معیشت کے بنیادی خدوخال۔۔(قسط1)پرویز بزدار

ہمارے معاشرے میں ٹیکنیکل موضوعات پر کم بحثیں ہوتی ہیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں بحثوں پر لگانے والے زیادہ تر نان ٹیکنیکل لوگ ہیں۔ عمومی طور پر مباحث کا آغاز اینکرز، خطیب یا پھر سیاست دان کرتے ہیں۔ اس لیے ہماری بحثوں کا محور ساری نان ٹیکنیکل باتیں جیسے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا ء کے دنیا پر اثرات اور اگلی صدی میں دنیا کی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے مفروضے ہی رہتے ہیں۔کبھی یہ بحث نہیں ہوتی کہ اگلی صدی تو دور کی بات بلکہ آنے والے کل ہماری معیشت میں کیا تبدیلیاں ہونگی اور گزرے ہوئے کل کونسی نئی سائنسی ایجادات ہوئی ہیں۔ جب کبھی بجٹ وغیرہ پر بات ہوتی بھی ہے تو بس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر جاکر بحث ختم ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ مفصل بحث پھر معیشت کے ماہرین اتنی مشکل اصطلاحات کی زبان میں کرتے ہیں کہ میرے جیسا عام قاری اس میں سے ایک فقرہ بھی نہیں سمجھ پاتا۔

اس صورتحال میں مجھے خیال آیا کہ جن کتابوں سے میں نے جتنی باتیں سمجھی ہیں وہ عام فہم انداز اپنے جیسے لوگوں تک پہنچاؤں تاکہ وہ نہ صرف معاشی بحثوں (اگر کہیں ہوں) میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کو سمجھ سکیں بلکہ خود بھی بجٹ وغیرہ جیسے ڈاکومنٹس کا مطالعہ کر سکیں۔ چونکہ میرا تعلیمی بیک گراونڈ معیشت سے متعلق نہیں ہے اس لیے میں بس اپنی سطحی انڈرسٹنڈنگ لکھنے کی کوشش کرونگا۔  اس لیے امکان ہے کہ ان کالمز میں کوئی صریح غلطی ہو اور اس کی نشاندہی اگر کوئی معیشت سے منسلک شخص فرمائے تو اس کی مہربانی ہوگی۔ اس پہلی قسط کی حیثیت معیشت کے حوالے سے ایک تعارف کی ہے۔

سب سے پہلی بحث جو معیشت کے تعارف میں کی جاتی ہے وہ یہ کہ آیا علم معیشت ایک سائنسی علم ہے یا آرٹ۔ یہ ایک مشکل اور غیر ضروری بحث ہے۔ میرے خیال میں اس بحث کا جو بھی نتیجہ ہو اس کے کوئی خاص اثرات عام آدمی پر نہیں پڑتے۔ میں نے جہاں تک نوٹ کیا آج کل زیادہ لوگ اسے سائنس سمجھتے ہیں تو اس حوالے سے ایک فرق لازمی ذہن میں رکھناچاہیے کہ جس طرح سائنس کے باقی شعبوں مثلاً فزکس وغیرہ میں صرف ایک ہی جواب ٹھیک ہوتا ہے مگر معیشت میں ایسے نہیں ہے۔ فزکس جیسے علوم میں فارمولے قدرتی عوامل، جیسے آواز اور روشنی کی رفتار وغیرہ کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں جو کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتے، اس لیے ہمیشہ صرف ایک ہی فارمولا اور ایک ہی جواب ٹھیک ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اکانومی سے متعلق کلیات کا تعلق آزاد انسانوں کے ساتھ ہے جو کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی بنیاد پر  بنائے گئے کلیات کا قائم رہنا یا کلیے کا ہر بار ایک ہی جواب آنا محال ہے۔ دوسری بحث معیشت کی تعریف کے بارے میں ہوتی ہے۔ میرے جیسے عام قاری کےلیے معیشت کی یہ تعریف کافی ہے کہ معیشت پیسہ اور پیسے سے متعلق چیزوں کا نام ہے۔ اور پیسے کے متعلق دو اہم باتیں پیسہ حاصل کرنا اور پیسہ خرچ کرناہے۔

پیسہ حاصل کرنے کا سب سے مشہور رائج طریقہ نوکری ہے۔ کسی بھی نوکری میں پیسے فن کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ لازمی نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی فن میں بہت ماہر ہو تو اس کو سب سے زیادہ پیسے ملیں، بلکہ اس میں اور عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کسی شخص کو جو فن آتا ہے اس کی مانگ کتنی ہے، اس فیکٹر کی مثالیں ہم آئے روز دیکھتے رہتے ہیں۔ ایک اور عامل (فیکٹر) اس فن کی نایابی ہے، جس طرح بابر اعظم کے پاس بیٹنگ کا نایاب فن ہے اس لیے وہ اپنے زیادہ تر ہم عمروں سے زیادہ پیسے کماتا ہے۔ اسی طرح کچھ عوامل کسی بھی فن کی قیمت میں کمی بھی کرتے ہیں۔ جیسے مانگ کا کم ہونا، فن کا عام ہوجانا یا پھر کوئی اس طرح کی مشین کا ایجاد ہونا جو انسانوں سے زیادہ تیز وہی کام کر سکے، مثال کے طور پر سامان لوڈ اَن لوڈ کرنے والی گاڑیوں نے سامان لادنے اور اتارنے والے پہلوانوں کو بے روزگار کیا۔

پیسہ کمانے کے باقی سب طریقوں کو کسی نہ کسی تبادلے کے زمرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تبادلے میں چیزوں ( مثلاً گندم ، کپڑے اور موبائل وغیرہ) ، سروسز (مثلاً درزی، مستری اور پلمبر وغیرہ) اور نیکی یا ہمدردی (زکوٰۃ، صدقہ اور ٹیکس وغیرہ)  وغیرہ کے بدلے پیسے کمائے جاتے ہیں۔ جس ملک میں ہمدردی کے بدلے جتنے زیادہ پیسے دیے جائیں وہ اتنا زیادہ فلاحی ملک کہلاتا ہے۔ اس قسم کے تبادلے کو عام طور پر معیشت میں ٹیکس کہا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں پروگریسو ٹیکسیشن نطام میں زیادہ پیسے والے لوگ خطیر رقم ہمدردی کے بدلے میں کم پیسے والے لوگوں کو دیتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی معیشت میں پیسہ آنے کا یہ ذریعہ ایک انتہائی اہم فیکٹر ہے اور انشااللہ آنے والی قسطوں میں اس پر تفصیل سے لکھوں گا۔

پیسے کمانے کے بعد ہر شخص اپنی بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا اور مکان وغیرہ) یا پھر عیاشیوں (اچھا کھانا، اچھے کپڑے اور اچھا گھر وغیرہ) پر کمایا ہوا پیسہ خرچ کرتا ہے۔ پیسہ کس طرح خرچ ہوتا ہے، معیشت میں یہ سوال اُس سوال سے بھی زیادہ اہم ہے کہ پیسہ کس طرح کمایا جاتا ہے۔ کیونکہ پیسہ خرچ کرنے کا تعلق لوگوں کے انتخاب پر ہے اور اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ یہ لوگوں کے انتخابی رجحانات پر ہی منحصر ہے کہ کس چیز کی فیکٹری لگائی جائے یا مارکیٹ میں کس چیز کی سپلائی کم یا زیادہ کی جائے۔ اسی وجہ سے لوگوں کے انتخاب پر اثرانداز ہونے کےلیے مختلف طریقوں سے اشتہارات دیے جاتے ہیں۔ مسلسل لوگوں کا انتخاب بننے کےلیے برینڈ امیج بنایا جاتا ہے۔یہ پیسہ خرچ کرنا اتنا اہم ہے کہ یہی فیکٹر معاشرے کے مکمل معاشی نظام (شراکتی یا سرمایہ دارانہ) کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس لیے معیشت پر زیادہ بحث اسی پیسہ خرچ کرنے پر ہوتی ہے۔

اس پہلی قسط میں یہی تعارف کافی ہے، اگلی قسط میں، میں انشااللہ سرمایہ دارانہ نطام اور اس میں مستعمل اصطلاحات کا تعارف  پیش کرونگا۔

پرویز کریم
پرویز کریم
مضمون نگار کائسٹ جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ وہ موبائل اور کمپیوٹر کے پروسیسرز بنانے میں آرٹی فیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل @PervaizKareem ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *