اسا طیر ،مِتھ کیسے بنے؟۔۔۔۔۔۔اجمل صدیقی

کائناتی مظاہر کی حر کی قوتوں سے انسان کو ان کے ذی روح ہونے کا التباس ہوا۔۔۔
بادلوں کی گرج,ہوا کی سر سر اہٹ,بجلی کی چمک,سمندر کی دھاڑ,سورج کی شعلہ باری نے animism کو تحریک دی,زمین کی روئیدگی اور موسموں کے تغیر نے انسان کو کسی انجانی ہستی کے احساس کا اشارہ کیا ،پھلوں کی فروانی اور فصلوں کی نمو سے زمین کو “ما تا”اور سورج کی کرختگی اور بلندی سے آسمان کو “باپ” کا درجہ ملا۔
مظاہر کو سمجھنے کیلے خاندانی نظام اور صنفی تقسیم سے انسان نے نمونے تیار کیے۔

اس کے بعد انسان نے مظاہر اور انسانی کیفیات ,رسوم ,اور اعتقادات ,اداروں کے آغاز کے لیے اسا طیر کا سہارہ لیا۔قدیم زبانون میں abstract nounنہیں ہوتے تھے ہر اسم مونث اور مذکر بھی ہو تا تھا۔نرم اور کمزور ,اور خوبصورت مظاہر مونث اور ماتا دیوی ,مادر سری سے تعلق رکھتے ہیں ۔طاقتور ,اور بنجر اور وحشی قوتیں مذکر بن گئیں ،جیسے Aphrodite, Athena,اناہتا,عشتار,وغیرہ,مردوخ,mars,Jupiteوغیرہ

بھولی ہوئی  تاریخ اور بھولی ہوی  رسوم بھی اساطیر کا باعث بن گۓ۔
مظاہر کے نامکمل مشاہدے  نے تخیل بیدار کیا۔ ایک عالم کے مقابل ایک اور عالم تخلیق کر لیا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *