انسانیت کا مذہب۔۔ اسحاق محمدی

دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو انسانیت کی خدمت کو دنیا کا افضل ترین کام سمجھتے ہیں اور زبان، عقیدے اور خطے کی جھنجھٹوں میں پڑے بغیر انسانیت کی بھلائی کے کاموں میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے انہی ناموں میں ایک نام ڈاکٹر لینا کارٹینن کا بھی ہے۔

ڈاکٹر لینا کارٹینن 4 فروری 1942 کو فن لینڈ میں پیدا ہوئی، وہیں  پلی بڑھی اور طب کے شعبے میں چائلڈ اسپیشلیسٹ کی حیثیت سے نام کمایا۔ ابھی وہ 29 سال کی تھی کہ سر پر بنی نوع انسان کی خدمت کا بھوت سوار ہوا لہٰذا گھربار، والدین اور عزیز و اقارب یہاں تک کہ وطن کو خیر باد کہہ کر 1971 میں دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے افغانستان کی راہ اپنائی۔ وہاں پہنچ کر کچھ عرصہ کابل کے ایک ہسپیتال میں خدمات انجام دینے کے بعد وہ پسماندہ ہزارہ جات کے سب سے پسماندہ علاقہ، لعل و سرجنگل چلی گئی جہاں انہوں نے ایک بین الاقوامی امدادی ایجنسی کے تعاون سے چار کمروں کے ایک چھوٹے کمپلیکس سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ ان چار کمروں میں سے دو رہائش کے لیے مختص تھے جبکہ دو کمروں میں مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : بےگوروکفن انسانیت۔۔سانول عباسی

بی بی سی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر لینا نے اس بارے میں کہا تھا کہ “یہاں کے لوگ سادہ اور غریب لیکن دل کے امیر ہیں۔ شروع میں غیر ملکی دوست مجھے نصیحت کرتے تھے کہ جب تک کوئی تین بار چائے کی دعوت نہ دے، نہ جائیں لیکن میں پہلی ہی دعوت پر پہنچ جاتی۔ ہر گھر میرا اپنا اور لوگ اپنے تھے”۔ انہوں نے نہایت نا مساعد حالات میں اپنے کام کا آغاز کیا کیونکہ وہاں بنیادی شہری سہولیات کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ حتیٰ کہ بجلی بھی نہیں تھی۔ خود ان کے بقول انہیں اکثر عام الکین (لالٹین) اور ٹارچ کی روشنی میں کام کرنا پڑتا تھا۔ شدید برفباری کے دنوں میں مریضوں کو یا تو چارپائیوں پر ڈال کر لایا جاتا یا پھر مجھے پیدل چل کر خود انہیں دیکھنے جانا پڑتا۔ یاد رہے کہ کابل کے حکمرانوں نے ہمیشہ ہزارہ نشین علاقوں کو عمداً نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی۔

1973 میں سردار داود خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر لینا کارٹینن کو ملک بدر کردیا جس کے بعد خدمت کے جذبے سے سرشار ڈاکٹر لینا نے پسماندہ افریقی ملک ایتھوپیا کا رخ کیا جہاں انہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کا اپنا مشن جاری رکھا۔ ڈاکٹر لینا کو افغانستان سے خاص لگاو تھا لہٰذا موقع ملنے پر 1985 میں اس نے دوبارہ افغانستان آکر کابل میں قائم ریڈکراس ہسپتال کا چارج سنبھال لیا لیکن مجاہدین کی تنظیموں کے درمیان خوفناک خانہ جنگی کے باعث انہیں یہ ملک مجبوراً ایک بارپھر ترک کرنا پڑا۔ 1996 میں ڈاکٹر لینا دوبارہ لعل و سرجنگل چلی آئی۔ اس بار انہوں نے عام علاج معالجے کے ساتھ ساتھ خواتین کو نرسنگ کی تربیت دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا جس سے نہ صرف لعل و سرجنگل بلکہ آس پاس کے اضلاع کی سینکڑوں خواتین کو فائدہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ علاقہ خواتین کی صحت بالخصوص “سیف ڈلیوری” کے حوالے سے افغانستان بھر میں سرفہرست ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  حق دلوانے والے امر ہوتے ہیں۔۔مجاہد مرزا

1999 میں یہ علاقہ ایک خطرناک وباء کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب طالبان نے ہزارہ جات کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی۔ یہاں تک کہ کسی کو وہاں ادویات لیجانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ایسے میں سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ تھا۔ لیکن ڈاکٹر لینا کی ہمت اور کوششوں سے عالمی ادرہ صحت نے جہازوں کے ذریعے ادویات گرانے کا بندوبست کیا۔ ڈاکٹر لینا بتاتی ہیں کہ وہ اس حوالے سے شدید تحفظات کا شکار تھی کہ یہ ادویات زمین تک پہنچتے پہنچتے کہیں برباد نہ ہوجائیں۔ لیکن شکر  ہے  کہ ایسا نہیں ہوا اور پہلی کھیپ ملنے کے ساتھ ہی اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات متاثرہ مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع کردیا۔ یوں ڈاکٹر لینا نے سینکڑوں انسانی جانیں بچانے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ انہی خدمات کے اعتراف میں 2008 میں یورپی یونین نے انہیں “انسانی خدمات کے اعزاز” سے نوازا اور انہیں ایک رول ماڈل قرار دیا۔

ڈاکٹر لینا نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ بقول ان کے “فن لینڈ کا کوئی بھی مرد اس سے شادی کرکے اس دور افتادہ پسماندہ علاقہ میں جانے کے لیے تیار نہیں تھا”۔

اب یہ عظیم خاتون 76 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے اپنے آبائی وطن لوٹ چکی ہیں مگر وہ اب بھی یہاں کے لوگوں سے پیار کرتی ہیں اور افغانستان کو اپنا دوسرا وطن مانتی ہیں۔ جہاں تک لعل و سرجنگل کے لوگوں کا تعلق ہے، وہ انہیں پیار و احترام سے “مامے کلو” یعنی بڑی اماں جان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

سچ ہے کہ دنیا میں انسانیت سے بڑھ کر اور کوئی مذہب نہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *