اُردو کے سو پسندیدہ شعر۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ/قسط1

اس وقت شاید ہم میٹرک میں تھے یا کالج آ چکے تھے۔ دوستوں نے سو سو پسندیدہ شعر رجسٹر میں لکھنے کا پلان بنایا۔ ہم سب نے اپنے الگ الگ رجسٹر لیکر یہ دھندہ سر لے لیا۔ ابھی عیدالاضحیٰ سے قبل نئے مکان میں سکونت کے لیے ہجرت کی تو سامان میں وہ رجسٹر بھی برآمد ہو گیا۔ دیکھا تو تریسٹھ کے قریب اشعار مل گئے جو درج تھے۔ کئی یادوں کے در وا ء ہو گئے۔ کئی باتیں دوشِ یاد کے سنگ لاشعور کی سرحد پھلانگ کر دید کا سامان بن گئیں۔ خیر اُس رجسٹر نے سو اشعار مکمل کرنے اور سوشل میڈیا کے احباب کے ساتھ شیئر کرنے کی تحرک پیدا کی۔ ایک ہی قسط میں تمام اشعار کا بیان مشکل ہے۔ اس لیے اس کو مختصر سلسلہ بنا کر شائع کروانا بھی شغل کا حصہ بناتے ہیں۔ پہلی قسط مندرجہ ذیل اشعار کے ساتھ حاضر خدمت ہے۔ جہاں تفصیل کی ضرورت ہوئی تو پیش کرتا رہوں گا۔ تو آغاز کرتے ہیں حکیم ناصر کے شعر سے جو کراچی میں اپنا مطب بھی چلاتے رہے چونکہ ہجرت سے قبل شہر اجمیر میں حکمت ہی انکا آبائی پیشہ تھا۔

مصنف:کامریڈ فاروق بلوچ

اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

اگلا شعر سات ہزار سے زائد شعر لکھنے والےبلند پایہ شاعر، ایک عظیم مگر ناکام سیاستداں، ایک صوفی، درویش اور مجاہد، ایک صحافی، نقّاد، محقّق اور کانگریسی، مسلم لیگی، کمیونسٹ اور جمعیت علما کی بہت سی شخصیتیں ایک ساتھ جمع ہو سکتی ہیں تو اس کا نام سید فضل الحسن حسرت موہانی بنتا ہے ،کا ملاحظہ فرمائیں کہ:
غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤں
مری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندی

اٹک کے شاعر مشتاق عاجز کا شعر ملاحظہ فرمائیں کہ
-عمرِ عزیز بھول بھلیاں میں کٹ گئی
جو بھی ملا وہ ایک پہیلی سنا گیا

راولپنڈی کے باقی صدیقی کا شعر پیش خدمت ہے کہ:
ابتدائے سفر کا شوق نہ پوچھ
ہر مسافر کو ہم سفر جانا

عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے کے لئے پاکستانی معروف ترین شاعرہ پروین شاکر کا شعر پیش خدمت ہے کہ:
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

سید جاں نثار حسین رضوی اور اختر تخلص استعمال کرنے والے ہندوستانی شاعر کا شعر دیکھیے :
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

ریاست حیدرآباد کے مشہور ماہرلسانیات، لغت نویس اور شاعر امیر مینائی کا شعر پڑھیے کہ:
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

ندا فاضلی کی شاعری فنکارانہ ہے۔ یہ جب اپنا کلام لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ کسی مصور کی تصویر ہے یا پھر کسی موسیقی کار کی موسیقی ہے۔ تقسیم ہند سے بالکل اتفاق نہیں کرنے والے فاضلی، مذہب کے نام پر فسادات، سیاست دانوں اور فرقہ پرستوں پر جم کر تنقید کرتے ہیں۔ میرے رجسٹر میں درج ندا فاضلی کا شعر ملاحظہ فرمائیں کہ:
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجیے پھر سمجھیے، زندگی کیا چیز ہے

لگے ہاتھوں ہندوستانی شاعر محسن فاطمی کا یہ والا شعر بھی پڑھتے جائیے کہ:
میں بھی خود کو سنوارتا محسن
آئینہ نکتہ چیں ہوا ہی نہیں

ناصر کاظمی کو جو شہرت ملی وہ شاید کسی دوسرے شاعر کو ملی ہو کیونکہ وہ دائیں اور بائیں بازو میں یکساں مقبول ہوئے۔ ان کا شعر پڑھیے اور جانیے کہ ناصر کاظمی کیوں مشہور تھے، کہ:
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

جہلم کے گاؤں دینا کے شاعر سمپورن سنگھ کالرا کا شعر دیکھیے کہ:
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

اردو و فارسی کے ممتاز شاعر، ریختہ کے استاذ الاساتذہ، خدائے سخن میر تقی میر پہ یتیمی نے حملہ کیا، پھر بڑے بھائی نے مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے، پھر پردیس کا مزہ ایسا چکھا کہ غم دوراں نے کیا کچھ نہ دکھایا، پھر غم جاناں کے تڑکے نے جنون کی کیفیت طاری کر دی۔ لکھنو پہنچے تو نواب آصف الدولہ کو شاعری پسند آ گئی اور 1700ء کے آخری برسوں میں 300 روپے ماہانہ وظیفہ جاری کر دیا۔ میر کچھ عرصہ متمول زندگی گزار پائے۔ لیکن مزاج کی تنکی نے نواب کے دربار سے دوریاں پیدا کر دیں، نتیجتاً میر پھر سے بدحال ہو گئے۔ خدائے سخن کا شعر دیکھیے کہ:
ہو گا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

رومان اور درد سے اٹی ہوئی شاعری کے لیے مقبول زد عام شاعر محسن نقوی کا شعر دیکھیے کہ:
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

جدید سندھی ادب کے تراجم کے لیے مشہور آفاق صدیقی کا شہر بھی مزیدار ہے کہ:
کیا زمیں کیا آسماں کچھ بھی نہیں
ہم نہ ہوں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیں

آئیے اردو شاعری کے عجیب کردار میرا جی کا شعر دیکھتے ہیں۔ بتاتا چلوں کہ میراجی کا اصل نام محمد ثناء اللہ تھا اور وہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ اوّل تخلص ”ساحری“ تھا، پھر بنگالی لڑکی ”میرا سین“ کے یک طرفہ عشق میں پاگل ہو کر ”میراجی“ تخلص اختیار کر لیا۔ لمبے لمبے بال، بڑی بڑی مونچھیں، گلے میں مالا، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین تین پتلونیں، شیروانی کی جیبیں کاغذوں سے لدی اور بیاضوں کا پلندہ بغل میں دابے بڑی سڑک پر پھرتا تھا اور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔ وہ لوگوں کو دیکھ کر کڑھتا تھا اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ صرف اپنے لیے شعر کہے گا۔ صرف 38 سال کی عمر میں 1949ء کو فوت ہو گئے، خیر شعر دیکھیے کہ:
کھونے اور پانے کا جیون نام رکھا ہے ہر کوئی جانے
اس کا بھید کوئی نہ دیکھا کیا پانا کیا کھونا ہو گا

لاہور ہی کے اے جی جوش کا شعر بھی قابل داد ہے کہ:
جو فقر میں سرور ہے شاہی میں وہ کہاں
ہم بھی رہے ہیں نشۂ دولت میں چار دن

بالی ووڈ کے مشہور کہانی کار جاوید اختر جو کہ منظر نویس، سیاست دان، مصنف، شاعر، غنائی شاعر، نغمہ نگار ہیں کا یہ شعر میرا پسندیدہ ہے، پڑھتے جائیے کہ:
ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہے
ابھی ہمارا کوئی امتحان باقی ہے

علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک میں ہاتھوں میں بیلچہ اٹھا کر اور وردی پہن کر ایک بندہ لاہور اور گوجرانوالہ میں سڑکوں پر مارچ کیا کرتا تھا۔ اُس بندے کا نام نذر محمد راشد تھا۔ گوجرانوالہ کے اس سپوت کو اردو ادب ن م راشد کے نام سے جانتا ہے۔ حسن کوزہ گر جیسی شاہکار نظم کے خالق کا یہ شعر بھی دیکھیے کہ:
تجھ پہ کھل جاتی میری روح کی تنہائی بھی
میری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہوتا

کون کون جانتا ہے کہ ریاست بھرت پور کے علاقے آگرہ کے کالا محل میں کون عظیم شاعر پیدا ہوا تھا؟ نجم الدولہ، دبیرالملک، مرزا نوشہ یعنی اسد اللہ خان غالب کا یہ شعر دیکھیے کہ:
اسی کے زلف و رُخ کا دھیان ہے شام و سحر مجھ کو
نہ مطلب کُفر سے ہے اور نہ ہے کچھ کام ایماں سے

پاکستان اور بھارت میں یکساں مقبول شاعر قتیل شفائی کے کلام میں سادگی، عوام کے جذبات، سیاست اور عام فہم سچائی پائی جاتی ہے۔ اُن کا شعر دیکھتے ہیں کہ:
سرِ طور ہو، سرِ حشر ہو ،ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

فاخرہ بتول کا یہ شعر داد سے بالا لگتا ہے، آپ کا کیا خیال ہے :
ہم تو اس کھیل کا حصہ تھے ازل سے شاید
سو تماشا جو نہ بنتے تو تماشا کرتے

استاد شاعر بہزاد لکھنؤی کے پوتے مقبول شاعر عزم بہزاد کا شعر ملاحظہ فرمائیں کہ
کدھر گئے وہ رستے جن میں منزل پوشیدہ تھی
کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے

“صوفی غلام مصطفٰی تبسم اردو، پنجابی اور فارسی زبانوں کے شاعر تھے۔ آپ بچوں کے مقبول ترین شاعر تھے۔ بڑوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھا۔ استاد رہے، ماہانہ لیل و نہار کے مدیر رہے اور براڈ کاسٹر بھی ۔ ٹی وی، ریڈیو سے پروگرام “اقبال کا ایک شعر” کرتے تھے۔ صوفی تبسم ہر میدان کے شہسوار تھے۔ نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا گیت، ملی نغمے ہوں یا بچوں کی نظمیں۔ کہاں کہاں ان کے نقوش باقی نہیں ہیں۔ ادارہ فیروز سنز سے ان کی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جیسے انجمن، صد شعر اقبال اور دوگونہ۔ علاوہ ازیں بچوں کے لیے بے شمار کتب لکھیں۔ جن میں شہرہ آفاق کتابیں جھولنے، ٹوٹ بٹوٹ، کہاوتیں اور پہیلیاں، سنو گپ شب وغیرہ شامل ہیں۔”جھولنے” تو ننھے منے بچوں کے لیے ایسی کتاب ہے جو ہر بچہ اپنے اپنے بچپن میں پڑھتا رہا ہے۔1965ءکی جنگ میں ان کے پاک فوج کے لیے لکھے جانے والے نغمات نے بڑی شہرت حاصل کی” (وکی پیڈیا اردو) صوفی تبسم کا شعر پیش خدمت ہے کہ:
میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنا نہ کر سکو

اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار جنہوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت حاصل کی، حفیظ جالندھری کا شعر بھی پڑھنے کے قابل ہے کہ:
ہم سے یہ بارِ لطف اٹھایا نہ جائے گا
احسان یہ کیجیے کہ یہ احساں نہ کیجیے

بیسویں صدی کے مقبول ترین اردو شعرا میں شامل، اقبال کے استاد میرحسن کے شاگرد، دار و رسن سے خوب واقف، کوچہ یار کے نقیب، کبھی اپنے عزم سے روگردانی نہ کرنے والے شاعر فیض احمد فیض کا شعر پیش خدمت ہے کہ:
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

سلسلہ چار اقساط پہ مشتمل ہو گا، سلسلے کی پہلی قسط رائے کی منتظر ہے۔
جاری ہے

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *