انصاف کی متقاضی , زینت شہزادی۔منصور ندیم

زینت شہزادی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک جرنلسٹ  2015 میں لا پتہ ہوئی تھی، گزشتہ جمعے کو وہ واپس آگئی، بقول ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال head of the missing persons commission وہ بروز بدھ کی رات خیبر پختونخوا  اور بلوچستان کے بارڈر سے بازیاب ہوئی ہیں ۔اور موجودہ National Accountability Bureau chief کےمطابق غیر حکومتی گروہوں کی جانب سے ان کو اغوا کیا گیا تھا، جب کہ زینت شہزادی کے گھر والوں کی طرف سے  بازیابی کے بعد سے ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

2015 میں حامد انصاری نام کے ایک لڑکے کا ایک پاکستانی لڑکی سے انٹرنیٹ کے ذریعے معاشقے کے سلسلے میں پاکستان آنا ہوا تھا اور بعد میں اس کی پراسرار گمشدگی کی صورت میں اس لڑکے کی والدہ فوزیہ انصاری نے زینت انصاری کی مدد سے پاکستان میں سپریم کورٹ میں اپنے بیٹے کے لا پتہ ہونے کی پٹیشن دائر کی تھی۔زینت شہزادی کا قصور یقینا بہت بڑا تھا کیونکہ زینت شہزادی نے ایک لاپتہ ہونے والے انسان کے بنیادی حقوق پر ماورائے قانون گمشدگی کے لئے آواز اٹھائی تھی۔

انسانی حقوق کی ایک اور خاتون حنا جیلانی نے 2016 میں BBC کو ایک انٹر ویو میں بتایا کہ زینت شہزادی کے لا پتہ ہونے سے پہلے ان کو ایک بار ریاستی ایجنسیوں نے 4 گھنٹے تک زبردستی اپنی حراست میں رکھا تھا اور حامد کے متعلق معلومات حاصل کی تھیں۔
اس سارے معاملے کا ایک سب سے تکلیف دہ پہلو  زینت شہزادی کے  چھوٹے بھائی کی خود سوزی ہے، جو اپنی بڑی بہن سے شدید انسیت رکھتا تھا اور 2016 میں زینت شہزادی کے لاپتہ ہونے کے بعد اس نے اس جذباتئ وابستگی کی بنیاد پرخود سوزی کر لی تھی۔

چونکہ اب زینت شہزادی کو بازیاب کروا لیا گیا ہے ۔ الحمداللہ!مگر یہاں کچھ سوالات  ذہن کے پردے پر کلبلاتے  ہیں ۔۔

کیا کوئی بتانا پسند کرے گا زینت شہزادی کو اغوا کرنے والے غیر ریاستی عناصر اور خفیہ ایجنسیاں کون ہیں؟

زینت شہزادی کے اغوا سے ان غیر ریاستی عناصر اور خفیہ ایجنسیوں کا کیا مفاد وابستہ تھا؟

اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ زینت شہزادی کو ملک میں پائے جانے والے کسی خفیہ تہہ خانے سے نہیں بلکہ پاک افغان سرحد سے ہی بازیاب کروایا گیا ؟

ایک لاپتہ فرد کی گمشدگی کے حوالے سے کام کرنے والی خاتون صحافی زینت شہزادی 2 سال سے لاپتہ تھی۔ دو روز قبل لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ اور حال ہی میں نیب کے چیرمین بننے والے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا ہے کہ زینت شہزادی کو پاک افغان سرحد سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں کچھ غیر ریاستی عناصر اور خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا۔

کیا ریاست پاکستان میں کبھی بھی کسی کو  بھی لا پتہ کیا جاسکتا ہے؟

اس کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کسی فورم پر وکیل کرنے کا حق نہیں ہے؟

اگر وہ شخص واقعی کسی بھی غیر قانونی فعل میں ملوث ہے تو کیا اس کے گھر والوں کو اس کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری نہیں ہے؟

لا پتہ کرنے کے بعد ان کو کسی بھی قانونی طور پر چارہ جوئی کا حق حاصل نہیں ہے؟

کیا پاکستان ہم نے لا پتہ ہونے کے لئے حاصل کیا تھا؟

یہ وہ سوالات ہیں جو شاید ہمیشہ سوال ہی رہیں گے،جن کا کبھی کوئی جواب نہیں مل پائے گا۔۔۔کیوں کہ جس معاشرے میں ناانصافی ،بد عنوانی اور کرپشن اپنے عروج پر ہو وہاں صرف سوالات کی  گونج ہوتی ہے ،جوابات نہیں  ملتے اور سوال کرنے والے کو اغؤا کرلیا جاتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *