دو ٹکے کی حقیقت۔۔۔رمشا تبسم

پاکستان میں اتنے ڈرامے ٹی۔وی کی زینت نہیں بنتے جتنے ڈ رامے عوام ڈرامہ دیکھ کر کرتی نظر آتی ہے۔اے۔آر۔وائی کے ڈرامہ سیریل “میرے پاس تم ہو” کا دو ٹکے والا ڈائیلاگ لے کر ٹکے کی حیثیت کافی حد تک بڑھا دی گئی ہے۔اس دو ٹکے پر بات کرنے سے پہلے ڈرامے کی اب تک کہانی کا مختصراً حال بیان کرنا انتہائی ضروری ہے۔اکثریت نے صرف دو ٹکے والا ڈائیلاگ سنا اور ٹکے کو کم قیمت کرنسی سمجھ کر سیخ پا ہو گئے۔ڈرامے کے اس ڈائیلاگ سے بھی مسئلہ یہ نہیں تھا کہ عورت کی قیمت لگی بلکہ عوام کی اکثریت کو مسئلہ صرف کم قیمت لگنے کا تھا۔جس پر اس تحریر میں بعد میں بات کی جائے گی۔

ڈرامے کی کہانی تین مرکزی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دانش, مہوش اور شہوار۔دانش اور مہوش  خوبصورت رشتہ ازدواج میں منسلک تھے۔دانش کے لئے کم تنخواہ تنگ دستی اور مفلسی کی زندگی صرف اس لئے تکلیف دہ نہیں کیونکہ اس کے پاس  مہوش ہے۔مگر مہوش کے لئے دانش کا ہونا کافی نہیں۔اس کے لئے سب کچھ پیسہ ہے۔وہ اعلی قسم کی لاکھوں کی چیز نہ لینے کی حیثیت نہ ہوتے ہوئے ہزاروں روپے کی معیاری چیز لینے پر بھی رضامند نہیں ہوتی۔دانش سرکاری ملازم ہے جو تقریبا ًچالیس پچاس ہزار روپے کماتا ہے۔مگر مہوش اپنے بچے کو مہنگے  سکول میں داخل کروانے کی حیثیت نہ ہوتے ہوئے اس کو کسی قسم کے سرکاری یا کم مہنگے مگر معیاری  سکول میں داخل کروانے پر بھی رضامند نہیں۔مہوش کے نزدیک اسکا شوہر بزدل اور ڈرپوک صرف اس لئے ہے کیونکہ وہ رشوت نہیں لیتا اور حرام کمائی سے اسکی ہر ضرورت پوری نہیں کرتا۔رشوت لینے پر اکسانا اور بار بار اپنی خواہشات پوری نہ ہونے پر مہوش کا منہ بنانا دانش کو پریشان کرتا ہے اور بالآخر وہ رشوت لینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اپنی بیوی کو مہنگاسونےکا سیٹ خرید کر دے سکے۔شروع کی اقساط میں دانش نے لاکھوں روپے کی رشوت لے کر مہوش کو سیٹ بھی دیا اور کپڑوں کے پیسے بھی مگر بچے کو  سکول داخل کروانے کا خیال مہوش کو نہ آیا، لہذا صرف عیاشی میں پیسے ضائع کرنے پر دھیان دیا۔اور بچہ اَن پڑھ رکھا۔ شہوار سے تعلق استوار کرنا سراسر مہوش کی کوشش رہی۔دانش اسکو منع کرتا رہا مگر مہوش کی بار بار کی لڑائی اور تنگ نظری کا طعنہ دانش کو مہوش کی ہر بات ماننے پر مجبور کر دیتا ہے۔حتی کہ مہوش نے خود کو شہوار کے سامنے پیش کردیا۔شکاری شکار کرنے کے لئے نہ صرف نظروں بلکہ خوبصورت الفاظوں اور دولت کا بھی بخوبی استعمال کرتا ہے اور بالآخر شکار خود کو بناوٹی الفاظوں اور دولت کی ہوس میں شکار ہونے سے روک نہیں سکا۔وقتا فوقتا دانش محبت سے اور بے بسی سے مہوش کو سمجھاتا بھی رہا اپنے خوف کا اظہار بھی کرتا رہا مگر اس نے مہوش پر سختی کی نہ ظلم و ستم، نہ زبردستی۔بالآخر مہوش شوہر سے چھپ کے ایک غیر مرد کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں وقت گزار کر آ گئی  اور واپسی پر پھر ڈٹ کر شوہر کے سامنے یوں کھڑی ہو گئی  کہ اس پر الزام تک نہ آئے۔یہاں بھی دانش نے کہا تم سے غلطی ہوئی ضرور ہے مگر میں غلطی کہوں گا نہیں تم اب شہوار کے ساتھ کام نہیں کرو گی مگر مہوش بضد رہی او ر شوہر سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔مہوش کو منانے کے لئے ہر جتن کر لینے کے بعد دانش نے بالآخر نوکری کرنے کی اجاذت دے دی مگر بشرطیکہ مہوش شہوار کے پاس نوکری نہیں کرے گی کہیں اور کر لے مگر مہوش کو نوکری سے زیادہ دلچسپی شہوار میں تھی۔ایسے میں شہوار دانش کو مہوش کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں گزارے وقت کی داستان سناتا ہے تصاویر دکھاتا ہے۔یہ وہ وقت تھا جب دانش کا بھروسہ مکمل ٹوٹ گیا۔دانش کی محبت اس سے چھین لی گئی۔وہ بے بس ہو کر بالآخر مہوش کو گالی دیئے بغیر، لعن طعن کیے بغیر اس پر تشدد کیے  بغیر اس کو غیرت کے نام پر قتل کیے بغیر اجازت دیتا ہے کہ وہ جانا چاہتی ہے تو جا سکتی ہے مگر صرف دن کے اجالے میں , رات کے اندھیرے میں نہیں۔مگر مہوش جو کہ رات کی کالک سے زیادہ کالک اپنے دامن اور کردار پر مل چکی تھی اسے رات کی اب تاریکی یا دن کے اجالے سے خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔دانش کے نزدیک جس سے محبت کی جائے اسکی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور شہوار کے قریب جس سے محبت ہو درحقیقت اسی کی قیمت ہوتی ہے۔ دانش کے نزدیک شہوار نے مہوش کی قیمت لگا کر اسکو گھر کی چاردیواری سے بازار کی زینت بنا دیا۔اور قیمت بیشک بازاری چیزوں کی ہی ہوتی ہے جسکی شروعات شہوار نے کی۔ اور اپنی پچاس ملین قیمت سن کر بھی مہوش کو نہ شرم آئی اور نہ ہی شکاری کا جال بُننا سمجھ آیا۔ایسے میں ہر صورت میں رات کی تاریکی میں بوائے فرینڈ کے ساتھ جانے کی ضد رکھنے والی “مخصوص عورت” مہوش کو سابقہ شوہر اگر دو ٹکے کی کہہ بھی دے تو کیا حرج ہے؟یہاں مخصوص کا لفظ اس لئے استعمال ہوا کیونکہ اس دو ٹکے کا اشارہ ایک مخصوص کردار رکھنے اور نبھانے والی عورت تھی نا کہ ہر عام و خاص عورت۔

دو ٹکے کا ڈائیلاگ سن کر اسکو ایک خاص عورت سے الگ کر کے ہر خاص و عام عورت پر بحلی کی طرح گرانے میں نا صرف سوشل میڈیا کے  نام نہاد دانشوروں نے کردار ادا کیا بلکہ اسی صف میں ماہر نفسیات اور میڈیا انڈسٹری کی کئی  عظیم ہستیاں بھی شامل رہیں۔

ماہرنفسیات کے مطابق دانش جیسے کردار پُرتشدد سوچ رکھتے ہیں ان کے ساتھ زندگی کی گھٹن بڑھتی ہے۔یہ لوگ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔مگر ڈرامہ میں شہوار کے آنے سے چند لمحے پہلے تک مہوش اسی محبت میں خوش تھی۔اپنی زندگی سے غیر مطمئن ہونے کی وجہ صرف دولت تھی مگر دانش کی محبت اسکی زندگی کو حسین کردیتی تھی۔اور شہوار کی دولت تک رسائی ملتے ہی نہ محبت کا بھرم رہا نہ ہی مامتا کا احساس۔مہوش کا ایک مخصوص کردار تھا جس کو دو ٹکے کا کہا گیا۔جس میں نہ صرف مہوش نامی عورت کا بھٹکنا دکھایا گیا اور نہ ہی دانش نامی مرد کی بے پناہ محبت۔اور نہ ہی صرف عورت کو غلط طریقے سے دکھایا گیا ہے۔بلکہ یہ ایک متوازن کہانی ہے۔جہاں ایک محبت کرنے والا مرد, ایک شکاری مرد اور ایک خود شکار ہونے کے لئے خود کو آسانی سے پیش کرنے والی عورت ہے۔

محبت کرنے والا ایک شوہر ہے جو یہ جان کر بھی بیوی ایک غیر مرد کے ساتھ دوسرے شہر بغیر اجازت گئی  تھی ،اس پر الزام نہیں دیتا، نہ مارتا ہے۔اور ہر صورت وقتا فوقتا بیوی کو آگاہ بھی کرتا ہے ۔اشارہ بھی کرتا ہے کہ وہ بھٹک رہی ہے۔سمجھاتا بھی ہے۔درگزر بھی کرتا ہے اور غلطی معاف بھی کرتا ہے۔ ۔دوسری طرف ایک شہوار نامی مرد جو عورت کو بھٹکا رہا ہے۔جو شیطان صفت ہے۔جو دولت سے عورت کی قیمت لگا رہا ہے۔جو عورت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے جو عورت کو برباد کر رہا ہے۔

ایسے میں ایک اچھے اور بُرے مرد کے درمیان ایک عورت ہے جو بُرے مرد کو چُن چکی ہے۔جو گھر کی چاردیواری سے فرار چاہتی ہے۔اب اس پر عورت کارڈ استعمال کرنے والے لوگوں نے ان کرداروں کو بھول کر دو ٹکے کی اصطلاح ہر عورت پر لاگو کر دی اور کچھ “مدر سری” خواتین نے تو طے ہی کر لیا ہے کہ دو ٹکے کا انہی کو کہا گیا ہے۔

کچھ میڈیا انڈسٹری کے لیجنڈ جو ٹی۔وی پر بیٹھ کر شو میں ان خواتین کو بلا کر جن کی طلاق ہو چکی ہو ،ان کی طلاق کی وجوہات پوچھتی ہیں ریٹنگ حاصل کرتی ہیں۔اور لوگوں کو پیغام دیتی ہیں کہ ہر صورت طلاق ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ لہذا ان میڈیا انڈسٹری کی خواتین کی طرح ہر عورت ہر صورت طلاق لے کر آگے بڑھیں۔ اسی طرح ایک لیجنڈ کا کہنا ہے کہ”دو مردوں نے آپس میں مہوش کی قیمت طے کر لی اور پھر اسے دو ٹکے کی کہہ دیا۔یعنی عورت کی اپنی کوئی مرضی ہی نہیں ۔واہ رے پدر شاہی ذہن اور سوچ”۔یہاں مدرسری کا جھنڈا ہر صورت بلند رکھنے والوں نے کہانی کو سمجھے اور دیکھے بغیر پدرسری پر ملبہ ڈالنا شروع کر دیا۔جبکہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ “مہوش ” ہر صورت رہائی چاہتی تھی خواہ پچاس ملین سے ملتی یا دو ٹکے سے۔

ایک طوفان دو ٹکے پر برپا کردیا گیا۔اکثر لوگ ڈرامہ کی مکمل کہانی تک نہیں جانتے مگر ان کو بس اعتراض دو ٹکے پر ہے کہ ایک عورت کو دو ٹکے کی کیوں کہا گیا۔؟ پچاس ملین تک کیوں نہ رہنے دیا۔۔اگر دانش پچاس ملین لے کر مہوش کو جانے دیتا تو شاید اتنا مسئلہ نہ ہوتا اس صورت میں شہوار قابل تحسین مرد ہوتا کہ محبت خریدنے کے لئے محبوبہ کی قیمت اتنی زیادہ ادا کی۔مگر اگر دانش نے بغیر رقم لئے, بغیر تشدد کیے, بغیر قتل کیے  مہوش کو طلاق دے کر رخصت کر دیا تو وہ ایک کم ظرف اور گھٹیا سوچ کا مرد ثابت کر دیا گیا۔

مہوش کا کردار ایک مخصوص کردار ہے۔جو کہ ہر عورت کا کردار نہیں۔ میرے خیال میں ڈرامے بازیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ ڈرامے کو ڈرامہ نہ رہنے دیا اور کردار کو خود پر فرض کر کے دو ٹکے کا ہونا محسوس کیا جانے لگا۔درحقیقت ہمارےمعاشرے میں عورت کا کوئی منفی کردار قبول کیا ہی نہیں جاسکتا۔کیونکہ عورت کا منفی کردار ماننا یا اسکو تسلیم کرنا عورت کارڈ کھیلنے والوں کا کاروبار بند کروا سکتا ہے۔مہوش کا کردار ایک حقیقت ہے۔معاشرے میں جہاں شہوار جیسے شیطان صفت مرد موجود ہیں وہیں مہوش جیسی لالچی خواتین بھی موجود ہیں جو پرسکون ازدواجی ذندگی اور بچوں کو دو ٹکے کا سمجھ کر چھوڑ جاتی ہے اور یہی دوٹکے سے جب انکا سامنا ہوتا ہے تو مظلومیت کا رونا رو کر معصومیت کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے عورت کے اعلی مقام پر تخت نشین ہونے کے لئے پدرسری معاشرکن کے مظالم کا پرچار شروع کر دیتی ہیں۔

موجودہ صورت حال میں درحقیقت مسئلہ عورت کی قیمت لگانے سے نہیں بلکہ کم قیمت لگانے کا ہی نظر آیا ۔لہذا ان مخصوص کرداروں کی اگر قیمت زیادہ لگا دی جائے تو کوئی اُف تک نہیں کرے گا۔لہذا خلیل الرحمن قمر سے درخواست ہے دو ٹکے والا سین دوبارہ بنا دیں اور اس بار ڈائیلاگ ڈال دیں
“شہوار صاحب یہاں بھاؤ کرتے ہوئے آپ نے مجھے حیران کر دیا۔اس سو ملین عورت کے لئے آپ مجھے صرف پچاس ملین دے رہے تھے”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دو ٹکے کی حقیقت۔۔۔رمشا تبسم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    نہایت ہی شائستگی سے آپ نے جو دو ٹکے کی وضاحت کی ۔۔۔ وہ قابل ستائش ہے رمشا جی !۔۔۔۔۔۔۔
    واہ کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ بلے بلے
    I mean . boom . boom
    اللہ تعالی آپ کے قلم کو سچائی کی روشنائی اسی طرح عطا کرتا رہے۔۔۔ آمین ثم آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *