مکالمہ کیسے کریں؟ محمد حسین

 انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ چونکہ انسان ایک سماجی حیوان ہے، اس لیے دوسرے انسانوں کے ساتھ گفتگو اور مکالمے میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ کسی بھی مکالمے میں درج ذیل اصولوں کی پاسداری کرنے سے ایک بہتر ماحول بنتا ہے جو مکالمے کو ایک مثبت نتیجے کی طرف لے جاسکتا ہے۔

 ۱۔ سنتے ہوئے اپنے مفروضوں کو معطل کیا جائے:

 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی وہ تجربہ رکھتے ہیں جو ہم رکھتے ہیں اور اس خیال کے ساتھ ہم ان کو سنتے ہیں۔ ہمیں اپنے مفروضوں کو سمجھنا چاہئے۔ اگر کوئی ہمارے مفروضوں کے مطابق بات نہیں کر رہا تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم صاف اور کھلے ذہن کے ساتھ اسے سنیں۔ ۲

۔ بولتے وقت صرف اپنے خیال کا اظہار کیا جائے:

 جب ہم صرف اپنی بات کرتے ہیں تو ہم اپنی کی ہوئی بات کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم عمومی انداز میں بات کریں تو ہمارے لیے یہ ذمہ داری اٹھانا مشکل ہے۔ ہمیں وہی بات کرنی چاہیے جس کی ہم ذمہ داری اٹھا سکتے ہوں۔ صرف اپنی طرف سے بات کریں۔ “ہر ایک ایسا کہتا ہے” یا “ہم سب جانتے ہیں” اور “آپ کو تو معلوم ہے” جیسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں کیونکہ یہ وہ کلمات ہیں جن کی براہ راست ذمہ داری بولنے والا نہیں اٹھاتا۔ ان کلمات کے بجائے “میں یہ سمجھتا ہوں”،” میری رائے یہ ہے” جیسے کلمات استعمال کریں اور ذمہ داری سے اپنی کہی ہوئی بات کو تسلیم کریں۔ چونکہ انسان چاہے جتنا بڑا عالم یا ماہر ہو اس کے تجربات و معلومات محدود ہیں لہذا اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے حتمیت و قطعیت سے گریز کریں اور یقیناً، ہر حال میں ایسا ہوتا ہے، ہر جگہ ایسا ہے، ہر وقت یہی کچھ ہوتا ہے جیسے کلمات کے بجائے جتنا آپ کے تجربات ہیں اس کو بغیر تعمیم یعنی جنرلائز کیے بغیر پیش کریں۔

 ۳۔ پہلے سے نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا جائے:

 مکالمے کا مقصد یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اسی بات کو کس طرح سمجھ رہے ہیں۔ اگر آپ دوسرے کو سننے سے پہلے ہی اس کے بارے میں سوچ کر بیٹھے ہوں تو پھر آپ دوسرے کو سننے کے بجائے اپنے دماغ میں مکالمہ کر رہے ہوں گے۔ چنانچہ کسی کی بات سنے بغیر پہلے نتیجہ اخذ نہیں کر لینا چاہیے کہ اس طرح دوسروں کی بات درست طور پر نہیں سنی جا سکتی۔ سننے کے بعد نتیجہ اخذ کرنا بہترین حکمت عملی ہے۔

 ۴۔ شریک مکالمہ کو ہم رتبہ سمجھا جائے:

 ہر کوئی بات چیت میں برابر کا شریک ہوتا ہے اور اس میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا۔ بات چیت کے ذریعے بصیرت اور وضاحت حاصل کرنے کے لیے تمام لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

 ۵۔ رازداری کا خیال رکھا جائے:

 مجلس کے شرکاء کے نام، شناخت، کسی بھی کہانی یا خیال کو بیان کرتے ہوئے اس طرح ظاہر نہیں کرنے چاہئیں کہ ان کی غیبت شمار ہو۔ اپنے اظہار خیال کے لیے محفوظ اور با اعتماد فضا قائم کریں۔

۶۔ سمجھنے کے لیے سنا جائے :

 مکالمہ میں بولنے سے زیادہ سننے پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ تاہم آپ پر لازم نہیں کہ جو کہا گیا اس کے ساتھ اتفاق کریں یا اس چیز پر یقین کریں۔ اصل چیزیہ ہے کہ دوسروں کی بات اچھی طرح سن کر پوری طرح سمجھی جائے تاکہ اپنی رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔

 ۷۔ کھلے سوالات پوچھے جائیں:

 ایسے سوالات پوچھیں جن کے جواب میں وضاحت ہوسکے تا کہ بات آسانی سے سمجھ میں آئے اور ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہم نے کون سی رائے محض مفروضوں کی بناء پر قائم کی تھی۔

 ۸۔ سوچ بچار کے لیے وقت نکالا جائے:

 سوچ بچار کے لیے وقت نکالیں اورجو کچھ کہنا ہے وہ سوچ سمجھ کر کہیے۔

 ۹۔ ایک وقت میں ایک ہی شخص بات کرے:

 ایک وقت میں ایک ہی شخص بات کرے اور ہر کسی کو بولنے کا موقع دینا یقینی بنائیے تا کہ مختلف خیالات سامنے آجائیں۔

۱۰۔ دُوسروں کی بات اس طرح سنیں جیسے آپ کسی عزیز دوست کی بات سن رہے ہوں۔

 مکالمے کی اقسام:

(Participatory Dialogueشراکتی مکالمہ (

یہ مکالمے کی وہ قسم ہے جس کی مدد سے مختلف مقاصد اور ترجیحات رکھنے والے لوگ باہمی سلامتی، وسائل اور مواقع کی مساوی تقسیم یقینی بناتے ہیں۔ شراکتی مکالمے کے ذریعے افراد اور گروہ ایک دُوسرے سے بات چیت کے بعد حقوق اور فرائض کا تعین کرتے ہیں اور نتائج کی روشنی میں مسائل کے حل کا مشترکہ لائحہ عمل مُرتب کرتے ہیں۔

(Reflective Participatory Dialogue)فکری شراکتی مکالمہ

مختلف نقطہ ہائے نظر، نظریہ ہائے حیات اور ترجیحات پر تحمل اور برداشت کے ساتھ بھرپور غوروفکر کرنے کو فکری شراکتی مکالمہ کہتے ہیں۔

مکالمے کے انداز :

مکالمے کے تین بنیادی انداز ہوسکتے ہیں۔

(Dialogue for Action)مکالمہ برائے عمل

(Dialogue for Exchange of Spiritual Experiences) رُوحانی تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے مکالمہ

( Dialogue of Life) مکالمہ ٔ حیات

مکالمہ برائے عمل:

اس نوعیت کا مکالمہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب مختلف مذاہب سے وابستہ ایک معاشرے سے تعلق رکھنے والے لوگ معاشرتی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں۔ اس مکالمے میں کئی سطحوں پر لوگوں کے باہمی تعلقات تشکیل پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُن لوگوں کے مابین تعلقات جو کسی خاص مسئلے کا حل تلاش کررہے ہوں۔ کیونکہ وہ ایک ٹیم کی شکل میں مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔

مکالمہ برائے عمل مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کی ضروریات اور ترجیحات سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس مکالمے کی مدد سے تنازع کا شکا ر گروہ بنیادی انسانی ضروریات کو سمجھ پاتے ہیں اور انہیں مشترکہ انسانی قدریں دریافت کرنے میں مدد ملتی ہے۔

رُوحانی تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے مکالمہ:

اس نوعیت کا مکالمہ مل جل کر مذہبی رسومات بجالانے سے شروع ہوتا ہے۔ مکالمے کی اس قسم میں ایک شخص مختلف مذاہب کی عبادات، دعاؤں اور رسومات میں شرکت کرتا ہے۔ اس مکالمے کے ذریعے لوگ زبان سے الفاظ ادا کئے بغیر عبادت اور دعاؤں کے ذریعے ایک دوسرے کو قریب لانے کی کوشش کرتےہیں۔ روحانی مکالمے کا حصہ بننے والے لوگ بہت جلد جان لیتے ہیں کہ عبادات کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے لیکن سب کی روحانی ضروریات ایک جیسی ہیں۔ جیسے ہم مختلف برتن میں پانی پیتے ہیں لیکن مقصد ایک ہوتا ہے یعنی پیاس بجھانا۔ بین المذاہب روحانی تجربات کا مکالمہ نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے لوگ روحانی، دلی اور محبت کے رشتوں میں بندھ جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ مکالمہ زبانی نہیں قلبی نوعیت کا ہوتا ہے۔

مکالمہ حیات:

ہمیں روزمرہ بنیادوں پر ہمسایوں، خاندانوں، سکول اور کام کے مقام پر بات چیت کا موقع ملتا ہے۔ روزمرہ بنیادوں پر دوسروں کی بات کو غور سےسننے اور ان کی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھنا اور بہترین حل تلاش کرتے رہنا مکالمہ ٔ حیات کہلاتا ہے۔ مکالمہ حیات کسی خاص مسئلے پر وقتی نوعیت کا مکالمہ نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل سماجی تعامل کا نام ہے، جس میں ہم روزمرہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کی سماجی ضروریات پورا کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے مکالمے میں ہم دوسرے مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ اور ہم ایک دوسرے کی سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مکالمہ حیات بین المذاہب مکالمے کی سادہ ترین روزمرہ شکل ہے۔ ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی دوسرے مذاہب کے لوگوں سے دوستی ہوجاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ روزمرہ بنیادوں پر ایک دوسرے سے تعلق قائم رکھنے والے بین المذاہب مکالمے کے لیے بھی تیار ہیں۔

محمد حسین گزشتہ کئی سالوں سے امن و مکالمہ کے ماہر نصابیات و ٹرینر کے طور پر کام کر رہے ہیں، مختلف موضوعات پر ایک درجن سے زائد کتابوں کی تحریر و تدوین کے علاوہ مذہبی ہم آہنگی پر کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین کو ٹریننگ دے چکے ہیں، وہ امن اور مکالمہ کے موضوعات و مسائل پر منعقدہ متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز میں شرکت کر چکے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *