پولیس ناکے اور تلاشی۔۔۔راجہ محمد احسان

محکمہء پولیس کے مقاصد میں قانون کی پاسداری اور امن کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ ناکہ لگانا اور تلاشی لینا اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کا مناسب اور متناسب استعمال کیا جانا   نہایت اہم ہے ۔ اگر غیر ضروری ، غیر قانونی یا غیر منصفانہ طریقے سے اس کا استعمال کیا جائے تو یہ شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی طویل مدتی سے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جس سے پولیس کا کام مشکل تر ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک واقعہ کچھ عرصہ قبل دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان چوکی پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ملک کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات اکثر و بیشتر ہوتے رہتے ہیں ۔ اختیارات کے مناسب استعمال کا مطلب ہے کہ قانون کے مطابق اور اس انداز سے کام کرنا جو وقت اور حالات کے مطابق ناگزیر ہو۔ چوکیوں پر تعینات افسران کو قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے پاس اختیارات کو استعمال کرنے کے لئے معقول وجہ ہونی چاہیے اور کسی بھی شخص یا گروہ کے خلاف یا اس کے حق میں کسی بھی قسم کی جانبداری یا نجی مخالفت کے بغیر ان کا استعمال کریں۔ کسی قانونی مقصد کے حصول کے لئے طاقت اور اختیارات کا اتنا ہی استعمال کرنا چاہیے  جتنا ناگزیر ہو اور ایسے اختیارات کا استعمال صرف اور صرف ریاست اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہو۔

ناکے اور تلاشی کے مناسب استعمال کا مطلب یہ بھی ہے کہ افسران ایک ’’ منصفانہ طریقہء کار‘‘ کو اپناتے ہیں ، یعنی منصفانہ فیصلے کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں۔ چوکیوں پر موجود افسران حقائق کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ فیصلے کرنے کے پابند ہیں اور ان فیصلوں کی وضاحت کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ لوگوں کو کسی واقعہ کے متعلق ان کا نقطہء نظر سننے اور سنانے کا موقع فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ قابل اعتماد ہیں۔ انہیں لوگوں کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

ناکہ لگانے اور تلاشی لینے  سے جرائم کی کھوج اور روک تھام میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور اختیارات کا منصفانہ استعمال اسے زیادہ موثر بناتا ہے۔ انصاف کے اصولوں کے مطابق افسران کے ذریعے ناکے اور تلاشی کے جائز اور متناسب استعمال سے عوام کا اعتماد ،اور پولیس کے جواز کو باہمی رضامندی کے ساتھ برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح مقابلوں اور محاذ آرائی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے لوگوں کے رویوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے اور عوام کی جانب سے شکایات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ریاست لوگوں کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنے اور قانون شکنی نہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جبکہ عوام توقع رکھتی ہے کہ پولیس جرائم اور عدم استحکام کے خلاف کارروائی کرے گی ، اور موقع پر موجود افسران کے منصفانہ طور پر فعال ہونے کی صورت میں انہیں یقین دہانی کرائی جاسکتی ہے۔ عوام کے اعتماد کی سطح میں اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ناکے اور تلاشی کے مناسب استعمال کو برقرار رکھنا ہو گا۔ اس کے برعکس ، نامناسب استعمال یا غلط استعمال کے بہت سے منفی نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے اور پولیس کی کارروائیوں کے خلاف معاشرے میں عمومی طور پر عدم اعتماد ظاہر ہو سکتا ہے۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ناکے اور تلاشی  کی پالیسی سود مند ثابت ہو رہی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات کم ہورہے ہیں اور اغوا اور کار لفٹنگ سمیت مجموعی طور پر مجرمانہ کاروائیوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے ناکے اور تلاشی کے لئے عوامی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اس عوامی حمایت کو برقرار رکھنے کے لئے یقینی طور پر ناکے اور تلاشی کے عمل کو سہل بنانے کی ضرورت ہے کہ جس سے یہ ناکے اور تلاشیاں عوام کے لئے پریشانی اور مشکلات کا باعث نہ بنیں۔ ناکے پر موجود عملے کا رویہ اور اختیارات کا منصفانہ استعمال اس حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے اور عوامی حمایت میں اضافے کے لئے پولیس کی اپنا محاسبہ کرنے کی اہلیت بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

محض ناکے اور تلاشی بڑھا کر اور جاسوسی اور انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کا بروقت استعمال کیے بغیر ، جرائم کو کم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ناکے اور تلاشی کے ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کا یہ انداز کم نتیجہ خیز ہوگا اور اس کے غلط استعمال کا امکان ہے۔ اختیارات کا ناجائز استعمال نہ صرف انتظامیہ کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ پولیس پر عدم اعتماد کا باعث بنے گا۔

پولیس کے پاس کسی بھی وقت روکنے اور آپ سے پوچھ گچھ کرنے کے اختیارات ہیں ، وہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کی تلاشی کرسکتے ہیں۔ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکتے ہیں جیسے ، آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کا اس علاقے میں کیا کام؟ یا آپ کہاں جا رہے ہیں؟ اگر کسی کے پاس منشیات ، یا نا جائز ہتھیار ، مالِ مسروقہ یا کوئی ایسی چیز ہے جو کسی جرم کی طرف دلالت کرتی ہو تو اسے “معقول شبہ” یا وجہ کہا جائے گا۔ کسی شخص کو صرف مناسب وجہ یا وجوہات کی بنا پر روکا جاسکتا ہے اور اسکی تلاشی لی جاسکتی ہے اگر کسی سینئر پولیس افسر نے اس بنیاد پر یا شبہ کے تحت اس کی منظوری دے دی ہو کہ سنگین جرم ہوسکتا ہے یا وہ شخص کسی ممنوعہ علاقے میں ہے لیکن اس تلاشی کی اجازت کچھ ضوابط کے ساتھ ہے، تلاشی لینے  والے افسر کو اپنا نام اور تھانہ بتانا ضروری ہے۔ پولیس افسر کسی کو شبے میں کوٹ ، جیکٹ یا دستانے اتارنے کے لئے کہہ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پولیس مشتبہ شخص کو دوسرے کپڑے اور کچھ بھی اتارنے کے لئے کہہ سکتی ہے لیکن معاشرتی اور مذہبی اقدار کو مدِ نظر رکھنا لازمی ہے اگر تلاشی لینے والا ان اقدار کی پاسداری نہیں کرتا تو اسے بھی اک مجرم ہی کی طرح دیکھا جائے گا۔

دارالحکومت اسلام آباد ، کراچی اور ساہیوال میں ہونے والے واقعات اس حقیقت کا واضح مظاہرہ ہے کہ پولیس اپنے روکنے اور تلاشی کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے قوانین کی پاسداری کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اس سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے اور حکومت کو روکنے اور تلاشی کے قابلِ عمل معتدل طریقہ کار کو بنانے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ پولیس کو چاہیے کہ فوری طور پر اصلاحات لانے کے لئے خود اقدامات کرے اور ان اصلاحات کو پورے ملک میں غیر قانونی طور پر روکنے اور تلاشی کے خلاف موثر طریقے سے نافذ کرے۔ لہذا پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہر ہلاکت کا جواز ہونا چاہیے اور قواعد و ضوابط کے مطابق سارے قانونی تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ افسران کو خاص طور پر اس طرح کے مقابلوں کے لئے تربیت دی جانی چاہیے  کہ وہ ان قواعد و ضوابط کو لاگو کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کو فراہم کردہ تربیت ، جو ہر ایک وقوعہ کی بنیاد پر ، موقع اور حالات کی مناسبت سے درست فیصلے کر کے اختیارات کا مناسب اور متناسب استعمال کرنے کا اہل بنائے جو ہر لحاظ سے جائز اور قواعد و ضوبط کے مطابق ہو۔

پولیس روکنے اور تلاشی لینے والے افسروں کے لئے ہیلمٹ یا وردی میں لگے مائیک اور کیمرے متعارف کرا سکتی ہے۔ روکنے اور تلاشی کے دوران ان کاؤنٹر عوام کے لئے خوف اور عدم اعتماد کا باعث بن رہے ہیں اور یہ کیمرے اس عدم اعتمادی کا ازالہ ہو سکتے ہیں۔ وردی میں لگے کیمروں کی موجودگی سے اہلکار تلاشی کے دوران اور زیادہ پر اعتماد ہوجائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ جس شخص کی تلاشی لی جا رہی ہے، وہ خود کو محفوظ محسوس کرے گا۔ اور کسی بھی قسم کے متوقع پولیس مقابلے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور اگر ایسا کوئی حادثہ ہوتا بھی ہے تو اس میں کوئی امر بھی مخفی نہیں رہے گا۔ ناکے اور تلاشی کےاختیارات کا ناجائز استعمال پولیس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے ایسے اکا دُکا واقعات کی وجہ سے عوام پولیس کی ان عظیم قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہے جس میں پولیس نے دہشت گردوں ، خود کش حملہ آوروں اور خطرناک مجرموں کے خلاف کاروائی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور بے شمار معصوم پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *