• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے نہیں بلکہ عورتوں کو غلام بنانے کا بل منظور کروانے والے ہیں۔۔۔رمشا تبسّم

مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے نہیں بلکہ عورتوں کو غلام بنانے کا بل منظور کروانے والے ہیں۔۔۔رمشا تبسّم

جے یو آئی ف نے خواتین اینکرز پر جلسہ گاہ میں داخلے پر پابندی لگائی ہے۔اس سلسلے میں خواتین اینکرز میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔بقول ان کے بغیر خواتین کے مولانا نہ اپنی سیاست آگے لے جا سکتے ہیں نہ ہی جلسہ کامیاب کر سکتے ہیں۔اور نہ ہی ملک میں کوئی مثبت قدم اٹھایاجاسکتا ہے۔

ہم نےپی۔ٹی۔آئی کے متعدد جلسوں اور خاص طور پر 2014 کے دھرنے میں بہت  بار خواتین سے بھرے جلسے میں بدتمیزی کے واقعات دیکھے۔ عمران خان کی موجودگی میں خواتین کی بے حرمتی ہوتی دیکھی۔عمران خان جتنا بھی عوام میں مقبول تھا مگر جب کنٹینر پر کھڑے ہو کر اس نے لڑکوں کو آواز لگائی کہ خواتین سے بدتمیزی نہ کرو تو اسکی آواز سن کر کسی نے عمل درآمد نہ کیا۔اور عورتوں سے بدتمیزی جاری رہی۔حتی کہ ہم نے پی ٹی آئی کے ٹائیگرز کے ہاتھوں عمران خان کی کنٹینر پر موجودگی کے باوجود خواتین کو خار دار تاروں پر گرتے دیکھا۔ان کے دوپٹے اترتے دیکھے۔ان کے کپڑے پھٹتے دیکھے۔۔ اور اس طرح عوام نے 2014 میں متعدد بار 126 دن  کے دھرنے میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی ہوتی دیکھی۔ یہاں تک  کہ پی ٹی آئی  کے اوباش نوجوانوں نے لڑکیوں کو زمین پر گھسیٹا اور جیو نیوز  کی اینکر ثنا مرزا پر  بوتلیں، پتھربرسائے،گالیاں دیں۔غریدہ فاروقی سے بدتمیزی ہوتی دیکھی۔چینلز کی گاڑیاں ٹوٹتی دیکھیں۔ان کے کیمرے ٹوٹتے دیکھے
لہذا ایسے میں جہاں اتنا بڑا مجمع ہو ،اتنا رش ہو، وہاں ہر شخص کو قابو رکھنا انتہائی مشکل ہے ،لہذا مولانا کا یہ فیصلہ کہ جس حد تک ممکن ہو خواتین موجود نہ ہو ں،ایک مثبت عمل ہے ۔تاکہ کسی طرح کی بدمزگی نہ ہو۔اور جلسے کا کوئی منفی پہلو منظر عام پر نہ آ سکے۔

اب چونکہ ہر چینل کے پاس مرد اینکر موجودہیں لہذا ایسے مواقع پر مرد اینکر کو جلسہ گاہ میں موجود رہنا چاہیے اور خواتین کو نیوز روم کا کام سنبھال لینا چاہیے تاکہ کسی قسم کی تذلیل اور رونے سے بچا جا سکے ۔ہمیں یاد ہے جیو کی اینکر کو جب مارا گیا وہ خود کا دفاع کرنے میں ناکام رہی،اور روتی رہیں۔حتی کہ اس وقت کئی  میل اینکرز خود کو بچانے کے لئے بھاگتے نظر آئے ۔اور کافی حد تک اپنے دفاع میں کامیاب رہے۔اور کچھ کو لہو لہان بھی کیا گیا۔یہ حال تھا خود کو سب سے تعلیم یافتہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پارٹی کے جلسے کا۔

لڑکوں نے جب لڑکیوں سے بدتمیزی کی ،عمران خان سمیت وہ لڑکیاں خود اپنا  دفاع کرنے میں ناکام رہیں۔لہذا اینکرز کا یہ کہنا کہ اس طرح کا اقدام عورت ذات کو ناکام ثابت کرنے کے لئے اٹھایا  جا رہا ہے،یا عورت کی حق تلفی کی جا رہی ہے۔۔ سراسر بے بنیاد ہے۔اینکرز اب غم و غصے میں عورت کا دشمن مولانا فضل الرحمن کو قرار دیتی نظر آ رہی ہیں،اور اس طرح کا تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے مولانا کا مارچ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ مولانا عورت کو غلام بنانے کا کوئی بل منظور کروانے آ رہے ہیں۔

ہم آئے روز فیمیل اینکرز کو مولویوں کا انٹرویو کرتے دیکھتے ہیں۔جس میں مولویوں کے سامنے بیٹھی فیمیل اینکرز جینز اور ٹی۔شرٹ میں بھی ملبوس ہوتی ہیں۔بغیردوپٹے کے  بھی اور ہر طرح سے آزاد بھی۔لہذا اگر مولوی ان کی آزادی کے خلاف ہوں یا ان کا کردار نظر انداز کرنا چاہتے ہوں تو وہ ا ن کے لباس پہ یا انٹرویو میں موجودگی پر بھی پابندی کی بات کرتے نظر آتے مگر کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔

لہذا اینکرز کو معاملے کی نزاکت سمجھنے کی ضرورت ہے۔اور ہر صورت ہر جگہ موجود رہ کر نظر آنے کی بجائے بعض معاملات میں فہم و فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا مارچ اب تک انتہائی منظم طریقے سے جاری ہے جس میں نہ عوام کو کوئی مسئلہ درپیش آیا نہ ہی ملک میں 2014 کے دھرنے کی مانند جلاؤ گھیراؤکا سماں ہے اور کوئی توڑ پھوڑ نظر نہیں آتی۔

لہذا ایسے میں خواتین کو جلسہ گاہ سے دور رکھنے کے پیچھے بھی جے۔یو۔آئی۔ ف کا یہی مقصد نظر آتا ہے کہ کسی قسم کی منفی بات یا منفی حرکت ان کے جلسے سے منسوب نہ کی جا سکے اور نہ کسی ایسی حرکت کو جواز بنا کر دھرنے والوں پر حملہ کیا جا سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *