دیسی دانشور اور اسٹیبلشمنٹ(حصہ اول)۔۔۔آصف وڑائچ

سی آئی اے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے اس کا کوئی وجود نہیں ،ایم آئی سکس بھی ایک دھوکہ ہے، بلکہ سمجھیے کہ چائے کا کوئی کھوکھا ہے، موساد نام کی نہ ہی کوئی جاسوس ایجنسی ہے اور نہ ہی یہ کچھ کرتی ہے ،را کا بھی نہ کوئی وجود ہے اور نہ اہمیت ،این ڈی ایس ایک ڈمی ایجنسی ہے جس میں ایک بھی ایجنٹ کام نہیں کرتا، جی آر یو بھی کوئی شے نہیں، بس ایسے ہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔۔ ڈی جی ایس ای کے بارے میں بھی یار لوگوں نے خوامخواہ بات اُڑائی ہوئی  ہے کہ یہ بھی ایک سیکرٹ ایجنسی ہے جو یورپ کے مفاد کے لئے کام کرتی ہے، ان ایجنسیوں کے لئے کام کرنے والے کرداروں پر فلمیں بنانے والے ہالی وڈ کے فلم ساز بھی بالکل بے خبر اور جاہل لوگ ہیں، بھلا جس شے کی کوئی اہمیت ہی نہیں اس پہ پیسہ لگا کر فلم کیوں بنائی جائے؟

آپ یقینا ً سوچ رہے ہونگے کہ جو شخص بھی ایسا سمجھتا ہے وہ عقل سے پیدل ہے۔۔ جی ہاں آپ درست سوچ رہے ہیں ایسا سمجھنے والا واقعی عقل سے پیدل ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے بد عقلے اس ملک میں بڑی تیزی سے پیدا ہو رہے ہیں اور ان کو پیدا کرنے والے وہ کمرشل دانشور ہیں جو خود تو بیرونی ایجنسیوں کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں مگر یہاں کسی بھی معاملے میں ان ایجنسیوں کا نام نہیں لینے دیتے اگر کوئی نام لے بھی تو اسے بے وقوف کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں ،حالانکہ بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے اہلِ  دانش بخوبی جانتے ہیں کہ کس طرح ایجنسیاں انٹرنیشنل بزنس ٹائکونز کی مدد سے دنیا کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ حکومتیں تک گراتی ہیں۔ مختلف ممالک کے خفیہ ایجنٹس لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات کے تحت پروپیگنڈے اور جاسوسی کرتے ہیں۔

بھارتی ایجنسی را کے تعاون سے افغان ایجنسی بلوچ علیحدگی پسندوں و عمر خالد خراسانی جیسے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتی رہی ہیں ، جنہوں نے دہشت گردانہ حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہید کیے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو بھی را کی معاونت حاصل رہی جس کا اقرار خود بھارتی حکومت کھل کر کرتی ہے ،کراچی کے حالات خراب کرنے میں بھی را کا ہاتھ رہا، دنیا کے کئی ممالک میں سی آئی اے کی مداخلت رہتی ہے جس کے ذریعے من پسند افراد کو اقتدار دلایا جاتا ہے، موساد نے درجنوں فلسطینوں کو دبئی و ملائشیا سمیت کئی ممالک میں قتل کروایا ہے، روس کی ایجنسیوں نے اپنے منحرف استخباراتی ارکان کو یورپ میں قتل کروایا ،سابق شیشانی صدر زیلم خان انداربے کو قطر میں قتل کروایا، مگر یقین مانیے ان میں سے کسی ایک ملک کے دانشور یا سیاستدان کبھی اس کا اظہار نہیں کریں گے کہ فلاں جگہ پہ فلاں کانڈھ دراصل ہماری ایجنسی کی کارستانی تھی۔

ہمارے ہاں معاملہ اس کے بر عکس ہے، ہمارے ملک میں کوئی بھی اہم واقعہ ہو یا کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو ابھی کسی کو واقعے کی پوری اطلاعات بھی موصول نہیں ہوتیں کہ کمرشل دانشور پلک جھپکتے ہی سوشل میڈیا پر ایک بیانیہ گھڑ  کر اس انداز سے پیش کرتے ہیں گویا ایک ایک بات کی انہیں پہلے ہی خبر تھی اور جھٹ نتیجہ آپکے سامنے رکھ دیتے ہیں جیسے ان کے پاس غائب کا علم ہو یا سچائی جاننے کے لئے ان کے پاس موکل موجود ہوں جبکہ ان دانشوروں کی چالاکی یہ ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی انہیں مقامی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ صاف دکھائی دیتا ہے جبکہ بڑے سے بڑے معاملے میں انہیں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ دور دور تک نظر نہیں آتی آخر ان کی بے تحقیق موشگافیوں کی تصدیق کون کرے گا، میں حیران ہوں کہ ان دانشوروں کے متاثرین کیسے چغد ہیں جو چند لائک لینے کے لئے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اپنے ہی ملک کی بے توقیری کرتے ہیں۔

یہ بیانیہ کہ فوج اپنی عوام کو خود مرواتی ہے سراسر غلط اور جہالت پر مبنی ہے جو کہ پیڈ دانشوروں کا پھیلایا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب فوج دہشتگردوں سے نمٹنے میں بے بس نظر آئی لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ فوج نے آخر کار دہشتگردوں پر قابو پا لیا۔

پاکستان کی حکومت یا فوج نے امریکہ کو دعوت نہیں دی تھی کہ افغانستان پر حملہ کرے، نائن الیون کے بعد جہاں چین اور روس جیسی طاقتیں امریکہ کے آگے بے بس تھیں وہاں پاکستان جیسا چھوٹا ملک بھلا کیا بیچتا تھا کہ جس کی سرحد پر 2009 سے لے کر 2012 تک بھارت کی ساری فوج آ کر بیٹھی رہی تھی۔ آج بھی سرحدوں کے حالات سب کے سامنے ہیں۔
بعض دانشور بڑی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ خود کش بمباروں کے پیچھے بھی فوج کارفرما ہے، سمجھنا چاہیے کہ خود کش بمبار اپنے مذہبی پیشواؤں کے حکم سے تو پھٹ سکتے ہیں مگر کسی وردی والے کے حکم پر نہیں۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے ترتیب شدہ “افغان جہاد” کے دوران اگر پاکستان نے طالبان کی مدد کی بھی تھی تو بعد میں جب منظر یکسر تبدیل ہو چکا تھا اور پاکستان انہی  طالبان سے نبرد آزما تھا تو بھلا ایک وردی والا کسی خود کش بمبار کو یہ کیسے کہہ سکتا تھا کہ بھائی آؤ اور مجھ ہی پر پھٹ جاؤ یا جس ملک کی حفاظت میں میری بقا ہے اور مجھے طاقت اور روزی ملتی ہے اسی ملک کو آ کر تباہ کر دو؟ ۔۔۔ کیا یہ حیرت انگیز سوچ نہیں؟

بعض دانشور مخصوص ایجنڈے کے تحت عوام میں افراتفری پھیلاتے ہیں ان کی تنقید میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہوتے یہ محض مفروضات پر اخبار کی عمارت تعمیر کرتے ہیں یہ ملک کے لئے وہی زبان بولتے ہیں جو دشمن کی زبان ہے یہ دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ،ان کی زبان سے کبھی ان فوجی جوانوں کی تعریف نہیں سنی جو سیلاب اور زلزلہ زدگان کی مدد کو پہنچتے ہیں دہشت گردی کے خلاف خونریز جنگ میں پاک فوج کے ہزاروں جوان اور افسر کام آئے ہیں جدید اسلحے والی جنگوں کی تاریخ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی جس میں کسی ملک کی فوج نے بے دریغ اتنی جانیں دی ہوں فوجی جوانوں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے پندرہ سال تک بلا ناغہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس ملک کو شام ، لیبیا اور عراق بننے سے بچا لیا اعداد و شمار کو  ذرا کھنگالیے، دنیا میں جہاں بھی ممالک کے اندر شورشیں بپا ہوئی ہیں وہاں بد دلی اور یاسیت پھیل جاتی ہے، فوج مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے، جوان اور افسر خود کشیاں کرنے لگتے ہیں لیکن پاک فوج نے ہر قسم کے نامساعد حالات کے باوجود ثابت قدمی دکھائی ہے جہاں ہر ہفتے چار پانچ بڑے دھماکے ہوا کرتے تھے صورتِحال اب یکسر مختلف ہے، کراچی میں بھی سیاسی بنیادوں پر اغوا اور بھتہ خوری کا بازار گرم رہتا تھا جس میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئى ہے۔ بلوچستان میں فراریوں کی اکثریت بھی ہتھیار ڈال چکی فاٹا کے قبائلی علاقوں میں بھی الیکشن کی گہماگہمی رہی طویل جنگ کے بعد سول آبادی گھروں کو لوٹ چکی کیا اس کارکردگی پر فوج کے جوان تحسین کے حقدار نہیں؟
جاری ہے

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *