انزائم ۔ زندگی (7) ۔۔وہاراامباکر

ایک نوجوان ٹی ریکس 68 ملین سال قبل دریا کی وادی میں بھاگا چلا جا رہا تھا۔ اٹھارہ سالہ ڈائنوسار کا قد پانچ میٹر تھا۔ اس کے ٹنوں وزنی جسم کے نیچے پودے اور چھوٹی مخلوقات روندی جا رہی تھیں۔ یہ بھاری بھرکم جسم اپنا سٹرکچر برقرار رکھ سکتا تھا کیونکہ ہڈیاں، ریشے اور عضلات کو جوڑنے کے لئے مضبوط لیکن لچکدار ریشے تھے۔ یہ ایک پروٹین ہے جس کو کولاجن کہتے ہیں۔ یہ ہمارے سمیت، تمام جانوروں کے گوشت کی گوند کا کام کرتی ہے اور جسم کا لازمی جزو ہے۔ تمام بائیومالیکول کی طرح اس کو بنایا اور توڑا بہت ہی خاص مشینوں کے ذریعے جاتا ہے۔ یہ بائیولوجیکل نینومشینیں ہیں جن کے گئیر اور لیور زندگی کے وہ انجن ہیں جو ہر جاندار کو زندہ رکھتے ہیں۔

اس قدیم وادی میں بھاگتے اس ڈائنوسار کے لئے آج کا دن اچھا نہیں تھا۔ ان کروڑوں نینو مشینوں سے بنا ڈائنوسار کا یہ بھاری بھرکم جثہ ہی اس کے لئے وبالِ جان بن گیا۔ یہ دریا کے کیچڑ کی نرم مٹی میں دھنس گیا۔ گھنٹوں تک نکلنے کے لئے کی گئی کوشش رائیگاں گئی۔ اس کے بڑے جبڑے گدلے پانی سے بھر گئے اور یہی دلدلی زمین اس کی قبر بن گئی۔ عام طور پر جانور کا گوشت جلد ہی گل سڑ جاتا ہے لیکن یہ اس قدر تیزی سے دھنسا تھا کہ اس کا پورا جسم کیچڑ اور ریت کی محفوظ رکھنے والی موٹی تہہ میں محفوظ ہو گیا۔ سال گزرے اور پھر صدیاں۔ اس کی ہڈیوں اور گوشت کے سوراخوں میں ٹشو کی جگہ پتھروں نے لے لی۔ ڈائنوسار کی لاش ڈائنوسار کا فوسل بن گیا۔ اس کے اوپر دریا بہتا رہا۔ اس پر ریت اور گارے کی تہہ جمع ہوتی رہی اور دسیوں میٹر نیچے یہ فوسل پڑا رہا۔

چالیس ملین سال گزرے۔ موسم گرم ہوا، دریا سوکھ گئے۔ مردہ ہڈیوں کے اوپر کی تہوں کو گرم صحرا کی ہواوٗں نے کاٹ دیا۔

اور پھر اگلے 28 ملین سال بعد ایک اور نوع کی آمد ہوئی۔ دو پیروں پر چلنے والے ہومو سپیین اس وادی میں پہنچے لیکن اس گرم اور ناموافق علاقے سے آگے بڑھ گئے۔ پھر یورپ سے آنے والوں نے زمین کے اس خطے پر ریاستیں بنائی۔ یہ مونٹانا کا اجاڑ علاقہ تھا۔ اس کو ہل کریک وادی کا نام دیا گیا۔ 2002 میں فاسل ڈھونڈنے والے پیلینٹولوجسٹ کی ٹیم یہاں پہنچی۔ اور اس گروپ کے ایک ممبر نے اس کو ڈھونڈ لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے تین سال میں اس فوسل کو یہاں سے نکالا گیا۔ اس کو لے جانے کے لئے آرمی انجنیرنگ کور کے ہیلی کاپٹر کو استعمال کیا گیا اور یہ نارتھ کیرولینا سٹیٹ یونیورسٹی تک پہنچا دیا گیا۔ ڈاکٹر میری شوائٹزر نے جب اس کی ہڈی کا ٹکڑا دیکھا جو اس ٹرانسپورٹ کے درمیان ٹوٹا تھا تو ایک عجیب لگنے والا ٹشو ہڈی کے اندرونی حصے میں نظر آیا۔ یہاں پر انہیں ریشہ دار مادہ نظر آیا۔ خون کی نالوں اور خلیوں اور کولاجن کے ریشوں سے بھرا ہوا جو اس جانور کو ایک ٹکڑے کی صورت میں رکھتا تھا۔

نرم ٹشو کا باقی رہ جانا بہت کم ہوتا ہے۔ اگرچہ ایسے فوسل بھی ملتے رہے ہیں لیکن ٹشو کا اس طرح سے ملنا نایاب ہے۔ 2007 میں ان کا پیپر شائع ہوا تو اس پر شکوک کا اظہار کیا گیا۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے آخری ٹیسٹ کے لئے انہوں نے ڈائنوسار کے ٹشو کو ایک انزائم کے ساتھ ملایا جو کولاجینیز ہے۔ یہ لاکھوں بائیومالیکیولر مشینوں میں سے ایک ہے۔ چند منٹ میں کولاجن کی زنجیریں جو کروڑوں سال سے برقرار تھیں اس انزائم کی وجہ سے ٹوٹ گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انزائم زندگی کا انجن ہیں۔ پنیر بنانے کے لئے رینیٹ، داغ اتارنے کے لئے ڈیٹرجنٹ میں پروٹیز۔ جیم بنانے کے لئے پیکٹین۔ ہمارے معدوں اور آنتوں میں خوراک ہضم کرنے کے لئے انزائم ان فطری نینو مشینوں کی سادہ مثالیں ہیں۔ تمام زندگی کا انحصار ان مشینوں پر رہا ہے۔ ابتدائی جراثیم سے جراسک دور کے ڈائنوسار اور آج کی ہر زندہ چیز میں۔ جسم کے ہر خلیے میں سینکڑوں یا حتیٰ کہ ہزاروں مالیکیولر مشینیں بائیومالیکیول کو جوڑنے، توڑنے اور ری سائکل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

یہاں پر “مدد” کلیدی لفظ ہے۔ ان کا کام بائیوکیمیکل ری ایکشن کی رفار تیز کرنا ہے جو ان کے بغیر بہت آہستہ ہوں گے۔ خلیوں میں میٹابولزم تیز کرتی ہیں، جس کی مدد سے خلیوں میں کئی ٹریلین بائیومالیکیول مسلسل دوسرے کئی ٹریلین بائیومالیکیول کو بدل رہے ہیں اور ہمیں زندہ رکھتے ہیں۔

میری شویٹزر نے ڈائنوسار کی ہڈی میں اسی طرح کی ایک بائیومالیکیولر مشین کا اضافہ کیا تھا جس کا کام کولاجن کے ریشوں کو توڑنا ہے۔ (وہ جو چند کروڑ سالوں میں بھی نہیں ٹوٹے تھے، اب تیس منٹ میں ٹوٹ گئے)۔

لیکن کیسے؟ کیمائی ری ایکشن تیز کرنے کے لئے ہم کیٹالسٹ سے واقف ہیں لیکن بائیوکیمیکل ری ایکشن میں مدد کرنے والی کولاجنیز انزائم کا ایکشن کا یہ جواب حالیہ برسوں میں ہونے والی ایک بڑی دلچسپ دریافت ہے۔ کم از کم ایک تہائی انزائم اپنے ایکشن کے لئے کوانٹم مکینکس کے مظاہر کا استعمال کرتے ہیں۔ کولاجنیز ان میں سے ایک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

ساتھ لگی تصویر میری شوائٹزر اور ٹی ریکس کی۔ میری شوائٹزر مالیکیولر بائیولوجسٹ اور پیلینٹولوجسٹ ہیں جنہوں نے پہلی بار ڈائنوسار کے فاسل سے کولاجن دریافت کیا۔

اس دریافت کے بارے میں
https://www.smithsonianmag.com/science-nature/dinosaur-shocker-115306469/

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *