شہاب الدین شاہجہاں۔۔مہر ساجد شاد

شہاب الدین شاہجہاں (شہزادہ خرم) اپنے والد نورالدین جہانگیر کی وفات کے بعد 6 فروری 1629ء کو تخت نشین ہوا۔ شاہجہاں لاہور میں راجپوت مہارانی مانمتی المعروف بلقیس مکانی کے بطن سے پیدا ہوا، اسکی بہترین تعلیم و تربیت کی گئی اور شاہجہاں لقب کیساتھ پندرہ سال کی عمر میں پانچ ہزار سوار کا منصب دیا گیا۔

اسکی شخصیت کی اہم بات یہ تھی کہ اسے شراب سے کوئی رغبت نہ تھی ،اس کی زندگی کا جنسی پہلو بھی مضبوط تھا۔ بیس سال کی عمر میں اسکی شادی نورجہاں کے بھائی آصف خاں کی بیٹی سے ہوئی، اُن دونوں بہن بھائیوں کی سرپرستی سے اسے میواڑ اور دکن کہ مہمات کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ لیکن پھر نورجہاں نے اپنے پہلے خاوند سے اپنی بیٹی کی شادی شہزادہ شہریار سے کر دی اور اسے تخت نشین کرنے کیلئے پوری قوت لگا دی، شہنشاہ جہانگیر کی وفات کے وقت شہریار لاہور میں تھا اس نے نورجہاں کی پشت پناہی سے بادشاہت کا اعلان کر دیا ،وہاں خزانوں اور وسائل پر قبضہ کر لیا۔ ادھر آصف خاں نے شاہجہاں کے لاہور پہنچنے تک وقت حاصل کرنے کیلئے چال چلی اور خسرو کے بیٹے شہزادہ بخش عرف بولا کی بادشاہت کا اعلان کر دیا، وہ بھمبر سے سلامی لیتا ہوا روانہ ہوا اور شاہی فوج سے مقابلہ میں گرفتار ہو کر اندھا کر دیا گیا۔ شاہجہاں نے لاہور پہنچ کر بادشاہت کا اعلان کر دیا اور شہریار، دلاور بخش اسکے بھائی گرشاپ اور دانیال کے  بیٹوں تیمور اور ہوشنگ سمیت جنہوں نے شہریار کی حمایت کی، تمام کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یمن الدولہ آصف خاں کو قیمتی تحائف خلعت کیساتھ اہم ترین مرتبہ حاصل ہو گیا۔

شاہجہاں نے اپنا دربار لاہور منعقد کیا اور تمام خلاف شرح احکام منسوخ کر دئیے، اس وقت رائج شمسی کیلنڈر جسے لوگ بدعت خیال کرتے تھے اسے بدل کر ہجری کیلنڈر رائج کیا اور سرکاری دستاویزات پر ہجری تاریخ لکھی جانے لگی۔ بادشاہ کو سجدہ کرنے کی رسم کو خلاف اسلام قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔ شاہجہاں نے 1627ء میں ججھر سنگھ بندھیلہ اور 1628ء میں خان جہاں لودھی کی بغاوت کا خاتمہ کیا۔ 1631ء میں پرتگیزیوں کے خلاف جنگ کی، 1633ء میں احمد نگر فتح کیا اور دکن سے باغیوں کا خاتمہ کیا۔ قدیم راجپوتوں کے شاہی خاندان سے مرہٹہ سردار شاہ جی بھونسلہ نے بیجاپور کی حمایت سے اعلان جنگ کر دیا، طویل جنگ کے بعد بیجاپور کے سلطان سے معاہدہ ہوا کہ وہ شاہ جی بھونسلہ اور دیگر مرہٹوں کی امداد نہ کرے گا۔ یہاں اورنگزیب کو اٹھارہ سال کی عمر میں دکن میں نائب السلطنت مقرر کیا۔

شاہجہاں کا دور شان و شوکت اور خوشحالی کا دور تھا، یہ امن اور سکون کا دور تھا، راستوں پر حفاظت کا بہترین انتظام ہونے کی وجہ سے سفر بغیر چوری و ڈاکہ کے نہایت آسان تھا۔ لاہور کی آب و تاب ہی جدا تھی، اس دور میں لاہور میں شالامار باغ تعمیر ہوا، جہانگیر کا مقبرہ، آصف خاں کا مقبرہ، نیو لکھا پیولین، دیوان خاص دیوان عام شاہی قلعہ لاہور میں شیش محل کی تعمیر ممتاز محل کیلئے کروائی لیکن اس کو دیکھنا ممتاز محل کی قسمت میں نہ تھا، وہ رنگ آباد میں وفات پا گئی تو اس تعلیم یافتہ حسین و جمیل خاتون ارجمند بانو نورمحل کی محبت میں اسکی قبر پر عظیم یادگار اور عالمی عجوبہ تاج محل آگرہ بنوایا۔

اسکے دور کی یادگار عمارات میں موتی مسجد آگرہ، لال قلعہ دہلی، قلعہ آگرہ، جامع مسجد دہلی، شاہجہانی باغات، ٹھٹھہ کی عظیم جامع مسجد جس میں بغیر لاوڈ سپیکر کی  آواز ہر جگہ پہنچنے کا انتظام ہے۔ اسکے علاوہ بہت بڑی تعداد میں قلعے، مساجد، سرائیں، اور مفت علاج کیلئے ہسپتال تعمیر کروائے۔ شاہجہاں فن تعمیر کی سائنس سے کماحقہ واقف تھا، وہ تعمیرات کا ہر نقشہ بغور دیکھتا، ماہرین فن سے بغیر تنقید و مباحثہ تعمیر کا حکم نہ دیتا تھا۔ سفید سنگ مرمر، لال پتھر کا بہت استعمال ہوا سجاوٹ پر خصوصی توجہ دی گئی اس کیلئے رنگ دار ٹائیلیں اور سونے چاندی ہیرے موتیوں کا استعمال بھی کیا گیا۔ عمارتوں کو وسیع اور مضبوط بنایا گیا۔ تخت طاؤس اسکی شان و شوکت آب وتاب کا عظیم نشان تھا۔

شاہجہان نے تیس سال کا ایک شاندار دور گزارا لیکن اسکا اختتام اتنا ہی افسوسناک تھا، شاہجہاں کے چار بیٹے تھے داراشکوہ، شجاع، اورنگزیب، مراد۔ داراشکوہ جسے جانشین مقرر کیا گیا وہ تصوف کی طرف مائل تھامضبوط کردار کا تھا، اوسط درجے کا جرنیل اور کمزور حاکم تھا۔ دوسرا بیٹا شجاع نہایت بہادر اور ذہین تھا لیکن عیش وعشرت کا دلدادہ اور شراب نوش تھا۔ تیسرا بیٹا اورنگزیب لائق بہادر اور قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال تھا، صوم و صلوۂ کا پابند اور سادہ زندگی گزارتا تھا۔ چوتھا بیٹا مراد نااہل حاکم اور کمزور جرنیل تھا جو اپنے راز نہیں رکھ سکتا تھا، عیش وعشرت کا دلدادہ تھا۔

شاہجہاں کو تصوف سے گہری دلچسپی تھی۔ حضرت میاں میر کے بڑے معتقد تھے۔ ایک دفعہ فرزندِ داراشکوہ سخت بیمار ہوا۔چار ماہ طبیب علاج کرتے رہے پر صحت یاب نہ ہونے پر فکر مند شاہجہاں، بیٹے کو لے کر میاں میر کے حضور پیش ہوئے اور بیٹے کی تندرستی کے لیے دعا کی عرض پیش کی میاں میر نے مٹی کا پیالہ، جس میں خود پانی پیا کرتے تھے، پانی سے بھر کر اس پر دعا پڑھی یہ پانی پینے سے داراشکوہ صحت یاب ہو گیا۔

جب شاہجہاں 1657ء میں معدے کی خرابی سے شدید بیمار ہو کر بستر سے جا لگا، سلطنت میں وفات کی افواہ بھی پھیل گئی اس مایوس کن صورتحال میں شاہجہاں نے داراشکوہ کو ولی عہد مقرر کر کے وصیت بھی لکھوا دی، دوسرے شہزادوں کو خبر پہنچی تو سب نے تخت نشینی کیلئے دوڑ دھوپ شروع کردی۔ مراد نے گجرات میں بادشاہت کا اعلان کر کے داراشکوہ کی حمایتی اپنی بہن کی جاگیر سورت کی بندرگاہ پر حملہ کردیا۔ اورنگزیب نے مراد کو اپنے ساتھ ملایا کہ اکیلے تمہیں کچھ نہیں ملے گا، سلطنت حاصل کر کے شمالی علاقے مراد اور جنوبی علاقے اورنگزیب کو ملنے کا معاہدہ طے ہوا۔ ادھر شجاع نے بنگال میں بادشاہت کا اعلان کر دیا اور بہار پر قابض ہو گیا۔ داراشکوہ نے اپنے بیٹے سلیمان شکوہ کو راجہ جے سنگھ کی فوجی امداد کیساتھ بھیجا، شجاع کو شکست ہوئی اور وہ بنگال واپس چلا گیا۔ دوسری طرف اورنگزیب اور مراد کو روکنے کیلئے داراشکوہ نے سردار جسونت سنگھ اور قاسم خان کو مقابلے کیلئے بھیجا، دھرمٹ کے مقام پر اپریل 1658ء میں دونوں فوجوں کا تصادم ہوا مراد اور اورنگزیب کو فتح ہوئی۔ داراشکوہ نے اپنے بیٹے سلیمان شکوہ کو بہار سے کمک کیساتھ بلایا مگر وہ بروقت نہ پہنچ سکا۔ شاہجہاں اس وقت آگرہ سے دہلی روانہ ہو چکا تھا جب اسے دھرمٹ جنگ کی خبر ملی، یہی وہ وقت تھا جب شاہجہاں اپنے بیٹوں میں صلح کروا دیتا تو تاریخ کچھ اور ہوتی لیکن ایسا نہ ہوا۔ ساموگڑھ کے مقام پر فیصلہ کن جنگ ہوئی، داراشکوہ کو شکست ہوگئی لیکن وہ فرار ہوگیا۔ اورنگزیب نے شہزادہ محمد کو بھیج کر دہلی قلعہ پر قبضہ کر لیا اور شاہجہاں کو حرم میں نظربند کر دیا، اس نے داراشکوہ کو خط لکھا اور اسے امداد کی یقین دہانی کروائی اس خط کی خبر اورنگزیب کو مل گئی اور نظربندی قید میں تبدیل ہوگئی۔

اورنگزیب اب کھیل مکمل کرنا چاہتا تھا اس نے مراد کی ایک ضیافت کی اور اسے شراب پلا کر گرفتار کر لیا اور گولیار کے قلعے میں قید رکھا اسے جہاں آراء بیگم کے دیوان “میر علی” کے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔ داراشکوہ نے اورنگزیب کی تاجپوشی کے بعد پھر مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہو کر ملک جیون کے پاس پناہ گزیں ہوا جس نے انعام کے لالچ میں اسے اورنگزیب کے حوالے کر دیا۔ اسے دہلی کی گلیوں میں پھرا کر رسوا کیا گیا اور پھر علماء سے فتوی حاصل کر کے اورنگزیب نے قتل کروا دیا۔ اسکے بیٹے کو بھی گرفتار کر کے گوالیار قلعے میں قید رکھا اور یہیں اسے قتل کردیا گیا۔ جنوری 1659ء کو شجاع کی فوجوں کو شکست دے کر اورنگزیب نے شجاع کا بھی خاتمہ کر دیا اور سلطنت مغلیہ کا تنہا حکمران بن گیا۔

شاہجہاں قید ہونے کے آٹھ سال بعد تک زندہ رہا اسے شاہی قلعہ آگرہ میں نظربند رکھا۔ یہ قید تنہائی اس نے صلوۃ  و تسبیح اور ذکر و فکر میں گزارے۔ شاہجہاں نے اورنگزیب کو ہمیشہ غاصب کہا جو بغیر حق کے تخت پر قابض ہوا۔ ایک مرتبہ اورنگزیب نے دوران قید اپنے باپ سے اسکی خواہش پوچھی تو شاہجہاں نے کہا چند بچے روزانہ اس کے پاس بھیج دئیے جائیں جنہیں وہ قرآن پاک کی تعلیم دے کر اپنا دل بہلا سکے، اورنگزیب نے جواب دیا “ابھی تک حکمرانی کا خمار دماغ سے نہیں گیا، رعایا پر حکمرانی نہیں کرسکتا تو بچوں پر علم کے بہانے حکمرانی کا ارادہ رکھتا ہے”۔ یوں اسکی یہ خواہش بھی رد کر دی۔ جنوری 1666ء میں شاہجہاں پھر بیمار ہوا اسکے بارے میں مختلف آراء ہیں کہا جاتا ہے کہ اسے زہر دے کر مارا گیا۔ بالآخر 22فروری 1666ء کو 74سال کی عمر میں شاہجہاں کا انتقال ہوگیا۔ یہ شاہجہاں کی بہترین حکمرانی کا ثبوت تھا کہ انکی وفات پر سلطنت کے ہر گھر کوچہ و بازار سے لوگ غمزدہ باہر آئے، انتہائی سادگی سے انکی وصیت کے مطابق تاج محل میں دفن کیا گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *