چلغوزے مفت کھانے کا طریقہ۔۔گل نو خیز اختر

چلغوزوں کے مہنگا ہونے کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک فرما دیا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں چلغوزوں کے درخت متاثر ہوگئے تھے۔ایک اور عالی مرتبت نے انکشاف کیا کہ صیہونی سازش کے نتیجے میں چلغوزے مہنگے ہوئے ہیں۔میں چونکہ چلغوزوں کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا چلغوزے میرے بارے میں جانتے ہیں لہذا بڑا تجسس تھا کہ کچھ پتا تو چلے کہ بچپن میں ایک روپے کے مٹھی بھر ملنے والے چلغوزے کلو کے حساب سے بکنے کی بجائے درجن کے حساب سے کیوں فروخت ہونے لگے ہیں۔ اس حوالے سے میری ملاقات میرے علاقے کے ایک ڈرائی فروٹ ڈیلر سے ہوئی۔ ارشادصاحب سے میں ہرسردیوں میں حسب استطاعت کاجو، پستہ اور چلغوزے خریدتا ہوں کیونکہ مونگ پھلی مجھ سے نہیں کھائی جاتی۔ سو میں گرمیوں میں کمیٹی ڈالتا ہوں اور سردیوں میں اُن پیسوں سے ڈرائی فروٹ کا شوق پورا کرلیتا ہوں۔ارشاد صاحب نے جو کچھ بتایا وہ میں یہاں پیش کر رہا ہوں لہذاکسی بھی قسم کی داد مجھے ملنی چاہیے تاہم غلطی یا کوتاہی کا براہ راست الزام ارشاد صاحب کو دیا جائے۔شکریہ!
پاکستان کا چلغوزہ اپنی لذت کے اعتبار سے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے اور وکی پیڈیا کی اطلاع کے مطابق پاکستان کے جنگلات کا 20 فیصد چلغوزوں کے درختوں پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود یہ اس وقت سونے کے بھاؤ مل رہا ہے وجہ کیا ہے؟۔ اصل میں ہمارے ہاں اسے صرف چھلکا اتار کر استعمال کیا جاتاہے جبکہ عرب ممالک میں ایک خاص ڈش’کھڈی کباب‘ کے ساتھ چاول بھی پکائے جاتے ہیں اور اِن چاولوں میں چلغوزوں کو باداموں کی طرح شامل کیا جاتا ہے جس سے ڈش کا ذائقہ مزید لذیز ہوجاتاہے۔اس ڈش کی ایجاد لگ بھگ 1990 کے قریب ہوئی تھی اور پاکستانی چلغوزے کو خاص اہمیت حاصل ہوئی۔یاد رہے کہ تب چلغوزہ لگ بھگ دو سوروپے کلو ہوا کرتا تھا۔مانگ میں اضافہ ہوا تو یہ چلغوزہ عرب ممالک کو ایکسپورٹ ہونے لگا اور قیمتوں کو بھی پر لگ گئے۔عرب ممالک کے ساتھ ساتھ چین میں بھی چلغوزہ مختلف ڈشز میں استعمال ہوتاہے۔چونکہ چھلکے کے بغیر چلغوزے کی مزید بھاری قیمت لگتی ہے لہذا چلغوزے کی بھاری مقدار چین کو ایکسپورٹ کی جاتی ہے جس کے شاندار دام ملتے ہیں۔چلغوزہ کاسمیٹکس میں بھی استعمال ہوتاہے اور چائنیز کمپنیاں اس کی سب سے بڑی خریدار ہیں، گویا چلغوزہ کھانے کے ساتھ ساتھ خوبصورتی میں اضافے کے بھی کام آنے لگا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چلغوزے میں وٹامن اے بی سی ڈی اور ای کی صورت میں اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہوتاہے جو جلد میں موجودخراب خلیات کو فعال کرکے جلد کو تازگی اور خوبصورتی عطا کرتاہے۔یہ کاسمیٹکس سرجری اوراروما تھراپی میں بھی استعمال کیا جاتاہے۔کچھ مزید ”دلخراش“ اطلاعات یہ ہیں کہ اس میں فائبر وافر مقدار میں پایا جاتاہے۔ یہ کولیسٹرول لیول کو برقرار رکھتاہے۔نظام ہضم کو ٹھیک رکھتاہے۔آنتوں کی صفائی کے لیے نہایت کارآمد ہے۔اس میں شامل وٹامن ”K“ خون کو جمنے نہیں دیتا اور یوں بلڈ پریشر نارمل رہتاہے۔اس میں 10 کلوریز،0.08 گرام فائبر،0.24گرام پروٹین اور0.89 گرام فیٹ پایاجاتاہے۔مزید رونے والی حقیت یہ ہے کہ اس کے استعمال سے موٹاپے کا خاتمہ ممکن ہے۔اس کے کچھ اور بھی ”بمباسٹک“ فوائد ہیں لیکن ظاہری بات ہے جو لوگ اسے خریدنے سے قاصر ہیں اُنہیں ایسی باتیں بتا کر اُن کا خون جلانے اور دماغ پگھلانے سے کیا فائدہ۔بلوچستان اور چترال کا چلغوزہ سب سے زیادہ پسند کیا جاتاہے۔چترال میں تو باقاعدہ ’چلغوزہ فارسٹ کنزرویشن کمیٹی‘ تشکیل پاچکی ہے جسے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے اور کام اس کا یہ ہے کہ یہ چلغوزے کی فصل کے حوالے سے مقامی لوگوں کوتربیت اور آگاہی دیتی ہے کہ چلغوزے کو کب اور کس وقت اتارنا چاہیے۔آپ کے علم میں ہوگا کہ اس وقت مارکیٹ میں چلغوزہ لگ بھگ آٹھ ہزار روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔میرا تو یہی مشورہ ہے کہ سو روپے کے چند دانے خرید کر اپنا نام شہیدوں میں لکھوا لیجئے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ آئندہ سردیوں میں یہ دس ہزار روپے کلو تک پہنچ جائے گا۔چلغوزوں کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب نظر بھر کر چلغوزے دیکھنے کا ریٹ بھی بیس روپے ہوا کرے گا۔اُن لوگوں کے دُکھ کااندازہ شائد کوئی نہیں لگا سکتا جو ہمت کر کے چار پانچ سو روپے میں کچھ چلغوزے خرید تو لیتے ہیں لیکن چھ سات کڑوے چلغوزے نکل آئیں تو ساری رات حساب لگاتے رہتے ہیں کہ ڈیڑھ سو کا نقصان ہوگیا۔ایسے لوگ چلغوزے کھا کر اس کے چھلکے کسی کالے شاپر میں لپیٹ کر اچھی طرح گرہ لگا کر باسکٹ میں پھینکتے ہیں مبادا کسی ڈاکو کی نظر پڑ گئی تو وہ ان کے گھر کا رخ کرلے۔اللہ بخشے میرے ماموں بھی چلغوزے بہت شوق سے کھاتے تھے لیکن تب اکثر لوگ اسے چلغوزے کی بجائے ”نیزہ“ کہا کرتے تھے۔اب یہ واقعی نیزے بن چکے ہیں اور گمان گذرتا ہے کہ اِن کی طرف بلا ارادہ ہاتھ بھی بڑھا تو سینے میں پیوست ہوجائیں گے۔حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ڈرائی فروٹ کی دوکان پر اگر کوئی چلغوزے خرید رہا ہو تو ریوڑیاں خریدنے والے لوگ ایک دوسرے کو کہنیاں مار کر کہہ رہے ہوتے ہیں ’سب حرام کا مال ہے‘۔سوشل میڈیا کا آزمودہ نسخہ ہے کہ جس چیز کی قیمت زیادہ ہوجائے اسے خریدنا ترک کردیا جائے تو وہ سستی ہوجاتی ہے۔پتا نہیں یہ فارمولاچلغوزوں پر کیوں نہیں چلتا۔آپ یقین نہیں کریں گے لیکن میرا ایک خوش قسمت دوست سرفراز چلغوزوں کی اس ہوش رُبا قیمت کے باوجود ہر سردیوں میں مفت چلغوزے کھاتا پھرتا ہے۔ اس کا طریقہ واردات یہ ہے کہ بہترین لباس پہن کرکسی ڈرائی فروٹ کی دوکان پر جاتا ہے اور چلغوزوں والی سائڈ پر جاکر نہایت سنجیدگی سے دوکاندار سے پوچھتا ہے”دو کلو چلغوزے چاہئیں لیکن پہلے سچ سچ بتاؤ مال تازہ ہے یا پرانا۔“ دوکاندار کی باچھیں کھل جاتی ہیں کہ بالآخر ”سرفراز مرچنٹ“ آگیا۔ وہ قسمیں کھا کر یقین دلاتا ہے کہ ابھی دو دن پہلے ہی تازہ مال منگوایا ہے، اور اِسی دوران چند دانے بطور ثبوت چکھنے کے لیے بھی دیتا ہے۔ میرا دوست اطمینان سے دس بارہ چلغوزے کھا کرمنہ بنااُن کی کوالٹی پر عدم اعتماد ظاہر کرتا ہے اور پندرہ روپے کی مونگ پھلی خرید کر نکل جاتاہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *