دیسی دانشور اور اسٹیبلشمنٹ (قسط2)۔۔۔۔آصف وڑائچ

دیسی دانشور اور اسٹیبلشمنٹ(حصہ اول)۔۔۔آصف وڑائچ

اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونا بھی یہاں ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ کوئی بھی اٹھ کر اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا نعرہ لگا دے وہ دیسی دانشوروں کا دیوتا بن جائے گا۔ دانشور اس کے تمام گزشتہ گناہ پلک جھپکتے معاف کر دیں گے۔ نہ صرف اس کے جرائم نظر انداز کر دیں گے بلکہ چشم زدن اسے جمہوریت کی عظمت کا ستارہ بھی بنا دیں گے یعنی دانشوروں کی سوچ دیکھیے کہ بجائے اداروں کو مضبوط کرنے کے  لیےشخصیات کو گلیمرائز کرنے بیٹھ جائیں گے۔
دیسی دانشور غیر محسوس طور پر مسلسل حالتِ نفی میں جی رہے ہیں۔ یہاں روز بروز ایسے دانشور جنم لے رہے ہیں جو عوام الناس کے اندر تشویش اور اضطراب کو بڑھاوا دینے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں، انہیں تصویر کا محض ایک رخ دکھا کر انکی فکر پر بندھ باندھنے کی کوشش کرتے ہیں، باور کروانا چاہتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں سب بُرا ہی بُرا ہے، تباہی ہے بربادی ہے اور سدھار کی کوئی امید باقی نہیں۔ دانشور کی سوچ ہے کہ اس ملک کی کرتا دھرتا اور سیاہ و سفید کی مالک صرف فوج ہے اور فوج ہی ہر برائی کی جڑ ہے فوج اس ملک کی تباہی چاہتی ہے جبکہ سیاستدان ایک ایسی معصوم سی مخلوق ہے جو کبوتر کی طرح آنکھیں موندے  الیکشن لڑتی ہے اور چپکے سے کوئی بلی آتی ہے جو اپنی گھنٹی اتار کر ان کبوتروں کے گلے میں باندھ جاتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارا دانشور اپنی ساری توانائی اسی گھنٹی کو بجانے میں صرف کرتا ہے لیکن اس گھنٹی کو اتارنے کا کوئی طریقہ دریافت نہیں کرتا۔
سمجھنا چاہیے کہ جب آپ ہر وقت لعن طعن اور الزامات کے ڈونگرے برساتے رہیں گے تو ردِ عمل میں بلی کیا کرے گی؟ ظاہر ہے بلی بھی اپنی پروٹیکشن کے لئے تگ و دو کرے گی، غرّائے گی، پنجے مارے گی۔ ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنی حرکتوں سے عوام کا اعتماد کھویا ہے، اس بداعتمادی کے خلا کو کون پورا کرے گا؟ ظاہر ہے کہ فوج۔۔
جب جب مارشل لا آئے ہیں موقع پرست سیاستدانوں کی وجہ سے آئے ہیں۔ وہ سیاستدان جو خود فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر سیاست کے ایوانوں میں پہنچے۔ اگرچہ ماضی میں بعض حکومتوں کو دو تہائی اکثریت بھی نصیب ہوئی اور وہ چاہتے تو آئین کی مکمل حکمرانی قائم ہوسکتی تھی، فوج کو بیرکوں تک محدود رکھا جا سکتا تھا لیکن ان حکومتوں نے فوج، عدلیہ، میڈیا اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیشہ اپنے مخالفین کو دبانے پر ہی توجہ مرکوز رکھی۔ مرحوم بھٹو صاحب ایوب خان اور پھر یحییٰ خان کے جگری بنے رہے پھر یہی بھٹو صاحب ضیاء الحق کو اپنے لئے پالتے رہے اور ضیاءالحق نے ہی ان کا دھڑن تختہ کر دیا۔ نواز شریف ضیاالحق کے روحانی بیٹے تھے ۔ نواز شریف اور مرحومہ بے نظیر بھٹو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے پھر یہی نواز شریف پرویز مشرف کو لائے اور اسی کے ہاتھوں گھر گئے، یعنی ایک لمبی داستان ہے ،لہذا فوج کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کی تربیت بھی اشد ضروری ہے اور عوام کو صحیح معنوں میں فوج اور سول حکومت کے باہمی تعلقات کے متعلق شعور دلانے کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن کیا ہمارے دیسی دانشوروں نے کبھی اس پر ورک آؤٹ کیا ہے؟ اور یہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں کیسے در آتی ہے اور پھر اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو ان کاؤنٹر کرنے کی کوشش کیوں کرتی ہے؟ نہیں۔۔۔دانشور اس بابت سنجیدگی سے نہیں سوچتا، کیونکہ اپنے تئیں دانشور نے اسٹیبلشمنٹ کو انسانوں کا ادارہ نہیں کوئی غیر مرئی قوت تصور کر رکھا ہے، اسے اچھوت سمجھ رکھا ہے اور ایک لا حاصل دشمنی پال رکھی ہے حالانکہ دانشور کا کام مسائل کو سلجھانا ہوتا ہے نہ کہ مزید الجھانا۔ دانشور کو چاہیے کہ ریاست کو درپیش اندرونی و بیرونی مشکلات کا حل سوچیں اور ان کا حل نکال کر دیں، اگر ایسا ہوتا تو غالب امکان ہے کہ حالات مختلف ہوتے۔ بالفرض ہمارے سیاستدان اور دانشور اسٹیبلشمنٹ کو کسی طور کھڈے لائن لگانے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو کیا یہ ملک چل سکے گا یا سلامت رہے گا؟
میں کہتا ہوں کہ ریاست کے خلاف محاذ بنا کر ہیجان پیدا کرنے کے بجائے اُلٹا اس کا حصہ بن کر اسے درست ٹریک پر لایا جا سکتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ اس کی غلطیوں پر مثبت تنقید کے ساتھ ساتھ اس کے بہتر اقدامات کی توصیف بھی کریں۔
اس میں شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بھی کہیں نہ کہیں اسٹیٹسکو کا حصہ ہے لیکن یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کی شکل میں بھی ہمیشہ ہمیں استعمار ہی ٹکرا ہے اور اشرافیہ پر مشتمل اسٹیٹس کو کی یہ قوت ہر سطح پر عوام کو نوچتی ہے۔ کرپٹ افراد ہر جگہ موجود ہیں، فوج، سیاستدان، کاروباری طبقہ، عدلیہ اور میڈیا ہر جگہ۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے ارد گرد بھی یہ اشرافیہ موجود ہے کیونکہ مفاد پرستوں کا طاقتور ٹولہ ہر سیاسی جماعت میں اپنا وجود رکھتا ہے۔ عمران خان بھی اُسی سسٹم سے آیا ہے جس سے ہر سیاستدان آتا ہے اگرچہ عمران خان روایتی سیاستدان نہیں لیکن یہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ اگر عمران خان بھی ناکام ہوتا ہے تو تب کیا ہو گا، کیا پیچھے کوئی ایسا سیاستدان نظر آتا ہے جو اس ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت یا نیت رکھتا ہو؟
وطن کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو حکمت اور تدبر سے راہ راست پر لایا جائے اور اس کا ایک بہتر طریقہ یہ ہے کہ سیاستدان اپنے ذاتی کاروبار کو خیر باد کہہ دیں اور سرکاری اداروں میں موجود کرپشن ختم کرنے کیلئے دل سے کام کریں۔ سیاستدان اور دانشور اسٹیبلشمنٹ سے کشمکش کی بجائے اس کی رہنمائی کریں۔ ہمارے بعض دانشوروں اور سیاستدانوں میں یقیناً ایسی صلاحیتیں موجود ہیں اور ریاستی انتظامیہ کی رہمنائی بھی ممکن ہے۔ صرف کرنا یہ ہے کہ محاذ  آرائی ختم کی جائے اور اعتماد اور ڈائلاگ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یاد رکھیے کہ اندرونی خلفشار سے دشمن کو تو فائدہ ہو سکتا ہے مگر وطنِ عزیز کو نہیں۔
اس وقت ملک میں اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے اقتدار پہ بھی اور عوام کے اندر بھی۔ تقریباً ہر شخص اپنا سیاسی و سماجی حق مانگ رہا ہے۔ عوامی سیاسی شعور و عدلیہ کا ایکٹیو ازم جاگیرداروں، وڈیروں اور کاروباری مافیاز کو بھی اس کے انجام تک پہنچانے کے لئے پر تول رہا ہے، لہذا ہمارا مجموعی سیاسی اخلاق بہتری کی جانب گامزن ہے نہ کہ خرابی کی طرف، اس لیے متاثرینِ دانشوراں سے التماس ہے کہ مایوسی والے فلسفے کو فی الوقع خیر باد کہہ دیجیے۔
یہ رویہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ رائے قائم کرتے وقت دلائل یا شواہد سے رجوع کرنے کے بجائے اپنے تعصبات کے زیادہ اسیر ہوتے ہیں اور کوشش کے باوجود بھی تعصب اور شکوک سے باہر نہیں نکلتے۔ بعض نام نہاد قوم پرست اور کمرشل دانشور فوج کو پنجابیوں کی فوج کہہ کر عام پنجابی کو بھی گالی دیتے ہیں، ایسے شدت پسندوں کو اپنے دماغ سے یہ کیڑا نکال دینا چاہیے کہ وہ اس ملک کے عوام کو بہکانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔۔ نہیں،ایسا کبھی نہیں ہو گا، ان شااللہ

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *