غلام حاضر ہیں۔۔۔عاطف جاوید

حضور والا۔۔ حسب روایت غلام حاضر ہے۔۔۔
حضور والا حسب روایت ہم جب بھی آپ کی سلطنت میں گئے برہنگی جیسی عظیم سعادت سے فیض یاب ہو کر جناب کی شان میں پوری جامہ تلاشی کے بعد حاضر ہوئے۔
حضور والا۔۔۔ یہ روایت ہم پوری آن و شان کے ساتھ نبھاتے آئے ہیں ہمارے آباو اجداد جو کبھی آپ کے نمک خوار ہوا کرتے تھے، ہمیں پکی نصیحت دے کر گئے ہیں کہ آپ کی فرمانبرداری اور خوشنودی ہی رضائے خدا ہے۔
حضور والا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ۔۔۔ اب جناب آئے ہیں تو ہمارے ملک کی جہاں باقی رونقیں دیکھی ہیں آئیے آپ کو تاریخ کے جھروکے سے وقت کی پرواز پر ماضی کی سیر کروا دیتے ہیں۔۔۔
جناب والا۔ یہ دھرتی آپ کے آباؤ اجداد کی قدم بوسی کرنے سے پہلے بہت ہی تشنہ لب تھی۔۔۔
جناب من۔ یہاں کے لوگ تہذیب کے نام تک سے عاری تھے۔۔
جناب من آٹھ ہزار سال پہلے تک موہنجوداڑو اور ہڑپہ میں بنا کسی ہتھیار فوج اور سپاہیوں کے بلا مقابلہ ایک بے مقصد سی زندگی گزارنے والے یہ کیڑے مکوڑے مذہب جیسی چیز سے ہی آشنا نہ تھے۔
جناب من۔۔۔ یہ خطہ آپ کے آباؤ اجداد کے اس احسان کو کبھی نہیں  بھولے گا جو نہ ہم پر آریان کر سکے نہ ترک کر سکے نہ منگول نہ افغان۔
حضور والا!
جناب کے وڈ وڈیرے جب یہاں آئے تو اپنے ساتھ ایسے ایسے نئے افق کھول کر لائے جن سے یہ جاہل خطہ واقف بھی نہ تھا۔ جناب من مغل تک یہ نہ جانتے تھے کہ مرد شماری میں مذہب کا خانہ کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کے اجداد نے وہ خانہ شامل کر کے ہم کو پہلی بار اس علم سے روشناس فرمایا۔ ہمیں ہمارا الگ تشخص بھی معلوم ہو سکا۔
جناب والا۔ آپ کے اجداد نے جو کاروباری مہم یہاں پر شروع کی یہ اس کا ہی دور رس اثر ہے کہ ہم ابھی تک جناب کے  زیرِ سایہ ان کی خدمت گزاری کر کے دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔۔۔

مصنف :عاطف جاوید

حضور یہ دیکھیے وہ خط اور پاکستان مسلم لیگ پارٹی کا فاؤنڈنگ پیپر۔۔۔
جس میں واضح لکھا ہے کہ ہم تاج برطانیہ کے زیر سایہ رہ کر اپنی سیاسی اور سماجی خدمات انجام دینا چاہتے ہیں اور ملکہ برطانیہ کا سایہ ہم پر ہمیشہ بنا رہے۔
حضور یہ دیکھیے کانگریس کا منشور۔۔۔۔ جس میں واضح آپ کے اجداد کے تخت و تاج سے وفاداری کے قول و قرار پر ہمارے اجداد نے دستخط اپنے خون جگر سے کر رکھے ہیں۔۔
ارے نہیں  حضور یہ چھوڑ دیجیے۔۔۔یہ کھڑکی بند کر دیں۔ یہ وہ نا ہنجار بد بخت بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی ہیں۔ ان کو خوامخواہ ہی ان کی کم عقلی اور لا علمی نے خراب کیا ہے۔ کند ذہن آپ کے لائے ہوئے تحفے قبول ہی نہ کر سکا۔۔۔ جس نے جناب کے اجداد کے خلاف جانے کی گستاخی فرمائی  تھی۔ جس نے جناب کی عطا کی گئی  انتہائی  محبوبانہ مذہبی تقسیم کو مسترد کر کے ہندو مسلم بھائ بھائی  کا نعرہ لگایا تھا۔۔۔
جناب رنجیدہ نہ ہوں۔۔ ان سب کو رات کی تاریکی میں پھانسی پر چڑھا کر لاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے دریا برد کر دیا تھا۔۔۔۔
اے محبت کی پیامبر شہزادی۔۔۔۔
یہ دیکھیے ہمارے علما و مشائخ کا وہ خط جس میں سب بزرگ ہستیوں نے آپ کی غلامی کو نعمت خدا وندی قرار دیتے ہوئے جلیانوالہ باغ کے ہیرو جنرل ڈائر کی خدمات کی داد و تحسین اپنے مقدس ہاتھوں سے تحریر کی ۔۔۔۔
ارے نہیں  شہزادی صاحبہ۔ یہ جھروکا مت کھولیے۔۔۔ یہاں سے براہ راست جلیانوالہ باغ کے مناظر نشر ہوتے دکھائی دینے لگیں  گے۔۔۔۔ یہ ضرور ہمارے کسی نا ہنجار تاریخی ٹیکنیکل افسر کی غلطی ہوگی جو اب تک یہ جھوٹا ڈیٹا سیو رہا ہے اس میموری میں۔۔۔۔ اس کو جلد ہی ڈیلیٹ کروا دیا جائے گا فکر نہ کریں۔۔۔
یہ دیکھیے حضور یہ منظر کس قدر دل آویز و دلفریب ہے جب ریڈ کلف کا جہاز ہماری سر زمین پر اترا تھا۔۔۔۔
جناب من۔۔ ہمارے اجداد کو معلوم تھا کہ جناب کی اجداد نے جس طرح دوسری جنگ عظیم میں آدھی سے زیادہ دنیا کو جمہوریت کا سبق سکھایا تھا اس سب جدو جہد میں کس قدر تھکاوٹ سے چور ہو چکے تھے ہمارے بادشاہ سلامت۔ اب رعایا کی بھی تو ذمہ داری تھی کہ انعامات کا حق خود خدمت کر کے ادا کر سکے۔۔۔۔
جناب من جیسے ہی تاج برطانیہ کا ہاتھ طنابوں پر تھوڑا ڈھیلا ہونا شروع ہوا ہم نے آگے ہاتھ بڑھا کر ان پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور ملکہ برطانیہ کا دست شفقت ہمارے سر پر آ گیا۔ ہم۔ نے اس ہندوستان نامی بگڑے گھوڑے کو آزادی کا چارہ دکھا کر قابو کر لیا۔۔۔۔
جناب من ہم نہ چاہتے تھے کہ آپ کے اجداد یہاں سے مایو س و نا مراد لوٹیں۔۔۔۔
ہم نے کوئی  کسر نہ چھوڑی کہ جناب کے جانے کے بعد ہندوستان میں دوبارہ اتحاد اور ایک لخت ہونے کا کوئی  جواز باقی رہے۔۔۔ ہم نے چن چن کر ایک دوسرے کے گلے کاٹے۔ جناب من ہم نے چن چن کر ایک دوسرے کی عورتوں کی عزتیں تار تار کی۔۔۔
جناب من ہمارے اجداد اپنے جہازوں میں بیٹھ کر اس عمل کی پوری نگرانی فرما رہے تھے کہ کہیں کوئی  غلطی کوتاہی تاج برطانیہ کی ناراضگی کا سبب بن سکے۔۔۔
جناب من یہ ریڈ کلف مشن کی ہی دی ہوئی  نعمت ہے جس کے نام پر دونوں اطراف کی افواج اب تک اپنی دال روٹی چلا رہی ہیں۔۔ حضور اگر کشمیر جیسا رخنہ اس خطے میں نہ ہوتا تو کس قدر بھوک و افلاس میں ہوتے ہمارے فوجی افسران۔۔۔۔ اس احسان پر ہم اب تک شکر گزار ہیں۔۔۔
جناب والا محترم ریڈ کلف کے کہنے پر ہمارے اجداد نے بہت ہی محنت کے ساتھ اس دھرتی کا سینہ چیر کر دھڑکتے دل کا نزرانہ تاج بر طانیہ کے قدموں پر نچھاور کیا تھا۔۔۔۔۔
جناب والا۔۔۔۔ چھوڑیے تاریخ کے جھروکوں کو آئیے آپ کو حال اور مستقبل کا دیدار کرواتے ہیں۔۔۔۔
یہ دیکھیے حضور یہ وہ عالیشان گھر ہے جہاں سے بیٹھ کر ہم اس ملک میں آپ کی دی ہوئ تربیت کے مطابق لوگوں میں خوشحالی اور کامیابی کے فیصلے صادر فرماتے ہیں۔۔۔۔
جناب والا ذرا باہر کو دیکھیے کہ کیسے آپ کے جانے کے بعد ہم نے اس خطے کو آپ کی یادوں سے تاز و منور رکھا ہے۔۔۔۔
جناب والا۔۔۔۔ بس آگے کا منظر جان کی امان پاوں تو زبانی بتا دوں؟
وہ گزارش ایسی ہے کہ جناب والا وہ مناظر دکھا کر آپ کی نفیس طبعیت کو بوجھل نہیں  کرنا چاہتے۔۔۔۔ بس ہم یہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ جناب کا دیا ہوا کام ہم پوری دلجمعی سے کر رہے ہیں۔۔۔
جناب والا ہم نے مذہب کے عفریت کو اس قدر بے قابو کر دیا ہے کہ اب وہ پوری طرح بالغ ہو کر اس ملک کے کونے کونے کو تقسیم کر کر کے آپ کی یادوں کو تازہ رکھے ہوئے ہے۔
جناب والا افسر شاہی اس قدر چاک و چو بند ہے کہ اس ملک کو لوٹ کھانے میں ایک پل کی دیر نہیں کر تی۔
جناب والا روایت حسب معمول برقرار رکھی ہے۔۔ جیسے آپ کے اجداد یہاں سے نو لکھا ہار سمیت پتہ نہیں کتنے ہی بیش بہا خزانے لوٹ لوٹ کر آپ کے ملک کی زینت بنا چکے تھے بالکل ویسے ہی ہمارے تمام وزیران و افسران یہاں سے ساری دولت جمع کر کے برطانیہ یا امریکہ رہنا پسند کرتے ہیں۔۔۔
حضور والا گوری چمڑی کی بات ہی الگ ہے کہ دیکھ کر ہی دل پگھلے۔۔۔ وہ محبت ڈھائی  سو سال گزرجانے کے بعد بھی کم نہیں  ہو سکی۔۔۔
حضور والا ہمارے محافظ ہمارے خاکی نو جوان۔۔۔ بالکل اسی تربیتی عمل سے گزر رہے ہیں جیسے جنگ عظیم اول یا دوم کے وقت آپ کے اجداد کے وفادار سپاہی ہوا کرتے تھے۔۔ ان کا وطن و نسب بھلے ہندوستانی تھا پر ان کی رگوں میں آپ کی وفا داری دوڑتی تھی۔۔ جنہوں نے تاج بر طانیہ کی کامیابی و کامرانی کے لیے اس کے دشمنو‍ں کو نیست و نابود کر دیا۔۔۔ چاہے وہ دشمن کوئی  باہر کا ہو یا اندرون خانہ ہو
جناب والا اب بھی جب کوئی نا مراد ایسی گستاخی کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے آپ کی دی ہوئی  وراثت کو خطرہ ہو تو یہ جوان پوری تندہی کے ساتھ اس کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔۔۔
حضور والا۔۔۔۔ خوش تو ہیں نہ آپ اس سب کار کر دگی سے۔۔۔
جناب والا نہیں  اس طرف نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔۔۔وہاں مت دیکھیے۔۔۔
ہم  نہیں  چاہتے کہ آپ کو ابکائیاں آنے لگ جائیں۔۔۔۔ وہاں بس گندے شاپر غلیظ سڑکیں نظریات پر مر مٹنے والوں کی گلی سڑی لاشیں کچھ پرانی تہذیبوں کے چیتھڑے آزاد خیالی جیسے گندے ابلتے گٹر جیسے دماغ ہیں۔۔۔ کچھ غلیظ ان پڑھ بچے ہیں بس کچھ تیرہ چودہ کروڑ جانور ہیں جو اپنے آپ کو انسان سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے ہیں۔۔۔ بس ادھر مت جائیے۔ ہم سے آپ کے ماتھے پر شکن نہ دیکھا جائے گا۔۔۔۔۔۔
بس ادھر رہیے۔۔۔۔ یہ سرخ قالینوں پر اور اس کے ارد گرد موجود ہماری اپنی بنائی ہوئی  دنیا کو دیکھیے جو ہم صرف آپ کو دکھانا چاہتے ہیں۔ کچھ دو چار کروڑ ہنستے ہوئے چہرے کچھ رنگ برنگے سے سکولز اور کچھ یاد گاریں دیکھیے۔ جن سے یقینا ً آپ کا دل خوب بہل جائے گا۔
ارے نہ نہ نہ حضور۔۔۔ کیسی بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اس کی کوئی  ضرورت نہیں۔۔۔۔ تاج برطانیہ نے کوئی  جرم کیا ہی نہیں  تھا تو اس پر کوئی  بیان دینا یا کیے پر شرمندہ ہونے جیسی بات کیا کرنی۔۔۔
ارے جناب دفعہ کیجیے حقائق کو۔۔۔ کسے پتہ ہے کہ بٹوارے جیسی نعمت ہم۔ کو ستائس لاکھ انسان مروا کر ملی تھی۔۔۔
حضور ہم۔ دونوں اطراف نے اپنے اپنے بچوں کو اچھی طرح آپ۔ کا۔ دیا ہوا قاعدہ رٹوا دیا ہے۔ اب وہ بس وہی جانتے ہیں کہ۔ ہندو نے مسلمان کا۔ گلا۔ کاٹا اور مسلمان نے ہندو کا۔۔۔ اور حضور ویسے بھی گھر کی شفٹنگ ہو تو تھوڑا بہت آڑ کباڑ تو ضائع ہو ہی جاتا ہے۔۔
کیا ضرورت ہے اس سر زمین پر کھڑے ہو کر یہ کہنے کی کہ آپ سرکاری طور پر تاج بر طانیہ کی طرف سے کیے جانے والے مظالم جنرل ڈائر کے قتل عام اور نو لکھا ہار چوری کرنے جیسے جرائم پر پوری برطانوی قوم کی طرف سے ہم سے معافی مانگتے ہیں۔۔۔۔۔ لو بھلا یہ کیا بات کوئی ۔۔۔
بس خاموش رہیے۔ دل چھوٹا نہ کریں بس کچھ تناول فرما لیں کہ دوران خون پھر سے پوری آب وتاب سے چلے۔۔۔ دفعہ کیجیے یہ سب۔۔آئیے آگے بڑھیے اور کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ میں کہہ رہا تھا کہ یہاں کے لوگوں پر آپ کی طرز حکمرانی کے تحت خدمات سر انجام دینے کے بعد آپ کی ریاست میں اگر چھوٹا سا محل مل جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بس بس بس بس جناب خرید لیا آپ نے تو ہمیں ہاں کہہ کر۔
بس اتنا ہی کافی ہے۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی آتے جاتے رہا کریں۔۔۔۔
دل کو سکون رہتا ہے کہ اس دیار غیر میں کوئی آپ جیسااپنا بھی ہے ہمت بندھانے کو۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *