گاندھی اور قومی ادارے ۔۔عبدالغنی محمدی

گاندھی جی کی ساری زندگی تحریکات اور تنظیموں میں گزری ، قومی اداروں میں مستقل سرمایہ ہونا چاہیے یاعارضی  ؟  قومی اداروں کے حوالے سے انہوں نے افریقہ کے زمانے میں کچھ جائیدادیں خریدیں جو نزاع کا شکار ہوگئیں، اس پر لکھتےہیں ۔ لیکن میرا خیال قومی اداروں کے لیے مستقل سرمایہ رکھنے کے بارے میں اس نزاع سے بہت پہلے بدل چکا تھا اور اب متعدد قومی اداروں کا وسیع تجربہ حاصل کرنے کے بعد میرا عقیدہ یہ  ہوگیا ہے کہ ان اداروں کو مستقل سرمائے کی مدد سے چلانا اچھا نہیں ہے ۔ قومی ادارہ وہ جو قوم کی مرضی اور اس کے روپے سے چلایا جائے ۔ جب یہ ادارہ قوم کی مدد سے محروم ہوجائے تو اسے باقی رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ جو ادارے مستقل سرمائے سے چلتے ہیں ان کے کارکن اکثر رائے عامہ کو نظر انداز کردیتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اس کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔ ہمیں  اپنے ملک میں روزمرہ اس کا تجربہ ہوتاہے ۔ بعض نام نہاد مذہبی وقف ایسے ہیں جنہوں نے اپنے حسابا ت شائع کرنا موقوف کردیا ہے ۔ ٹرسٹی مالک بن بیٹھے ہیں اور وہ اپنے آپ کو کسی کا ماتحت نہیں سمجھتے ۔

مگر میں ایک غلط فہمی کو رفع کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا خطاب ان اداروں سے نہیں جن کے لیے مستقل عمارت ہونا لازمی ہے ۔ میرے کہنے کا منشا صرف یہ ہے کہ معمولی خرچ ان چندوں سے چلنا چاہیے جو لوگ اپنی خوشی سے ہر سال دیا کریں ۔ بانی دار العلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتو ی نے اپنے آٹھ بنیادی اصولوں میں بھی یہ بات لکھی ہے کہ مدارس کو مستقل چندے ، کسی ریاست یا فرد کے سہارے چلانے کی بجائے قومی چندے سے چلایاجائے ۔

میرا راسخ عقیدہ یہ ہے کہ قومی کام کرنے والوں کو قیمتی تحفے قبول نہیں کرنا چاہئیں ۔ افریقہ میں ان کے خاندا ن کو جس قدر قیمتی تحفے ملتے ہیں سبھی وقف میں شامل کردیتے ہیں ، ان کی بیوی بہت ناراض ہوتی ہے لیکن وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں ۔

قومی خدمت کے لئے دو چیزوں کو ضروری اور بنیادی سمجھتے ہیں ،  خلوص نیت اور تجربہ ۔ گاندھی خود قومی خدمت میں نہ صرف خلوص نیت سے کام لیتےہیں بلکہ اس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ افریقہ سے جب ہندوستان واپس آتے ہیں تو کانگریس میں کارکنوں کے اندر ان دونوں چیزوں  کو مفقود پاتے ہیں ، خود ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر خود کام کرتے ہیں ۔

لوگوں کی نفسیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تحریکی معاملات میں ان چیزوں کے حوالے سے خاص کر محتاط رہنا چاہیے ۔ میں جانتا ہوں کہ عوام شورش اور ہنگامے کو پسند کرتے ہیں اور خاموش تعمیری کاموں سے گھبراتے ہیں ۔ اس کا تجربہ مجھے آج تک ہورہا ہے۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *