سرطان اور بلوچستان۔۔۔۔شاہ فیصل بلوچ

سرطان یعنی کینسر کے آئے روز نئے کیسز بلوچستان میں دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں لیکن کچھ دنوں سے کینسر کے مریض حمل ظفر،گوادر کے ایک معصوم پھول کے لیے چندہ مہم لگ بھگ ایک ہفتے تک جاری رہی اور تقریبا 70 لاکھ روپے کے آس پاس جمع ہو گئے۔ اس کا کریڈٹ سوشل میڈیا اور سوشل ایکٹیوسٹس کو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ حمل ظفر کو نہیں بلکہ انسانیت کو بچانے کے لیے کیا گیا لیکن یقینآ ہر باشعور چندہ کرنے والے اور چندہ دینے والے دونوں کے ذہن میں یہ سوالات ضرور آئے ہوں گے، کہ؛

آخر ہر بار ایسا کیوں کرنا پڑتا ہے؟
اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
ذمہ داروں سے کون پوچھے گا؟ اور
آخر یہ کب تک چلتا رہے گا؟

یہ سب ایسے سوالات ہیں جو ہر عام و خاص بلوچستانی کے ذہنوں میں منڈلا رہے ہیں۔ کیوں کہ حمل ظفر کا کیس نہ پہلا کیس ہے اور نہ ہی آخری ہوگا۔

ایسے لاکھوں حمل بلوچ ہیں اور ہوں گےجن کی آواز دبی ہوئی ہے اور ہم تک پہنچ نہیں پاتی۔ ان کے لیے کون چندہ جمع کرے گا۔ ان کے لیے کون سوشل میڈیا میں کمپین چلائے گا۔ میں چندہ مہم کے خلاف نہیں لیکن یہ ہمارے مریضوں کے علاج کا مستقل حل نہیں۔ ہمیں خیرات نہیں بلکہ انصاف چاہیے۔

نیلسن منڈیلا کا قول ہے کہ غربت خیرات سے نہیں بلکہ انصاف سے ختم ہوتی ہے۔

بالکل اسی طرح کینسر کے مرض کو کینسر ہسپتال کی ضرورت ہے نہ کہ چندے کی۔ اگر ہمیں کمپین چلانی ہے تو کینسر ہسپتال کے لیے چلانی ہو گی۔ اگر ہمیں کمپین چلانی ہے تو ناانصافی کے خلاف چلانی ہو گی۔ اگر ہمیں انصاف ملے تو کسی کے لیے چندے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کسی کو کشکول اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر آج بلوچستان میں کینسر ہسپتال ہوتا تو یہ مشکلات اگر ختم نہ ہوتیں تو بھی آسان ضرور ہوتیں۔

جی ہاں، ہم خود کفیل خطہ بلوچستان کے مالک ہیں اور بلوچستان کے باسی جس کسمپرسی سے زندگی گزار رہے ہیں اس کے وہ قطعآ حق دار نہیں ہیں کیوں کہ بظاہر تو ہم 62 ملین ڈالر سی۔پیک کے منصوبے کے مالک ہیں، سیندک اور ریکوڈک بھی اسی بلوچستان میں ہیں، وسائل کے اعتبار سے بلوچستان ایک امیر ترین خطہ ہے۔

اگر نہیں ہے لائبریری، استاد اور تعلیمی ادارے نہیں ہیں۔
اگر نہیں ہے صحت کی سہولیات نہیں ہیں۔
اگر نہیں ہے انصاف نہیں ہے۔
اگر نہیں ہیں، لیڈر نہیں ہیں۔

اور تو اور کینسر جیسے موذی مرض کے لیے ہسپتال موجود نہیں ہے۔ اگر سیندک سے نکالا گیا سونا، اینٹ ہوتا تو اس سے با آسانی ہسپتال کی عمارت کھڑی ہوتی لیکن سونے جیسی قیمتی دھیات بھی ہمیں کینسر ہسپتال نہ دے سکی۔

بلوچستان میں اگر کوئی آدمی کینسر کی وجہ سے مرتا ہے تو اس کے ذمہ دار ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمران ہیں کیوں کہ بلوچستان نے ہمیں سب کچھ دیا ہے لیکن ہم اس سرزمین کو کچھ نہ دے سکے۔

اگر ہم چندہ کے لیے کیمپین چلا سکتے ہیں تو ہم کینسر ہسپتال کے لیے بھی کیمپین چلا سکتے اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ہمارے حکمران اپنی ذمہ داریاں بھول چکے ہیں تو ہمیں ہی ان کو جگانا ہے اور بتانا ہے کہ،
#BalochistanNeedsCancerHospital

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *