ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی۔۔۔دانش بیگ

مادہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایٹم سٹارز گلیکسیز سیارے درخت چٹانیں وغیرہ بناتا ہے ہم سب بھی مادے سے بنے ہیں یہ مادہ معلوم کائنات کا صرف 5 فیصد بناتا ہے۔ باقی کائنات تقریباً 25 فیصد ڈارک میٹر اور 70 فیصد ڈارک انرجی پر مشتمل ہے اور یہ دونوں ابھی تک ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں۔

یہ ایک طرح سے عجیب ہے کیونکہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہر چیز جس کا ہم سامنا کرتے ہیں حقیقت کا ایک بہت ہی چھوٹا حصہ ہے۔ لیکن زیادہ سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم بالکل بھی نہیں جانتے کہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کیا ہیں اور یہ کیسے کام کرتے ہیں لیکن ہمیں ان کے وجود کا پورا یقین ہے۔

ڈارک میٹر وہ چیز ہے جو گلیکسیز کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔ جب ہم نہ یہ کیلکولیٹ کیا کہ کائنات کا سٹرکچر ایسا کیوں ہے جیسا کہ یہ ہے تو جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ صرف نارمل میٹر ہی کافی نہیں ہے۔

نارمل میٹر کی گریویٹی اتنی نہیں ہے کہ یہ گلیکسیز اور دوسرے پیچیدہ سٹرکچرز بنا سکے۔ اگر یہ کائنات صرف نارمل میٹر پہ مشتمل ہوتی تو ستارے ادھر ادھر بکھر جاتے اور کبھی بھی گلیکسیز نہ بناتے۔ سو ہم جانتے ہیں کہ گلیکسیز کے اندر اور اردگرد کچھ ہے کچھ ڈارک جو نہ روشنی خارج کرتا ہے نہ جذب کرتا ہے اور نہ ہی روشنی کو ریفلیکٹ کرتا ہے۔

ڈارک میٹر کی موجودگی کو کیلکولیٹ کرنے کے علاؤہ ہم اسے دیکھ بھی سکتے ہیں ایک طرح سے۔
جن جگہوں پر ڈارک میٹر کی زیادہ مقدار ہوتی ہے وہاں سے گزرتے ہوئے لائٹ بینڈ ہو جاتی ہے اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ موجود ہے جو گریویٹی سے تعامل کرتا ہے۔
ڈارک میٹر کیا ہے سے زیادہ اس وقت ہم یہ جانتے ہیں کہ ڈارک میٹر کیا نہیں ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ نارمل میٹر کے کلاؤڈز جن سے سٹارز بنتے ہیں وہ ڈارک میٹر نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ کچھ پارٹیکلز خارج کرتا جنہیں ہم با آسانی ڈیٹیکٹ کر سکتے تھے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ڈارک میٹر اینٹی میٹر بھی نہیں ہے کیونکہ اینٹی میٹر نارمل میٹر سے تعامل کے دوران مخصوص گیما ریز خارج کرتا ہے جنہیں با آسانی ڈیٹیکٹ کیا جا سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ڈارک میٹر بلیک ہولز سے بھی نہیں بنا کیونکہ بلیک ہولز ٹھوس چیزیں ہیں جو اپنے گردو نواح کو شدت سے متاثر کرتے ہیں جبکہ ڈارک میٹر تقریباً تمام جگہ بکھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر ہم تین چیزوں کے بارے میں پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں۔
1: کچھ موجود ضرور ہے۔
2: یہ گریویٹی سے تعامل کرتا ہے۔
3: یہ بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔

ڈارک میٹر غالباً ایک پیچیدہ اور اجنبی پارٹیکل سے بنا ہےجو کہ لائٹ اور اور نارمل میٹر سے اس طرح تعامل نہیں کرتا جس طرح کہ ہم توقع رکھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہم کچھ نہیں جانتے۔

ڈارک انرجی ڈارک میٹر سے بھی زیادہ عجیب اور پر اسرار ہے کیونکہ نہ تو ہم اسے ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں اور نہ ہم اس کی پیمائش کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کے اثرات کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
ہبل نے 1929 میں مشاہدہ کیا کہ دور دراز کی گلیکسیز سے آنے والی لائیٹ جب سپیس میں سفر کر کے ہم تک پہنچتی ہے تو یہ الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم کے ریڈ اینڈ کی جانب شفٹ ہو جاتی ہے۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ مدھم اور دور دراز کی گلیکسیز سے آنے والی لائیٹ نے ریڈ شفٹ کی زیادہ ڈگری ظاہر کی بنسبت قریب موجود گلیکسیز کے۔
اس سے ہبل نے نتیجہ نکالا کہ چونکہ کائنات خود پھیل رہی ہے اس لئے اس سے گزرنے والی لائیٹ کی ویو لینتھ سٹرچ ہو جاتی ہے۔

جدید ریسرچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کائنات کے پھیلنے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ گریویٹی کی کشش یا تو کائنات کے پھیلنے کی شرح کو آہستہ کر دے گی یا پھر اسے سکیڑ دے گی۔
پھیلنے کے عمل کے دوران سپیس اپنی خصوصیات تبدیل نہیں کرتی۔ کائنات میں مسلسل نئی سپیس بن رہی ہے۔ گلیکسیز چیزوں کے کلسٹرز ہیں اور اس میں موجود چیزیں گریویٹی کی وجہ سے آپس میں مضبوطی سے بندھی ہوئی ہیں اس لئے سپیس کے اس پھیلاؤ کو ہم روزمرہ کی زندگی میں محسوس نہیں کرتے البتہ اپنے اردگرد موجود کائنات میں ہم اسے واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ کائنات میں جہاں کہیں بھی خالی سپیس موجود ہے وہاں ہر لمحے نئی سپیس بن رہی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ڈارک انرجی کسی طرح کی ایسی انرجی ہے جو صرف خالی سپیس کے لئے مخصوص ہے۔ یہ انرجی ہمارے علم میں موجود ہر چیز سے زیادہ طاقتور ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ زیادہ طاقتور بنتی جا رہی ہے۔
خالی سپیس میں کائنات میں موجود تمام چیزوں کی کمبائن انرجی سے بھی زیادہ انرجی ہے۔
ہمارے پاس کئی آئیڈیاز ہیں کہ ڈارک انرجی کیا ہو سکتی ہے۔

ایک آئیڈیا یہ ہے کہ ڈارک انرجی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ سپیس کی ایک خصوصیت ہے۔ خالی سپیس Nothing نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی انرجی ہے یہ نئی سپیس پیدا کر سکتی ہے اور خاصی ایکٹو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جوں جوں کائنات پھیل رہی ہے خالی جگہوں کو پر کرنے کے لئے مزید سپیس بن رہی ہو اور یہی کائنات کے مسلسل اور تیزی سے پھیلنے کی وجہ ہو۔
یہ آئیڈیا آئنسٹائن کے کاسمولوجیکل کانسٹینٹ کے آئیڈیا سے قریب تر ہے جو انہوں نے 1917 میں دیا تھا۔ کاسمولوجیکل کانسٹینٹ سے ان کی مراد ایک ایسی فورس تھی جو گریویٹی کے خلاف ایکٹ کرے۔
اس تصور کا واحد مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم نے اس انرجی کی مقدار کو کیلکولیٹ کرنے کی کوشش کی تو نتیجہ بہت ہی عجیب نکلا اور اس نے کنفیوژن میں مزید اضافہ کیا۔

ایک اور آئیڈیا یہ ہے کہ خالی سپیس عارضی ورچوئل پارٹیکلز سے بھری ہوئی ہے جو کہ اچانک اور مسلسل nothing سے وجود میں آتے رہتے ہیں اور پھر اسی میں غائب ہو جاتے ییں۔ ان پارٹیکلز کی انرجی ڈارک انرجی ہو سکتی ہے۔
یا پھر ڈارک انرجی ایک غیر معلوم متحرک انرجی ہے جو کہ کائنات میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے لیکن کسی طرح کائنات پر اس کا اثر نارمل انرجی اور میٹر کی نسبت متضاد ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ موجود ہے بھی تو ہم نہیں جانتے کہ کہاں اور کیسے۔ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم اسے کیسے ڈیٹیکٹ کریں۔

اس کے بارے میں ابھی کافی سوالات ہیں جو کہ حل طلب ہیں۔
ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں ہمارے خیالات ابھی تک صرف خیالات ہی ہیں۔
ایک طرف تو یہ بہت پریشان کن ہے لیکن دوسری طرف یہ فرنٹیئر سائنس ہے اور ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کتنا بھی سوچیں کہ ہم سب جانتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی بھی کافی حد تک سپیس میں ایک چھوٹے سے جزیرے پر موجود ہاتھ میں سمارٹ فون پکڑے ایپس کی طرح ہیں جو آسمان کی طرف دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ آخر ہماری کائنات کام کیسے کرتی ہے۔
سیکھنے کے لئے ابھی بہت کچھ باقی ہے اور یہ چیز بہت زیادہ خوش کن ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *