جوناگڑھ سے جموں کشمیر تک۔شفقت راجہ

برصغیر ہند میں انگریز حکومت دو حصوں پر مشتمل رہی ہے جس کا باقاعدہ آغاز برطانیہ اور فرانس کے درمیان تین کرناٹک جنگوں (1844-56) اور جنگ پلاسی (1857) کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی فتح اور بنگال پر قبضے سے ہوتا ہے ۔ اس کا دوسرا مرحلہ1857 کی بغاوت کی ناکامی کے بعداقتدار کی تاج برطانیہ کو برائے راست منتقلی (ایکٹ1858 ) اور 1947میں برطانوی اقتدار کے خاتمے تک محیط ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی سے برصغیر کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا تھاجس میں انڈین کانگرس اور مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعتیں برصغیر کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے برطانوی راج سے اصلاحات، پھر مقامی حکومت اور آخرکار تخلیہ کے مطالبات کر رہی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد وہ نوآبادیاتی نظام اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔

کابینہ مشن کی ناکامی یعنی مشن کی سفارشات کے تحت مشترکہ حکومت اور دستور سازیہ اسمبلی میں”پنجاب، سندھ ، بنگال میں مسلمانوں کی نمائندہ” مسلم لیگ کی عدم شرکت کے بعد 3جون 1947کو وائسرائے ہندلارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا منصوبہ پیش کر دیا جس کے مطابق برطانوی ہند کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلم اور غیرمسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان اور انڈیا نامی دو “ڈومینینٹ ممالک ” کی تشکیل کی جائے گی جبکہ ہندوستانی ریاستوں کے لیے کابینہ مشن ہی کی سفارشات کے مطابق طے ہوا کہ تاج برطانیہ کی حاکمیت اعلیٰ کے خاتمے پر ہندوستانی ریاستوں کی خودمختار حیثیت بحال ہو جائے گی اور وہ اپنے فیصلوں میں مختار ہوں گی۔

tripako tours pakistan

ریاستوں کو دراصل ایسی ہی یقین دہانیاں کرپس مشن(1942)، چیمبر آف پرنسز میں لارڈ ویول (جون1945، جنوری1946) اور کابینہ مشن ” مئی 1946) نے پہلے سے کرائی ہوئی تھیں  جس کی وجہ سے جون میں ہونے والے   ریاست کے اجلاس کے بعد بھوپال، ٹراؤنکور اور حیدرآباد نے اپنی خودمختاری کابظاہر اعلان کر دیا ہوا تھا۔ تقسیم ہند کے اس ماؤنٹ بیٹن منصوبہ کو جون 1947 ہی میں کانگرس، مسلم لیگ اور سکھ کانفرنس نے بھی منظور کر لیا اور پارٹیشن کمیٹی اور باؤنڈری کمیشن تشکیل دیا گیا۔

جولائی 1947میں مذکورہ منصوبے  کی روشنی میں برطانوی پارلیمنٹ اور تاج برطانیہ نے انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ کی منظوری دی جس کے مطابق15 اگست 1947ے انڈیا اور پاکستان نامی ڈومنینز کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور یہ کہ اس دن سے تاج برطانیہ کی حاکمیت اعلیٰ کے خاتمہ پرریاستی حکمرانوں”اور قبائلی علاقوں” کے ساتھ مختلف امور پر مشتمل معاہدات ،تمام اختیارات اور ذمہ داریوں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا یعنی وہ تمام تر اختیارات ریاستوں کو منتقل ہو جائیں گے جو ان معاہدات کے تحت تاج برطانیہ کو حاصل تھے اور قانونی طور پر ان ریاستوں کی حیثیت خودمختار ہو جائےگی۔ “تاج بر طانیہ کی طرف سے اس حاکمیت اعلیٰ کو آنے والی مملکتوں پاک و ہند کو منتقل نہیں کیاگیا تھا”۔

برصغیر کی تقسیم کے عمل میں جہاں لاکھوں انسان فرقہ واریت میں قربان اور ہجرت میں بے یارومددگار بے گھر ہوئے وہیں ریاستوں کے معاملے میں اس قانونی ابہام نے کافی مسائل کو جنم دیا۔ چونکہ تاج برطانیہ کے ساتھ مختلف سطح کے معاہدات کے ذریعے ریاستوں میں مقامی شخصی راج قائم رہا تاہم اس نئی صورت حال میں ریاستوں کے اندر تین طرح کی سوچ کارفرما تھی۔ چھوٹی اور کمزور ریاستوں کےلیے قائم رہنا مشکل تھا لہذا مجبوراًدونوں نئی ڈومنینز میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق پر تیار تھیں جبکہ مہاراجہ ڈونگرپور چھوٹی ریاستوں کی گروہ بندی اور خودمختاری کے قائل تھے،

ایک گروہ نواب بھوپال کی تجویز پرریاستوں کے اتحاد پر مشتمل تیسری ڈومنین بنانے کے لیے کوشاں جبکہ چند بڑی ریاستیں اپنی اپنی خودمختاری کے لیے بھی ہاتھ پیر مار رہی تھیں جن میں حیدرآباد، بھوپال، ٹراونکور، بیکانیر اور جموں و کشمیر سر فہرست ہیں۔ برطانوی اانتظامیہ کے ناظمین میں بھی ریاستوں کے الحاق اور حق خودمختاری پر اختلاف رائے موجود تھا ۔ دوسری طرف انڈین کانگرس کی قیادت ریاستوں کی پوری ٹوکری ہتھیانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کوتیار تھی جبکہ مسلم لیگ اپنی پالیسی کا پالن کر رہی تھی کہ ریاستیں اپنے مستقبل کے تعین میں غیرمحدود وغیرمشروط حد تک آزاد ہیں۔

برطانوی حکومت ہند نے اعلان کیا کہ15 اگست 1947تک ریاستیں اپنی آبادی اور جغرافیائی اہمیت اور ضرورت کے مطابق کسی ایک ڈومنین کے ساتھ الحاقی دستاویز ات کو مکمل کر لیں،یہ اشارہ بھی دیاکہ ریاستیں معاشی اور دفاعی لحاظ سے خودمختاری قائم نہیں رکھ سکیں گی اور نہ ہی حکومت برطانیہ کسی بھی ریاست کی خودمختاری کو تسلیم کرے گی۔ کابینہ مشن کے اعلان کے برعکس اپریل 1947ہی میں پنڈت جواہرلال نہرو نے واضح کیا کہ کسی بھی ریاست کی طرف سے دستوریہ ہند میں شرکت سے انکار کو بغاوت اور غداری تصور کیا جائے گا اور نتائج کی ذمہ دار خود ریاست ہوگی “وی پی مینن”۔

برطانوی حکومت ہند نے اپنا پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ بند کرنے کا ارادہ اور محکمہ ریاستی امور “سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ” قائم کیا جس میں پاکستان اور بھارت کی نمائندگی سردار عبدالرب نشتر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کر رہے تھے۔ پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے پر پنڈت نہرو نے اعتراض کیا تھا اور کہا کہ تاج برطانیہ کی حاکمیت اعلیٰ کے خاتمے پر ریاستیں ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق تو کر سکتی ہیں لیکن خودمختاری قابل قبول نہیں جس پر مشیروائسرائے سرکونرڈ نے کہا تھا کہ ریاستیں آئینی اور قانونی طور پر آزاد  رہ سکتی ہیں (وی پی مینن)۔

مختصر یہ کہ کانگرسی قیادت (حکومت) طے شدہ اصولوں کے برعکس ریاستی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت پر اتر آئی تھی اور لارڈماونٹ بیٹن بھی انکے ساتھ کھڑے تھے ۔ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ دراصل جوناگڑھ ریاست کےساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہندو اکثریتی آبادی پر مشتمل اس ریاست کے مسلمان حکمران محابت خانجی کے 15 اگست1947کو پاکستان سے الحاق پر بھارتی حکومت نے شدید احتجاج کیا تھا،کانگرس نے ابتدا ہی سے جوناگڑھ میں سیاسی مداخلت کی اور 25ستمبر1947کو کانگرسی رہنماؤں نے ساملداس گاندھی کی قیادت میں بمبئی سے جوناگڑھ کی ایک متوازی باغی حکومت کا اعلان کیااور راجکوٹ پہنچے جس سے جوناگڑھ میں خانہ جنگی اور انتشار میں اضافہ ہو گیا۔

انڈین فوج نے ریاست جوناگڑھ کا محاصرہ کر لیا اور نواب خانجی اپنے خاندان سمیت کراچی روانہ ہو گئے۔ حالات قابو سے باہر ہوئے تو ریاست کے دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ریاستی کونسل کی مشاورت کے بعد ریاستی مستقبل کو استصواب رائے سے مشروط کرتے ہوئے ساملداس گاندھی اور انڈین حکام سے سمجھوتے کا راستہ اپنایا اور9نومبر 1947کو انڈین فوج نے جوناگڑھ پر قبضہ کر لیا”بعدازاں رائے شماری میں عوام کی واضح اکثریت نے الحاق ہندوستان کی توثیق کر دی تھی”۔ بھارت نے جبری قبضہ کا یہی عمل ستمبر ۱۹۴۸ میں ریاست حیدرآباد میں بھی دہرایا تھا۔

اب آئیے ریاست جموں و کشمیر کی طرف جہاں ریاست کی اکثریتی آبادی مسلمان جبکہ حکمران ہندو مذہب سے تھا اور وہاں بھی جوناگڑھ ہی کی کہانی  دہرائی گئی ہے۔ ریاست کے مستقبل کے حوالے سے ریاستی عوام اور حکمران ابہام کا شکار تھے۔ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی دونوں سیاسی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس دراصل کانگرس اور مسلم لیگ کی نمائندگی کرتے ہوئے الحاق ہندوستان اور الحاق پاکستان کی داعی تھیں، دوسری طرف دائیں بازو کی ہندوجماعتیں بھی الحاق ہندوستان کا پرچار کر رہی تھیں۔

مہاراجہ ہرسی سنگھ ریاست میں کثیر المذہبی، ثقافتی، لسانی آبادی کے پیش نظر الحاق کی بجائے ریاست کی خودمختار حیثیت کو بحال رکھنے کا خواہشمند تھااور اس نے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ معاہدہ قائمہ (standstill Agreement) کی کوشش کی جسے پاکستان نے قبول کیا جبکہ انڈیا نے مزید مذاکرات کے نام پر تعطل میں ڈال دیا تھا۔ صوبہ جموں کے پنجاب سے ملحقہ مغربی اضلاع پرپنجاب کی سیاست کا برائے راست اثر تھااور یہی وجہ ہے کہ اکثر فرقہ ورانہ فسادات بھی صوبہ جموں ہی میں پیش آئے ۔ یوسف صراف اور میجر جنرل اکبر خان کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ باغ اور راولاکوٹ میں جولائی اگست 1947کے دوران سول نافرمانی کی آوازیں اور جلسے جلوس سامنے آئے جس میں انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

ستمبر1947کا مہینہ ریاست کے اندر ہلچل پیدا کرنے کی منصوبہ بندی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں لاہور اور مری کے مقامات پر مسلم کانفرنس اور مسلم لیگی رہنماوں اور سول و فوجی افسران کے درمیان متعدد اجلاس ہوئے جس میں سردار ابراہیم خان، غلام نبی گلکار، چوہدری حمیداللہ، پروفیسر اسحاق قریشی،خواجہ عبدالرحیم، ضیاالدین، خواجہ غلام رسول، خواجہ غلام دین، میاں افتخارالدین، کرنل اکبرخان، جنرل زمان کیانی، مرزابشیرالدین، سردار شوکت حیات، میجرخورشید انوراور دیگر کئی زعما نے شرکت کی جن میں ریاست کے اندر خصوصاٌ پونچھ میں سیاسی و مسلح تحریک کے لیے مختلف منصوبے سامنے آئے جن پر بعدازاں عمل بھی کیاگیا۔

” قلمکار ومصنف ظہیر الدین کا کہنا ہے کہ جب انڈیا نے جوناگڑھ کے نواب کو نکال دیا تو حکومت پاکستان نے مرزا بشیر الدین کے ذریعے غلام نبی گلکار کو لاہور بلایا اور ایسے ہی اجلاس کے دوران یہ منصوبہ بنایا گیا کہ کشمیر میں ایک عارضی حکومت کا اعلان کیا جائے۔ جب مفتی ضیاالدین، عبداللہ قادری وغیرہ نے انکار کر دیا تو غلام نبی گلکار نے خود کو پیش کیا اور یوں (راولپنڈی سے) 4 اکتوبر 1947کی باغی حکومت کا اعلان کیا گیاجس میں مسٹر انور کو سربراہ اور سردار ابراہیم کو وزیراعظم ظاہر کیا گیا،جو8 اکتوبر کے سول ملٹری گزٹ میں سامنے آیا”۔

منصوبہ بندی کے تحت پونچھ میں ریاستی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہو چکا تھا اور22 اکتوبر1947 کو میجر خورشید انور کی قیادت میں ہزاروں کی تعداد میں قبائلی جنگجو ؤں کی پہلی کھیپ مظفرآباد میں داخل ہوئی اور مقابل میں آنے والے سول و فوجی اہلکاروں کے علاوہ غیرمسلم آبادی کو خون میں نہلا دیا اور لوٹ مار کی انتہا کر دی جس میں ان غیرمسلموں کی حفاظت کرنے والے نیشنل کانفرنسی رہنما ماسٹر عبدالعزیز سمیت متعدد مسلمان بھی ا ن کے جور و ستم کا نشانہ بنے۔

24 اکتوبر 1947کو 4اکتوبر کی اعلان کردہ حکومت آزاد کشمیر کی تشکیل نو ہوئی اور سردار ابراہیم خان حکومتی سربراہ بنے۔ تین دن میں 26اکتوبر کو قبائلیوں نے بارہمولا تک کا علاقہ اپنے کنٹرول میں کر لیا اور پھر وہاں ظلم و ستم کی وہ داستانیں رقم کیں جو تاریخ میں انمٹ ہو کر رہ گئی ہیں جس کی پھر کئی گناقیمت نومبر کے پہلے ہفتے میں جموں کے مسلمانوں کو چکانا پڑی تھی۔ سرینگر کی حفاظت کے لیے شیخ عبداللہ نے ایک رضاکار فورس بھی قائم کر لی تھی جس نے بعدازاں بھارتی فوج کی معاونت کی۔

26اکتوبر 1947کو مہاراجہ ہری سنگھ نے فوجی امداد کے حصول کے لیے بھارت سے مشروط معاہدہ الحاق کر لیا اور وی پی مینن کے مشورہ پر جموں روانہ ہو گیا۔27 اکتوبر 1947کو بھارتی افواج “امن و امان کی بحالی تک کےلیے” ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگر ائیرپورٹ پر اتریں اور دو نوزائیدہ ممالک پاک و ہندکے درمیان جنگ کا طبل بج گیا(ولیم براؤن نے وائرلیس پر یہ خبریں سننے پر کہا تھا کہٌ بربادی کی چیخیں بلند ہو گئی ہیں اور کتے آپس میں لڑ پڑے ہیں )۔ بھارتی اور ریاستی فوج کی پیش قدمی سے قبائلیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور پسپائی میں مال غنیمت سمیت پیچھے کی طرف تیزی سے لوٹ پڑے “قبائلیوں کی واپسی کی تیز ترین رفتار پر جنرل اکبر اور مرزا حسن نے کافی تعجب کا اظہار کیا ہے”۔

بھارتی افواج نے اوڑی تک علاقہ قبائلیوں سے خالی کرا لیا تھا۔ پونچھ شہر محاصرہ کے باوجود اور اس کے ملحقہ علاقوں پر باغیوں کا قبضہ نہیں ہو سکا اور جھنگڑ،راجوری اور نوشہرہ پر ریاستی عملداری بحال رہی،ریاستی فوج کے لیے کسی قسم کی بھی امداد کی عدم فراہمی پر سقوط میرپور نومبر کے آخر میں ہوا۔ ریاست کے بھارت سے الحاق پر موجودہ گلگت بلتستان میں بھی سکاؤٹ کمانڈنٹ میجر ولیم براؤن اور کشمیر سکستھ انفنٹری کے کیپٹن مرزا حسن کی قیادت میں ایسی ہی فوجی مہم جوئی ہوئی تھی اور گورنر گھنسارہ سنگھ کی گرفتاری کے بعد یکم نومبر1947کو شاہ رئیس کی سربراہی میں ایک مقامی حکومت کا اعلان بھی کیا گیا تھا تاہم علاقے کے میروں راجوں اور کمانڈنٹ سکاؤٹ میجرولیم براؤن کی درخواست پر16نومبر1947 کو ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے پاکستان نے گلگت کا کنٹرول سنبھال لیا جو آج بھی قائم ہے۔

گلگت کی مہم جوئی پر میجر ولیم براؤن “گلگت بغاوت” اور کرنل مرزا حسن”شمشیر سے زنجیر تک” نے الگ الگ پہلوؤں سے پوری کہانی بیان کی ہے کہ انہوں نے اس خطے کو پاکستان سے ملانے کےل لیے کون کون سے منصوبے اور حربے آزمائے بلکہ میجر براؤن نے اپنے اس عمل کو غداری بھی کہا لیکن ان حالات کے تقاضوں میں اسے درست سمجھا ہے۔ البتہ انہوں نے مستقبل میں اس معاملے کی اقوام متحدہ میں جانے کی پیشگوئی بھی کر دی تھی جیسے ان کے بقول ان کے پیشرو کرنل بیکن نے گلگت ایجنسی کے ریاستی حکومت کی واپسی”یکم اگست 1947″پر صرف تین مہینے بعد بڑی تبدیلی کی پیش گوئی کی تھی۔

دوطرفہ افواج اورخاص کر بھارتی افواج کامیاب پیش قدمی کے باوجود لداخ میں کرگل دراس، مظفرآباد میں اوڑی اور ٹیٹوال، وسط وادی گریز، نوشہرہ جھنگڑاور دیگر مخصوص مقامات سے آگے کیوں نہیں بڑھی ؟یہ وہ سوال ہے جو خود جنرل اکبر اور کرنل مرزا حسن کے ذہن میں بھی آیا لیکن ہماری طرح ان کے لیے بھی یہ معمہ ہی رہا جسے سلجھانااس لیے بھی مشکل ہے کہ شاید بڑے منصوبہ سازوں نے یہ حصہ صیغہ راز میں ہی رکھا ہوگا۔

یکم جنوری 1948کو بھارت یہ شکایت لے کر اقوام متحدہ پہنچا اور باشندگان ریاست جموں کشمیر و لداخ (گلگت بلتستان) کو رائے شماری کے کبھی نہ ختم ہونے والے انتظارپر لگا دیا گیا۔ 1951تک جنگ بندی کے ساتھ جنگ بندی لکیر کھینچ دی گئی اور ریاستی وحدت کو بے دردی سے چیرتے ہوئے ان علاقوں کے ساتھ انسانی خاندانوں کو بھی تقسیم کر دیا گیا اور ہمارے حصے میں آئی چین، پاکستان اور بھارتی زیر انتظام متنازع  و منقسم، محروم ،محکوم اور مظلوم ریاست جموں کشمیر اور اس سے جڑا مسئلہ کشمیرجو ایشیا کے طاقتور ایٹمی ہمسایہ مگر حریف ممالک کے معاشی و تزویراتی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پورے خطے کے خط غربت سے نیچے زندہ انسانوں میں غیر یقینی مستقبل اور جنگی تباہ کاریوں کاخوف لیے نفرت ، تشدد اور انتقام کی جبلت کے ساتھ پیدائشی مقروض نسلیں تیار کر رہا ہے۔

شفقت راجہ
شفقت راجہ
برطانیہ (لندن)میں مقیم باشندہ جموں کشمیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *