نذیر عباسی شہید اور آج کے حالات/سجادظہیر سولنگی

پاکستان بننے کے بعد اس ملک میں آج تک جمہور کا دور درست سمت سے نہیں چل سکا۔ عجیب اتفاق ہے، جولوگ اس ملک کو بنانے میں سب سے آگے تھے ۔ملک بنتے ہی وہ تمام جیل   کی دیواروں  کے پیچھے بند کردیئے گئے۔ جو قوتیں اس ملک کے حق میں نہیں تھیں، ان کو اپنی مکمل حمایت اور تحفظ فراہم کیا گیا۔ ان میں سب سے  بڑی مثال بنیاد پرست جماعتوں کی ہے۔ ملک میں ترقی پسند قوتوں کو جبر کا نشانہ بنانا  ،ان انتہا پسند قوتوں کو آگے لانا تھا۔

 

 

 

لیکن اس کے باوجود عوامی سیاست کے رُوح رَواں اپنی مشعل اٹھائے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ انقلاب کے گیت گاتے رہے۔ سقراط کی طرح زہر پیتے رہے۔ عوامی آزادی کی جنگ میں عشاق کے قافلے کچھ پَل کے لیے رُکے ضرور لیکن کسی بھی انقلابی محاذ پہ پَسپا نہیں ہوئے۔

آج بھی ہمارے ملک میں بھوک اور افلاس کے مارے محکوم اور مجبور انسان مفلسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں ہیں ۔آج جب عوام دوست نظریات کے منحرف لوگ  یہ باتیں کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ کیا سوشلزم کی آج بھی ضرورت ہے؟۔ان کے ایسے سوال کا جوا ب اس وقت بھی وہی تھا اورآج بھی ہم اس پر قائم ہیں، سوال اب یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے سماج میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم درست ہو گئی ہے؟ناخواندگی سے لیکر غربت کے سوال کا اپنی طاقت سے موجود ہونا ، جہالت ،رشوت، سفارش جیسے ہتھکنڈے جہاں ابھی تک جاری ہوں ، بنیاد پرستی ،رجعت پسندی اور نسل پرستی کی یلغار رواں دواں ہو، صحت کے ادارے انسانوں کی ضروریات نہ پوری کرتے ہوں ، جہاں تعلیم نجی اداروں کی ملکیت بن چکی ہو۔اور عوام دوست قوتوں کے خلاف جبر کی   لمبی تاریخ ہو۔ جہاں منصف عوام کے مسائل کے بجائے عوام دشمن منصوبو ں کو پروان چڑھاتے ہوں، تو ایسے ماحول میں صرف اور صرف ایک ہی عوام دوست نظریہ باقی ہے، جس کو تاریخ سائنسی  سوشلزم کہتی ہے۔اور ایسے نظریات کے عظیم سپاہی جن کو یاد کرنا آج بھی ہمارے لیے عوامی جدوجہد کی طرف بڑھنے کا ایک پختہ عمل ہے۔

کامریڈنذیر عباسی شہید اور کامریڈ حسن ناصرشہید کو کسی بھی وقت یاد کرنا کسی نام نہادکے لئے ڈر اور خوف کا باعث تو بن سکتا ہے لیکن ایک انقلابی کے لیے انقلاب کی آہٹ سے کم نہیں ۔حسن ناصر اور نذیر عباسی ہمارے قافلے کے ایسے راہنما ہیں، جن کی انقلابی قربانی کو باربار یاد کرنا ہمارے لیے ایک انقلابی فریضہ ہے۔9 اگست نذیر عباسی شہیدکی شہادت کا دن ہے۔ اس لیے ہم آج انقلابی جدجہد کے عظیم سوشلسٹ راہنما نذیر عباسی کو  خراجِ  تحسین پیش کریں گے۔

نذیر عباسی کا تعلق سندھ کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔آپ کا جنم 10 اگست 1953 ء کو ٹنڈوالہ یار میں جان محمد عباسی کے گھر   ہُوا۔ جو کہ  حیدرآباد سے کچھ فاصلے پر ہے ۔آپ 5 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پرتھے۔بچپن میں سب سے پیار کرنے والے نذیر عباسی محکُوم طبقات کی مدد میں مشغول رہتے تھے۔ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عام انسانوں کے چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹانے والے ایک خوددار انسان تھے۔اسکول کی سطح پر ہونے والی تقریبات آپ کے َمشاغل کا مرکز تھیں۔ انسانی خدمات کا جذبہ انہوں نے بچپن سے پال رکھا تھا ، جس کی ایک وجہ وہ زمانہ طالب علمی میں اسکاؤٹ سرگرمیوں میں  بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اپنی نصابی کتابیں محکوم بچوں کو دے دیا کرتےتھے۔ جس کی وجہ سے انہیں گھر والوں کی طرف سے ڈانٹ کھانی پڑتی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گھر والوں کے پاس نذیر کو پڑھانے کے لیے مزید طاقت نہیں تھی۔ اس لیے نذیر عباسی نے چنے بیچ کر اپنے تعلیمی اخراجات بھی اٹھائے اور وہ ساتھ ساتھ گھر والوں کی بھی مدد کرتے رہے۔

آپ کی سیاسی شروعات مقامی سطح کے قوم پرست طلبہ جماعت “آزاد ماروڑا اسٹوڈنٹ فیڈریشن ” سے ہوئی۔ یہ دور 68- 1967 ء کا تھا۔ ملک میں ون یونٹ کے خلاف ایک آگ لگی ہوئی تھی۔عوامی سیاست اپنی طاقت سے موجود تھی۔ نذیر عباسی پر ایسے ماحول کا  بہت گہرا اثر ہُوا۔ علاقائی سطح پر ہونے والی بھوک ہڑتالوں میں شمولیت نذیر کا فرض بن چکا تھا۔ دوسری طرف ملک میں جاری غیرمساوی تقسیم  کی جو فضا تھی۔ بنگال کی سیاسی تحریک کے بہت بڑے اثرات مرتب ہورہے تھے۔ زبان کے مسائل نے سندھ کے دانشوروں، شاعروں ، صحافیوں اور کسانوں کو ایک جگہ جمع کردیا تھا۔اپنے شہر میں عوامی مسائل پر جدوجہد کرنے کی پاداش میں انہیں جیل بھی جانا پڑا، یہ ایسا دور تھا کہ جس میں سیاسی کارکنان کو آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے پر جیلوں میں بند کردیا جاتا تھا۔نذیر عباسی کی وہاں ان سیاسی راہنماؤں سے  ملاقاتیں ہوئیں ، جو ترقی پسند سیاست کی  سرکردہ قیادت میں شمار کیے جاتے تھے۔

اس دور میں وقت کے جابر حکمران ٹولے کے خلاف لگنے والے فلک شگاف نعرے اور دوسری طرف نذیر عباسی کا اعلیٰ تعلیم حاسل کرنے کے لیے سندھ یونیورسٹی پہنچنا ، جہاں طلبہ کی مختلف ٹولیاں بنی ہوئی تھیں۔ یونیورسٹی میں آپ کی ملاقات کچھ ترقی پسند طلبہ راہنماؤں  سے ہوئی اور جیل میں بحث اور مباحثے کے اثرات آپ پر پہلے ہی سے مرتب ہو چکے تھے جس کے بعد آپ نے قوم پرست خیالات ترک کرکے بائیں بازو کی ایک مقبول تنظیم ” سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ” میں شمولیت اختیار کی۔ جہاں آپ نے مارکس ، اینگلز ، لینن اور اسٹالین کے عظیم افکار کا مطالعہ کیا، جس سے آپ کو معلوم ہوا کہ انسانی سماج کے تضاد کیا ہیں۔ جدوجہد کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں ۔کون سا طبقہ تبدیلی میں انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے، نظریاتی سیاست نے آپ کی جو انقلابی تربیت کی ،اس نے آپ کے اندر وہ اعتماد اور رہنمائی کی صلاحیتیں پیدا کیں، کہ آپ سندھ کے ساتھ ملکی سطح پر ایک انقلابی طالب علم  و رہنما بن کر اُبھر کے  سامنے آئے۔مختلف عہدوں پر تھوڑے ہی عرصے میں منتخب ہوئے۔ آپ پاکستان فیڈرل یونین آف اسٹوڈنٹس کے وائس چیئرمین رہے۔ یہ تنظیم اُس وقت وفاق میں چاروں صوبوں کی ترقی پسندطلبہ تنظیم کی حیثیت سے اتحاد کے طور پر جانی جاتی تھی۔اس اتحاد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پنجاب اسٹوڈنٹس یونین شامل تھیں۔

نذیر عباسی اپنی جدوجہد کی وجہ سے سامراجی قوتوں کی آنکھوں میں کنکر کی طرح تھے ۔ اس لیے انھیں مختلف اوقات میں گرفتار بھی کیا جاتارہا۔ ہر بار اسے عوامی اور انقلابی کام کرنے سے  روکا گیا۔ لیکن نذیر تو شاہ عنایت شہید کی طرح ایک سچا آدرشی تھا۔ اسے تو محنت کش اور دہکان کی نجات کے لیے کوئی سُکھ عزیز نہ تھا۔ انہوں نے اپنی انقلابی ساتھی حمیدہ گھانگھرو سے شادی کی۔ پٹ فیڈر سے لیکر سندھ میں چلنے والی کسان تحریک ، محنت کشوں کے مسائل اور طلبہ کی غربت نذیر عباسی کے مقصد کا اولین فریضہ تھا۔

آپ کو 31جولائی 1980 ء میں کراچی کے پارٹی دفتر سے گرفتار کیا گیا۔اور مسلسل 9 دن اذیت گاہ میں جسمانی تشدد کرکے 9 اگست کو شہید کردیا گیا۔نذیر عباسی 1988 ء میں بحال ہونے والی جمہوریت کے بہت بڑے انقلابی شہید ہیں،ایسے سیاسی کارکنان کے لیے جمہوری اقتدار ماسوائے جیل کی سلاخیں اور تشدد کے کچھ بھی نہیں، بات اس پھندے کی تھی ، آمریت میں وہ گلے میں ہوا کرتا ہے اور جمہور میں وہی پھندہ بازو میں ہوا کرتا ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے۔ جمہوریت جو اپنے وجود میں نام نہاد ہے ۔لیکن اس کی بحالی کے لیئے دورِ آمریت میں ہم سوشلسٹ جدجہد کرتے رہتے ہیں۔ہم جمہوریت کے لیے پھانسی کاپھندہ اپنے انقلابیوں کے گلے میں ڈالتے ہیں لیکن جمہوریت سے سوشلسٹوں کا کیا تعلق ہے ؟ یہ ملک وہ بدنصیب ملک ہے جہاں جمہوریت کا آپریشن آئین کے ذریعے کیا جاتا ہے ،اس ملک کو قائم ہوئے 7دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہونے والا ہے ۔اس کے باجوداس ملک میں گوری سرکارکی اجارہ داری آج بھی چل رہی ہے۔پاکستان میں بائیں بازو کے کارکنان خاص طور سے کمیونسٹ پارٹی نے آمریت کے خلاف تاریخ ساز جدوجہد کرکے جانی و مالی قربانیوں سے جمہوریت دشمن قوتوں کو ناکام بنایا ہے۔جہاں بورژوازی جمہوریت نے کامریڈوں کا راستہ روکا ہے ،وہاں رجعت پرست قوم پرست جماعتوں نے سر خ انقلاب کے حامیوں کو کچلنے کی کوشش کی ۔ہم اس لیے جمہور کی جنگ لڑتے ہیں   ، پھندہ بیشک ہمارے بازو میں ہو، لیکن ہمیں کچھ بولنے کی آزادی ضرور ہو۔اس جنگ کے لیے سوشلسٹ کارکن لڑتے رہیں گے۔

آج اگر سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے جن تعلیمی اداروں میں قوم پرست تنظیموں کی جانب سے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے ترقی پسند ق قوتوں اور سوشلسٹ طلبہ تنظیموں کا راستہ روکا گیا ہو ۔ آج وہاں بنیاد پرست جماعتیں اپنی گرفت مضبوط بنا رہی ہیں۔جن تعلیمی اداروں  میں نذیر عباسی کو نظریاتی سیاست کا پیروکار ہونے کی وجہ سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ آج ان درسگاہوں میں روشن خیالی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں ایک یلغار کی صورت اپنا جال پھیلا رہی ہیں۔ماضی میں بہت تشدد پسند حملوں کے باوجود بھی سرخ انقلاب کے چاہنے والے رات دن ایک کرکے اشتراکی انقلاب کے جھنڈے بلند کرکے سامراجی ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ ہٹلر اور مسولینی کی باقیات کے خلاف بھی جنگ لڑتے رہے ۔آمریت کے اس کالے دور میں جہاں اشتراکی پارٹی کے حامیوں اور کارکنان کو لڑتے دیکھا وہاں جھوٹے نعرے مارنے والے مسلسل انقلاب کا  دعویٰ کرنے والے پاکٹ کمیونسٹ بھی آمریت سے ڈر کے مارے بھاگتے اور ملک چھوڑتے نظر آئے ۔اگر کھڑے رہے تو جبر کے سامنے مارکس ،لینن اوراسٹالن کے پیروکار آمریت سے آنکھ ملا کر کھڑے رہے ۔جمہوریت کی بحالی میں بائیں بازو کے کارکنان کا کردار کبھی بھی نہیں بھلایا جا سکتا ۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جمہوریت کی جنگ ہمیشہ محکوم طبقے کی لڑائی سے شروع ہوئی ہے ۔اس جنگ کے عظیم سپاہی کامریڈ شہیدنذیر عباسی اور کامریڈشہید حسن ناصرپاکستان کی سیاست کے وہ اہم کردار ہیں جنہوں نے آمریت کے سامنے جان دیدی لیکن جمہوریت کاسورج غروب ہونے نہیں دیا ۔

آج نذیر عباسی کو جدا ہوئے 43 برس بیت چکے ہیں، لیکن یوں لگتاہے کہ ہر آئے دن میں نذیر اپنے آپ نئی صبح بن کر  ہر ایک انقلابی تحریک کی راہنمائی کر رہاہے۔ 2017ء میں اکتوبر انقلاب کی ایک صدی ، 2018ء میں جدید اشتراکی فکر کے بانی کارل مارکس کی دو سو سالہ یوم پیدائش تقریبات اور2020ء میں عظیم فلسفی کارل مارکس کے ساتھی فریڈرک اینگلز کی بھی دو سو سالہ   تقریبات تمام عالم میں عظیم و عالیشان طریقے سے منائی جاچکی ہیں۔ آج بھی ایسے مشکل دور میں عوام دوست حلقے ایسی تقاریب سے انقلابی لیڈران کو خراجِ تحسین پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انقلابی نظریات کے فروغ کے لیے جن عشاق نے قربانی دی تھی وہ رائیگاں  نہیں جائیگی۔حالات آج بھی وہی ہیں، وہی قانون، جس طرح ماورائے عدالت ہتھکنڈے نذیر عباسی جیسے انقلابیوں کے ساتھ جاری تھے آج بھی وہی تاریکی چھائی ہوئی ہے۔آج ہمارے سماج میں کسان، مزدور،محکوم خواتین اور دہکان اپنی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ، ایسے وقت میں ان کی لڑائی کو مزید مضبوط اور اس میں اپنی جدوجہد کے ساتھ شمولیت ہی نذیر عباسی کے خواب کی تکمیل ہے۔ اس فرسودہ نظام کو جڑ سے   اُکھاڑنے کی جدوجہد نذیر عباسی نے شروع کی تھی، اس جدوجہد کو پھر سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے مل کر عہد کریں کہ نذیر عباسی ہم تمہاری مشعل کے وارث ہیں۔تیرے پرچم کو ہم جھکنے نہیں دینگے۔

Advertisements
julia rana solicitors

(سجاد ظہیر سولنگی، سندھ کے نوجوان ترقی پسند دانشور ہیں ، ان کے مضامین اردو اور سندھی زبان میں شائع ہوتے رہے)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نذیر عباسی شہید اور آج کے حالات/سجادظہیر سولنگی

Leave a Reply