حرمت ولادت ہوئی پامال۔۔۔فراست محمود

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال کی طرح اس سال بھی انتہائی جوش وخروش اور عقیدت سے منایا گیا مگر اس سال کی خاص بات ملک پاکستان میں عید میلاد النبی سرکاری سطح پر پہلی بار منایا گیا۔ سرکاری طور پہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط اس بات کا تعین قارئین خود کریں کیونکہ ہم لکھیں گے تو شکایت ہو گی۔

لکھاری کی شاید یہی فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خامیاں نظر انداز کر کے ہمیشہ معاشرے کی خامیوں کواجاگر کرتا ہے۔ اور معاشرہ سدھارنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے۔ کل سے میں بھی ان خامیوں کو اجاگر کرنے میں ایسا الجھا ہوں کہ سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں اور کہاں پہ ختم کروں۔ موضوع کی طرف آتا ہوں اکیسویں صدی ہے میرے خیال کے مطابق اس بات پہ بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہیے کہ میلاد منانا جائز ہے یا بدعت ہے۔

کیوں کہ ہم لوگ جو ”میلاد منانا جائز ہے“ سے ”میلاد منانا بدعت ہے“ کا طویل سفر پلک جھپکتے میں طے لیتے ہیں اس لاحاصل بحث سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ میلاد کو جائز قرار دینے والے اور میلاد کو بدعت کہنے والے ہر دو کے پاس اتنے وزنی اور بھر پور دلائل ہیں کہ دونوں قرآن مجید سے ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔ اگر بندہ دونوں کے دلائل کو عقل کی کسوٹی پہ پرکھے تو دونوں کے دلائل اتنے ڈھلمل نظر آتے ہیں کہ بندہ ہمیشہ ہوا میں معلق رہتا ہے۔ اور درست غلط کا فیصلہ کرنے سے قاصر نظر آتا ہے دونوں فریقین ہی بیک وقت درست اور غلط نظر آتے ہیں۔ اس لئے یہ بحث کبھی ختم نہیں ہونے والی کہ میلاد منانا جائز ہے یا بدعت ہے۔ اس لئے اس لاحاصل بحث سے پرہیز ہی برتی جائے تو مسلکی و معاشرتی نفرتیں کم کی جا سکتی ہیں۔

راقم کا تعلق بھی چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو میلاد کو جائز قرار دیتے ہیں اور بچپن سے انہی بحث و مباحثوں میں لگا رہا کہ ”سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی خوشیاں منا رہے ہیں“ میں بھی ہمیشہ مخالف فریق کو سنے سمجھے بغیر غلط قرار دیتا رہا ہوں اور ہمیشہ بحث جیتنے کی کوشش میں رہا ہوں۔ میرے مطابق دونوں فریقین کو ولادت مصطفی (ص) کو متنازعہ بنانے کے بجا ئے اخلاقی جرات کا مظاھرہ کرتے ہوئے ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے طریقہ کار پہ بات کرنی چاہیے اور طریقہ کار کو درست یا غلط کہنے میں قباحت بھی نہیں ہونی چا ہیے۔

عید میلاد النبی کے جلوسوں میں جو کچھ راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے مجھے بذات خود مسلمان ہونے کے ناطے ولادت منانے کے اس طریقے پہ اعتراض ہے بے شک محمد (ص) کی غلامی یا عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی ہے اور بے شک محبت رسول (ص) ہماری نجات کا ذریعہ ہے مگر خدارا عشق مصطفی (ص) کے نام پہ عشق کو اتنا رسوا نہ کیجیے کہ عشق بیچارہ منہ چھپاتا پھرے۔

بے شک آقا کی مدینہ آمد پہ بچوں اور بچیوں نے دف بجا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا تھا آپ بھی دف کے نام پہ دف ہی بجائیں نہ کہ دف کہ نام پہ ڈھول باجے اور میوزک شروع کر دیں اس عشق کی اسلام میں شاید ہی گنجائش نکلے جو عشق میں نے کل کے جلوسوں میں دیکھا۔

وٹس ایپ پہ ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ایک بابا جی پاؤں میں گھنگرو پہنے اور سبز جبہ پہن کر دھمال ڈال رہے ہیں بابا جی کی محبت اور مستی کو میں نے ہزاروں دلائل دے کے دل کو سمجھانے کی کوشش کی مگر دل ہے کہ مانتا نہیں اور بابا جی کے عمل کو نہ چاہا کر بھی غلط قرار دے رہا ہے۔

بچے بچیاں تو ان محافل اور جلوسوں میں اکٹھے جچ جاتے ہیں مگر یہاں تو لڑکے لڑکیاں مرد و عورت سب ہی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے میلاد منا رہے تھے ساتھ میں ہم لوگ یہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ”کوئی سڑدا تے سڑ جاوے۔ کوئی مردا تے مر جاوے۔ سنیاں نے گج وج کے میلاد منانڑا اے“۔

بھائی اگر اسی طرح گج وج کے میلاد مناؤ گے تو فریق مخالف تو بھلا سڑیں گے یا نہیں مگر ہم خود ہمارے دل ہمارے جسم ہماری روح بھی سڑ مر جائے گی۔ کیوں نہ ہم مسلکی اختلاف سے ہٹ کر محسن انسانیت کی پیدائش کے دن کو اتنے خوبصورت طریقے سے منائیں کہ غیر مسلم ہمارے اعمال کو دیکھ کر اسلام سے محبت کا دم بھرنے لگ جائیں۔

میرے خیال میں یہ تمام چیزیں ہیں جو مخالف فریق کا آپ کے اوپر فقرے کسنے کا موجب بنتی ہیں اس لئے آقا (ص) کی ولادت کو اتنے بیہودہ طریقے سے منانے سے باز ہی رہیں اور حرمت ولادت رسول (ص) کو پامال نہ کریں تو سب کے ایمان، اسلام اور معاشرے کی بہتری ہے۔ ویسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ محبتیں بانٹنا ہے۔ نفرتوں کو ختم کرنا ہے اور انسانیت کو پروان چڑھانا ہے۔ تو کیوں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پہ دل و جان سے عمل کر کے ایک اچھا اُمتی ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔

برقی قمقموں اور لائٹوں سے گھروں، محلوں، گلیوں اور بازاروں کو بے شک سجائیں مگر اتنا خیال رکھیں کہ ان قمقموں کی روشنی ہمارے قلوب و اذہان کو بھی منور کرے نہ کہ ہمارے دلوں کو اخلاقی قدروں کو پامال کرنے پہ مزید تاریکی کی طرف دھکیلے۔

طلع البدر علینا و اجب شکر علینا کے ترانے آج بھی دل و روح کو تسکین پہنچانے کی خاطر گائے جاسکتے ہیں مگر ایسے ترانے جن سے معاشرتی بگاڑ کا اندیشہ ہو ان سے پرہیز ہی بہتر ہے۔
(اخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے آپ تحریر سے اختلاف اعتراض اور تنقید کر سکتے ہیں کیونکہ اختلاف آپ کا جمہوری حق ہے۔ )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *