کھال کی اصلاح اور تلواروں سے لڑائی/ندیم کھوہارا

مجھے یاد ہے ان دنوں ساہیوال کے ایک نواحی گاؤں میں فیلڈ ڈیوٹی پر تھا۔ کچے کھال کی تعمیر نو کی جا رہی تھی۔ گاؤں کا ماحول بہت ٹینس تھا۔ کسی بھی وقت لڑائی کا چھڑ جاتی۔ پولیس اور محکمہ مال کا عملہ بھی موقع پر موجود تھا۔ ایسے میں ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے اور لوگوں سے پوچھنے لگے کہ موقع افسر کون ہے؟ کسی نے میری جانب اشارہ کیا تو وہ اسی طرح ہانپتے لاٹھی ٹیکتے میری طرف آئے۔ ایک لمحے کو لگا کہ ضعیف ہونے کے باوجود کھال گرائے جانے کی پاداش میں لاٹھی اٹھا کر میرے ساتھ لڑ پڑیں گے۔ لیکن انہوں نے اپنا ناتواں ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور کہنے لگے۔۔

“شاباش پتر، جو کھال آج تو نے گروایا ہے، اس کی خاطر ہمارے بڑوں کے دور میں تلواروں سے لڑائی ہوئی تھی۔ پھر تلواروں کی جگہ بندوقوں اور دیگر اسلحے نے لے لی۔ لیکن یہ لڑائی نسل در نسل جاری رہی۔ نہ کوئی اس کھال کو تعمیر کر سکا نہ یہاں سے پانی گزر سکتا تھا۔ آج تم اس کھال کو گرا کر تعمیر کروا رہے اللہ آپ کا بھلا کرے”۔

وہ بزرگ اسی طرح دعائیں دیتے چلے گئے۔ میں سوچتا رہا کہ یہ کیسا کھال ہے جس پر تلواروں سے لڑائی شروع ہوئی اور آہنی اسلحے تک جا پہنچی ہے۔ اب نہ جانے آگے کیا ہو۔ لیکن الحمداللہ محکمہ پولیس، محکمہ مال، محکمہ آبپاشی اور محکمہ زراعت شعبہ اصلاح آبپاشی کے مشترکہ تعاون سے اس کھال کی تعمیر مکمل ہوئی۔ آج بھی وہاں امن سکون ہے۔ فساد کی جڑ ختم ہو چکی ہے۔ اور کاشت کار اصلاح شدہ کھال سے پانی لگا کر سکھ اور چین سے اپنی فصلوں ہی نہیں نسلوں کی آبیاری کر رہے ہیں۔

ایسے نہ جانے کتنے ہی بے شمار کھالہ جات پورے پنجاب میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جن پر سالہا سال سے ہونے والی لڑائیوں کا اختتام بالآخر کھال کی اصلاح پر پہنچا۔ زمینوں کی پیمائش، وارہ بندی کے مسائل، کھال اور پگڈنڈیوں کے جھگڑے ختم ہوئے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری و ساری ہے۔ پنجاب بھر میں واٹر مینجمنٹ اسٹاف کسانوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت فیلڈ میں دستیاب ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

محکمہ زراعت شعبہ اصلاح آبپاشی کی زیر نگرانی پورے پنجاب میں کھالہ جات کو پہلے تیس فی صد حد تک اور اب پچاس فی صد تک پختہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مدت میعاد پوری کرنے والے کھالہ جات کو نئے سرے سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی جانب سے بھی صوبے کے 7200 کھالہ جات کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس تعمیر سے صرف پانی کی بچت ہی نہیں بلکہ کسانوں کے سالہا سال سے چلے آ رہے دیرینہ مسائل اور باہمی جھگڑے بھی حل ہوں گے۔ نیز انجمن اصلاح آبپاشاں یعنی کھال کمیٹیوں کے ذریعے کمیونٹی فارمنگ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ہمارا عزم ہے۔

Facebook Comments

ندیم رزاق کھوہارا
اردو زبان، سائنس، فطرت، احساس، کہانی بس یہی میری دنیا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply