• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • مصنوعی ذہانت اور انسانی شعور کا موازنہ (حصہ سوم)۔۔ملک شاہد

مصنوعی ذہانت اور انسانی شعور کا موازنہ (حصہ سوم)۔۔ملک شاہد

ان ماہرین کے مطابق، اس سارے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم ابھی تک “شعور” (consciousness) کے لفظ کی کوئی متفقہ تعریف نہیں کر سکے۔ فلسفی ، ریاضی داں اور دانشور حضرات صدیوں سے اس لفظ کی تشریح کرتے آ رہے ہیں، لیکن کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکی۔ سائنس میں بھی اس کی کوئی باقاعدہ تعریف متعین نہیں ہے۔بدقسمتی سے یہ ایک متنازعہ اصطلاح ہے ، جس کا مطلب، مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہوتاہے۔ شعور کی واضح تعریف نہ کر سکنا بھی ایک مسئلہ ہے اور پھر اس کی مقدار کا تعین نہ کر سکنا ایک اور بڑی ناکامی ہے۔
منطقی اور سائنسی لحاظ سے دیکھیں تو شعور کم از کم تین اجزاء کا مرکب ہو سکتا ہے۔
1. اپنے ارد گرد کے ماحول کو محسوس کرنا اور اسے پہچاننا (environment recognition)
2. اپنی موجودگی کا احساس ہونا (self-awareness)
3. مستقبل کے مقاصد کا تعین کرنا اور اس کے لئے حکمت عملی ترتیب دینے کی صلاحیت رکھنا

اس اپروچ کو مد نظر رکھیں تو سادہ مشینیں اور کیڑے مکوڑے شعور کی کچھ شکل رکھتے نظر آتے ہیں، جن کی عددی لحاظ سے 1 سے 10 تک رینکنگ کی جا سکتی ہے۔ مثلاََ ایک ہتھوڑی اپنے ماحول کو محسوس نہیں کر سکتی اس لیے وہ اس رینکنگ میں 0 پر ہے۔ لیکن ایک تھرموسٹیٹ اپنے ماحول کو محسوس کر سکتا ہے اور اس کے مطابق خود میں تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔ اس لیے اس کی رینکنگ 1 ہو گی۔ اسی طرح جو مشینیں “فیڈ بیک” میکنزم کی حامل ہوں، وہ بھی شعور کی ایک سادہ شکل رکھتی ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں میں بھی یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ ماحول میں غذا کی موجودگی اور خطرے کو محسوس کر سکتے ہیں اور ان اطلاعات پر اپنا کچھ نہ کچھ رد عمل بھی ظاہر کر سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں حشرات نسبتاََ زیادہ صلاحیت کے مالک ہیں اور وہ سماعت، بصارت ،قوت شامہ اور دبائو وغیرہ کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی رینکنگ کچھ زیادہ یعنی 2 سے 3 تک ہو گی۔ماحول کی شناخت کا سب سے بلند درجہ وہ صلاحیت ہو گی کہ جس کی مدد سے کوئی بھی جاندار( یا مشین) ماحول میں موجود اشیا کو پہچان اور سمجھ سکے۔ انسان اپنے ماحول میں موجود اشیا کی جسامت کا اندازہ فوراََ لگا لیتا ہے ، اس لیے وہ اس رینکنگ میں سرفہرست ہے۔ تاہم اس صلاحیت میں روبوٹ بہت پیچھے ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ پیٹرن کی شناخت مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ روبوٹ اپنے ماھول کو انسانوں کی نسبت زیادہ بہتر محسوس کر سکتے ہیں لیکن وہ اپنی دیکھی گئی چیزوں کو بہت طور پر سمجھ نہیں سکتے یعنی پہچان نہیں پاتے۔ شعور کی اس سطح پر روبوٹ بہت نیچے ہیں بلکہ حشرات سے بھی نیچے ہیں۔

tripako tours pakistan

شعور کی اگلی اور اعلیٰ سطح “خود شعوری” (self-consciousness) ہے۔ اگر آپ کسی نر جانور کے سامنے آئینہ رکھ دیں تو وہ فوراََ غصے کی کیفیت کا اظہار کرتا ہے بلکہ آئینے پر حملہ آور بھی ہو جاتا ہے۔ ان کا عکس ان میں خوف پیدا کر دیتا ہے، کیونکہ جانوروں کو اس بات کا شعور نہیں ہے کہ وہ کون ہیں۔ البتہ بندر، ہاتھی اور ڈولفن سمیت کچھ پرندے یہ بات فوراََ سمجھ جاتے ہیں کہ آئینے میں دیکھا جانے والا عکس ان کا اپنا ہے۔ اس طرح وہ اس پر حملہ نہیں کرتے۔ اس رینکنگ میں بھی انسان سب سے اوپر ہیں کیونکہ اپنی ذات کا شعور سب سے زیادہ انسانوں کو ہی ہے۔ مزید یہ کہ انسان اپنے آپ سے اس قدر باخبر ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے آپ سے بھی باتیں کر لیتا ہے۔

تیسرادرجہ یہ ہے کہ کئی جانور مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے اچھی رینکنگ پر ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق، حشرات اپنے مستقبل کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں بناتے بلکہ وہ اپنی جبلت کی وجہ سے،حالات کے ساتھ ساتھ حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔اس لحاظ سے وحشی جانور ( predators) بہت حساس ہیں۔ وہ مستقبل کا شعور رکھتے ہیں۔ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ خفیہ جگہ پر گھات لگا کر بیٹھتے ہیں۔ نیز وہ اپنی حفاطت کے لئے پہرے اور باڑ وغیرہ کا بھی انتظام کرتے ہیں۔
تاہم اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جانور کوئی طویل پلاننگ کرتے نظر نہیں آتے۔ بظاہر جانوروں کی زندگی میں “آنے والے کل” کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس بات کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ وہ مستقبل کی کوئی فکر کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ جانور سردیوں کے لئے اپنی خوراک کا ذخیرہ کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کا یہ عمل جینیاتی ہے۔ ان کے جینز میں یہ بات پروگرام شدہ ہے کہ وہ درجہ حرارت میں تبدیلی کے ردعمل میں خوراک ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس کے برعکس، انسانوں میں مستقبل کا گہرا شعور پایا جاتا ہے اور وہ مسلسل نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ ہمارے دماغ میں ہر وقت مستقبل کی مجازی نقول (سیمولیشنز) بنتی رہتی ہیں ۔ حتی کہ ہم اپنی زندگی کے بعد کے حالات کے بارے میں بھی سوچتے رہتے ہیں۔ بلکہ ہم تو کسی کی اہلیت اور صلاحیت کا معیار ہی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص مستقبل کی کتنی بہتر منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ بالفاظ دیگر شعور کی یہ قسم عمومی سمجھ بوجھ اور فطرت کے قوانین کے گہرے ادراک کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ انسانوں نے اس صلاحیت میں خاصا عبور حاصل کر لیا ہے اورہم اپنے بچپن میں ہی مستقبل کی پلاننگ کرنا سیکھ جاتے ہیں۔

اس لیے اب مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ماہرین ایسے روبوٹ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ان تینوں صلاحیتوں کے حامل ہوں۔ یعنی وہ اپنے ماحول کا ادراک کر سکتے ہوں، اپنی موجودگی سے آگاہ ہوں اور مستقبل کی پلاننگ کر سکتے ہوں۔ شعور کی اس اعلیٰ صلاحیت کے حصول کے لئے عمومی سمجھ بوجھ (کامن سینس) کی بہت ضرورت ہے۔ ایک روبوٹ کو کوئی حقیقت سمجھنے اور مستقبل کی لاننگ کرنے کے قابل ہونے کے لئے اس دنیا کے کامن سینس کے لاکھوں اصولوں پر عبور حاصل کرنا ہو گا۔

اب ان معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے، ہم روبوٹس کی درجہ بندی کرتے ہیں۔سب سے پہلے ہم “ڈیپ بلیو” (Deep Blue) کو دیکھتے ہیں جو ایک شطرنج کھیلنے والی مشین ہے۔ اگرچہ اس نے عالمی چیمپئن کو شکست دے دی تھی لیکن یہ مشین اس کے علاوہ مزید کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ صرف شطرنج کی حد تک سیمولیشنز بنا سکتی ہے۔ یہی بات دنیا کے کئی دیگر کمپیوٹرز کے لئے بھی درست ہے۔ وہ کسی ایک معاملے کی سیمولیشن (مجازی نقل) تو بنا سکتے ہیں مثلاََ نیوکلئیر ڈیٹو نیٹر کی ماڈلنگ یا موسم کی ماڈلنگ وغیرہ میں تو ماہر ہیں بلکہ وہ ان معاملات میں انسانوں سے بھی زیادہ بہتر سیمولیشنز بنا سکتے ہیں تاہم یہ صرف یک سمتی مشینیں ہیں اور باقی معاملات میں بے کار ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کر سکتے کہ ان تمام معاملات کو کسی روبوٹ میں کیسے منتقل کریں۔ہم فی الحال یہ بات بالکل نہیں جانتے کہ کمپیوٹر میں شعور کس طرح پیدا کیا جائے۔ تاہم ہمیں اس بات کا احساس ضرور ہے کہ اگر کسی دن ایسا ممکن ہو گیا تو کمپیوٹر یقینی طور پر ہم انسانوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے گا۔ وہ ہماری نسبت اس تیسری صلاحیت (یعنی مستقبل کی پیش بینی کی صلاحیت) کو بہت زیادہ گہرائی اور زیادہ تفصیل کے ساتھ استعمال کریں گے اور زیادہ پیچیدہ سیمولیشنزبنا سکیں گے۔ نیز ان کی سیمولیشنز ہماری نسبت زیادہ درست ہوں گی، کیونکہ وہ کامن سینس کے قوانین کو ہماری نسبت زیادہ باریکی سے سمجھتے ہوں گے۔ وہ ان مسائل کی پیش بندی بھی کر سکیں گے جنھیں ہم عموماََ نظر انداز کردیتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اپنے اہداف متعین کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔ اگر ان کے اہداف میں انسانوں کی مدد کرنا بھی شامل ہوا تو تب تو سب کچھ ٹھیک رہے گا۔ تاہم اگر انھوں نے کچھ ایسے اہداف بنا لیے جن کی تکمیل میں انسان ان کے راستے کی رکاوٹ بن سکتے ہوں، تو اس کے بہت بھیانک اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

جب روبوٹ انسانوں پر سبقت لے جائیں گے
ارتقا کا قانون یہ ہے کہ وہ غیر اہم انواع کو ہٹا کر ان کی جگہ برتر اور ترقی یافتہ انواع کو اوپر لے آتا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو گیا کہ روبوٹ واقعی انسانوں سے آگے نکل گئے تو ہم انسان واقعی کسی چڑیا گھر میں بند ہوں گے اور روبوٹ ہمیں دیکھنے آیا کریں گے۔ وہ ہمیں ارتقا کی قدیم نشانی کے طور پر دیکھا کریں گے۔ ہم نے خود ایسے سپر روبوٹ تیار کئے ہوں گے جو ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھیں گے۔ شاید تاریخ کا کردار ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ہم اپنے سے زیادہ ترقی یافتہ نسلوں کو پیدا کریں اور پھر ان کے راستے سے خود ہی ہٹ جائیں۔
ڈگلش ہوف سٹیڈرڈ جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا کیونکہ ہم ان سپر روبوٹس کے مالک ہوں گے اس لیے ہم انھیں صرف استعمال کریں گے۔ ہم کبھی بھی انھیں خود پر غالب نہیں آنے دیں گے۔ ان کی پرگرامنگ ہمارے ہاتھوں میں ہی ہو گی۔

لیکن دوسری طرف ہینز موراوک جیسے ماہرین کو اس معاملے میں گہری تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری بنائی ہوئی کتنی ہی مفید چیزیں اب غلط انداز میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس لیے اس بات کا امکان موجود ہے کہ کمپیوٹر واقعی ہمارے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اگر کبھی ایسا دن آ گیا کہ کمپیوٹر ہم انسانوں سے زیادہ ذہین ہو گئے تو نہ صرف یہ کہ ہم اس کرہ ارض کی ذہین ترین مخلوق کے اعزاز سے محروم ہو جائیں گے بلکہ ہمارے تیار کردہ یہ ذہین سپر روبوٹ ، اپنی ایسی نقلیں (copies) بھی بنانے لگیں گے جو خود ان سے بھی زیادہ ذہین ہوں۔ اپنے جیسے روبوٹ تیار کرنے والی یہ فوج، روبوٹس کی ایسی جدید نسلیں تیار کرتی جائے گی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یعنی ہر نئی نسل، پرانی نسل سے زیادہ بہتر ہو گی۔ چونکہ روبوٹس بہت کم عرصے میں خود سے زیادہ ذہین نسلیں تیار کر سکیں گے، ا س لیے یہ سلسلہ بہت تیزی سے آگے بڑھے گا اور آخر کار خود سے زیادہ ذہین نسل تیار کرنے کی یہ حرص ،کرہ ارض کے تمام وسائل ہڑپ کر جائے گی۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ خود سے زیادہ ذہین روبوٹس بنانے کی یہ خواہش جب تمام زمینی وسائل کا خاتمہ کر دے گی تو شاید پوری زمین ہی ایک سپر کمپیوٹر کی صورت اختیار کر لے گی۔ جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق یہ سپر ذہین کمپیوٹرز، زمینی وسائل کے کاتمے کے بعد، خلا کا رخ کریں گے۔ اس طرح مزید ذہانت کی تلاش کا یہ سفر ہمیشہ جاری رہے گا۔ وہ روبوٹس دوسرےسیاروں اور ستاروں تک جا پہنچیں گے تاکہ انھیں بھی کمپیوٹر میں تبدیل کر سکیں۔ چونکہ یہ سیارے اور ستارے بہت زیادہ فاصلوں پر موجود ہیں، اس لیے وہاں تک پہنچنے کے لئے ان روبوٹس کو طبیعیات کے بنیادی قوانین میں تبدیلی کرنا پڑے گی تاکہ وہ روشنی سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کر سکیں اور دیگر کہکشائوں میں پہنچ سکیں۔ شاید اس طرح وہ کمپیوٹر پوری کائنات کو ہی ہڑپ کر جائیں اور پوری کائنات ہی ایک ذہین کمپیوٹر کی شکل اختیار کر لے۔

مصنوعی ذہانت کی اصطلاح میں یہ لمحہ “سنگولیریٹی” (singularity) کہلاتا ہے۔( طبیعیات میں سنگولیریٹی سے مراد وہ مقام ہے کہ جہاں لامتناہی کشش ثقل پائی جائے اور جہاں سے کوئی چیز فرار نہ ہو سکے۔ مثلاََ بلیک ہول سے کوئی چیز ، حتی کہ روشنی بھی فرار نہیں ہو سکتی اور اس طرح ہم کبھی اس کے اندر نہیں دیکھ سکتے۔ اس مقام پر طبیعیات کے تمام قوانین جواب دے جاتے ہیں)۔

مصنوعی ذہانت میں سنگولیریٹی کا تصور 1958 میں پیش کیا گیا۔ مشہور ریاضی دان سٹینلا اولم نے کہا کہ انسانی تہذیب میں ترقی کی دوڑ ہر لمحہ بڑھتی ہی جائے گی اور اس دوڑ میں ٹیکنالوجی ایک ایسے مقام پر آ کر رک جائے گی کہ جہاں سے آگے جانا خود انسان کے لئے بھی بہتر نہیں ہو گا۔ انھوں نے اس لمحے کو سنگولیریٹی کا نام دیا۔

مشہور موجد اور مصنف رے کرزویل نے 1999 میں ایک بیسٹ سیلر کتاب لکھی جس کا نام “The Age of Spiritual Machines: When Computers Exceed Human Intelligence”تھا۔ اس کتاب میں اس نے پیش گوئی کی کہ روبوٹ آخر ایک دن انسانوں پر سبقت لے جائیں گے۔ 2005 میں اس نے “The Singularity is Near” نامی ایک مضمون میں بتایا کہ ٹیکنالوجی واقعی اس راستے پر گامزن ہے کہ جب روبوٹ واقعی انسانوں پر قابو پا لیں گے،تاہم یہ موقع مختلف مراحل میں آئے گا۔اس کے مطابق آئندہ دو عشروں میں کمپیوٹر انسانی ذہانت کے برابر ہو جائیں گے اور 2050 تک شاید وہ انسانی ذہانت سے بھی بڑھ جائیں۔ 2075 کے بعد وہ کمپیوٹر اتنے ذہین ہو جائیں گے کہ وہ خود سے بھی زیادہ ذہین کمپیوٹر بنانے لگ جائیں گے۔جس سے سنگولیریٹی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

جاری ہے

ملک شاہد
ملک شاہد
ملک محمد شاہد موبائل: 03007730338 اعزازی مدیر ماہنامہ گلوبل سائنس کراچی۔۔ اعزازی قلمی معاون : سہ ماہی اردو سائنس میگزین ، لاہور مصنف: 100عظیم سائنسی دریافتیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *