوٹر پر محفوظ کرنے اور مشینی تلاش کے قابل بنانے کے لیے تجاویز زیر عمل ہیں تا کہ قریباً چودہ لاکھ کارڈز پر محفوظ الفاظ و اسناد کو بہترین انداز میں لغت نویسی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ کتب خوانی اورکارڈ نویسی کے بعد نوری نستعلیق میں ٹائپ شدہ جلدوں کی باہتمام پروف خوانی اور اغلاط کی تصحیح کا مرحلہ سر ہوگا اورمکمل مسودہ عملہ ٔ ادارت کے پاس ترمیم و اضافے کے لیے پیش ہوگا۔ نئے الفاظ و اسناد کی شمولیت کے لیے فہرست سازی کی جائے گی، معانی کی تبدیلی کو بحوالہ محفوظ کیا جائے گا۔ الفاظ کے معانی تحریر کرنے کے لیے تشریح نگاری کے جدید اسلوب پر عمل پیرا ہو کر تمام ہی معانی ازسرِ نو درج کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل تمام صبر آزما مراحل کی تکمیل کے لیے عملہ ٔ ادارت کو مکمل افراد ی استعداد سے کام کرنے کی ضرورت ہے جو سردست ملازمین کی سبک دوشی کی وجہ سے میسر نہیں اس کے باوجود عملہ ٔ ادارت کام کا آغاز کر چکا ہے۔ افرادی قوت کی قلت کی وجہ سے اس منصوبے پر ایک ایک جلد کر کے کام مکمل کرنے کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا تاہم ممکنہ برق رفتاری کے لیے تجاویز زیرغور ہیں اورمستقبل قریب میں تمام ممکن العمل اقدامات ضرور کیے جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستقبل کے منصوبے
اُردو لغت بورڈ نے قیام کے وقت منظورشدہ قرارداد کی روشنی میں اپنے دائرئہ کار میںرہتے ہوئے قومی زبان کی خدمت میں ادارے کے وسائل کو بہترین انداز میں بروئے کار لانے اور بلاتعطل فعال رکھنے کے لیے مستقبل میں درج ذیل منصوبوں کا تعین کیاہے جو کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے ارشادات کی توقیر، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی تعمیل، وزیراعظم پاکستان کی بصیرت اور عمائد اُردو کی اس عظیم ادارے سے وابستہ توقعات کے آئینہ دار ہیں۔
گوشۂ اَدبی ورثہ
اُردو لغت بورڈ کے احاطے میں بغرض تحقیق قائم کردہ ’’جوش ملیح آبادی یادگاری کتب خانے‘‘ میں پچیس ہزار کتب موجود ہیں جن میں سے قریباً ڈیڑھ ہزار کتب کو ان کی قدامت اور نادرانہ حیثیت کے پیش نظر گوشۂ اَدبی ورثہ‘‘ میںمحفوظ کیے جانے کا حق دار تصورکیا گیا ہے۔ جس کے قیام کی بدولت قومی اثاثے کا درجہ رکھنے والی ان کتب کو بین الاقوامی سطح پر رائج معیارات کے مطابق آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھتے ہوئے ان سے استفادہ ممکن بنایا جائے گا۔ اس کے تمام تکنیکی پہلوئوں پر محیط منصوبہ ماہرین کی آراء سے تیار کیا جا چکا ہے جو کہ مالی امداد کی فراہمی کے ساتھ ہی روبہ عمل لایا جا سکتا ہے۔

اُردو لغت بورڈ کی عمارت کی تزئین و مرمت
اُردو لغت بورڈ کی موجودہ عمارت جس احاطے میںموجود ہے یہ زمین محبانِ اُردو نے خرید کر ادارے کے نام وقف کی تھی اور ان ہی کے تعاون سے وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس پر عمارت تعمیر ہوئی جس کے لیے کسی قسم کی سرکاری امداد نہیں لی گئی تھی اوراب موجودہ عمارت امتدادِ زمانہ کا شکار ہے اور فی الفور توجہ کی طالب ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی مشاورت سے تکنیکی امور کا تعین اور تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔ منصوبے پر عملدرامد امداد کی فراہمی سے مشروط ہے تا کہ جلد از جلد تزئین و مرمت کا کام سرانجام دیا جا سکے اور کسی ناگہانی حادثے اورنقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

عوامی کتب خانے اورسیمینار ہال کا قیام
اُردو لغت بورڈ کراچی میں موجود ’’جوش ملیح آبادی یادگاری کتب خانہ‘‘ سردست صرف ادارے کے استعمال میں ہے یا مخصوص محققین کی اس کتب خانے میںموجود ذخیرے تک رسائی ہے کیونکہ اس کتب خانے کا انتظام و انصرام عوامی ضروریات کے تحت نہیں کیا گیا تھا اس سے عوام الناس کا موجودہ صورت میں اس سے استفادہ ممکن نہیں۔ اس لیے کتب خانے کی افادی وسعت میں اضافہ کرنے کے لیے اس کو حفاظتی اقدامات اور معیارات کی پاس داری کے ساتھ عوام الناس کے استفادے کے لیے کھولنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے تا کہ اہل قلم، طلبہ اور محققین اس سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکیں اورقومی خزانے سے صرف شدہ رقم بالواسطہ وسیع سماجی مفاد میں استعمال ہو سکے۔
مزید برآں ادارے میں اَدبی تقریبات اور لغت نویسی سے متعلقہ اہم مذاکروں کے انعقاد کے لیے خاطرخواہ جگہ موجود نہیں گو کہ احاطے میں ’’ڈاکٹرفرمان فتح پوری یادگاری ہال‘‘ موجود ہے مگر وہ جگہ ناکافی ہے اور کتب خانے کے ذیلی حصے کے طور پر زیراستعمال بھی ہے۔ اس لیے جداگانہ اور مستقل طورپر ایک سیمینار ہال کا قیام لازم ہے تاکہ اُردو لغت (تاریخی اُصول پر) کے جاری منصوبے کے دوران لغت نویسی کے بدلتے اسلوب اور جدید تقاضوں کی تفہیم اور اہل علم سے مشاورت کے لیے قرینے کی جگہ موجود ہو اوراس کو بامقصد انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

املائی طریق پر تحریر کے لیے سافٹ ویئر کی تیاری
دُنیا کی جدید زبانوں میں آواز کی شناخت کی مدد سے کام کرنے والے سافٹ ویئرز تجربات سے گزر کر اب عوامی استفادے کے لیے روبہ عمل ہیں۔ اُردو زبان میں اس طرز کی کوششیں تاحال تجرباتی مراحل میں ہیں اور نجی شعبے کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ قومی زبان سے محبت کا تقاضا ہے کہ یہ کام باہتمام سرکاری سرپرستی میں کیا جائے تا کہ اس میںقومیت کا تصور کارفرما رہے اور تمام صوبوں میںرائج لب و لہجے کویکساں اہمیت دیتے ہوئے ایک مکمل اور جامع سافٹ ویئر تیار کیا جائے۔ اس سافٹ ویئر کی بدولت قومی زبان کی عصری تقاضوں سے ہم آہنگی ممکن ہو گی اور انسانی وسائل کو ضیاع سے محفوظ رکھتے ہوئے وقت کی بچت بھی کی جا سکے گی۔

ای لائبریری کا قیام
کتاب اورکتاب بینی کی اہمیت سے کسی دور میں بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن وقت اور حالات کے تحت کتابیں اپنے ظہور کے لیے مختلف اُسلوب کا تعین کرتی ہیں ایک وقت تھا کہ تحریریں ہڈّیوں اور درختوں کی چھالوں پر محفوظ ہوتی تھیں اور لوگ اس سے استفادے کے عادی تھے پھر گردش زمانے سے کاغذ پرتحریر اورپھر چھپائی کا زمانہ آیا اور اب کتابوں نے ڈیجیٹل رنگ اختیارکرلیا ہے اس لیے ای ۔ بکس جدید دنیا کا مقبول ترین رجحان ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں نسل نو کا ایک بہت بڑا طبقہ کتابوں کے لمس کا عادی ہونے کے بجائے بک ریڈر اور ٹیبلٹ جیسے آلات کی مدد سے کتاب خوانی کا عادی ہے اور یہی رُجحان کتاب خانوں اور علمی سرمائے کو ای لائبریری کی شکل میں منتقل اورمحفوظ کرنے کے پس پردہ بھرپور انداز میں کارفرما ہے۔ اُردو زبان و اَدب میں اس طرح کی انفرادی کوششیں تو جاری ہیں لیکن پڑوسی ملک ہندوستان میںریختہ کی طرز پر سردست پاکستان میںکوئی بھی کام سرکاری سرپرستی میں نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے نقش اوّل کے طور پر اُردو لغت بورڈ میں موجود ’’جوش ملیح آبادی یادگاری کتب خانے‘‘ کو ای لائبریری کی شکل دینے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے تا کہ نادر و نایاب کتب حکومتی سرپرستی باہتمام افادئہ عام کے لیے انٹرنیٹ پر میسر ہوں اور اس طرح ڈویژن کے ماتحت پورٹل بکثرت محققین کی آماج گاہ بن سکے جس کے متعدد ذیلی ثمرات بھی مستقبل میں ظاہر ہوں گے۔

اُردو انسائیکلوپیڈیا کی تدوین
اُردو زبان میں ایک جامع انسائیکلو پیڈیا کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ کام کی عظمت و طوالت اور اخراجات کے پیش نظر بڑے بڑے ادارے اور عالی ہمت لوگ بھی اس جانب قدم اُٹھانے سے گریزاں ہیں۔ اس لیے یہ کام صرف سرکاری سرپرستی میں ہی ممکن ہے۔ اس لیے ادارے کے زیراہتمام اُردو کے جامع ترین انسائیکلوپیڈیا کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جو کہ اپنے معیار اوروفاقی حکومت کے ماتحت ڈویژن کی سرپرستی میں بین الاقوامی سطح کا اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا اوراس کے مندرجات میں بھی پاکستانیت کا ارفع و اعلیٰ تصورغالب رہے گا جس کی بدولت اس نوع کے انفرادی اور مختصرکاموں میں راہ پا جانے والے تعصبات کا بھی قلع قمع ممکن ہوگا۔ اس عظیم منصوبے کے لیے علمی و عملی پہلوئوں پر محیط خاکہ اورمنصوبے کی دستاویزات تیار ہیں جو حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے امداد کی فراہمی اورمنظوری کی منتظر ہیں۔

قومی تاریخ و اَدبی ورثہ ڈویژن کے لیے آڈیو بکس کی تیاری
جدید دُنیا میں علم و اَدب دوست طبقے میں پروان چڑھنے والا ایک اہم رُجحان آڈیو بکس کی صورت میں پھل پھول رہا ہے۔ اُردو زبان کے لیے اس میدان میں ہونے والی کاوشیں سردست عہد طفولیت میں ہیں اس کے باوجود ایمیزون اور گوگل آڈیو بکس اُردو زبان میں کتابوں کو آڈیو بکس کی شکل میں منتقل کرنے کے لیے مصروف عمل ہیں لیکن اداروں کی ترجیحات کاروباری ہیں اسی لیے ان کی توجہ کا مرکز ہندوستان ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانیت نظرانداز ہو رہی ہے۔ اس صورت کا ادراک کرتے ہوئے تیز رفتار زندگی، دُنیا بھر میں آباد اُردو سے محبت کرنے والے اورحروف ناآشنا افراد اور نابینا شائقین کتب کے لیے اُردو کی منتخب اورکلاسیکی کتب کو اُردو لغت بورڈ کے زیراہتمام آڈیو بکس کے قالب میں ڈھالا جائے گا تاکہ صحیح تلفظ میں کتاب خوانی کو یقینی بنایا جائے اورقومی تاریخ و اَدبی ورثہ کے عنوان کا حق ادا کرنے والی کتب میںآڈیو بکس کی شکل میں افادئہ عام کے لیے پیش کیا جا سکے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *