اُڑنے والی کار  اب ایک حقیقت ہے ۔۔زبیر بشیر

دنیا کے بڑے ترقیاتی شہروں میں رہنا  ہر ایک  کاخواب ہوتا ہے لیکن یہ خواب اس وقت ڈراؤنا بن جاتا ہے جب آپ کو ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑے۔ آپ نیو یارک میں گاڑی چلا رہے ہوں یا بیجنگ میں اس صورت حال میں مجھ جیسے بے صبرے ڈرائیو چاہتے ہیں کہ اُڑ کر اپنی  منزل تک پہنچ جائیں۔ اس کا حل بہت سے کار ساز ادارے تلاش کرر ہے ہیں۔ یہ حل کس حد تک عملی ہے؟  آج اس پر بات کریں گے۔ 

دنیا بھر میں اڑنے  والی کاروں پر کام کیا جارہا ہے۔ بیجنگ کے کئی شو رومز میں تو  اب ایسی گاڑیاں دکھائی بھی دینے لگی ہیں۔ انہیں  سائنسی زبان میں “الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ وہیکلز کہا جاتا ہے۔ چین کی  الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی شاؤ پھنگ سے وابستہ ایچ ٹی ایرو نے گزشتہ ماہ کے آخر میں ایک اڑنے والی کار کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان گاڑیوں کو 2024 میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کاروں کی خوبی ان کا  ہلکا وزن اور روٹرز ہیں  جو ضرورت پڑنے پر  فولڈ  کئے جا سکتے ہیں ، تاکہ گاڑیوں کو پرواز سے پہلے اور بعد میں سڑکوں پر چلایا جا سکے۔ کمپنی نے کہا کہ پیراشوٹ سمیت متعدد حفاظتی خصوصیات کے ساتھ، ہر گاڑی کی قیمت ایک  ملین یوآن سے کم ہوگی۔ 

کنسلٹنسی فرم مک کینزی کی ایک رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر، تقریباً 250 کمپنیاں اڑنے والی گاڑیاں تیار کررہی ہیں۔ یہ فہرست ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ سرمایہ کار  بھی اس حوالے سے دل کھول کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ کار سازی سے متعلقہ ایک محقق رابن ریڈل نے  اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ  یہ شعبہ تقریباً ایک دہائی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس شعبے کی زیادہ تر ترقی آن ڈیمانڈ سروسز کی مرہون منت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں تحقیق و ترقی کے میدان پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ اڑنے والی  گاڑیوں کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔آپ اس شعبے کی سنجیدہ ترقی کا انداز ہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ایچ ٹی ایرو نے ماہ اکتوبر میں 500 ملین ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس ادارے کی موجودہ مالیت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ 

ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق تیزی  سے ترقی کرتا اڑنے والی گاڑیوں کا شعبہ، جسے اب شہری ٹریفک  جام  کا ایک سنجیدہ حل اور شہروں میں ذاتی نقل و حرکت کے ایک نئے متبادل نظام کے طور پر دیکھا جارہا ہے، اس کا حجم  2040 تک ایک  ٹریلین ڈالر اور 2050 تک 9 ٹریلین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ اڑنے والی گاڑیاں عام طور پر عام گاڑیوں کے سائز کی یا ان سے تھوڑی بڑی ہوتی ہیں۔  اپنے روٹرز کی مدد سے اڑنے والی یہ گاڑیاں 100  سے 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکیں گی اور ایک ساتھ کئی مسافروں کو لے جاسکیں گی۔

اگر ساخت کی بات کریں توبیٹریوں پر چلنے کی وجہ سے یہ عام گاڑیوں سے کم پیچیدہ  ہوں گی اور ہلکے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے زیادہ محفوظ ہوں گی۔ روایتی انجنوں کی غیر موجودگی میں یہ پُرسکون ، کم وزن اور سستی بھی ہوں گی۔ جرمنی میں واقع کمپنی وولو کاپٹر کا کہنا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ یہ نئی ایجاد امیر لوگوں کا کھلونا بننے کی بجائے  سفری  سہولت کے طور پر متعارف کروائی جا سکے۔ ہر کسی کے پاس بلا تخصیص یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ پیدل چلے، سائیکل چلائے، گاڑی چلائے یا ہواؤں میں اڑے۔ وولو کاپٹر اس شعبے کی ترقی کے لئے اب تک 500 ملین یورو کی خطیر رقم خرچ کر چکی ہے۔ وولو کاپٹر نے چین کے شہر چھنگدو میں  گیلے نامی کمپنی سے 150 اڑنے والی گاڑیاں تیار کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ 

Advertisements
julia rana solicitors london

میکنزی کی ایک رپورٹ کے مطابق شنگھائی، نیویارک اور لندن جیسے مصروف شہروں میں اڑنے والی گاڑیوں کو فعال بنانے کے لئے کم از کم 85 سے 100 لینڈنگ اور ٹیک آف مقامات کی ضرورت ہوگی۔ ان مقامات کی تعمیر پر 35 ملین ڈالر سے 45 ملین ڈالر کی لاگت آئے گی اور انہیں فعال رکھنے کے لئے سالانہ  110 ملین ڈالر سے 130 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ یوں ایک ٹرپ کا خرچ تقریباً150 ڈالر ہوگا جو فی سوار ی 50 سے 100 ڈالر ہوگا۔   اگر ہر سائٹ سے کم ازکم 2200 ٹرپ  روزانہ ہوں تو  سائٹ اپنا خرچ نکال سکے گی ۔  بظاہر یہ محال نظر آتا ہے لیکن ماہرین ان گاڑیوں کی معاشی فعالیت  کا حل تلاش کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ دوسری طرف  یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ اڑنے والی   گاڑیاں جنرل ایوی ایشن کی جگہ لے سکتی ہیں۔ امریکہ میں تقریباً  دولاکھ لوگوں کے پاس ذاتی طیارے ہیں جبکہ یورپ میں یہ تعداد  136000 سے زائد ہے۔ اس شعبے جس قدر سرمایہ کاری کی جارہی ہے توقع ہے کہ یہ شعبہ جلد اپنی کوئی نہ کوئی باضابطہ شکل اختیار کرلے گا۔  

Facebook Comments

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply