خود وفاتیہ۔۔۔۔(17)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند مر گیا تو دیکھا لوگوں نے کیسا عجب نظارہ
تم بھی دیکھو اور “کتھا واچک” کی زباں سے
تم بھی سن لو
شاید اس کے سننے سے کچھ سبق ملے گا
شاید تم بھی سیکھ سکو کچھ کام کی باتیں
لو، اب لوگو، بولو رام

٭
بیوی آنسو پونچھ کے بولی
—میرا دل تو ٹوٹ گیا ہے
اپنی رفاقت نصف صدی کی ختم ہوئی ہے
لیکن دونوں ایک اکٹھے کیسے مرتے؟
موت کا تو دستور یہی ہے
جب آتی ہے، تب آتی ہے
اُس کی آئی میں مر جاتی تو اچھا تھا
لیکن لوگو
اب تو مالک سے بس ایک دعا ہے میری
مجھے اٹھا لے
میں بڑھیا زندہ رہ کر بھی اب “وِدھوا ” کہلاؤں گی
پھر بھی پتہ نہیں ، یہ بچے
مجھ سے کیوں کہتے ہیں، اماں، تم سو برس جیو

ابو کی عمر تمہیں لگ جائے
پوتوں ناتوں کی معیت میں ہنستے ہنستے
اپنی باقی عمر کے دن کاٹو
بیٹھو سکھ سے، رام نام کی مالا پھیرو
اور پھر ہنستے ہنستے سکھ سے سورگ سِدھارو!

٭
بیٹے اکڑوں بیٹھ گئے قالین پہ ۔۔۔بولے
اماـں ، آؤ
ابو کے کاغذ جُزدانوں میں تہہ بند ہیں —ان کو دیکھیں
یہ دونوں جو دستاویزیں ہیں، اماں
ان دو گھروں کی
تم دونوں کے نام کی ان پر مہر لگی ہے
اب کاؤنٹی کے دفتر جا کر
صرف تمہارے نام پہ ان کا انتقال کروانا ہو گا
ابو شاید سوچ نہ پائے
بھول گئے یہ نکتہ —ان کا ٹرسٹ بنا کر
نا بالغ پوتوں، دوہتوں کے
نام اگر کر جاتے تو پھر ٹیکس نہ لگتا

٭
ٹھیک ہے بیٹا، بیوی ب ولی
تم سارے کاغذ بنوا کر

مجھ کو کاؤنٹی کے دفتر میں لے جانا
میں اب کر دوں گی۔
اچھا ، اماں
یہ سارے تو بنک کے کاغذ ہی لگتے ہیں
فرصت میں دیکھیں گے ان کو۔۔۔

٭
یہ کیا ہے ؟ اماں ، دیکھو تو
اک بنڈل اردو میں؟ شاید خط ہیں سارے
چٹھی پتری ابو کی چلتی رہتی تھی
لکھنے والے شاعر متروں سے اردو میں
یہ سب پتر پرانے ہیں، مشہور شاعروں، کویوں کے  سب
ابو تو بس اپنی ہی مرضی کے مالک تھے
ان خطوط کو، اتنی حفاظت، اہتمام سے
رکھ کر آخر کیا لینا تھا؟
یہ کیا ہے؟ نظموں کا مسودہ؟
ابوکے ہی ہاتھ کا شاید لکھا ہوا ہے
اس کا اب کیا کرنا ہو گا؟
کون پڑھے گا اردو میں اب؟
کُوڑا ہے سب

٭
یہ مت بولو، بھیا
بیٹی، ایک اکیلی

سب سے دُور اسٹول پہ بیٹھی
پھوٹ پھوٹ کر روتے روتے
رُندھی ہوئی آواز میں بولی
ابو، خود تو چلے گئے ہیں
لیکن ان کے جیون کا اک حصہ
جو باقی ہے گھر میں ۔۔وہ کوڑا کرکٹ تو نہیں ہے
اس بنڈل میں جو نظمیں ہیں
یا جو خط ہیں
ان میں ابو کے “شاعر دل” کی وہ دھڑکن بول رہی ہے
جو ہم سب سن بھی سکتے ہیں۔۔۔اگر پڑھیں تو
یہی تو جیون تھا ابو کا
اردو نظمیں، خط احباب کے
قلمی نسخے ان سب نظموں افسانوں کے
ان کو کوڑا کرکٹ کہنا ٹھیک نہیں ہے!
اماں، تم تو ہم بچوں کی تربیت سے واقف ہی ہو
بول چال کی اردو تو ہم بچپن میں ہی سیکھ گئے تھے
لیکن امریکہ  میں رہ کر
اسکولوں میں اردو پڑھنا سیکھ نہ پائے
اس کا ان کو قلق بہت تھا
اکثر یہ کہتے تھے۔۔۔اندر گھر میں رکھی
ان کی اپنی لکھی ہوئی اردو کی کتابیں
ان مہمانوں جیسی ہیں، جو
آ کر گھر میں ہفتوں تک ٹھہرے رہتے ہیں
گھر والوں کی آؤ بھگت
کچھ دن تک تو قائم رہتی ہے
پھر وہ غیر شاسا سے سمجھے جانے لگتے ہیں
اماں تم تو ساتھ رہی ہو نصف صدی تک
ابو کے ان مہمانوں کے ۔۔۔۔
تم ہی بولو”

٭
بچوں کی ماں کی خاموشی آخر ٹوٹی
۔۔۔۔میَں اب کیا بولوں گی، بیٹی
وہ تو سورگ سدھار گئے ہیں
ان کے یہ مہمان کہاں تک
بیٹوں کے گھر میں یوں جم کررہ سکتے ہیں؟
اک دن تو ان سب کا جانا لازم ہی ہے
میں جب تک موجود ہوں، ان کو
اپنے کمرے میں رکھ لوںگی
مَیں جب آنکھیں موند گئی ، تو
کون سنبھالے گا یہ چیزیں؟
کوڑے دان میں پھینکے جانے سے تو شاید یہ بہتر ہے
ان کا داہ سنسکار بھی
ان کے مردہ تن کے ساتھ چتا میں کر دیں
٭
دیکھا لوگو
تم نے یہ سب عجب تماشا؟
ستیہ پال آنند نہ مرتا
تو کیسے ہوتا یہ ادبھُت، عجب تماشا؟ (ادبُھت ، دلچسپ)
اب اس کے سارے یہ مسودے
خط احباب کے
بنڈل بنڈل ساتھ چِتا میں جل جائیں گے
بولو، رام!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *