• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حضرت محمد ﷺ بطور ترقی پسند رہنما۔سیاسی اور سماجی اصلاحات/مکالمہ سیرت ایوارڈ۔۔۔امجد اسلام

حضرت محمد ﷺ بطور ترقی پسند رہنما۔سیاسی اور سماجی اصلاحات/مکالمہ سیرت ایوارڈ۔۔۔امجد اسلام

حضرت محمّدﷺ اللّٰہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیاءاکرامؑ کے سلسلے کے آخری نبی ہیں، جن کو اللّٰہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب  پہنچانے کیلئے دنیا میں بھیجا، آپؑ کو یہ خصوصیت واضح طور پر حاصل ہے کہ آپؑ تمام مذاہب کے پیشواؤں میں سے کامیاب ترین پیشوا تھے، یعنی آپؑ دنیا کے تمام مذہبی شخصیات میں سے کامیاب شخصیت تھے۔

آپ کی مذہبی اور سماجی بصیرت کا عالم یہ تھا کہ بہت سے کامیاب ترین لوگ آپ کے گرویدہ رہ چکے ہیں، جن میں اکثریت غیر مسلموں کی ہےـ

ڈاکٹر شیلے لکھتے ہیں کہ
“محمدؐ جیسی ہستی کا دوبارہ پیدا ہونا ناممکنات میں سے ہے ، آپ موجودہ اور گزشتہ لوگوں میں سب سے بہترین اِنسان ہیں”۔

آپؐ عرب کے ایک ایسے قبیلے میں پیدا ہوئے جو بتوں کو خدا مانتے تھے، یہ محمدؐ کی ترقی پسندانہ سوچ قائدانہ صلاحیت اور حسنِ سلوک کا نتیجہ تھا کہ وہاں کے لوگوں نے قلیل عرصہ میں بتوں کی پرستش چھوڑ کر اللّٰہ کی عبادت کو اختیار کیا۔

قرآنِ حکیم نے آپ کی زندگی کی ترجمانی کچھ یوں کی ہے،
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة”
یعنی تمہارے لئے رسول اللّٰہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہاں اللّٰہ کا اِشارہ آپؑ کی دینی و مذہبی پہلو کے ساتھ ساتھ آپ کی سماجی زندگی کی طرف بھی ہے۔

مہاتما گاندھی  آپ کی  تعلیمات اور سماجی اِصلاحات سے بہت متاثر تھے، لکھتے ہیں کہ
“میں اس بات پر قوی یقین رکھتا ہوں کہ کوئی نظریہ تلوار کے زور پر لوگوں کے دلوں میں گھر نہیں کر سکتا، اِسلام بھی زور کی بنیاد پر نہیں پھیلا   ،بلکہ یہ محمدؐ کے  غیر معمولی اعتماد و یقین، آپؑ کی سادگی، حسنِ اخلاق، بہترین قائدانہ صلاحیت، صحابہؓ اور دوستوں سے بے پناہ محبت، برداشت اور اللّٰہ پر کامل یقین جیسے دُشوار گزار راہوں پر چلنے کے بعد پھیل چکا ہے”

آپ کا خاصہ تھا کہ آپ ہمیشہ غریبوں، ناداروں، بیواؤں، یتیموں، مسکینوں، غلاموں اور سماج کے پسماندہ لوگوں کی خبر گیری رکھتے تھے،آپ تجارت اور لین دین میں اتنے صاف اور شفاف تھے کہ صرف بیس سال کی  کم عمر ہی میں ایک کامیاب تاجر بن چُکے تھے، امانت داری اور شفاف حساب کتاب کی وجہ سے آپ کو اسی کم عمری میں ایک مالدار عورت حضرت خدیجہ ؓ کے اونٹوں کے قافلے کا  سردار بنا دیا گیا۔

لیمرتین ایک فرانسیسی مورخ ہے، اپنے ایک کتاب میں حضور اکرمؐ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

“عظیم مقاصد کے حصول کے لئے دنیا کے عظیم ترین لوگوں کا تقابل کیا جائے اگر، تو کوئی بھی ہستی محمدؐ کا مقابلہ نہیں کر سکتی،ان مشہور شخصیات نے بیشک عظیم فوجیں اور بڑی بڑی حکمتیں قائم کی ہوں  گی، لیکن یہ فوجیں اور حکومتیں انہوں نے بہت سے دنیاوی وسائل کی مدد سے قائم کی ہوں گی، جبکہ پیغمبرِ اسلام محمدؐ نے بغیر کسی مادی طاقت  اور و سائل کے اُس وقت کے لوگوں کو جہالت و پسماندگی سے نکال کر تہذیب و شائستگی، خدائے واحد کی عبادت اور علم و کمال کے نور  سے منور کر دیا، بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا اور فرقوں میں بٹے ہوئے معاشرے کو متحد کرنے والا اگر کوئی ہے تو وہ آنحضرت محمّدﷺ ہیں ”

حضورؐ کا مقصد کسی ایک شعبہ زندگی کی اصلاح تک محدود نہیں تھا ،بلکہ ہدایات خداوندی کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں کی تطہیر و تعمیر کرنا تھا۔ آپؐ کی تحریک ہمہ گیر تھی، جس نے تمام شعبہ ہائے زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر کے انسانیت کے تصور میں انقلاب برپا کر دیا۔ جزیرہ نما عرب سیاسی انتشار اور لاقانونیت کا شکار تھا۔ جنوبی عرب کے زرخیز علاقوں پر ایرانیوں کا قبضہ تھا، جبکہ شمالی عرب رومیوں کے زیر تسلط تھا۔ ایرانی اور رومی اہل عرب کو محکوم اور حقیر سمجھتے تھے ،آپؐ نے بکھرے ہوئے اور انتشار کے شکار بدوی قبائلی اور ہمیشہ لڑنے والی قوم کو متحد کر کے ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا۔ مزید برآں مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کر کے اور مدینہ منورہ کو مرکزی حیثیت دے کر ان بدوی قبائل کو ایک حکومت کے تحت متحد کر دیا۔ ان میں نظم و ضبط اور اخوت و مساوات قائم کر کے ایران اور روم کی ترقی یافتہ عظیم قوموں کے دوش بدوش لا کھڑا کر دیا۔

آپؐ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف تھامس کارلائل کچھ یوں کر چکے ہیں۔
“مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ایک اکیلے انسان نے اپنے قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ایک غیر مہذب اور غیر تعلیم یافتہ معاشرے کو ایک مضبوط، تہذیب یافتہ اور باشعور قوم میں تبدیل کر دیا، وہ بھی انتہائی قلیل مدت میں”

یہ آپ کی ترقی پسندانہ سوچ کا ثمر ہے کہ آپ نےسودی نظام کو حرام ٹھہرا کر زکوٰۃ، صدقہ اور فطرانہ کی ترغیب دی، تاکہ دولت کو گردش میں لا کر غربت کی کمی میں مدد ملے۔

آنحضرت محمد ﷺ کی زندگی تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ایک بہترین مثال ہے، یقیناً کامیابی اُن کی ہے جو آپؑ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *