عورت کے مسائل ہیں کیا ؟ ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

کل میں امریکی سُپر اسٹور وال مارٹ پر اپنے نواسے کے ساتھ شاپنگ کر رہا تھا تو دو امریکی گوریوں نے اسے  پیار کرنا شروع کر دیا اور پوچھا کہ  یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ میرے لڑکا کہنے پر دونوں بہت خوش ہوئیں اور کہا very good and lucky ۔
مہوش حیات نے پرسوں اپنی ٹویٹ میں کہا کہ  لوگوں نے اس کے لیے whore اور slut جیسے الفاظ لکھے اور کچھ نے اس کی bra اور bikini میں تصویریں آویزاں کیں ۔ اور میں نے اس پر لکھا کہ  because you asked for it ۔ کراچی میں ہی ایک خاتون سے ایک ASP نے شادی کی جب بیٹی ہوئی  تو چھوڑ دیا اور اب عدالت میں کہتا ہے کہ  ڈی این اے کروایا جائے , تو اس کی بیٹی ہی نہیں اور سرعام کہتا ہے کہ وہ اتنا طاقتور ہے کہ  لیبارٹری سے رپورٹ بدلوا لے گا ۔ وہی چغتائی  لیب والا ڈرامہ ۔ پاکستان میں تو لوگ کسی کا یورین سیمپل دے کر فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں جنرل مہدی نے تو بریگیڈیر پر پروموشن بھی کسی کے سیمپل دے کر کروائی  تھی ۔
ماریو پُزو کے گاڈ فادر پر ہالی وُڈ نے فلم کی تین قسطیں بنائیں  ۔ پہلی دو پر آسکر دیے گئے لیکن ماریو پُزو غریب کا غریب رہا ۔ اس کے بیٹے انتھونی نے ۲۰۱۶ میں ایک انٹرویو میں کہا؛
Holly wood treated screen writers very poorly. My dad with two Oscars could have his words changed by the producer’s girlfriend

کسی کو نہیں پتہ مہوش حیات کی اس پنجابی فلم کا نام یا لکھاری اور نہ ہی کہانی جس پر اسے ایوارڈ ملا ۔ صدارتی ایوارڈ سے پہلے بھی انٹرو میں یہی کہا گیا کہ  اُس فلم نے ۵۰ کروڑ کا بزنس کیا ۔ اور یہ سب کو علم ہے کہ مہوش کے مختصر لباس میں ڈانس اس فلم کی مقبولیت کا باعث تھے اور ایوارڈ کی وجہ ۔ اسی طرح ماڈ ل ایان علی خود استعمال ہوئی  اور آخر میں تو کروڑوں ڈالر باہر لیجانے  میں ایسی پھنسی کہ  مرکزی گواہ کسٹم  افسر  کو بھی قتل کروا دیا لیکن ابھی تک جان نہیں چُھوٹی ۔ مفتی قوی نے قندیل بلوچ کو جپھی نہیں ڈالی تھی بلکہ قندیل بلوچ خود مولانا کی گود میں بیٹھی ۔

اسی مہینے امریکہ میں ایک ۳۷ سالہ بنگلہ دیشی امریکی ریما زمان (خان) نے بڑی دھوم دھام سے اپنی آپ بیتی ریلیز کی ہے ۔ ریما کے مطابق اس نے یہ کتاب ۲۰۱۳ سے لکھنی شروع کی اور اسے لکھنے میں چھ سال کا عرصہ لگا ۔ ریما کی کتاب کا عنوان بالکل تہمینہ درانی کی کتاب my feudal Lord کی طرح I Am Yours ہے ۔ عمران خان کو یہ کتاب پاکستان کی تمام عورتوں میں مفت تقسیم کرنی چاہیے ۔ عورتوں کی empowerment کا بہترین  ذریعہ ۔ ریما نے اس کتاب میں تہمینہ کی طرح منافقت ، جھوٹ اور مبالغہ آرائی  سے کام نہیں لیا بلکہ کھرا سچ بیان کیا ہے اور مردوں کی بجائے اپنے آپ کو اس سارے گند کا قصور وار ٹھہرایا ہے ۔ ریما نے اپنے باپ کو بھی اس کٹہرے میں کھڑا کیا ہے ۔

ریما زمان

ریما زمان ، زمان پارک میں نہیں ، بلکہ ڈھاکہ کے ایک بہت امیر گھر میں نو مہینے سے نو دن پہلے پیدا ہوئی  ۔ اس کے باقی بھائی  اور بہن بھی ٹھیک نو نو دن پہلے پیدا ہوئے ۔ باپ اسکالرشپ پر Hawaii چلا گیا اور ریما کی ابتدائی  تعلیم وہیں سے ہوئی ۔ معاشیات میں ڈگری کے بعد باپ نے اقوام متحدہ جوائن کی اور بینکاک شفٹ ہو گیا ۔ جہاں ریما جوان ہوئی ۔ ڈھاکہ کو ریما تھرڈ ورلڈ کہتی ہے ، امریکی جزیرے ہوائی کو فرسٹ ورلڈ اور بینکاک کو سکینڈ ورلڈ ۔ کیا زبردست تجزیہ تینوں دنیا کا ۔ ریما اس کتاب میں ایک چیز تو بہت اچھی بیان کرتی ہے کہ  یہ Man’s world ہے ۔ اس کو اس کا ایک استاد بنکاک میں فحش خطوط لکھتا ہے اور وہ جب اس بنکاک کے مہنگے ترین اسکول کی پرنسپل کو شکایت کرتی ہے تو وہ خط منگواتی ہے اور اُلٹا کچھ کرنے کے خط ضبط کر لیتی ہے ۔ ریما اس کتاب میں اپنے والد کو بھی منافقت پر بہت رگیدتی ہے کہ  کس طرح وہ سارا دن عورتوں کی empowerment پر لیکچر دیتا ہے اور اپنی بیوی کو پنجرے میں قید کر کے رکھا ہوا ہے ۔ ریما بنکاک کے ریڈ لائٹ ایریا میں بھی یہ جاننے جاتی ہے کہ  کیا یہاں لڑکیاں مجبوری میں آتی ہیں یا پیسہ کے شوق میں ؟ وہاں بھی اسے دونوں طرف منافقت دکھائی  دیتی ہے ۔ عورت کو کموڈوٹی بنانے میں ریما کے نزدیک عورت کا اپنا قصور بھی ہے ۔

ریما اٹھارہ سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہو جاتی ہے اور امریکہ کو جنت کہتی ہے بالکل ان ہی بنیادوں پر جن پر میں امریکہ کو جنت سے کم نہیں سمجھتا ۔ بقول ریما ؛
Most of Asia is obsessed with America, because America means freedom and freedom is universal longing. We think of we look and live like America, we draw closer to lady liberty ..
ریما زمان امریکہ کی تعریف مزید کچھ یوں لکھتی ہے ؛
I love this country beyond words, here I am allowed to be who I am, people and money will come and go ..

ریما نیویارک سٹی کا ایکٹنگ اسکول جوائن کرتی ہے اورسکرین writing اور acting کے کورسز لیتی ہے ۔ نیویارک سٹی میں بھی مرد بالکل ویسے ہی  ہیں جیسے ڈھاکہ اور بینکاک میں ۔ ایک شخص اس کا ریپ کرتا ہے وہ صرف بتا اس لیے نہیں سکتی کیونکہ وہ ایشین ہے اور ایکٹنگ اسکول کے ویزا پر کہیں ڈی پورٹ نہ ہو جائے ۔ ریما کے بینکاک سے جانے کے بعد ریما کی والدہ آخر پنجرہ سے نکل کر اسکول میں ٹیچر بن جاتی ہے اور دوبئی  میں ایک ٹیچر کانفرنس میں اسے ایک امریکی پسند آتا ہے جو سئیول میں ٹیچر ہوتا ہے ۔ دونوں شادی کرتے ہیں اور امریکہ کی ریاست اوریگون میں شفٹ ہو جاتے ہیں ۔ ریما نیویارک میں ہی رہتی ہے مختلف ڈراموں میں اداکاری کرتی ہے اور فارغ وقت ایک عورت کے بچوں کی بے بی سٹنگ ۔ وہ عورت ریما کو اپنی بیٹیوں کی طرح کئیر کرتی ہے ۔ ریما کے پیچھے ایک امیر شخص لگ جاتا ہے اور شادی پر مجبور کرتا ہے ۔ ریما محض اس لیے جھجکتی ہے کہ  کل کلاں وہ گرین کارڈ دلوانے کا طعنہ نہ دے لیکن وہ منتوں ترلوں پر آ جاتا ہے ۔ ریما اسے کہتی ہے کہ  کوئی  درجنوں مردوں نے اسے دھوکہ دیا وہ اب دھوکہ نہیں کھانا چاہتی ۔ وہ مرد بھی پہلے اسی طرح منتیں کرتے تھے ۔ آخر کار ریما مان جاتی ہے ، اور وہی ہوتا ہے جس کا ریما کو ڈر تھا ، چار دن کا شوق جب اس مرد کا ختم ہوتا ہے وہ اسے کہتا  ہے کہ  تم greenseis ہو یعنی گرین کارڈ کے لیے بیوی بنی نہ کہ  realseis ، یعنی اصل بیوی ۔
ریما کو کتابیں پڑھنے کا بچپن سے بہت شوق ہوتا ہے اور وہ کہتی ہے ؛
The magic of books is they awaken empathy. They teach you how to feel for strangers, imaginary and real.
اور وہ خود بھی لکھاری بننے کا شوق محض میری  طرح زندگی کے بارے میں لکھنے کی وجہ سے رکھتی ہے ، اس کے اپنے الفاظ؛
Some times grown ups ask me what I wrote about . “Life”.. they laugh , “what do you know about living? You are a kid “
ڈھاکہ کی زندگی کو بھی ریما بہت دلچسپ لکھتی ہے کہ  کیسے اتنی مصیبتوں اور مشکلات کے باوجود وہاں لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں ، مجھے اپنے ۲۲ کروڑ پاکستانی یاد آ گئے ؛
we simply refuse to die. We survive despite an exhaustion that never ebs, heat that never lifts, poverty as stubborn as tar, and floods more faithful than our leaders ..

ریما کے نزدیک ہم ایک ایسی male world میں رہ رہے ہیں جہاں ؛
the father buys his son his first prostitute .. being female means varying degree of powerlessness.
لیکن ریما کے نزدیک جب وہ بینکاک میں تھی اور امریکہ شفٹ ہونے کے خواب دیکھتی تھی تو محض یہ سوچ کر سکون میں آتی کہ  یہ سب کچھ ؛
won’t be unless I am half planet away and dozen years forward ..
اور وہ سچ ہوا ، ریما امریکہ میں بہت خوش ہے ۔ ریما کے نزدیک اس نے اب اس زندگی کا راز پا لیا جس مقصد کے لیے روح کو جسم میں پُھونکا جاتا ہے ، وہ کہتی ہے ؛
we all are one big self , one big love ..
ریما زمان کے بھی ancestors افغانستان کے پٹھان تھے ۔ ریما کو تو ۳۷ سال کی عمر میں عقل آ گئی  کہ  یہ زندگی اصل میں ہے کیا ؟ اور اصل زندگی تو ہے ہی روح کی زندگی باقی تو مادہ پرستی کا گھناؤنے کھیل کی سوا کچھ نہیں ، سب مایا ہے ۔ امریکہ جیسا ملک صرف آپ کو یہ آزادی اور پلیٹ فارم دیتا ہے کہ  آپ اپنی مرضی کی زندگیاں گزاریں وگرنہ باقی تمام جگہ ، والدین ، سیاستدان اور تھانیدار فیصلہ کرتا ہے کہ  زندگی کے اونٹ کو کس کروٹ  بٹھانا ہے ۔ ریما کی اپنی ویب سائیٹ بھی ہے ۔ نوجوان لڑکیاں ریما کی یہ کتاب ضرور پڑھیں یہ سچ پر مبنی ایک مسلمان لڑکی کی کہانی ہے جس نے کیسے معاشرہ اور مولوی کے مذہب سے بغاوت کی اور جیت گئی ۔ بہت خوش رہیں ۔ اپنی زندگیوں کا کنٹرول اپنے پاس رکھیں یہی میری آپ سب کو نصیحت ہے جو میں اپنی بیٹی کو بھی کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *