• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تینتالیسواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تینتالیسواں دن)۔۔گوتم حیات

SHOPPING
SHOPPING

سوشل میڈیا پر کچھ ایسے دوست بھی ہیں جن کی باتوں پر میں آنکھیں بند کر کے بھی یقین کر لیتا ہوں کہ
“ہاں بھئی یہ خبر جب ان صاحب یا صاحبہ نے شیئر کی ہے تو یقیناً سو فیصد نہ سہی آٹھانوے فیصد تو درست ہی ہو گی۔۔۔”۔
میرے ان ہی قابلِ اعتماد دوستوں میں ایک نام محترمہ فرحت رضوی صاحبہ کا بھی ہے۔ ہندوستان میں رہائش پذیر گنگا جمنی تہذیب کی روشنی سے مالامال فرحت صاحبہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن بھی ہیں۔ آج رات ان ہی کے پیج پر ایک خبر نظر سے گزری، تصویر کے ساتھ لکھی ہوئی لائن میں سمجھنے سے قاصر تھا کیونکہ وہ ہندی رسم الخط میں تھی۔ لیکن تصویر نے مجھے پریشان کر دیا۔ اس تصویر میں ایک سڑک پر چند لوگ مع اپنے اہل و عیال کے سر پر سامان کی پوٹلیاں اٹھائے تھکے ہوئے چہروں کے ساتھ چل رہے ہیں، ان کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر پرواز کر رہا ہے اور اس پر سے لال رنگ کی کوئی چیز پھینکی جا رہی ہے۔۔۔ تصویر دیکھ کر میں یہی سمجھا کہ شاید ہیلی کاپٹر سے پسی ہوئی لال مرچوں کی بارش کی جا رہی ہے یا شاید کوئی فوڈ آئٹم پیدل چلتے لوگوں پر پھینکا جا رہا ہے۔۔۔ لیکن میری یہ دونوں باتیں اگلے ہی لمحے غلط ثابت ہو گئیں۔ جب میں نے اس تصویر پر کمنٹ کے آپشن میں سوالیہ نشان مارک کر کے پوسٹ کیا تو میری دوست نے جواب دیا؛
“جہاں الفاظ اپنے معنی کھو دیں۔۔۔
آج فلائی پاسٹ ہوا۔۔۔ ان پر پھول برسائے جا رہے ہیں جو بھوکے پیاسے سینکڑوں میل پیدل چل کر اپنے گھر جا رہے ہیں۔۔۔”
مجھے اپنی دوست کے یہ الفاظ پڑھ کر یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں نے تفصیلات کے لیے فور اً ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے دکھی دل کے ساتھ مجھے بتایا۔۔
“ہندوستان میں اس وقت لاکھوں غریب مزدور اپنے گاؤں، دیہات سے دور دوسرے صوبوں میں لاک ڈاون کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ کام چھوٹ گیا، دیہاڑی مزدوری مل نہیں رہی۔ یہ کیا کھائیں گے، کہاں رہیں گے۔۔۔ اب کمرے کا کرایہ تک نہیں دے سکتے۔ مودی سرکار کو لاک ڈاون کرنے سے پہلے ان کی واپسی کا بندوبست کرنا چاہیے تھا یا ان کی روزی روٹی کا کوئی انتظام۔۔۔ لہذا تنگ آکر زیادہ تر لوگ پیدل ہی اپنے وطن (گاؤں) کی طرف چل پڑے۔۔۔
اس دوران کئی اموات ہو گئیں۔۔۔ بھوک سے، تھکان سے۔۔۔
اوپر سے فوج فلائی پاسٹ کر رہی ہے، پھول ڈالے جا رہے ہیں۔ اس پر بھی کروڑوں کا خرچ۔۔۔
تیری دنیا میں دل لگتا نہیں واپس بلالے
ارے او پالنے والے!”
میں نے جب ان سے پوچھا کہ یہ سب کتنے دنوں سے چل رہا ہے تو ان کا کہنا تھا؛
“یہ تو کافی دنوں سے چل رہا ہے۔ یہاں پچیس مارچ سے لاک ڈاون شروع ہوا ہے۔۔۔ یہ فلائی پاسٹ میڈیکل اسٹاف اور پولیس کے شکریہ کے لئے بھی کیا گیا۔ اب کچھ ٹرینیں چلائی ہیں۔ اس پر بھی تماشا ہو رہا ہے”
تو لوگوں کے یہ قافلے پچیس مارچ کے بعد سے ہی اپنے وطن (گاؤں) پہنچنے کے لیے شہروں سے نکل پڑے تھے۔ اپنی دوست سے بات کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ان بیچاروں کو اپنے وطن پہنچ کر بھی کون سا سکون مل جانا ہے۔ وطن کے درودیوار پر پہلے سے ہی بھوک کا راج تھا اسی لیے یہ شہروں میں روزگار کے حصول کے لیے گئے تھے۔ کرونا کی وبا نے ان سے روزانہ کی اجرت بھی چھین لی۔ جو کچھ ان کے پاس جمع پونجی ہو گی وہ راستوں کی دھول لے اڑی۔۔۔ اب اپنے اپنے وطن (گاؤں) پہنچ کر یہ تھکن سے نڈھال لوگ ایک نئی طرح کی اذیت کا ہی سامنا کریں گے۔۔۔
ان قافلوں میں چلتے ہوئے لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے ان کے لیے جو راستوں میں بھوک اور تھکن کی تاب نہ لاکر چل بسے۔۔۔ کیا وہ ان لوگوں کی موت پر آنسو بہا رہے ہوں گے؟
یا وہ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کاش ان کی موت وطن پہنچ کر ہی ہو جاتی کم سے کم وطن میں موجود رشتے داروں کو تو تسلّی ہو جاتی ان کے جسموں کو مری ہوئی حالت میں ہی دیکھ کر۔۔۔ اس طرح وہ لواحقین اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر مرنے والے کی آخری رسومات کو ہی ادا کر کے ذہنی طور پر کچھ آسودہ ہو جاتے۔۔۔ مگر افسوس کہ جو راستوں میں مر گئے وہ اب کبھی اپنے پیاروں سے نہیں مل سکیں گے۔۔۔ کبھی ان راستوں پر تقسیم ہند کے دوران بھی تنگ دست لوگوں کے قافلے گزرے ہوں گے۔ ان میں سے بھی بہت سوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی تھکن سے چور پیدل چل چل کر راستوں میں دم توڑ دیا تھا۔۔۔ کوئی نہیں تھا ان کی دادرسی کے لیے۔ اُس وقت بھی حکمراں طبقہ خاموش تماشائی تھا۔ نفرت کی آگ میں معصوموں کو ایندھن کی طرح استعمال کر کے ویران راستوں میں سسکنے کے لیے پھینک دیا گیا تھا۔
فرحت سے گفتگو کے دوران انہوں نے مجھے کچھ ہندی اخبارات کے لنک بھی بھیجے  اور اس کے ساتھ ہی دو معنی خیز کارٹون بھی۔ ان میں سے ایک کارٹون میں مفلوک الحال بوڑھا آدمی چلتے چلتے بھوک اور تھکن کی وجہ سے زمین پر لیٹ چکا ہے، اس پر ہیلی کاپٹر گلاب کی پتیاں برسا رہا ہے۔ بوڑھا کہہ رہا ہے
“نو فلاورز۔۔۔ فوڈ پلیز”
ایک دوسرے کارٹون میں ایک تنگ دست لڑکا درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے باپو سے پوچھ رہا ہے کہ
“یہاں تین زون ہیں۔ ریڈ زون، اورنج زون اور گرین زون۔
“روٹی کس زون میں ہے باپو؟”
کاش باپو اُس تنگ دست لڑکے کو کوئی تسلی بخش جواب دے سکیں۔۔۔
میرے خیال میں غریبوں کے لیے روٹی کہیں بھی دستیاب نہیں ہے۔۔۔ اگر ان غریبوں کے لیے کچھ دستیاب ہے تو وہ “محرومیاں ہیں، ناآسودگیاں ہیں، بھوک ہے، ذلت ہے اور موت ہے۔۔۔”

تلنگانہ میں مرچوں کے کھیتوں میں کام کرنے والی چھتیس گڑھ کی رہائشی بارہ سالہ لڑکی جس کا نام جمالو تھا لاک ڈاؤن کے سبب کام ختم ہونے اور ٹرانسپورٹ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے کھیت مزدوروں کے ساتھ تلنگانہ سے پیدل چھتیس گڑھ کے لیے نکل پڑی۔ تیرہ مزدوروں کا یہ قافلہ اپنے گاؤں پہنچنے کے لیے مستقل پیدل چلتا رہا، اس قافلے میں شریک ایک لڑکی اپنے گاؤں تقریباً پہنچ ہی چکی تھی کہ تھکن کی تاب نہ لاکر عدم توازن کے سبب چلتے چلتے گر پڑی اور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔
اطلاعات کے مطابق تلنگانہ سے بیجاپور تک کا فاصلہ ایک سو پچاس کلومیٹر ہے۔ وہ بارہ سالہ لڑکی اپنے دوسرے تیرہ ساتھیوں کے ساتھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ضلع بیجاپور پہنچ چکی تھی، اب ان کی منزل بہت قریب تھی محض پچاس کلومیٹر کا فاصلہ رہ گیا تھا لیکن بدقسمتی سے تھکاوٹ کی وجہ سے وہ چلتے چلتے اچانک گر گئی۔مستقل پیدل چلتے رہنے کی وجہ سے وہ تیز بخار میں بھی مبتلا ہو چکی تھی۔
اخبار کے مطابق لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ “جمالو” ان کی اکلوتی اولاد تھی اور ہماری بیٹی زندگی میں پہلی بار گھر، گاؤں سے دور دو ماہ پہلے ہی مرچوں کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے تلنگانہ گئی تھی۔

SHOPPING

کچھ عرصے بعد یہ لاک ڈاؤن ختم ہو جائے گا، کرونا کی وبا بھی رخصت ہو جائے گی۔۔۔ مگر ان غریبوں کے لیے جو زندہ بچ جائیں گے، اذیتوں کے ایک اور طویل عرصے کی شروعات ہو گی۔۔۔ کیا ان اذیتوں کا لازوال سورج بھی لاک ڈاؤن کی طرح غروب ہو گا یا وہ ہر روز طلوع ہو کر اپنی کرنوں سے غریبوں کے جسموں کو جھلساتا رہے گا۔۔۔ ان لاغر جسموں کے خالی پیٹ پر آگ کے کوڑے برساتا رہے گا۔۔۔
اس زمین کے عام لوگ جو تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور محنت میں بھی جن کا کوئی ثانی نہیں مگر ان کو اس حال میں پہنچانے والے درندہ نما حکومتی نمائندے لاک ڈاؤن کے بعد کیا کبھی اپنی کوتاہیوں کا احساس کر پائیں گے۔۔۔؟
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *