• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلشن باورہ رومانویت کا چنچل اور خوش باش فلمی گیت نگار۔۔۔۔۔۔ احمد سہیل

گلشن باورہ رومانویت کا چنچل اور خوش باش فلمی گیت نگار۔۔۔۔۔۔ احمد سہیل

گلشن باورہ (12 اپریل 1937۔ 7 اگست 2009)، ان کا اصل نام گلش کمار مہتہ تھا۔ انھوں نے 42 برس تک ہندوستانی فلموں کے لیے 250 گیت لکھے۔ان کی مادری زبان پنجابی تھی مگر ان کے گیتوں کی زبان اردو تھی۔ گلشن باورہ لاہور سے بتیس/32 میل دور ایک شہر شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ جب 1947 میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو فسادات میں ان کے والدیں کو ان کی آنکھوں کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ ان کے والد کی تعمیراتی کمپنی تھی بٹوارے کے بعد وہ اپنی بڑی بہن کے پاس ” جے پور( راجھستان ) چلے گئے۔اس وقت ان کے ساتھ ان کے بڑے بھائی بھی تھے۔ کچھ دنوں بعد جب ان کے بڑے بھائی کو دہلی میں ملازمت ملی تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ دہلی چلے گئے اور دہلی یونیوررسٹی سے گریجویشن کیا۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی ابتدا ہوئی۔ پھر انھوں نے ریلوے میں ملازمت کی درخواست دی اور انھیں ” کوٹہ”( راجھستان) میں تعینات کیا گیا۔ جب وہ ” کوٹہ” پہنچے  تو ان کو معلوم ہوا کہ ان کی ملازمت کسی اور کو دے دی گئی ہے۔ لیکن ان کو ممبئی میں ڈاک خانے میں کلرک کی ملازمت دے دی گئی۔ گلشن باورہ 1955 میں ممبئی آئے اور فلموں میں گیت نگاری کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ اور انھیں جلد ہی کامیابی نصیب ہوئی اور گلشن باورہ نے اپنی پہلی فلم ” چندرا سینا” کا پہلا گانا لکھا۔ اس گانے کو لتا منگیشکر نے گایا تھا لیکن ان کی شہرت فلم ” ستہ بازار” سے ہوئی۔

ان ہی دنوں ایک فلم کی تقسیم کار سنیستا بھائی پٹیل ان کے لکھے ہوئے گیتوں سے متاثر ہوئے۔ گلشن باورہ اس وقت بیس سال کے نوجوان تھا اور وہ رنگ برنگی  قمیضیں پہنا کرتے تھے۔ پھر ایک دن سنیسا بھائی پٹیل نے ان کا نام گلش باورہ رکھ دیا۔ ” باورہ” کے معنی پاگل/ دیوانہ/ سودائی کے ہوتے ہیں۔ اس زمانے میں ان کے گیتوں نے فلمی دینا میں دھوم مچا دی۔ ان کے کئی گانے ہٹ ہوئے اور ان کی معاشی حالت بہتر ہوگئی۔ وہ اس زمانے میں ایک گانا لکھنے کے نوے ہزار (90000) روپے  لیتے تھے۔ ان دنوں انھوں نے ممبئی میں اپنا ایک فلیٹ خریدنا چاھا مگر وہ خرید نہ سکے۔ انھوں نے کہا کہ۔۔” میں اپنے کام کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا “۔۔ گلش باورہ گانوں میں غلطیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور اردو قواعد پر سختی سے عمل کرتے تھے۔ انھوں  نے شلندرا کے گیت۔۔۔” آوارہ ہوں، آوارہ ہوں، یا گردش میں ہوں آسمان کا تارا ہوں” ۔۔۔ کو بے معنی سطریں کہہ  کر مسترد کردیا تھا۔ اور کہا اس کو یوں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ” آوارہ ہوں۔۔۔ آوارہ ہوں، میں گردش میں آسمان کا تارا ہوں”۔۔۔ ان کی دلیل تھی کی ” گردش”۔۔ ” جدوجہد” سے عبارت ہوتا ہے۔۔۔ تاروں کی کبھی یہ صورتحال نہیں ہوتی کیونکہ فطرت یا آفاقی سچائی کو شاعرانہ انداز میں نہیں چھیڑنا چاہیے کیونکہ انھیں ھم شعری آہنگ میں نہیں سموسکتے”۔ فلم ” زنجیر” میں ان کا گیت ۔۔” یاری ہے ایمان میرا یار میری زندگی” ۔۔ 1974 میں فلم ” اپکار” میں اور 1968 میں ان کے لکھے ہوئے گانے۔۔” میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی” ۔۔ کو فلم فیئر ایوراڈ مل چکا ہے۔

tripako tours pakistan

ان کے مشہور گانوں میں ” صنم تیری قسم” ( صنم تیری قسم )، ” اگر تم نہ ہوتے” ( اگر تم نہ ہوتے)، ” قسمیں  وعدے نبھائیں کے ہم” ( قسمیں  وعدے)، ” جیون کے موڈ پر” (جھوٹا کہیں گا)، ” تیری بدمعاشیاں ” (زلمی)، ” وعدہ کرلے ساجنا، تیرے بنا میں نہ”( ہاتھ کی صفائی)، ” پینے والوں کو پینے کا بہانہ چاہیے” (ہاتھ کی صفائی)، “اے لو پیار کے دن آئے” (ہاتھ کی صفائی) ۔۔۔۔۔ گلشن باورہ کہتے تھے” میری زندگی کا فلسفہ خوش رہنا ہے۔ اگر کوئی پانچ ہزار روپئے میں خوش نہیں رہ سکتا تو وہ پانچ کروڑ روپئے میں خوش نہیں رہ سکتا۔ ممبئی کے ایک اچھے علاقے میں میرا صاف ستھرا فلیٹ ہے۔میں آج کل “بلیک ڈاگ” (شراب) پلا سکتا ہوں۔ اس کے لیے میں خدا کا شکر گذار ہوں۔”
انھوں نے دس /10 فلموں میں اداکاری بھی کی۔ ان کے آدھے سے زیادہ گیتوں کی موسیقی آر ڈہ برمن نے دی۔ ان کے زیادہ تر گیت محمد رفیع لتا منگیشکر، مہندر کپور اور ہیمنت کمار نے گائے۔ گلش باورہ کے قریبی دوست منوج کمار تھے۔ انھوں نے 1961 سے 1999 تک گیت نگاری کی۔ 1999 میں انھوں نے اپنا آخری گیت فلم ” زلمی” کے لیے لکھا تھا۔ حرکت قلب بند ہونے کے سبب گلشن باورہ کا انتقال جمعے کے روز 7، اگست 2009 میں پالی ہل ممبئی میں بہتر /72 سال کی عمر میں ہوا۔ انتقال کے بعد ان کے وصیت کے بعد ان کی جے۔ جے  ہسپتال  بھجوادی گئی ۔ انھوں نے وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد ان کی لاش کو عطیے کے طور پر اس ہسپتال کو دے دیا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *