آمدِ مصطفیٰ صلوات اللہ علیہ ۔۔۔ مسکین جی

میرا ہر عقلمند بریلوی بھائی دین کے نام پر ہونے والی خرافات کو از دل و جان برا مانتا ہے اور حتی المقدور کوشش کرتا ہے کہ وہ خود بھی ان نت نئے ایجادی دھندوں سے کنارہ کش رہے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس سے دور رکھے ۔ جب ان خرافات کی تنقیص میں دیوبندیت و بریلویت ایک پلڑے میں ہیں تو سوال یہ ہے کہ اعتراض کی راہ کہاں سے نکال لی جاتی ہے؟
یہ بات بھی تسلیم شدہ بلکہ حصہ ایمانی ہے کہ حضورۖ کی آمد سے ہر مسلمان ناقابلِ بیان حد تک مسرور ہے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ حقیقت شناس انگریز مورخین نے بھی کئی پہلووں سے آمد مصطفٰی پر شادمانیوں کا قلم پھیرا ہے۔

دوسری طرف تعیینِ تاریخِ میلاد کے اختلاف کے ساتھ ساتھ نوشتہ ہائے تواریخ کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ آمدِ مصطفٰی ماہ ربیع الاول ہی میں ہوئی ہے۔ تو ان ناقابلِ انکار حقائق کا لب لباب یہی نکلتا ہے کہ خوشی سے سرشار ہر مسلم کا سینہ ہے ۔ کچھ اس خوشی کا اظہار برملا محافلِ ذکر و درودِ پاک کا انعقاد کر کے کرتے ہیں اور کچھ خدا کے حضور مخفی نجی مجلسیں سجا کر نوافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے دیوبند کے بعضے اکابر سے ایسی مجالس کا انعقاد ثابت بھی ہے۔ آپ امداد اللہ مہاجر مکی کے سوانح دیکھ لیں، ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ کے عکسی بیانات ہنوز موجود ہیں ۔
پس جب خوشی سے ہر مسلم کا سینہ لبریز ہے تو اختلاف ہائے نا معقول کی کوئی منطقی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ عقلمندی اسی میں معلوم ہوتی ہے کہ مکتبِ دیوبند بھی اپنی سالانہ محافل و مجالس کی طرح اس جشن کو اس طریق پر منائے جو ان کے ہاں درست ہے۔ کہ اس عمل سے ایک تو عشقِ رسولؐ کے نام پر مروجہ خرافات سے عام عوام محفوظ رہے گی اور دوسرے یہ کہ مکتبِ بریلویت کی طریق میں در آنے والی کوتاہیاں و کمزوریاں نہ صرف نمایاں ہوں گی بلکہ ان کے سد باب پر غور و فکر کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *