سیاں مورے پریشاں ۔۔۔ معاذ بن محمود

ایک شعر سنا تھا کبھی جو پوری طرح تو یاد نہیں البتہ مبینہ طور پر مجروح شکل اب تک ذہن میں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ۔۔۔

پہلوئے یار میں بیٹھ کر رات بھر
جو کچھ نہیں کرتے، کمال کرتے ہیں

جو لوگ بائیس سال تک دور سے بیٹھ کر “یار” کے “پہلو” دیکھ دیکھ کر حسرت بھری ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے، آج جب انہیں یار کا پہلو نصیب ہوا تو وہ صرف “کمال” کر رہے ہیں۔ اور کمال بھی اس شعبے میں جس پر خود لعن طعن کرتے یہ بائیس سال ہنس کھیل گئے۔ ہمارے منتخب لوگ آج کل بھیک مانگنے میں کاملیت کا درجہ پانے کی کوشش میں ہیں۔

یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے محبوب سے وصال کے بدلے سیاں جی چاند تارے توڑنے کا وعدہ کرنے کے عادی ہوں مگر وصل کے ڈیڑھ منٹ پورے کرتے ہی “مجھ سے پہلے والے چاند کو اتنی بلندی پر لے گئے اب میں کیسے لاؤں” جیسی تاویلات دینے لگے، اور اس پہ مزید ستم یہ کہ تھوڑی دیر بعد جادو کی پڑیا سونگھ کر اگلے وصال کی ضد بھی کرنے لگے۔ یا جیسے سیاں جی نہ ہوئے ایجنٹ ہوگئے جو یونان کا وعدہ کر کے جہلم کے اس پار بٹھا گئے اور وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ “ہم سے پہلے والوں نے جہلم کو یونان سے بدل دیا ورنہ دریا کے اس پار سائپرس ہی تھا” بتلانے لگے۔ سیاں جی نہ ہوئے انوکھا لاڈلا ہوگئے۔۔ کھیلن کو مانگیں۔۔۔ جی وہی۔۔ اب دیجیے۔ ارے چاند ہی دے دیجیے۔ اور کہاں کچھ بچا اب دینے کو۔

تو صاحبوں معاملات کچھ ایسے ہیں کہ بیرون ملک چھپے جو دو سو ارب آنے تھے وہ تو سنا ہے دو سہیلیوں کے قصے ثابت ہوئے البتہ ان کی جگہ دو عرب ہی آسکے جن کو اچھی والی اوبر کا چکر دلا کر سیاں جی نے سوچا پردیسی ہیں اینٹھ لیں گے جو اینٹھ سکے۔ یعنی سیاں جی نے سافٹ وئیر ایز اے سروس SaaS اور انفراسٹرکچر ایز اے سروس PaaS کی جگہ بھیک ایز اے سروس بنا کر چارجز مانگنے چاہے مگر الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ جیلوں میں پڑے پاکستانی تو آج تک وہیں سڑ رہے ہیں ہاں جنگ کی پانچویں نسل کے ہزاروں مجاہدین کے مشترکہ مامووں کا مشترکہ بیٹا کامران براستہ ٹویٹر اور فیس بک قوم کو ضرور ماموں بنا گیا۔

آنے والے مہمانوں کے اتالیق بھی بنیے تھے۔ ناصرف بھیک نہ دینے پر آمادہ کروایا بلکہ ساتھ ہی کشمیر کے معاملے میں بھی خاموشی اختیار کر کے کھیر کے نام پر پھکی کھلا دی۔ کہنے کو تو چالیس ممالک سیاں جی کے ساتھ کھڑے تھے مگر کشمیر سے متعلقہ قرارداد پیش کرنے کے لیے شنید ہے کہ اندر خانے مطلوبہ تعداد ہی پوری نہ ہو سکی۔ خارجی وزیر نے آکر کچھ ایسی بات کہی جس کا مفہوم “انگور کھٹے ہیں” سا نکلتا تھا۔ “ارے جب دل ہوگا تب یہ بازی کھیلیں گے”۔

لیکن گزارش ہے کہ کھٹے انگوروں کی مٹھاس پر ایمان بالغیب لانا پڑے گا کہ اس کے برخلاف تو فقط ان کرپٹ لوگوں کے اندھے مقلد کہتے ہیں جو اللہ کے اور اس کے بعد ثاقب نثار کے کرم سے واٹس ایپ فیصلوں کے نتیجے میں جیلوں میں پڑے ہیں۔

الحمد للّٰہ۔ سیاں جی کامیاب ہوے۔ کم از کم جیلوں میں سڑانے پر تو کامیاب ہی ہوئے ناں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان کا جوس نکالنا ہے یا قیمہ اس سے قطع نظر ان کرپٹ لوگوں سے جو ہڑپ کیا مال نکلوانا تھا اس پر تاحال سیاں جی بے حال ہیں۔ صورتحال کچھ یوں بھی گمبھیر ہے کہ ہڑپ شدہ مال خود نکالنے کا دعوی کرتے ہیں تو نیب و عدلیہ کھڈا نمبر چار میں چلی جاتی ہیں، اور نیب عدلیہ کے سر ڈالتے ہیں تو کریڈٹ پھر تقریروں کی حد تک ہی بچتا ہے۔

سیاں جی پریشان ہیں کہ سائیکل کا سوچا تھا آگے چندرایان دوئم کی پائلٹ سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔ سوچا تھا یونان جائیں گے ایمسٹریڈم والا ماحول بنائیں گے پر یہاں تو پتوکی چھوڑ دیا گیا اور ساتھ یار دوست بھی گنڈا پور جیسے ف چ قسم کے انسان، پھر دعوے بھی ریاست مدینہ والے؟ بندہ کرے تو کیا۔ وظائف کی کثرت اور بدہضمی کے نتیجے میں کیے گئے استخارے کا نتیجہ بزداری قسم کا وزیراعلی اور موجودہ کابینہ جیسا ہی نکلتا ہے۔

سیاں پریشان ہیں۔

سیاں جہاں جاتے ہیں جواب ملتا ہے “چل بے۔۔۔ ایک تو غریب اوپر سے بدتمیز؟” پھر سیاں جذبات میں پرانے قصے سنا کر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ “مانا کہ میں ماضی میں بدچلن رہی مگر اب میں پارسا ہوں”۔ ارے دنیا بھر کو ڈی چوک سمجھ رکھا ہے کیا؟

ویسے آج کا موضوع بھیک تھا۔ ہم ادھر ادھر بھٹک گئے۔ بھیک سے یاد آیا، اپنے انہی سیاں جی نے جنہوں نے نوجوانوں کو قرضہ دینے والوں کی شان میں فرمایا تھا کہ میرے ٹائیگرز یہ تمہیں بھکاری بنا رہے ہیں، انہی سیاں نے آج ایک لنگر خانے کا افتتاح کیا ہے۔ سبحان اللہ۔ اس موقع پر دفاع ناموس سیاں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کو دیکھ کر مجھے فاروق ستار کا معصوم چہرا یاد آتا ہے جب وہ مرحومہ ایم کیو ایک کے آخری ایام میں بھائی کی اوٹ پٹانگ باتوں کی تشریح کیا کرتے تھے۔ تب میں سوچتا تھا کیا زندگی ہے اس شخص کی۔ اب خوشی ہوتی ہے کہ واہ کیا زندگی ہے اس طبقے کی جو توجیہات میں جدت کی جانب رواں دواں ہے۔ ہاں تو بات ہورہی تھی بھیک کی، قرضہ لینے والوں کو بھکاری کہنے والوں کی اور بھکاری کہنے والوں کی جانب سے آج لنگر خانے کھولنے والوں کی۔

میں سیاں جی کی دانش کا معترف ہوں۔ کم از کم اس حد تک ضرور کہ مجھے یقین ہے اس لنگر خانے میں معاشی کریش پروگرام فیز آنڈے و کٹے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آملیٹ، دیسی ککڑ اور آرگینک قیمہ وغیرہ استعمال ہوسکیں گے۔ چونکہ ملکی معیشت نازک موڑ سے گزر رہی ہے لہذا یہ آنڈے، کٹے اور ککڑیاں یقیناً نقد کی بجائے قرض پر حاصل کیے جائیں گے اور یوں یقیناً اس لنگر خانے پر انہی غریب غرباء کا حق ہوگا جن سے یہ آنڈے، ککڑ اور کٹے حاصل کیے جائیں گے۔

سیاں جی کو مبارک کہ بھیک پر مبنی معیشت کا اس سے بہترین ماڈل کوئی ماہر معاشیات پیش ہی نہیں کر سکتا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *