امرتا پریتم جو ابھی تک امر ہے ۔۔عظمٰی عارف / قسط 2

امرتا کے ساتھ اس کی مادری زبان سے تعلق رکھنے والوں نے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا ، دنیا والے بھی سوجھ بوجھ رکھنے والی روح کو بد راہ کہہ کر جینے نہیں دیتے اور اگر سچ مچ وہ دیوانہ بن کربدراہ ہو جائے تو اس کی موت کے بعد اس کا بت بنا کر پوجنے لگتے ہیں- اخباروں ، سکولوں ، کالج ، یونیورسٹی کی سطح پر اور ریڈیو پر امرتا کی بھرپور مذمت کی گئی- اس کے باوجود امرتا کو ڈھیروں پیار بھی ملا -پرنسپل تیجا سنگھ  جو پنجابی کے اولین   تنقید نگاروں میں سے ایک تھے، اپنے ایک خط میں امرتا کو لکھتے ہیں۔۔

” عزیزی امرتا ! اخباروں   کی بداطواری سے دل نہ ہارنا – تم غیر محدود زمانوں کے لیے ہو- اگر ایک زمانہ تمہاری شہرت کو سنبھال نہ سکے تو کچھ پروا نہیں !”

امرتا کا ناول “پنجر” اپنی نوعیت کا ایک اچھوتا ناول تھا جس پر بعد میں فلم بھی بنائی گئی ، اس کی پذیرائی برصغیر کے طول و عرض سے  کی گئی – انگلستان  والوں نے بھی اس ناول کو سراہا –

یہ بھی پڑھیں :  اج آکھاں وارث شاہ نوں۔۔۔۔۔احمد رضوان

چارلس بریش نیوزی لینڈ کےمشہور شاعر تھے وہ  اس طرح تعریف کرتے ہیں ۔۔

“I have read the skeleton “Novel Pinjar” and I want to tell you how deeply moving I found it. You have treated the story with ۔۔۔۔۔  َbeautiful feeling and restraint. It is a work to be proud of.”

امرتا کا سچ کا فلسفہ بھی اس کی طر ح امر اور لازوال ہے ، امرتا کہتی ہے کہ جینا ہے تو پورا سچ جیو، آدھا سچ نہیں جینا ، اگر پورا سچ معلوم نہیں  تو قدم واپس کر لینے چاہیں۔۔ اسے سچ کا سامنا کرنے کی جرات کہتے ہیں  جو دل اور بدن کو قوت دیتا ہے ۔۔ اپنے پہلے شوہر سے جدائی کے وقت  دونوں نے اسی سچ کا سامنا کیا اور اس کے نتیجے میں اٹھارہ سال کے بعد بغیر دوا دارو کے اس کے شوہر کا ایگزیما دو ماہ کے اندر اندر ٹھیک ہوگیا ۔۔۔ ایسا ہی ایک ایگزیما امروز کو بھی اندر ہی اندر کھائے جاتا تھا ، امرتا سے اس کی محبت خالص تھی مگر اس خلوص کے اوپر کبھی کبھی دل کی تاریک غاروں سے تامل کے کالے بادل چھا جاتے تھے  دونوں نے اس کالی گھٹا سے بھاگنے کی شعوری کوشش کی مگر ناکام ہوئے اوراس کی پکڑ میں آتے رہے جس کے نتیجے میں امروز کو بخار نے گھیر لیا ۔۔ تب امرتا اور امروز نے فیصلہ کیا کہ فرار کی بجائے اس سچ کا سامنا کرنا چاہیے اور سچ یہ ہے کہ جب تک امروز اور امرتا   کچھ عرصے کے لیے دور نہیں ہوجاتے تویہ عفریت  ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا ۔۔۔اس دوری نے دونوں کو خود کی پہچان دی اور امروز کو یقین دلایا کہ اس دنیا میں اس کو صرف امرتا کی ضرورت ہےپھردونوں  اس سچ کو جینے لگے اور امروز بھلا چنگا ہوگیا ۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں :  ادھوری عورت کی کتھا ۔۔مریم مجید ڈار

ایک ٹیلی ویژن پر انٹرویو کے دوران  سرن شرما نے اچانک سوال پوچھا۔۔

“امرتا! تمہارے ناولوں کی لڑکیاں اپنے سچ کی تلاش میں بنے ہوئے گھر مسمار کر دیتی ہیں – کیا یہ سماج کے لیے نقصان دہ نہیں ؟ ۔۔۔۔۔ ”

امرتا نے بے ساختہ جواب دیا ” ریوتی جی ! آج تک جتنے گھرٹوٹتے رہے ہیں ، جھوٹ کے ہاتھوں ٹوٹتے رہے ہیں– اب کچھ سچ کے ہاتھوں بھی ٹوٹ لینے دیجیے !”

امرتا کہتی ہے سچ ایک ریلیٹو ٹرم ہے  کئی بارآج کا سچ ، کل کا سچ نہیں رہتا۔۔ یہاں سچ سے امرتا کی مراد دل اور بدن کے عمل میں یکسوئی پیدا کرنا ہے ، جسے synchronization  ( ہم آہنگی) کاعمل کہتے ہیں  ۔۔ جیسے کسی ساز کے تاروں پر سروں کو ہم آہنگ کرنا ۔۔

امرتا نے ساحر سے محبت کی ، اس کا سامنا کیا مگر امروز کو اپنایا اور امروز نے امرتا کے حال کو اس کے ماضی کے ساتھ اپنا بنایا – ماضی جسے آپ دیکھ نہیں سکتے مگر محبوب کے ساتھ  وہ ان دیکھا بھی آپ کے وجود کا اٹوٹ انگ  بن جاتا ہے ۔۔۔ اپنے جسم کے کسی پرانے زخم کی مانند۔۔

امرتا کہتی ہے امروز نے امرتا کو ایسے اپنایا جیسے کوئی ماں اپنے بچے کواس کی تمام تر حقیقتوں کے ساتھ اپناتی ہے ۔۔ امرتا نے اپنے دل کی ترجمانی کرتا ایک خط 15اگست 1967 میں یوگو سلاویہ سے امروز کے نام لکھا ۔۔

امرتا فینٹسی کی  یوں تعریف کرتی ہے ” جیتی ہوئی حقیقتوں  کی حد بندی سے گھبرا کر  ڈھونڈی ہوئی شے –” مگر امروز   بی یانڈ فینٹسی تھا

امرتا کہتی ہے امروز اپنے وقت سے بہت پہلے پیدا ہوگیا جو اس کا قصور ہے کیونکہ ابھی اس صدی کو ایسے لوگوں کو سمجھنے میں وقت لگے گا جو سر سے پاوں تک زندگی جیتے ہیں – اس دنیا  میں ابھی لوگ  اس طرح پیدانہیں ہوتے – امرتا کہتی ہے ہر انسان کا نصف پیدا ہوتا ہے اور نصف ماں کی کوکھ میں ہی ختم ہوجاتا ہے مگر امروز  ماں کی کوکھ سے سالم پیدا ہوا اور زمانے نے اس شاہکار شخصیت سے لاپروائی برتی  ہے اس کی قدر نہیں کی– امروز  سر سے پاوں تک ایک مکمل شخص تھا  مگر پرفیکٹ نہیں ۔۔ امرتا کا پرفیکشن کے ساتھ  شدیدا ختلاف ہے  اس کے مطابق یہ ایک سرد سی  منجمد شے ہے جسے نہ تو گھٹایا جاسکتا ہے نہ بڑھایا جاسکتا ہے – پرفکشن گرجےکی دیوار  پر لگی ہوئی  عیسٰی کی تصویر کی مانند ہے  جس کے آگے کھڑے ہونے پربات کھڑی ہوجاتی ہے مگر امروز سے بات کرنے پر بات چلتی ہے ۔۔ امروز ایک ارتقاء کا نام ہے جس سے روز کچھ جھڑتا اور روز کچھ نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں ۔۔

یہ بھی پڑھیں :  منٹو کی اذیت کا احساس۔۔رحمٰن عباس

امرتا نے اس خط میں اقرار کیا کہ اگر کوئی انسان کسی دن کا نمائندہ بن سکتا ہے ، تو وہ امروز ہے ، امروز امرتا کا   15 اگست تھا ، امرتا کی ہستی اور اس کے دل کی حالت کا یوم آزادی ۔۔۔

ساہت اکادمی کے ایوارڈ کے لیے عجیب کھینچا تانی لگی رہتی تھی اس سیاست کے ساتھ امرتا کا کوئی تعلق نہیں تھا  مگرکمیٹی کا ممبر ہونے کے ناطے امرتا نے ہمیشہ میعار کو بنیاد بنا کر اپنی رائے دی جس کو پس پشت ڈال دیا گیا اور امرتا کو عجیب و غریب طریقے سے اس  سارے قصے میں گھسیٹا گیا ، امرتا کے خلاف  ناختم ہونے والی سازشوں کا ایک سلسلہ چل نکلا ۔۔  جس نے امرتا کو بہت زچ کیا۔  امرتا  کو دھمکیاں بھیجی جاتی کہ اگر فلاں کو ایورڈ نہ ملا، فلاں نظم نہ چھپی ، فلاں کی کہانی نہ چھپی تو امرتا کے خلاف لکھا جائے گا اور امرتا کے خلاف کچھ نہ کچھ ہمیشہ چھپتا رہا-سرکاری محکموں اور منسٹروں کو امرتا کے خلاف خط لکھے جاتے۔ حتیٰ کہ  1970 کی ایشین رائٹرز کانفرنس کے موقع پر استقبالیہ کمیٹی کی چیئر پرسن منتخب ہونے پر “اوپر “سے بہت دبا و ڈالا گیا اور امرتا کی نظموں میں پورنوگرافی ڈھونڈنے کے لیے ایک سکریننگ کمیٹی بنائی گئی جس نے  یہ فیصلہ سنایا کہ 1968 میں چیکو سلواکیہ میں امرتا نے جو نظمیں لکھی تھیں وہ پورنوگرافی کے زمرے میں آتی تھیں ۔ امرتا کہتی ہے ” پورنوگرافی کی یہ تعریف شاید ہی دنیا کے ادب میں کہیں اور ملے گی “- ممبری کا آخری سال بیتنے کے بعد امرتا نے آزادی کا سانس لیا ۔۔

امرتا نے کبھی شہرت کی تمنا نہیں کی ، اس کی صرف ایک ہی تمنا تھی کہ وہ اپنے دل اور قارئین کے دلوں کے کسی گہرے گوشے میں رہے اور امرتا آج بھی اپنے قارئین کے دلوں میں بستی ہے ، روز جیتی ہے ۔۔

جاری ہے ۔۔

عظمٰی عارف
عظمٰی عارف
ادب کی ایک طالبہ جو زمانے کو دیکھنے اور پرکھنے کے تمام مروج آئینوں سے بے زار ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *