گشتی پولیس۔۔۔۔۔سلیم مرزا

ملک ساجد یو سی 37 اسلام آباد کے چئیرمین ہیں ۔میرے فیس بک فرینڈ ہیں ۔پہلی ملاقات تھی، میں نے کہا” چئیرمین صاحب سگریٹ نہ پی رہا ہوتا تو گلے ملتا ”
کھلکھلا  کر بولے۔۔
“چئیرمین ہوں پٹرول پمپ نہیں ”
میں بھی ہنس دیا کیونکہ مجھے پتہ تھا پٹرول جیسی پرفارمنس دینے کے باوجود ملک صاحب جثے سے ڈیزل پہ لگتے ہیں ۔
آج ان سے ملنے کیلئے فون کیا تو انہوں نے فوراً  ہی لنچ کیلئے  کسی شینواری پہ دعوت گناہ دے ڈالی، جہاں دنبے کی رانوں، اور کڑاھی کے تال میل سے اہل ایمان کا امتحان لیا جاتا ہے ۔
اس سے پہلے بات دنبے کی پٹھ کے تکوں تک پہنچتی، میں ان کے آفس جا پہنچا،بیٹھتے ہی ملک صاحب کا آفس بوائے پیلے رنگ کے گرم پانی سے بھرا ایک کپ سامنے رکھ گیا،
میں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ کپ کو شوگر نہیں تھی،
وہ بھی شاید تاڑ گیا۔۔
دوسری پلیٹ میں جنوبی افریقہ سے لایا گیا گڑ تھا۔۔
جان گیا کہ دنبے کی اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کا کہہ کر مجھے یورالوجی میں داخل کر رہے ہیں ۔
“کھانا کھانے چلیں “۔۔۔ملک سیاستدان تھا تاڑ گیا
“نہیں، کھانا میرا مومنہ وحید کی طرف ہے ”
نا صرف میں نے خودی بلند رکھی بلکہ رعب ڈالنے کو نمبر بھی ملالیا،
“کہاں ہیں، اسمبلی میں ہیں یا گھر “؟
انہوں نے کھنکھنا کر جواب دیا ۔۔۔گھر،
“آپ کے ہاں کھانا کھانے آرہا ہوں ”
وہ بہت خوش ہوئیں ۔بتانے لگیں کہ دیکھو کتنا خوبصورت اتفاق ہے، آج ہی میرا اپنے ہاتھ سے پکانے کا موڈ بنا، اور آج ہی تم آگئے،
“آجاؤ بریانی بنا رہی ہوں ‘”
میں سکتے میں آگیا۔۔۔
سنا ہے جس دن مومنہ گھر میں کھانا بنائے ڈاکٹر صاحب حفاظتی تحویل میں کسی قریبی ریسٹورنٹ میں پائے جاتے ہیں ۔
میں نے  دو چار دن اور  جینے کی  خواہش میں ان سے اتوار کا وعدہ کر لیا۔۔۔
اس کے بعد ملک صاحب کے تناولانہ حملہ سے بچنے کی گنجائش ہی نہیں تھی،
مگر میں کسی اور وجہ سے ان کے پاس آیا تھا۔۔
میں نے ان کو بتایا کہ گذشتہ رات یوں ہوا کہ ۔۔۔۔بارہ بجے میں سڑک پہ جارہا تھا میں نے ایک عجیب منِظر دیکھا،
پہلے سوچا کنی مار جاؤں، پھر روائتی پینڈو پن غالب آگیا،
وہ کوئی انسان تھا جو سڑک سے اٹھنے کی کوشش کر رہا، تھوڑا قریب گیاتو اندازہ غلط ہوگیا، وہ گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھ ہا تھا،
وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھا۔۔۔
ہتھیلیوں کے بل چلتا ایک نوجوان لڑکا۔۔۔میرا دل بھر آیا،جیب سے کچھ پیسے نکالے،اس کی طرف بڑھائے،
“میں مانگنے والا نہیں ہوں ”
“میں بھی دینے والا نہیں ہوں ،سو کا چینج ہے؟ ”
ہم دونوں ایک ساتھ ہنس دئیے۔۔
وہاں تھوڑی سی چڑھائی تھی گھسٹ کر آگے بڑھنے میں دقت ہورہی تھی،
“میں تمہیں اٹھالو ں”؟
میں نے مدد کی آفر کی۔۔۔۔
“نہیں، بس مجھے سڑک پار کروا دیں، میرا ٹیکسی ڈرائیور دوست آرہا ہے ”
سڑک کے دوسری طرف ایک کوٹھی کے گیٹ کے ساتھ کھڑی ایک خوبصورت لڑکی ہم دونوں کو سڑک پار کرتے دیکھ رہی تھی ۔
سڑک کے درمیان ٹریفک کے وقفے میں اس نے مجھے اپنا نام حسنین بتایا،
وہ جی ٹین مرکز میں ٹی شرٹس سیل میں بیچتا ہے،
جیسے ہی ہم اس لڑکی کے قریب پہنچے وہ تیزی سے پاس آئی، اور ھاتھ میں پکڑے پیسے اسے دینے لگی ۔
حسنین نے اسے بھی وہی کہا جو مجھے کہا تھا، وہ “اوہ سوری “کہہ کر گھر کے اندر گھس گئی۔۔
میں بھی جانے لگا تو حسنین نے مجھے روک لیا،
“ابھی مت جائیں، میرے دوست کو آلینے دیں ”
میں اس کے ساتھ ہی فٹ پاتھ پہ بیٹھ گیا،
“کیوں، گپ لگانے کا موڈ ہے؟ ”
میں نے سگرٹ سلگاتے ہوئے پوچھا،
“نہیں، پولیس موبائل والے اٹھا کر لے جاتے ہیں، دن بھر کی سیل بھی چھین لیتے ہیں، اور سنسان جگہ پہ بھی پھینک جاتے ہیں ”
میری روح تک کانپ گئی۔۔۔۔
میں اس سوکھے معذور سے آنکھ نہ ملا پایا۔
وہ چلا گیا، مگر مجھے رات بھر نیند نہیں آئی!

اب آپ کے پاس آیا ہوں اس کا کچھ کریں، وہ معذور ہر رات اس خوف میں رہتا ہے کہ لُٹ  نہ جائے،
ملک صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا، کچھ دیر چپ رہے،
پھر ایک دم سے اٹھے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا ،انتہائی دکھ سے کہنے لگے،
‘دنبہ کڑاھی، دنبہ تکہ سمندر سے تیل نکلنے تک موخر سمجھو،
اور یہ جو گڑ کا پیس تم نے پلیٹ سے اٹھایا ہے واپس رکھ دو،
کپتان کو فضول خرچی اور مجھے پٹواری پسند نہیں،
آؤ چلیں ۔۔۔۔
مجھے لیکر انہوں نے حسنین کو ڈھونڈا، اس سے ملے، ساری صورتحال سنی، متعلقہ تھانیدار سےبات کی،حسنین کو اپنا نمبر دیا ۔اس سے نمبر لیا، اسے اس کے چھینے گئے پیسوں کی واپسی کی پیشکش کی جس کا اس نے حسب معمول انکارکردیا۔دونوں کے درمیان تھڑے پہ بیٹھے بیٹھے کافی عہدو پیماں ہوئے ۔
اب ملک صاحب مجھے سڑک پہ چھوڑ کراس بندے کا جنازہ پڑھنے چلے گئے ۔جس کے گھر گذشتہ رات بریانی بنی تھی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *