سانحہ ۹ مئی اور پاکی داماں کی حکایت/طاہر سواتی

۹ مئی ہماری تاریخ کا وہ انوکھا معرکہ ہے جس میں دونوں لشکر  ایک پیج پر تھے ، کیونکہ یہاں سپاہی سے لیکر جنرل تک سارے ففتھ جنریشن وار کے ڈھول سپاہی تھے۔
وہ دفاعی مستقریں جس کے فصیلوں کے پاس  سے پرندوں کو  بھی گزرنے کی اجازت نہ تھی وہ دن دیہاڑے فتح کرلی گئیں اور حملہ آوروں سے زیادہ قلعوں میں محصور لشکریوں کے دلوں میں ٹھنڈ پڑھ گئی۔

وہ لشکری جو مزار قائد پر ایک تقریر سے اتنےجذباتی ہوگئے کہ چادر اور چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے نیم شب کو دروازہ توڑ کر مریم نواز کی  خواب گاہ میں داخل ہوگئے ،اور جو بہاولنگر میں اپنے ایک کمانڈو کے بھائی کی  خاطر دو تھانوں کو روند کر چلے گئے ۔۹ مئی کو نہ ان کے جذبات میں اُبال آیا ،نہ کور کمانڈر کی پتلون جلانے سے وقار کو ٹھیس پہنچی۔
جہاں علی وزیر ایک تقریر کی پاداش میں دو سال پابند سلا سل رہا، وہاں ۹ مئی کے بلوائی سال کے اندر ہی وزارتوں سے نوازے گئے۔
جس کور کمانڈر ہاؤس کو انہوں نے آگ لگائی اسی کے اندر ان کے لئے افطار پارٹی کا اہتمام ہوا۔
اسے کہتے ہیں دو قومی نظریہ ۔

آج ڈی جی صاحب قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ وہ صدق دل سے معافی مانگیں ۔حضور والا جہاں آپ اپنے ستر سالہ  کارناموں  پر شرمندہ نہیں وہاں آپ کے لاڈلے کیونکر معافی مانگیں گے۔

جو قوم آپ سے سوال نہیں کرسکتی وہ آپ کے نونہالوں پر انگلی کیسے اٹھاسکتی ہے۔؟

کیا آپ میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ ۸ اکتوبر ۱۹۵۸، ۵ جولائی ۱۹۷۷ اور ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ کی آئین شکنی پر اس قوم سےمعافی مانگیں؟

۹ مئی کے تین دن بعد ۱۲ مئی کا دن بھی آتا ہے جب آپ کے چیف جنرل مشرف نےکراچی کی  سڑکوں کو خون سے نہلا دیا   تھا،اور پھر اسی شام مکا لہرا کر اس فتح کا جشن منایا۔
کہاجاتا رہا کہ یہ سب کچھ اس کا ذاتی معاملہ ہے محکمے کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔
لیکن جب اس کے خلاف آئین شکنی کا کیس چلا تو پھر وہ غدار شخص ایک قومی مسئلہ بن گیا۔

نئے چیف راحیل شریف نے اٹک کے کمانڈو بٹالین میں اس آئین شکن غدار سے اظہار یکجتی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم اپنے وقار کا دفاع کریں گے۔
اپنے لاڈلوں کے ذریعے دھرنے دلوا کر اسے باہر بجھوا دیا۔ اس گستاخی کی  پاداش میں نواز شریف کو خاندان سمیت نشان ِ عبرت بنادیا۔اسے سزا دینے والی عدالت کو کالعدم اور سزا دینے والے جج وقار کو پاگل ٹھہرادیا ، حتی کہ ذلت کی موت مرنے کے بعد جب اسے گارڈ آف آنر  دے کر دفنایا تب جاکر آپ کے وقار کو سکون آیا ۔
ہر آئین شکن مجرم آپ کا وقار اور ماتھے کا جھومرُ کیوں ہے؟

Advertisements
julia rana solicitors

آج آپ فرما رہے ہیں کہ ۲۰۱۴ کے دھرنوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔؟
کیا جنرل پاشا کو کٹہرے میں لایا جائیگا جس نے اس شفقت محمود کے گھر میں سب کو جمع کرکے اس کی  پلاننگ کی تھی؟
جس نے بطور ڈی جی چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کو اس تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی جسے آپ آج انتشاری ٹولہ کہہ رہے ہیں ۔
کیا اس سلسلے میں ظہیر اسلام سے پوچھ گچھ ہوگی جس نے بطور ڈی جی جولائی ۲۰۱۴ میں لندن پلان کی بنیاد رکھی۔ اور آج کل برملا اس کا اعتراف کرتے پھرتے ہیں ۔
کیا اس برگیڈر خالد سے بھی باز پرس ہوگی جس کے بارے میں طاہر القادری صاحب نے انکشاف کیا کہ
“پرائم منسٹر ہاؤس پر قبضہ کر لیا ہے
‏بریگیڈئر خالد نے کہا ہے کہ آپ اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں ، باہر آپ اور اندر ہم”
اور جب پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ ہوا تو وہ کور کمانڈرز کون تھے جو سیاسی حکومت کو طاقت استعمال نہ کرنے کے مشورے دیتے رہے۔
آج آپ غلط ذہن سازی کی بات کررہے ہیں کیا اس سلسلے میں عاصم باجوہ اور مسٹر غفور سے پوچھ گچھ ہوگی جو ففتھ جنریشن وار کے نام پر نوجوان نسل کے  ذہنوں کو آلودہ کررہے تھے۔ جنہوں نے انٹرن شپ کے نام پرمعصوم بچوں کو ورغلایا۔
اور جب فیض آباد کا دھرنا شروع ہوا، ریاست کو مفلوج کردیا گیا تو وہ جنرل باجوہ کس فوج کا چیف تھا جو بیرون ملک سے فون کرکے وزیر اعظم خاقان عباسی کو طاقت کے استعمال سے منع کرتے رہے۔
وہ کون سی فوج تھی جس نے منتخب وزیر اعظم کے حکم پر بلوائیوں کے خلاف ایکشن لینے سے انکار کیا۔
وہ جنرل فیض کون تھا جو دھرنا کروا کر پھر دھرنے کا ضامن بنا ۔ وہ کون سا جذبہ تھا کہ خڑ کمر   میں پرامن احتجاج پر گولیاں چلانے والے فیض آباد دھرنے کے بلوائیوں میں ہزار ہزار کے نوٹ بانٹے رہے۔
اس ملک میں مذہبی عسکریت پسند تنظیموں   سے لیکر کراچی میں لسانیت کے نام پر مسلح گروہ تک ہر ناسور کے پیچھے کس کی ڈاکٹرائین چلتی رہی ؟
آپ کے ناکام تجربات سے پیدا ہونے والے خطر ناک وائرس اس ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرگئے لیکن نت نئے تجربات کا شوق اب بھی جاری ہے۔
اس لئے یہ معافی مانگنے کا ناٹک چھوڑیں ۔ اپنے گستاخ لاڈلوں کو برملا گلے لگائیں ۔ یہ اختلاف صرف دونوں طرف کے بڑوں کی  ذاتیات اور اعتماد کے فقدان تک ہے۔
باقی جو پلٹن میدان کی ذلالت سے سبق حاصل نہ کرسکے اُن کے نزدیک ۹ مئی جیسے سانحات کی کیا حیثیت ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply