فیمینزم کیا ہے۔۔فرید مینگل/قسط2

قسط 1: فیمینزم کیا ہے۔۔فرید مینگل

مادر سری نظام اور اس کی شکست کا مختصر جاٸزہ

انسان جب تک جنگلوں میں رہ کر درختوں پر بسیرا کرتا تھا اور باقاعدہ چلنے پھرنے کی بجائے مینڈک کی طرح اچھل اچھل کر آگے بڑھتا تھا تو تب تک اسے اپنی مخالف جنس پر کوئی برتری و بالادستی حاصل نہ تھی۔ آہستہ آہستہ جب انسان نے مصیبتوں، قدرتی آفتوں اور طوفانوں سے خود کو محفوظ کرکے مشترک، اجتماعی یا پھر ٹولی کی شکل میں رہن سہن کا بندوبست کیا تو اس دوران کئی ہزار سال گزرے۔ اور اس تمام تر عرصے میں عورت کو تشکیل کردہ انسانی سماج میں انسان کی حیثیت سے بڑی اہمیت بلکہ بالادستی حاصل تھی۔

تب عورت محکوم نہ تھا، بلکہ اس دوران عورت مکمل طورپر آزاد تھی۔ اسے اپنے لیے ایک سے زائد شوہر منتخب کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ وہ قدرتی آفتوں، طوفانوں اور مصیبتوں کو مرد کے ساتھ ساتھ برابرانہ انداز میں جھیلتی بلکہ بعض اوقات کئی معاملات میں اپنے تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت سبقت لے جاتی تھی۔

اُس دور میں سلسلہ نسب مرد کی بجائے عورت سے چلتی تھی کیونکہ عورت کے اَن گنت مردوں کے ساتھ آزادانہ جنسی مباشرت کی وجہ سے کسی واحد مرد کو والد قرار دینا نا ممکن تھا۔ البتہ فطری طورپر ماں کا ہر کسی کو معلوم تھا اس لیے عورت سے سلسلہ نسب چلتا تھا۔ عورت نے آگ محفوظ کی، خوراک کی حفاظت اور اس کی تقسیم، قدیم برتن سازی، جانوروں کو پالتو بنانا اور انھیں سنبھالنا عورت ہی کے کام تھے۔ عورت اپنے قبیلے یا ٹولی کی باقاعدہ سربراہ ہوتی تھی۔ وہ فیصلے کرتی، تصفیے کرتی اور راضی نامے کرتی تھی۔ جب کسی جوڑے کی باقاعدہ شادی ہوتی تو مرد کو رخصت ہونا پڑتا تھا۔ قدیم انسانی معاشرے میں عورت کی آزادی اور بالادستی کے نظام کو مادر سری نظام کہا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں قدیم تہذیبوں کے آثار سے دریافت ہونے والی عورتوں کے مجسمے، درگا، پاروتی، نانی ماتا اور بلوچستان میں بی بی نانی وغیرہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ مادر سری (Matriarchal) نظام ہزاروں سال چلتا رہا حتٰی کہ آج سے گیارہ ہزار سال قبل مہرگڑھ کے اوّلین دور کے آثار سے بھی اسی نظام کے متعلق چیزیں دریافت ہوئیں۔

گو کہ مادرسری نظام کو زوال پذیر ہوئے اب ہزاروں برس بیت چکے مگر اس کے عناصر اب بھی انسانی سماج میں کسی نہ کسی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ جس کی اہم مثال ہم گھر جمائی داماد، جہیز وغیرہ لیں تو شاید غلط نہ ہو۔

مادر سری نظام کی خستہ حال  باقیات دنیا میں کہیں کہیں اب بھی پائی جاتی ہیں۔ چین کے یُن نان (Yunnan) اور سی چوان (Sichuan) صوبوں میں 40000 کی آبادی پر مشتمل موسو نامی لسانی گروہ خستہ حال مادر سری نظام کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ جس میں گھر کی سربراہی اور خاندانی فیصلوں کا اختیار اب بھی عورت ہی کے ہاتھ میں ہے۔

مادر سری نظام میں اُس وقت دراڑ پڑنی شروع ہوئی جب مرد نے ذرائع پیداوار پر بالادستی حاصل کرنا شروع کی۔ شکار کے آلات مرد خود بنا کر استعمال کرنے لگا۔ زراعت کےلیے جدید آلات بنائے اور انھیں خود استعمال کرنے لگا تو اس عمل سے عورت کی حیثیت گھٹ کر ثانوی ہوتی چلی گئی۔ زراعت کی وسعت سے زمین کو ذاتی و قبائلی ملکیت میں لینے کی ضرورت پیدا ہوئی تاکہ زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کر کے اسے کاشت کے قابل بناکر زراعتی پیداوار بڑھائی جا سکے۔ پیداواری آلات اور جنگی سازو سامان کا موجد ہونے کے سبب مرد ان چیزوں پر ملکیت کا دعویٰ کرنے لگا اور ان ہتھیاروں کی مدد سے دوسرے قبیلوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے انھیں بھی مردانہ ملکیت میں شمار کیا گیا۔ اس طرح مرد نے ہرچیز کو اپنی ملکیت میں لے لیا۔

دوسرے قبائل کے مال و دولت، زرخیز زمین اور چراگاہ وغیرہ پر قبضے کی ضرورت کے تحت افرادی قوت کو بنیادی اہمیت حاصل تھی اور جنگی سازوسامان پر مردانہ بالادستی کے سبب عورت کی بجاٸے مرد ہی سبقت لےگئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر یہ زمین و دولت کس لیے حاصل کی جائے۔۔۔۔۔۔؟ مرد نے پہلے ہی ہتھیار و دولت اور زمین و پیداواری آلات کو اپنے ملکیت میں لے لیا تھا، لہٰذا اس دولت کی وراثت کا حق دار بھی خود مرد ہی قرار پایا۔ اور اس کے لیے یک زوجگی کا رواج عام ہوا تاکہ حاصل شدہ دولت کو کوئی وارث مل سکے۔ باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ انسان یعنی عورت کو بھی ذاتی ملکیت سمجھا جانے لگا اور مرد عورت کا بھی وارث و مالک قرار پایا۔ ہماری عورتیں، ننگ و ناموس عزت و غیرت وغیرہ جیسے سارے الفاظ عورت کے مردانہ ملکیت ہونے کےلیے استعمال کیے گئے جہاں عورت کا اپنا کوئی وجود نہیں۔ عورت جو بھی تھی مرد کی ماں، بیوی، بہن، بہو، بیٹی، عزت ننگ وغیرہ تھی۔

اینگلز اپنی شہرہ آفاق کتاب ”خاندان، ذاتی ملیکت اور ریاست کا آغاز“ میں یک زوجگی کے متعلق رقم طراز ہیں:

”یک زوجگی خاندان کی وہ پہلی شکل تھی جس کی بنیاد قدرتی نہیں بلکہ اقتصادی حالات پر تھی، اور یوں خاندان ایک اقتصادی اکائی بن گیا۔ یک زوجگی کے ساتھ ہی شادی شدہ یا ملکیت شدہ عورت کا دوسرے مرد سے تعلق رکھنا ناجائز اور گناہ قرار پایا۔ اس کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ بلاشبہ یک زوجگی سماجی تاریخ میں ایک ترقی پسند تبدیلی کے طورپر سامنے آئی۔ خود عورتیں بھی اس کی حامی تھیں کیونکہ اس سے انفرادی محبت کا تصور پیدا ہوا۔ لیکن مرد کے اقتصادی مصلحتوں نے اس انفرادی محبت کو پھلنے پھولنے نہ دیا۔ نجی ملکیت کے ادارے کو محفوظ رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کی خاطر شادیاں مصلحتوں اور مفادات کی نذر ہونے لگیں۔ ایسی شادیوں کا مقصد محض یہی رہ گیا تھا کہ کسی طرح سے جائیداد میں اضافہ کیا جائے اور خاندانی مراعات کا تحفظ کیا جائے“

مادر سری نظام قدیم اشتراکی نظام تھا۔ جس میں استحصال نہیں تھا بلکہ سماجی آمدنی اور اس کے خرچ کرنے کا طریقہ کار مشترکہ تھا۔ لیکن نجی ملکیت کے تصور اور وجود نے زیادہ سے زیادہ دولت کی کمائی اور حرص و لالچ کو فروغ دیا۔ طاقتور کمزور پر غلبہ حاصل کرنے لگا۔ اس طرح طبقاتی سماج وجود میں آگیا۔ طاقتور ہر وقت کمزور پر یلغار کرکے اسے نیست و نابود کرنے لگا۔

مغلوب قبیلے کے مرد افراد کو لشکر بڑھانے کی خاطر قبیلے میں شامل کردیا جاتا جب کہ عورتوں کو ملکیت اور مال غنیمت کے بطور تحویل میں لے کر لونڈی اور باندی بنایا جاتا تھا۔ اس استحصال کو مزید وسعت مذہبی ادارے کے وجود اور اس پر مرد کے غلبے نے دی۔ عورت کو گناہ اور بدی کا باقاعدہ سبب قرار دیا گیا۔ ہندو مذھب میں ”ستی“ کا رواج بھی اس استحصال کا تسلسل تھا، جب خاوند کی فوتگی کے بعد بیوہ کو زندہ زندہ شوہر کی چتا میں پھینکا جانے لگا۔ مسیحیت میں عورت کو ڈائن قرار دے کر اس سے دوری اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسیحی راہب عورت سے نفرت اور اسے ناپاک قرار دے کر اس سے دور رہنے کے لیے شادی سے انکاری رہے اور عمر بھر خانقاہوں میں زندگی گزارنے کو فوقیت دی۔

الغرض مادرسری نظام کے اختتام اور عورت کو ذاتی ملکیت تصور کرنے کے بعد سے لے کر اب تک عورت کا استحصال جاری و ساری ہے۔ مایہ ناز فلاسفر کارل مارکس مادر سری نظام کی شکست پر اس طرح رقم طراز ہیں:

”مادری حق کا خاتمہ عورتوں کی عالمی تاریخی شکست تھی۔ مرد نے گھر کے اندر بھی سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں مجتمع کر لیے۔ عورت اپنی افسری سے گرگئی، اس کے ہاتھ پاؤں بندھ گئے۔ وہ مردوں کے سہولت کی لونڈی بنادی گئی اور محض بچے پیدا کرنے کا وسیلہ سمجھی جانے لگی۔“

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *