تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔عماد عاشق

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی!

جگجیت سنگھ کا گایا ہوا یہ خوبصورت گیت اکثر میں اپنے بچپن میں سنا کرتا تھا۔ اس وقت کبھی یہ سمجھ نہیں آیا تھا کہ بچپن میں ایسا کیا ہے جو ایک شخص اپنی دولت، اپنی شہرت حتیٰ کہ جوانی جیسا قابلِ رشک وقت بھی لُٹانے کو خوشی خوشی تیار ہے۔ مگر آج زندگی کے قریب 27 سال گزارنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ پاس موجود کُل اثاثہ لُٹا کر اگر بچپن کے چند ثانیے بھی مل جائیں تو یہ سودا ہرگز مہنگا نہیں۔ میری عمر کے لوگوں کے لیے اُن کا بچپن صرف اس لیے اہم اور گراں قدر نہیں کہ یہ کسی شخص کا بچپن تھا، بلکہ اس لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، کہ ہمارا بچپن اُس کمال دور کا آخری مرحلہ تھا، جہاں ہر چیز، ہر جذبہ، ہر رویہ، ہر سہولت اور ہر قدر اپنی بہترین حالت اور خالص ترین شکل میں موجود تھی۔ یہ بات شاید کہنے کو عام لگے، مگر حقیقت میں ہرگز عام نہیں۔

جب بی ایم ایکس سائیکل امارت کی علامت تھی اور اگر کسی کے پاس گیئرز والی سائیکل ہوتی تو وہ رئیس الرئیس سمجھا جاتا۔ جب پولکا آئس کریم سے بہتر ڈزیرٹ شاید کوئی نہیں تھا۔ جب آج کے دور کے ایک سمارٹ فون کی جگہ کیسٹ پلیئر، واک مین، ٹی وی، ریڈیو اور وی سی آر نے لے رکھی تھی، اور ایک ایک چیز کی قدر ایسے کی جاتی کہ جیسے اگر اسے کچھ ہو گیا تو شاید دوبارہ خریدنا ممکن نہ ہو۔ جہاں کیسٹ پلیئر کی کیسٹس خصوصی اسٹینڈ خرید کر اس میں ترتیب سے رکھی جاتیں۔ جب وی سی آر تک بچوں کی رسائی ناممکن تصور ہوتی۔ جب ٹیلیفون پر صرف اِن کمنگ رکھوائی جاتی اور آؤٹ گوئنگ کا کوڈ صرف والدین کے پاس ہوتا تاکہ وسائل کی بچت کی جا سکے۔ جب پوری گلی میں ایک گھر میں ٹیلی فون ہوتا اور سب گلی والوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو اسی ایک گھر کا فون نمبر دیا ہوتا۔ جب پورے محلے میں چنیدہ گھروں میں ٹیلی ویژن ہوتا اور وہ گھر اسی بنیاد پر قصورِ امراء تصور ہوتے۔

جب فاروق قیصر کا تخلیق کردہ کردار انکل سرگم وہ کچھ کہہ جاتا جو کسی اور کے لیے کہنا ممکن نہ ہوتا۔ جب بازاری کہانیوں سے بھرپور، ناشائستہ جملوں سے اٹے ہوئے، سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار کرداروں اور سازشوں اور نفرتوں کی ترجمانی کرتے جذبات پر مبنی ڈرامہ سیریلز کی بجائے ہمیں سچائی، اخلاق، بندہ پروری، اقدار اور اعلیٰ ظرفی کا درس دیتے انگار وادی، لاگ، الفا براوو چارلی، با ادب با ملاحظہ ہوشیار، باڑ، آغوش، شب دیگ، کاجل گھر، من چلے کا سودا، کانچ کے پر، بوٹا فرام ٹوبا ٹیک سنگھ، ماروی، دنیا داری، ہوائیں اور دھواں جیسے ڈرامے دیکھنے کو ملتے۔ نہ صرف یہ بلکہ آخری چٹان، لبیک اور ٹیپو سلطان جیسے تاریخی کہانیوں پر مبنی ڈرامے بھی نہایت دقیق تحقیق اور انتھک محنت کر کے بنائے جاتے، جو ناظرین خصوصاََ بچوں کے اذہان پر ایک خاص تاثر رقم کر دیتے۔ جب لچر مکالمہ جات سے لبریز نام نہاد مزاحیہ ڈراموں کی جگہ شستہ اور خستہ جملوں سے سجے ہوئے فیملی فرنٹ، تین بٹا تین، گیسٹ ہاؤس، مس روزی، عید ٹرین، سچ مُچ، ہائےہائے جیدی اور ہاف پلیٹ جیسے اعلیٰ مزاحیہ ڈرامے پردے کی زینت بنتے۔

جب آج کی شوخ و چنچل نیوز اینکرز کی جگہ عشرت فاطمہ، خالد حمید، شائستہ زید اور اظہر لودھی جیسے سلجھے ہوئے، اعلی ادبی تراش خراش اور زبان کا بہترین تلفظ رکھنے والے نیوز کاسٹرز خبریں پڑھتے۔ جب آج کے بے ہنگم کوئز شوز، جو کوئز شوز کم اور مچھلی منڈی زیادہ لگتے ہیں، کی جگہ طارق عزیز کا نیلام گھر اور قریش پور، عبید اللہ بیگ اور افتخار عارف کا شو ‘کسوٹی’ ہوا کرتا تھا۔ ہم نے وہ وقت دیکھا جب مستنصر حسین تارڑ کے صبح کے شو میں لگنے والے کارٹون  سکول کے لیے اٹھنے کا لالچ ہوتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب عینک والا جن کے لیے ہم سارا ہفتہ انتظار کرتے۔ یہ وہ عصر تھا جب شام کو قاری سید صداقت علی قرآن شریف سکھاتے اور بعد میں بچوں کا گھنٹہ ہمارے لیے پورے دن پڑھنے کا انعام ہوتا۔

جب کوئی تصور نہیں تھا کہ کیرئیر بڑھانے کے لیے کوئی کرکٹر رن اپ چھوٹا کرے یا 27 برس کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دے۔ جب فاسٹ باؤلرز ‘کٹرز’ اور ‘سلو بال’ جیسی ورائٹی کے بجائے اپنی رفتار پر انحصار کرتے۔ جب شارجہ کے میدان پر پاک بھارت ٹاکرا ہوتا۔ جب پاکستان 200 رنز کر کے بھی وسیم ، وقار اور ثقلین کی بدولت با آسانی میچ جیت جاتا۔ جب سعید انور کا وکٹ پر موجود ہونا پاکستان کی فتح کی ضمانت ہوتا ۔ جب انضمام اور یوسف کی شراکت داری ہمیں مطمئن کرتی اور سب کہتے “میچ پاکستان کا ہی ہے”۔ جب شاہد آفریدی کے پویلین میں بیٹھے ہونے پر سب کہتے کہ “ابھی آفریدی ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے”۔ جب اُس کے برا کھیل کر واپس جانے پر ہماری امیدیں اظہر محمود اور عبدالرزاق سے جڑ جاتیں۔ جب ہم راہول ڈریوڈ اور لکشمن کی بلے بازی دیکھ کر ٹیسٹ کرکٹ کو اس کی بہترین شکل میں دیکھتے اور جب انڈیا کی پوری ٹیم ماسوائے کیپر ہمیں گیند بازی کرتی نظر آتی۔ جہاں مارک ٹیلر، اروندا ڈی سلوا، سنتھ جے سوریا، میتھیو ہیڈن، برائن لارا، مارک وا، چندرپال، ایڈم گلکرسٹ، جسٹن لینگر، نیتھن ایسٹل، سٹیو وا، اسٹیفن فلیمنگ اور مائیکل سلیٹر جیسے بلے باز نہایت سہل طریقے سے وکٹ کے چاروں طرف خوب صورت سٹروک کھیلتے نظر آتے، وہیں وسیم اکرم، گلین میگرا، شین بونڈ، بریٹ لی، وقار یونس، مکھایا نٹنی، شعیب اختر، کورٹنی واش، شان پولاک، چمندا واس اور ایلن ڈونلڈ جیسے تیز گیند باز اور شین وارن، مرلی دھرن، ڈینیئل ویٹوری اور ثقلین مشتاق جیسے سپنرز بلے بازوں کی ناک میں دم کیے رکھتے۔ جب کینز، ہیرس، فلنٹوف، کیلس اور سائمنڈز جیسے آل راؤنڈرز اور معین خان، راشد لطیف، ایلک سٹیورٹ، کمار سنگاکارا اور ایئن ہیلی جیسے وکٹ کیپر جیت کی ضمانت سمجھے جاتے۔ یہ کرکٹ کا وہ دور تھا جو ہمیشہ آبِ زر سے لکھا جائے گا۔

یہ وہ وقت تھا جب خاندانوں کا باہمی میل ملاپ اس قدر زیادہ تھا کہ ہر پرایا اپنا اور ہر اپنا انتہائی قریبی عزیز معلوم ہوتا تھا۔ شادی بیاہ کی تقریب ہوتی تو کئی روز پہلے مہمان آتے اور ان کے آنے کا خاص انتظار ہوتا۔ دور سے آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت کا کئی روز پہلے سے انتظام شروع ہو جاتا۔ خط لکھ کر انہیں شادی میں شرکت کی دعوت دی جاتی اور جوابی خط سے ان کے آنے کے دن کا پتہ معلوم ہوتا، اور ان کے آنے کے دن گھر میں عید کا سا سماں ہوتا۔ کسی کا فرض مہمانوں کو بس اڈے سے گھر لانا ہے تو کسی کے ذمہ مہمانوں کے کمرے کی آرائش و زیبائش ہے۔ کسی کا کام مہمانوں کے لیے انواع و اقسام کے کھانے تیار کرنا ہے تو کسی کو ان کی سیر و تفریح کے انتظامات کا کہا گیا ہے۔ مہمان کئی کئی روز قیام کرتے اور ان کا رہنا کسی کو برا نہ لگتا، بلکہ ان کی رخصت کے وقت دل اداس ہو جاتا۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں دور رہنے والے رشتہ دار آتے تو تین ماہ کا ہر نیا دن ایک شیطانی سے شروع ہوتا اور ہر رات ایک شرارت پر ختم۔ چھپن چھپائی اور چور سپاہی سب سے بہترین کھیل مانے جاتے۔ جب جاڑے کی سرد رات لحاف میں گھس کر مونگ پھلی کھاتے کھاتے اور دوستوں رشتہ داروں سے گپ شپ کرتے گزر جاتی۔ جب کیرم بورڈ اور لڈو کی بازیاں کئی کئی گھنٹے چلتیں۔ پورا پورا خاندان ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھاتا اور کبھی کسی کا کھانا کم نہ ہوتا۔ پورا خاندان بزرگوں (ددھیال اور ننھیال میں) کے سائے تلے آتا اور پورے گھر میں محاورتاََ نہیں بلکہ حقیقتاََ کہیں تِل دھرنے کو جگہ نہ ملتی۔ اور اب بزرگوں کے راہیِ عدم ہونے اور بڑوں کے الگ الگ گھروں میں جانے کے بعد وہ گھر ایسے سُونے ہوئے ہیں کہ آواز دو تو اپنی آواز کی باز گشت ہی سنائی دیتی ہے۔ پہلے چھوٹے چھوٹے گھر بہت بڑے لگتے تھے۔ اب بڑے بڑے گھر بہت چھوٹے لگتے ہیں!

زمانہ کب این ٹی سی کے ٹیلیفون سیٹ سے سمارٹ فون تک، ٹی وی انٹینا اور ڈش سے ہوتا ہوا ٹی وی باکس تک، بی ایم ایکس اور سہراب سائیکل سے بہترین جدید گاڑیوں تک، دستی جوسر اور چٹو بٹے سے فوڈ فیکٹری تک، روزنامہ مشرق سے ڈان ای پیپر تک، گلی محلے کی بیٹھک سے لے کر فیس بک, ٹوئٹر اور وٹس ایپ تک، پینٹئم ون کمپیوٹر سے میک بُک تک، فلاپی ڈرائیو سے پورٹیبل ہارڈ ڈرائیو تک اور دفتری فائلز سے ڈیٹا بیس تک نجانے کب آ گیا، خبر ہی نہ ہوئی۔ جدت کی اس دنیا میں جہاں ہم نے آسائش اور سہولت بہت زیادہ حاصل کی، وہیں ہمیں ذہنی و قلبی سکون، اقدار، آداب اور رکھ رکھاؤ کی صورت میں اس جدت کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ نئے دور کے تقاضوں کے ساتھ چلنا اور ہر آنے والی نئی ایجاد کو اپنی اور دوسروں کی سہولت کے لیے استعمال کرنا ہرگز غلط نہیں، مگر اگر یہی ایجادات آپ کا اپنے اپنوں سے ناطہ کمزور کر دیں تو کم از کم ایک مرتبہ یہ سوچنے کی زحمت ضرور کرنی چاہیے کہ ایسا کیا ہے کہ آج وہ چاشنی، وہ حلاوت اور وہ ذائقہ زندگی میں نہیں ہے، جو آج سے دو دہائی قبل با آسانی دستیاب تھا۔

نہ جانے وہ وقت کبھی واپس آ سکتا ہے یا نہیں، مگر کبھی قدرت نے یہ موقع دیا کہ کسی طرح اس گزرے ہوئے کل میں واپس جا سکوں، تو شاید اس سے زیادہ راحت افزا بات اور کوئی نہ ہو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔عماد عاشق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *