• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بابری مسجد: مسلمانوں کے ساتھ انڈیا میں وہی کیا گیا ہے جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کیا کرتا ہے۔۔۔غیور شاہ ترمذی

بابری مسجد: مسلمانوں کے ساتھ انڈیا میں وہی کیا گیا ہے جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کیا کرتا ہے۔۔۔غیور شاہ ترمذی

جب انڈین سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں دیا توراقم کی نظروں میں تاریخ کے وہ تمام اسباق گھوم گئے جو طاقت حاصل کر لینے کے نتیجے میں کمزور پر روا رکھے جاتے ہیں۔ سنہ 1492ء میں جب سپینی عرب سربراہ ابوعبداللہ مراکش کی طرف جلاوطن ہورہا تھا تو راستے میں ایک پہاڑی پر چڑھ کر اس نے قرطبہ کی جانب دیکھا اور رو دیا۔ اس پر اُس کی بہادر ماں نے کہا کہ جس سلطنت کی حفاظت تم مرد بن کر تلوار سے نہیں کرسکے اس پر عورتوں کی طرح آنسو بہانے سے کیا فائدہ۔ یاد رہے کہ سنہ 712ء میں سپین پر مسلمانوں کے قبضہ کے بعد عبدالرحمان اول نے قرطبہ کے مرکزی چرچ کو مکمل طور پر مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔ چرچ سے پہلے وہاں بت پرستوں کا بت کدہ تھا جسے قسطنطین کے عیسائیت قبول کرنے کے بعد سپین کی فتوحات کے بعد عیسائی گرجاگھر میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ سنہ 1492ء میں سپین میں مسلمانوں کی شکست کے بعد مسجد قرطبہ کو تالہ لگا دیا گیا لیکن سنہ 1950ء کے لگ بھگ یونیسکو نے اس مسجد کو عالمی ورثہ قرار دے کر منہدم ہونے سے بچا لیا۔

بات صرف سپین اور مسجد قرطبہ کی ہی نہیں بلکہ تاریخ میں ہر طاقتور نے کمزور کو زیر کرنے کے بعد یہی کیا ہے۔ 700 قبل مسیح کے قریب جب بابل کے ستارہ پرستوں کا اقتدار زوال پذیر ہورہا تھا تو ایسے میں پاسا گرد کے کلدانیوں نے کورش کی سرکردگی میں بابل کے تخت پر قبضہ کرلیا۔ فتح کے بعد ستارہ پرستوں کی تمام مرکزی سات عبادت گاہیں بابل، ار، فتان، مئے گاہ، سومتاتھ وغیرہ زرتشتی عبادت گاہوں میں تبدیل کردی گئیں۔ 700 قبل مسیح سے پہلے کے بابلیوں، کلدانیوں، سومیریوں، حمیریوں، اسیریوں کی شکستوں کی صورت میں ان کے مذاہب بھی زوال پذیر ہو جاتے اور اُن کے دیوتا بھی تبدیل ہوجاتے جبکہ عبادت گاہیں بھی فاتحین کے دیوتاؤں کی ملکیت قرار پاتیں۔ 326 قبل مسیح میں سکندراعظم نے جب ایران پر حملہ کیا تو پرسی پولیس کے ساتھ وہاں کے مرکزی زرتشتی معبد کو بھی جلا دیا گیا تھا جس میں زرتشت کی اصل کتاب اوستا یند بھی جلا دی گئی۔ بعد میں اس عبادت گاہ کو یونانی فلسفے کے سکول میں تبدیل کردیا گیا اور ساتھ میں یونانی دیوتا ”زیوس“ کی عبادت گاہ بھی بنا دی گئی۔ 560ء کے لگ بھگ یہودی حکمران زنواس نے یمن میں عیسائیوں کا قتل عام کیا اور عیسائی گرجوں کو یہودی عبادت گاہوں میں تبدیل کیا (اس واقعہ کو قرآن مجید میں گھاٹی والوں کے سبق سے یاد رکھا گیا ہے) تو رومن شہنشاہ کو اپنے حبشی وائسرائے کے ذریعے یمن میں مداخلت کرنی پڑی۔ زنواس کو برطرف کرنے اور عبادت گاہوں کو دوبارہ عیسائی عبادت گاہوں میں تبدیل کرنے کے بعد رومن فوج ابراہہہ الاشرم کو یمن کا گورنر بنانے کے بعد واپس چلی گئیں۔ ابراہہہ نے صنعا میں ایک مرکزی عیسائی عبادت گاہ بنوائی اور اسے عربوں میں عیسائیت رائج کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اس مقصد کے لئے اس نے حجاز میں واقع عربوں کی عبادت گاہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے کو قرآن مجید میں اصحاب الفیل کے نام سے یاد دلوایا گیا ہے۔ سنہ 640ء کے لگ بھگ عربوں نے شام فتح کیا تو یروشلم بھی ان کے قبضے میں چلا گیا۔ سنہ 692ء کے لگ بھگ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے عین اس جگہ پر مسجد اقصیٰ تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں یہودیوں کی مذہبی عبادت گاہ تھی۔ اس چٹان کے گرد بھی گنبد بنا دیا گیا جس پر یہودی اپنی قربانی کیا کرتے تھے۔ یہی بات اب یہودی مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرکے کہتے ہیں کہ یہاں پر پہلے ان کی عبادت گاہ تھی اس لئے مسجد اقصیٰ ان کی ہے۔ سنہ 640 ء ہی کے لگ بھگ عربوں نے دمشق فتح کیا۔ جب دمشق میں اموی خلافت بنی تو انہوں نے مرکزی چرچ کے کچھ حصے کو مسجد میں تبدیل کردیا۔ جب امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ اسی مسجد میں بیٹھا تھا جہاں پہلے چرچ تھا۔ چرچ سے پہلے بت پرستوں کے دیوتا جیوپیٹر کا مندر تھا۔ سنہ 712ء کے لگ بھگ اموی خلیفہ ولید کے دور میں دمشق کے مرکزی چرچ کو مکمل طور پرجامع دمشق میں تبدیل کردیا گیا۔ اسی طرح سنہ 1453ء میں عثمانیوں نے مشرقی رومی سلطنت کا صدر مقام قسطنطنیہ فتح کیا تو اس کا نام تبدیل کر کے اسلام بول رکھ دیا جو بعد میں بگڑ کر استنبول بن گیا۔ قسطنطنیہ کے مرکزی کیتھیڈرل چرچ کو مسجد صوفیہ میں تبدیل کردیا گیا۔ بعد میں اس مسجد میں عثمانی ترکوں کی تاج پوشی کی جاتی تھی۔

بابری مسجد کو ہندوؤں کو رام مندر کی تعمیر کے لئے دئیے جانے کے حوالہ سے ہمیں ایک بنیادی نقطہ سمجھ لینا چاہیے کہ انڈیا اس وقت سیکولرازم سے باہر نکل کر ہندو توا کی جانب گامزن ہے۔ وشوا ہندو پریشد کی کئی دہائیوں پر پھیلی مسلسل اور انتھک کوششوں کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے امسال کے پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت ہندو توا کے نعرے سے حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں نریندر سنگھ مودی کا نعرہ ہی انڈیا کو ہندو توا کے نظریہ کے تحت چلانے کا تھا۔ یہ درست ہے کہ بعض علاقوں میں (بی جے پی) نے براہ راست ہندو توا کا نعرہ لگانے کی بجائے ”میرا بھارت مہان“ کا نعرہ استعمال کیا لیکن جن علاقوں میں ہندوؤں کی واضح اکثریت تھی وہاں بی جے پی کے لیڈروں نے کھلم کھلا ہندو توا کے نعروں سے اپنی انتخابی مہم چلائی۔ ہندو توا کی نفرت انگیز مہم کا شکار واضح طور پر تو مسلمان ہی ہیں لیکن عیسائی، سکھ، بدھ اور دوسری اقلیتوں کے افراد بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں رواں سال چھ ماہ کے دوران نفرت انگیز جرائم میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ان جرائم کی شرح دگنی ہے۔ یہ کہنے میں ہر گز کوئی متامل نہیں ہے کہ بھارت میں اب بھی نفرت آمیز جرائم کوبڑا جرم نہیں سمجھا جاتا۔ صرف رواں برس 181 نفرت انگیز جرائم اس نوعیت کے ریکارڈ کئے گئے ہیں جن میں ہندوؤں کے علاوہ دوسری قومیتوں کے لوگوں کو مذہب، ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان میں درجنوں ایسے واقعات بھی تھے جن میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں معصوم افراد کی ہلاکتیں تک ہوئی ہیں۔ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف کاروائی کی اپیل کرنے والے افراد کے خلاف وزیر اعظم مودی نے غداری کا مقدمہ درج کرانے کی کی دھمکی بھی دی جس کی ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تمام انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید مذمت بھی کی۔

انڈیا میں وشوا ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی جس طریقہ کار کی پیروی کر رہی ہیں، اُسے سمجھنے کے لئے عرض ہے کہ مسلمانوں نے سپین پر سنہ 712ء سے لے کرسنہ 1492ء تک یعنی 780 سالوں تک حکومت کی مگر وہاں اب بھی سپینش یعنی ہسپانوی نسل کے کوئی مسلمان نہیں ہیں حالانکہ سپین کی زندگی کے ہر گوشہ میں اسلامی اثرات نمایاں ہیں۔ سپینی زبان میں کئی عربی الفاظ شامل ہیں۔ اس کی موسیقی میں عربی طرزیں ہیں اور اس کی تہذیب میں یورپی کی بجائے عربی کلچر نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ سپینی زبان کے اسم معرفہ میں عربی سابقے اب بھی موجود ہیں۔ سنہ 1492ء میں مسلمانوں کی آخری پلاٹون سقوط غرناطہ کے بعد فرار ہوئی تو سپین میں مسلم عقائد پر عمل کرنے والے چند ہی لوگ باقی بچ پائے تھے جو اگلے 120 سالوں کے بعد سنہ 1612ء میں ختم ہو گئے۔ یوں اسلام کا سپین سے مکمل خاتمہ ہو گیا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ جب سپین سے اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ ہو رہا تھا تو اس کے ارد گرد کی ساری مہذب دنیا پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ ترک عثمانیوں نے سنہ 1553 ء میں قسطنطنیہ (Constantinople) کو فتح کیا تو اُس وقت ان کی حکومت مغربی یورپ سے مشرقی یورپ کے جزیرہ نمابلقان تک پھیلی ہوئی تھی۔ مصر میں طاقتور مملوکی خاندان برسراقتدار تھا، جبکہ خلیج فارس کے ارد گرد کے علاقوں میں عباسی خلافت اور انڈیا میں طاقتور مغل حکمران تھے۔ ان سب طاقتور مسلمان حکومتوں کے باوجود بھی سپین سے اسلام غائب ہو گیااور ان تمام طاقتور مسلمان ریاستوں اور ان کی افواج نے سپین سے مسلمانوں اور اسلام کو بچانے کے لئے کوئی کوشش تک نہیں کی۔ (بالکل ویسے ہی بابری مسجد اور مقبوضہ کشمیر پر بھی کوئی مسلمان طاقت کچھ نہیں کر پائے گی۔ حتیٰ کی اسلام کے خود ساختہ ٹھیکیدار ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تو کشمیر کو انڈیا کا اندروانی مسئلہ قرار دے کر پاکستان کو چپ کروانے کی کوشش کی ہے)۔ سپین سے اسلام کے خاتمہ کی تاریخ اور طریقہ کار کا وشوا ہندو پریشد نے پچھلی صدی کی 1930ء اور 1940ء کی دہائی میں نہایت غور اور انہماک سے مطالعہ کیا ہے۔ وشوا ہندو پریشد نے اس پالیسی کو انڈیا پر نافذ کرنے کے لئے سٹڈی کیا تو 1980ء کی دہائی تک مسلمان راہنماؤں نے اس کا مقابلہ کرنے کی پالیسی کو سٹڈی کرنے اور اس کے ذریعہ اپنے بچاؤ کی کوششیں جاری رکھیں۔ انڈیا میں مسلمان کل آبادی کا تقریبا” 13% سے 15% تک سمجھے جاتے ہیں اور اونچی ذات کے ہندوؤں پر مشتمل بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشوا ہندو پرشد انہیں اپنے لئے سب سے بڑا درد سر سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کی تاریخ میں انڈین مسلمان اس طرح کی کوششوں سے دور ہو چکے ہیں اور انہیں ہرگز یہ معلوم نہیں کہ سپین کی طرح اُن کو ہندوستان سے غائب کر دینے کی پالیسی کیسے رائج ہے اور انہیں اس کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔ ہم مل کر کوشش کرتے ہیں کہ اس موضوع پر کچھ اہم نقاط کو زیربحث لائیں تاکہ اس معاملہ کی حساسیت کو سمجھا جا سکے۔ انڈیا کی طرح سپین میں بھی مسلمان تین طرح کی کمیونٹی میں منقسم تھے۔

(i)۔ عرب مہاجرین اور فاتحین کی اولادیں
(ii)۔ عرب والد اور سپینی ماؤں کی اولادیں
(iii)۔ ایسے عیسائی جنہوں نے اسلام قبول کر لیا

غرناطہ کے سقوط کے فورا“ بعد عرب مہاجرین اور فاتحین کی اولادوں نے اپنی جان بچاتے ہوئے تیونس اور مراکش کی طرف بے سروسامانی میں ہجرت کر لی کیونکہ اُنہیں اپنے ساتھ زادراہ لے جانے کی نہ تو اجازت تھی اور نہ ہی اتنا وقت میسر تھا۔ ان میں سے بھی اکثریت سفر کے دوران عیسائی فوجی دستوں کے حملوں میں مارے گئے۔ کچھ ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے سپین میں بسے رہنے کو ترجیح دی لیکن انڈیا کی طرح انہیں ہمیشہ اجنبی اور سپین کی تباہی کا ذمہ دار سمجھا جاتا رہا۔ دوسری اور تیسری کیٹیگریوں کے مسلمانوں نے شاہ فیردناند (King Ferdinand) کی جانب سے مکمل مذہبی آزادی دئیے جانے کے اعلان پر یقین کرتے ہوئے سپین میں رہنے کو ترجیح دی۔ (مودی سرکار نے پوری دنیا کو بھی یہی بتایا ہے کہ مسلمان اور دوسری اقلیتیں مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ سے زندگی گزارتے ہیں)۔ عیسائی لشکریوں کی جانب سے اِن مسلمانوں کی جان و مال پر کئے جانے والے حملوں کو عارضی اور وقتی جذباتیت قرار دیا گیا۔ سپین میں مسلمانوں کی جان و مال پر عیسائی لشکریوں کے یہ حملے وقتی اور عارضی نہیں تھے بلکہ یہ 50 سالوں سے بھی زیادہ دیر تک کم یا زیادہ شدت کے ساتھ مسلمانوں سے چھٹکارا پانے کے مقصد سے جاری و ساری رہے۔ اب اس صورتحال کو سنہ 1947ء کی تقسیم ہند صورتحال سے تقابل کر کے دیکھیں۔ شروع کے سالوں میں انڈیا کے مسلمان بھی مزاحمت کرتے رہے اور مقابلہ کرتے رہے۔ کئی جگہوں پر گلی، محلوں میں چھوٹی موٹی جنگیں تک چلتی رہیں لیکن آہستہ آہستہ مسلمان یہ جنگ ہارتے رہے اور اب ہر جگہ لڑائی نہیں ہوتی بلکہ ہندو توا کے نعرے لگاتا ہجوم مسلمانوں کو عوامی مقامات پر ھی گھیر لیتا ہے اور جان لیوا تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ اب صورتحال اتنی کشیدہ ہو چکی ہے کہ اگر مشتعل ہجوم کسی مسلمان کو اکیلا دیکھ کر گھیر لے تو پولیس بھی بیچ میں مداخلت نہیں کرتی اور جنونی ہندوؤں کو اُن کے اشتعال کے مطابق تشدد کر لینے کی اجازت دے دیتی ہے۔ سپین میں جب عیسائیوں کے منظم گروہ مسلمانوں کی اس طرح نسل کشی کر رہے تھے تو شاہ فیردناند (King Ferdinand) کی حکومت نے مسلمانوں کو سپین سے مار بھگانے کے لئے یہ اقدامات کئے:۔

(i)۔ عربی زبان کو حکومت اور انتظامیہ سے خارج کر دیا گیا۔
(ii)۔ مساجد سے ملحقہ سکولوں میں سائینس، تاریخ، ریاضی، فلسفہ اور ادب پڑھانے کی ممانعت کر دی گئی اور انہیں صرف مذہبی تعلیم دینے تک محدود کر دیا گیا۔
(iii)۔ تاریخ میں ردوبدل کر دیا گیا۔ مسلم دور حکومت کو وحشیانہ قرار دیا گیا۔ سپین کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار کا ذکر غائب کر دیا گیا۔
(iv)۔ مسلمانوں کے گھروں کو پولیس کی سخت نگرانی میں رکھا جانے لگا، اُن کے گھروں پر اکثر اسلحہ اکٹھا کرنے یا خفیہ میٹنگ کرنے کے الزامات لگا کر اُن پر چھاپے مارے جاتے۔
(v)۔ بچ رہے عرب النسل لوگوں کو عیسائیوں کے دشمن اور سپین کو تباہ کرنے والوں کے طور پر سمجھا جاتا۔
(vi)۔ ایسے عیسائی جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، انہیں مجبور کیا جاتا کہ وہ دوبارہ عیسائیت قبول کر لیں کیونکہ اُن کے آباؤ اجداد کو زبردستی اسلام قبول کروایا گیا تھا اور چونکہ اب ایسا کوئی حکومتی جبر باقی نہیں ہے تو انہیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر واپس پلٹ جانا چاہئے۔
(vii)۔ ایسے مسلمان جو مسلم۔عیسائی شادیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئے تھے، انہیں سرعام حرامی کہا جاتا تاوقیتکہ وہ دوبارہ عیسائیت نہ قبول کر لیں۔
(viii)۔ مسلمانوں کی مذہبی رسومات کے تحت سرانجام پانے والی شادیوں کو حکومتی و عدالتی دفاتر میں رجسٹرڈ کروانے کی شرط رکھی جاتی۔
(ix)۔ سپین میں آزمودہ ہر طریقہ کار کو انڈیا میں بھی ویسے ہی بلکہ بہتر منصوبہ بندی اور ٹائمنگ سے سر انجام دیا جا رہا ہے۔
سپین کے مسلمانوں کو مسلسل تضحیک، مذمت اور حملوں کا شکار بنا لیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے گھروں کو جلانے، اُن کی دکانوں کو لوٹنے اور اُن کی اقیصادیات کو منظم طریقہ سے تباہ کرنے کے واقعات بالکل ایسے ہی عام تھے جیسا کہ آج کل انڈیا میں ہو رہے ہیں۔ عوامی مقامات پر مسلمانوں کی اجتماعی طور پر عیسائیت قبول کرنے کی تقریبات منعقد کی جاتیں اور اُن کی خوب تشہیر کی جاتی۔ انڈیا میں بھی ہندو توا پر عمل پیرا تنظیمیں آریہ سماج، راماکرشنا مشن، وشوا ہندو پریشد وغیرہ بھی ایسی ہی تقریبات کا مستقل بنیادوں پر انعقاد کرتے ہیں اور مسلمانوں کو لالچ، دباؤ اور دیگر ترغیبات کے ذریعہ ہندو بنانے کی مہم زوروشور سے چلا رہے ہیں۔ سپین میں مسلمانوں کی پہلی دو نسلوں نے اپنے بچوں کو گھروں، مساجد میں عربی زبان سکھانے اور انہیں مذہبی تعلیم دینے جیسی مدافعانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کروایا مگر آہستہ آہستہ اُن کے اندر یہ جذبہ ختم ہوتا گیا۔ جب یہ حکم صادر ہوا کہ کہ شادیاں صرف حکومتی دفاتر میں ہی انجام پا سکتی ہیں تو مسلمانوں نے ایک کی بجائے دو دفعہ شادیوں کی رسومات سرانجام دینے کا رواج عام کر لیا۔ پہلی دفعہ شادی حکومتی دفاتر میں عیسائی طریقہ کار کے تحت انجام دی جاتی اور دوسری دفعہ نجی تقریب میں اسلامی طریقہ کار کے ذریعہ شادی کی تقریب دوبارہ منعقد کر لی جاتی۔ حکومت کی طرف سے گھروں میں ایسی نجی تقریبات پر پابندی لگنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ گھروں میں منعقد کی جانے والی اسلامی بنیادوں پر کی جانے والی شادی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس وقت کے دوران عام مسلمانوں اور مسلم لیڈر شپ میں بہت خلاء پیدا ہوتے گئے۔ متمول گھرانوں کے مسلمان اپنا مذہب اور دین بچانے کے لئے ترکی، تیونس، مراکش اور مصر کی طرف ہجرت کرنے لگے جہاں اُن کے ساتھ عام مسلمانوں نے اپنے حاکموں کی نسبت بہتر سلوک روا رکھا۔ عام اور غریب سپنی مسلمان اس صورتحال میں تنہا رہ گئے۔ یہ وہی ہے جو آج کل انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ امیر، انگریزی میڈیم مسلمانوں کو ہندوؤں کی اعلیٰ ذات برہمنوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ وہ عام مسلمان آبادیوں کے ساتھ رہنے کی بجائے اعلیٰ ذات کے امیر ہندوؤں کی آبادیوں میں رہائیش اختیار کرتے ہیں۔ غریب مسلمان جو انڈین مسلمانوں کی آبادی کا 95% حصہ ہیں، وہ تنگ بستیوں، گندے محلوں اور جھونپڑیوں، فٹ پاتھوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ انگریزی میڈیم مسلمان اپنے امیرپڑوسی ہندوؤں کی طرح بظاہر سیکولرازم اور لبرل ازم کا راگ الاپتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اُسی فری میسن اور الیمومینائی نامی تنظیموں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں جودنیا میں اسلام کو بدنام کرتے ہوئے الحاد پھیلانے میں مشغول ہیں۔ اِن کے مقابلہ میں غریب مسلمان جو اِن امیر مسلمانوں کے مقابلہ میں بہتر مسلمان ہیں، وہ تشدد پسند متعصب ہندوؤں کے جتھوں کے حملوں میں مسلسل مارے جا رہے ہیں۔

سپین میں شاہ فیردناند (King Ferdinand) کے دور سے شروع ہونے پہلے 50 سالوں کے نتائج اگلے 50 سالوں میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔ اس دوران مسلمانوں کی کسی بھی جماعت، سیاسی گروہ، تنظیم اور شخصیات نے صورتحال کو سنبھالنے کے لئے کوششیں نہیں کیں۔ مذہبی راہنماؤں نے اپنے تئیں معاملہ سنبھالنے کی کوششیں کریں مگر چونکہ وہ مذہب کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تھے اس لئے مسلمانوں کو سماجی اور تہذیبی طور پر تباہ کرتی اس سازش کا حکومتی سطح پر شدید پروپیگنڈہ، تبدیلی مذہب کے لئے دی جانے والی حریصانہ ترغیبات، عام مسلمانوں میں مذہبی تعلیمات کی کمی اور مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا کر دئیے جانے والے احساس کمتری کی وجہ سے مقابلہ نہیں کر سکے۔ ایسے حالات میں ایسے سیاسی اور سماجی راہنماؤں کی ضرورت ہوا کرتی ہے جو نظم و ضبط اور دوررس منصوبہ بندیوں سے ایسی صورتحال کا مقابلہ کر سکیں مگر سپین میں ایسا کچھ مسلمانوں کو میسر نہیں ہو سکا تھا۔ وہ لوگ جو ترکی اور مصر کی اسلامی طاقتوں سے اس صورتحال میں مداخلت کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ عام لوگوں کے سامنے حکومتی مخبریوں کے خوف سے خاموش رہتے تھے۔ جب تک وہاں سے لڑنے والے اور مزاحمت کرنے والے مسلمان گروہ ہی نہ ہوں تو باہر کی مسلمان طاقتیں اُن کے لئے کیا کر سکتی تھیں۔ وہ سپینی مسلمان جو ترکی اور مصر میں جا کر بس چکے تھے انہوں نے وہاں کی حکومتوں کو مشورے دئیے کہ وہ سپین کے معاملات میں مداخلت کرنے کی سوچ سے باز رہیں کیونکہ ایسا کرنے کی کوششوں سے سپین کے مسلمانوں پر حکومتی مصائب میں اضافہ ہو جائے گا۔ سپین کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے احمد شاہ ابدالی جیسے راہنماؤں کی ضرورت تھی مگر ایسی شخصیات وہاں موجود نہیں تھیں۔ مسلمان عوام کی اکثریت نے اپنا مذہبی تشخص ختم کر کے سپینی طرز زندگی میں شمولیت اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور مذہبی راہنماؤں کو جب مسلمانوں پر اپنی حاکمیت چلانے کے مواقع نہ ملے تو سنہ 1612ء میں اُن کے آخری گروپ نے بھی سپین سے نقل مکانی میں ہی اپنے لئے بہتری پائی۔ انڈیا میں بھی مسلمانوں کی سیاسی لیڈر شپ اونچی ذات کے ہندوؤں کی جماعتوں کے دم چھلے بن کر رہ چکی ہے۔ مولانا سید ابوالحسن ندوی (علی میاں) جیسے کچھ لوگوں نے انڈین مسلمانوں کی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

سپینی تجربہ کو انڈیا میں زیادہ توانائی اور فعالیت کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ اُردو، جو انڈیا میں سپین کی عربی کی طرح ہی اسلامی ہے، کو نہایت سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے پرے دھکیلا جا رہا ہے۔ مسلمان رضاکارانہ طور پر مدرسوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انگریزی میڈیم امیر مسلمان عام مسلمانوں سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ انڈیا میں ہونے والے تبلیغی اجتماعات میں یہ چیز واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ مدد حاصل کرنے کے لئے دوسرے مسلمان ممالک کو نہیں جاتے بلکہ اپنی نفسیاتی اور فزیکل تنہائی میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے جان و مال کے تحفٖظ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو فرقہ وارانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اونچی ذات والوں کی حمایت کرتا ہے تو اُسے قوم پرست مسلمان کہا جاتا ہے۔ عام، غریب مسلمانوں اور امیر مسلمانوں کے درمیان حائل خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ متعصب اور متشدد ہندوؤں کے ہجوم کی طرف سے کسی مسلمان کی ہلاکت کو مسلمان لیڈرشپ کو بھی قدرتی سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی ایسے معاملات کو بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسے انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا جاتا ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب سے مسلمانوں کی تاریخ کو حذف کیا جا رہا ہے۔ انڈیا کے لئے جان دینے والے مسلمانوں کے ناموں کو گمنام رکھا جاتا ہے۔ انڈیا کے لئے جان دینے والے عظیم شہید ٹیپو سلطان کے نام سے انڈین نوجوان نسل واقف ہی نہیں ہے جبکہ انڈیا کی بجائے اپنی پنشن کے لئے لڑنے والے تانتیہ توپ (Tantia Tope) اور اپنے لے پالک بیٹے کے لئے تاج کی وراثت کے لئے لڑنے والی جھانسی لکشمی بائی کا نام ہر انڈین کے لبوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ سائینس، طب، میوزک، آرٹ یا جرأتمندانہ کام کرنے والے کسی نمایاں مسلمان کو ایوارڈ سے نوازنے کی روایت معدوم ہو چکی ہے۔ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ مولانا آزاد، قدوائی، سید محمود، ہمایوں کبیر جیسے وہ مسلمان جو تقسیم ہند سے پہلے حکمران کانگرس کی طرف سے آزادی کی جنگ لڑتے رہے، اُن کے نام پر کوئی شاہراہ یا یادگار منسوب کرنا ختم ہو چکا ہے۔ لیکن ہر شہر اور قصبے میں اونچی ذات کے ہندوؤں سے منسوب شاہراہوں اور یادگاروں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کو روزانہ انڈیا میں کسی نہ کسی جگہ پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اُن کے گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز نظر آتش کیا جاتا ہے۔ آرمی، پولیس اور انتظامیہ کے دروازے مسلمانوں پر بند کئے جا رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود بھی مسلم تنظیموں کے غول در غول تشکیل پا رہے ہیں۔ ان تنظیموں کا ہر کارکن اسلام کا تحفظ کرنے کا اعادہ کرتا ہے مگر کوئی بھی مسلمانوں کے تحفظ کی قسم نہیں کھاتا۔ یہ صورتحال بہت پریشان کن ہے۔

انڈیا میں برسراقتدار کلاس کا بغور مطالعہ کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ سپین کے شاہ فیردناند (King Ferdinand) اور ملکہ ازابیلا کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان میں صرف یہی فرق ہے کہ اونچی ذات کے ہندو زیادہ چالاک اور تربیت یافتہ ہیں کیونکہ 21 صدی میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائیٹس چارٹر اور عالمی سطح پر عوامی رائے کی موجودگی میں بھی مسلم کش پالیسیاں اپناتے ہوئے ان پر عمل کرنا زیادہ مشکل ہے۔ منظم طریقوں سے روزانہ کی بنیادوں پر مسلم مخالف دنگا فساد سے جہاں جان و مال کے نقصانات ہو رہے ہیں، وہاں ان سے ہر مسلمان کے دل میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ دفاعی اداروں میں مسلمانوں کی بھرتی نہ کرنے سے، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس میں شُدھ برہمنوں کی بھرتیوں میں ترجیح دینے کی پالیسیوں سے، حکومتی اداروں میں بھرتیوں کے دروازے بند کرنے سے، تعلیم اور ریڈیو، ٹی وی ایڈورٹائزمنٹ میڈیا سے اردو کو ہٹانے سے، آج کے دور کی ریاستوں پنجاب، ہریانہ، یو پی، بہار، مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں، آندرا پردیش اور کرناٹک جیسے علاقوں سے رفتہ رفتہ اردو پڑھانے والے سکولوں کا خاتمہ اُسی مسلم مخالف مہم کا اظہار ہوتا ہے جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔

نفسیاتی جنگ کے طور پر مسلمانوں کو زیر کرنے کی ایسی ہی کوششوں کے اگلے مرحلہ میں طلاق کے قانون میں حکومتی مداخلت، مقبوضہ کشمیر میں انڈین آئین کی دفعہ 370 A کا خاتمہ کر کے اس کی خصوصی حیثیت کی بجائے اُسے انڈین علاقہ قرار دینے کی پارلیمانی تجویز اور حالیہ اقدام کے طور پر انڈین سپریم کورٹ کے ذریعہ بابری مسجد کی 67 ایکڑ زمین کو ہتھیا کر دوسری جگہ 5 ایکڑ زمین دئیے جانے سے مسلمانوں کے خاتمہ کی جنگ کی نئی شروعات ہو چکی ہے۔ حکومتی سطح پر مسلم مخالف شخصیات بی جی تلک، مدن موہن ملاویا، ویر سرکار، لالہ لاجپت رائے کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے اور مسلمان راہنماؤں کی تحریک آزادی میں خدمات کا انکار کرنے سے، انڈیا کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات کا ذکر گول کرنے جیسے اقدامات، انڈین تاریخ کو مسخ کر کے دوبارہ لکھنے سے، جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے اسلامی طریقہ کی بجائے مشینی طریقہ پر زور دینے اور اسے زبردستی نافذ کرنے کے عمل سے، گائے کے گوشت کا کاروبار کرنے والے مسلمانوں کو سخت گناہ گار قرار دینے سے، مسلمانوں کے درآمدات اور برآمدات کے کاروبار کو اسمگلنگ قرار دینے سے اور گائے کی پرستش و پوجا کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سے اُس جنگی جدوجہد کی طرف نشاندہی ہوتی ہے جو وشوا ہندو پریشد اور بی جے پی نے اختیار کی ہوئی ہے۔ جن انتخابی حلقوں میں مسلمان ووٹروں کو فیصلہ کن پوزیشن حاصل تھی انہیں افقی اور عمودی طور پر ایسے تقسیم کیا جا رہا ہے کہ مسلمان کہیں بھی فیصلہ کن پوزیشن حاصل نہ کر سکیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیکولر ہائی کلاس مسلمانوں کو بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دکھانے کی فلمیں اور ویڈیو کلپس بار بار ٹی وی، میڈیا کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت کی طرف سے مستردشدہ مسلمان لیڈر نچلی ذات کے ہندوؤں کی طرف رجوع کرنے کی کوششیں کرتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ نچلی ذات کے ہندو بھی اونچی ذات کے ہندوؤں کی طرف سے مسلم مخالف پروپیگنڈہ کا بری طرح شکار ہیں۔ اس لئے نچلی ذات کے ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کو اپنے لئے حمایت ملنا نہایت مشکل ہے۔ یاد رہے کہ مسلم کشی کے تو ابھی صرف بیج ہی بوئے جا رہے ہیں تو مسلمانوں کی حالت کیا ہو چکی ہے۔ ذرا سوچیں کہ جب سپین کی طرح انڈیا میں بھی یہ فصل کاٹنے کا موسم آئے گا تو مسلمان کس کرب، تکلیف اور اذیت کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے انڈیا بھر کے مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ یہ ہندو توا دوسرے مذاہب پر کلہاڑے بھی چلائے گا اور اس کی کچھ نہ کچھ شروعات عیسائی برادری کے خلاف ہندو جتھوں کے حملوں سے ہو بھی چکی ہے لیکن ان اکادکا واقعات کو کنٹرول کرتے ہوئے ہندو توا نافذ کرنے والی تنظیموں نے اپنے کارکنوں کی توجہ مکمل طور پر مسلمانوں کے خلاف موڑ دی ہے۔ یہ بہت نازک وقت ہے کہ مسلمان اور دانشواران سپین کی تاریخ کو انڈیا میں دہرائے جانے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کی حفاظت ہمیشہ عام لوگوں کے ذریعہ ہی ممکن ہو سکی ہے کیونکہ عام رواج کے مطابق کُل مسلم آبادی کا 5% سے بھی کم حصہ رکھنے والی اونچی کلاس کے مسلمان کبھی بھی اپنی مراعات اور عیش و آرام سے دست بردار ہو کر عوامی جدوجہد کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ اونچی کلاس والے امیر مسلمان صرف اسلام کی باتیں ہی کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو مکمل طور پر بھلا دیا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ مذہب کبھی بھی اپنے پیروکاروں کی حفاظت نہیں کیا کرتا بلکہ پیروکار ہی اپنے مذہب کی حفاظت کیا کرتے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اگر انڈیا میں اسلام کو بچانا ہے تو وہ مسلمانوں کو بچائے بغیر ممکن نہیں ہو سکے گا۔ بابری مسجد کے بارے میں جو فیصلہ ہوا، وہ متوقع تھا۔ کوشش کریں کہ اگلی دفعہ کسی مسلمان کے خلاف متشدد اور متعصب ہندو جنونی گروہوں کی طرف سے کوئی کاروائی ہو تو اُس کے خلاف تمام مسلمان تنظیمیں الگ الگ نہیں بلکہ متحد ہو کر پُرزور احتجاج کریں وگرنہ اکیلا اکیلا کر کے یہ جنونی ہندو سپین کی طرح انڈیا سے بھی تمام مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *