حکمتیں2 ۔۔۔۔ جان میں آپکو کیسی لگتی ہوں/راجہ محمد احسان

عبدالحکیم کا  ذکر ہو اور اُن کے رومانس نہ یاد آئیں ہو نہیں سکتا۔آپ کی طبیعت رومانٹک ہے۔آپ کے مزاج میں رومانس ہے۔ آپ اُن کی طبیعت اور مزاج کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جو کبھی حکیم صاحب بازار میں تربوز لینے گئے ہیں تو وہاں دُکاندار سے اس بات پہ لڑ پڑے ہیں کہ تربوز کو ٹکی اتنی بڑی کیوں لگا دی۔آم لینےجائیں تو کبھی لنگڑا آم نہیں خریدیں گے، ہمیشہ چونسہ آم لیں گے۔ چائنیز کیلے کو دیکھ کے آپ ہمیشہ ایک ناگواری کا اظہار کریں گے۔ابھی اگلے دن کی بات ہے آپ بوسکی کا نیا کُرتا پہن کر گھر سے نکلے، حلیمہ بی بی جن کا واحد مشغلہ گھر کی دہلیز پہ بیٹھ کے محلے کے ہر آتے جاتے آدمی پہ نظر رکھنا ہے، نے چُٹکلہ چھوڑا ” ارے واہ حکیم بھائی جان بوسکی کا کُرتا تو آپ پہ بہت جچ رہا ہے” ۔ اتنی سی بات پہ حکیم صاحب کی رومانس پرور طبیعت مچل گئی ۔ اتنی احتیاط سے مکڑی جالا نہیں بُنتی یا چاند پہ بیٹھی بُڑھیا چرخہ نہیں کتتی جس طرح حکیم صاحب نے اس بات پہ سارا دن دُکان میں بیٹھ کے خیالات بُنے ہوں گے۔ جو مجھے بوسکی کا کُرتا اچھا لگتا ہے تو کیا آپ پہ کالا رنگ کم کھِلتا ہے۔۔۔۔۔جیسے تپتی دھوپ میں کہیں سے کالے بادل آ گئے ہوں۔۔۔۔زندگی کی دھوپ میں کبھی کبھی پیار کی بارش کا بھی ہونا ضروری ہو جاتا ہے ، وغیرہ وغیرہ۔ ۔۔۔۔ یہ اور بات کہ اگلے دن جب آپ چیک کی شرٹ پہن کے نکلے اور حلیمہ بی بی نے کہا کہ بھائی جان خیر تو ہے ، کہیں دوسرا بیاہ تو نہیں رچانے لگے ؟آج کل بہت بن سنور کے نکلتے ہیں ۔۔۔۔ تو حکیم صاحب نے صرف اتنا کہا کہ بہن جتنا بھی بن سنور لو آخر میں ہر انسان کا نصیب سفید جوڑا ہی ہے۔

حکیم صاحب کی زندگی میں عاصمہ شیرازی کا عشق بھی اپنی جگہ ایک لطیفہ ہے۔ عاصمہ شیرازی پردے کی قائل تو تھی لیکن سکارف اس طرح زیبِ تن کرتی تھی کہ  دیکھنے والوں کا کلیجہ منہ  کو آجاتا تھا ۔دسویں جماعت کی الوداعی پارٹی کی تقریب تھی ۔ عاصمہ شیرازی نے سکارف درست کرتے ہوئے حکیم صاحب کی طرف دیکھا اور آپ کو بے ضرر جانتے ہوئے پوچھا ” بھائی جان میں کیسی لگ رہی ہوں”۔۔۔۔ حکیم صاحب وہیں دل دے بیٹھے ۔ آج اس بات کو بیس سال گزر جانے کے باوجود اکثر کہتے ہیں کہ ” جیسا ٹوٹ کے مجھے عاصمہ شیرازی نے چاہا ، کوئی کسی کو نہیں چاہے گا، کردار کی غازی بندی نے مجھے ایسی محبت کی کہ خود اپنی سانسوں کو بھی اس کی بھنک نہ لگنے دی۔ صرف وقتِ رُخصت جذبات پہ قابو نہ رکھ سکی اور صرف اتنا کہہ کہ محبت امر کر گئی  کہ” جان میں آپ کو کیسی لگتی ہوں؟”۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *