درمیاں فہم محبت۔۔۔ماریہ خان خٹک/قسط2

درمیاں فہم محبت۔۔۔۔(قسط 1) ماریہ خٹک

امی۔۔۔۔ امی۔۔۔۔
وہ اپنے ایک بچے کو گود میں لئے اور دوسرے کو انگلی سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی تھی ۔
تھکی ماندی  یہ دوشیزہ بمشکل پچیس سال تک کی عمر کی ہوگی لیکن حالت سے ایسی تھی جیسے چالیس سال کی حد عبور کرگئی  ہو ۔
چہرے پہ واضح تھپڑ کے نشان کے علاوہ محسوس ہورہا تھا کہ وہ جسم کے مزید تشدد زدہ حصوں سے اٹھنے والی درد کی لہروں کو پینے کی عادی ہوچکی ہے۔
وئی زما بچے۔۔۔۔۔ کیا ہوا خیریت تو ہے۔
عریزے ۔۔۔۔عریزے پانی لے کر آؤ بہن کے لئے ۔
عریزے صحن کے چوپائے والے حصے میں جھاڑو لگارہی تھی ۔جھاڑو پھینکتے ہوئے بہن کے پاس آئی۔
ضرور اس چرسی بھنگی کے پیسے کم پڑگئے ہونگے نشے کے لئے۔۔۔ عریزہ نے پانی کا گلاس بہن کو تھماتے ہوئے چھوٹے کو اس کی گود سے اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یار یہ نشہ بہت بری لت ہے ،اللہ تباہ کرے اس کو جو لوگوں میں یہ بیماری پھیلا رہے ہیں، کمپاؤنڈر نے سرنج میں دوا بھرتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا جو پرچی پہ دوائیں لکھتے ہوئے ساتھ ساتھ ضروری ہدایات بھی دیے جارہا تھا ۔
کمپاؤنڈر انجیکشن لگانے کیلئے اس کے قریب آیا ۔۔۔کچھ نشئ لوگوں کی تو آنکھیں بھی بندے کو جیتے جی مار دیتی ہیں اور چہرے پہ نظر گاڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔
ابے او نشئ کے بچے تو بھی نشے میں ہے کیا؟
عریزہ نے کمپاؤنڈر کی نظریں خود میں پیوست ہوتی دیکھ کر خود کو سمیٹتے ہوئے کہا ۔۔۔
زخمی میں نہیں ہوں باجی ہیں ۔اسے لگائیں انجیکشن باجی کا بازو تھامتے ہوئے عریزے نے اپنی چادر درست کی ۔
خواتین مریضوں کے حصے میں عریزے کی کمپاؤنڈر سے نوک جھونک پہ سب ہنسنے لگے۔
ساتھ ہی اس کی حاضر جوابی پہ کمپاؤنڈر نے شہہ ملتے ہی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکراہٹ میں جواب دیا  اور انجیکشن لگاتے ہوئے عریزے کا ہاتھ پکڑا ۔
آپ یہاں سے پکڑیں انجیکشن آپ نے نہیں میں نے لگانا ہے میڈم،
اس سے پہلے کہ عریزے اس کے اس عمل کا رد عمل پیش کرتی اس نے دوسری جگہ اس کا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔
غصہ سے پھنکارتے ہوئے عریزہ بس اس بات کی کڑواہٹ اپنے اندر ہی اندر پی گئی ۔۔۔
سنیں دو دن بعد لیکر آئیے گا انہیں ۔ کمپاونڈر نے اس کی سبزی مائل بھوری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
شاید معاشرے کے جہاں اور بہت سے بھیانک روپ درجہ بدرجہ ہمارے سامنے آتے جاتے ہیں وہیں ان میں ایک گھناؤنا کردار ہسپتالوں کے عملے کا بھی ہے ۔جو ہر ممکن حد تک جا بے جا چھونے سے ہی خود کی تسکین کا سامان کیے رہتے ہیں۔
ایسے رویوں کا سامنا ہماری بہن بیٹیوں کو اکثر گلی گلی کھلے ان عطائی ڈاکٹروں کے کلینکس میں کرنا پڑتا ہے۔جہاں خواتین کے لئے الگ سے کیبنٹ بنایا گیا ہوتا ہے جہاں ساری خواتین مریضوں کو بٹھایا جاتا ہے اور عطائی ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر دندناتے بھیڑیے کی طرح آزاد ہوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں تو شروع دن سے ہی جانتی تھیں کہ باجی کے شوہر آزاد خیال انسان ہیں عیاش آوارہ اور پتہ نہیں کیا کیا ۔
اس نے دوائی کی پرچی میرے سامنے کی اور کہا دیکھو ناں کتنی مہنگی دوائیاں لکھ کر دی ہیں پھر بھی دو دن بعد پھر بلایا ہے ۔
اب دیکھو ناں ہمارے اپنے خرچے کیا کم ہیں جو اس کے بھی اٹھاتے پھریں ۔
عریزہ ۔۔۔بیٹا ایسا نہیں کہتے وہ بیچاری قسمت کی ماری ہے ۔جیسے تو میری بیٹی ہے ویسے وہ بھی میری بیٹی ہے۔کیا ہوا جو شادی ہوگئی ہے ۔
ہاں ہاں بس میری شادی مت ہونے دینا ایسے نکھٹو داماد سے۔
کتنی بے شرم لڑکی ہے تو عریزے ۔۔
اس کی بہن گویا ہوئی ۔۔۔
ہاں باجی اب سکون سے رہو یہاں اور امی کو مناؤ کہ اپنے ٹیڑھے منہ والے بندر جیسے بھتیجے کیلئے میرا خیال دل سے نکال دے۔
اور ہاں اب سے منے کو مجھے دو اور تم جاکر گائے کا چارہ بناؤ۔
عریزے پاگل ہو تم وہ بیچاری کتنی زخمی ہے کس قدر درد اور بخار ہے اسے اور تم ۔۔تم بھی ناں ،قسم سے۔میں نے احساس دلاتے ہوئے کہا۔۔
ارے چھوڑیں ناں ۔۔ابھی رات میں وہ نشئ آئے گا معافی مانگے گا اور بجو میری پھر سے چادر اٹھاکر ہنستی ہوئی چلتی بنے گی اس کے ساتھ۔
ہاں تو ۔۔۔تو کیا چاہتی ہے میں نہ جاوں ؟؟
جیسا بھی ہے اب تو میرا سب کچھ ہے وہ ۔میرے بچوں کا باپ ہے وہ ۔ میرے سر کا تاج ہے وہ ۔۔اس کی بہن ایک ہی سانس میں زخموں کی شدت سے ہونیوالے بخار کی پرواہ کیے بغیر کہے جارہی تھی۔اور میں سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں اللہ نے عورت کو کس مٹی سے بنایا ہے ابھی وہ نشئ شوہر سے مار کھاکر ماں کے پاس آئی، ماں نے پیار سے زخم ٹکور کیے تو یہ شوہر کے ستم ایسے بھولی جیسے کبھی درد سے شناسائی ہی نہ ہو۔حالانکہ گال کا نشان اب بھی وقت کے آئینے میں صاف نظر آرہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے واہ لالا جی ۔۔
آپ نے تو صبح صبح ہی اچھے کام پہ لگادیا عریزے کو۔ میں نے عریزے کو گھاس کا گٹھاباندھتے دیکھا تو اس کے بھائی سے کہا ۔۔
ارے کہاں امی کی لاڈلی ہے ہم کہاں اس سے کام کروائیں گے ۔اس کے بھائی نے پیار سے اس کے سر پہ چپت لگاتے ہوئے کہا،
عریزے مسکرانے لگی۔
تو بتا کہاں گئی تھی ،اس نے گھاس کا گٹھڑ سائیڈ پہ کرتے ہوئے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
میں کنویں پہ کپڑے دھونے گئی تھی، یہاں تمہیں دیکھا تو سوچا باجی کی خیر خبر لے لوں۔
ارے واہ ۔۔ اس نے بات کو کھینچ کر ذومعنی جملے میں بدلتے ہوئے کہا ۔۔
مجھے کہہ دیتی میں بھی دیکھتی کہ شہر کی پڑھی لکھی لڑکیاں گاؤں کے کنویں پر کپڑے دھوتی کیسی لگتی ہیں ۔۔
افففف ارے یار کب تم یہ گاؤں شہر، گاؤں شہر کی بات چھوڑو گی ۔مانا کہ تھوڑی مشکل ہے لیکن ناممکن تو نہیں ناں ۔۔
اسی زمین کی تم بھی ہو اور میں بھی۔۔۔۔
سیکھ جاؤں گی گاؤں کے کام کوشش کررہی ہوں میں کہ کسی کو شکایت نہ ہو۔۔
ویسے منڑے (سہیلی) تمہیں اتنے بڑے  کراچی میں کوئی نہیں ملا تھا جو ان جنگلات اور پہاڑوں کے درمیان آگئیں شادی کرکے ۔
تم تھوڑی سی کوشش کے ساتھ رشتے سے انکار کرکے کسی محل کی رانی بن سکتیں تھیں کسی چیز کی کمی تو نہیں تھی تم میں۔ اور تم اس جنگل میں ۔۔ اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا ۔۔خیر چھوڑو دھل گئے کپڑے؟؟
جی دھل گئے تم گھر ابھی چلو گی یا کام ہے ابھی کھیت میں ؟
میں نے استفسار کیا ،
ارے تم کہو تو ابھی چلی چلتی ہوں، چلو ۔
لالا ،لالا ۔۔ میں گھر جارہی ہوں تمہیں کچھ چاہیے ہو تو بتادو لیتی آونگی دوپہر کو کھانا لاتے وقت۔۔
وہ کھیت کے دوسرے کنارے پہ کھڑے اپنے بھائی سے مخاطب تھی جو کدال سے کھیت کے ایک حصے سے پانی کا رخ دوسری سمت موڑنے میں مصروف تھا ۔
نہیں گُلے(یہ پیار کا نام ہوتا ہے جو اکثر اپنے بہت پیارے کو محبت سے پکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے) کچھ بھی نہیں چاہیے ۔
اور کھانا لے کر تم مت آنا امی کو بھیج دینا۔
عریزہ نے ناک چڑھاتے آنکھیں بھینچتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے دیکھا اور گھاس کا گٹھڑ اٹھاتے ہوئے چلنے کےلئے کہا ۔
کچھ دیر میں ہم اس کے گھر تھے ۔اس کی باجی گھر جانے کے لئے تیار تھی ۔اس نے گھاس کا گٹھڑ پھینکتے ہوئے کہا۔ دیکھا ! کہا تھا ناں اک دن بھی صبر نہ ہوسکے گا ۔۔
ارے چھوڑ عریزہ جانے دے باجی کو اگر یہ بیٹھ گئی تو تُو رہ جائے گی اور تیرا نمبر نہیں آنا پھر۔۔ہاہاہاہا اس کا منجھلا بھائی کہنے لگا ۔۔۔ اور یہ جو تیرے بال ہیں ناں کتنی بار کہا ہے کہ چہرے پہ مت جھولایا کر ۔۔ امی اسے منع کریں کبھی میں نے اس کے بال کاٹ دینے ہیں مجھے نہیں اچھا لگتا اس طرح چہرے پہ بال لٹکا کر پھرتی رہے۔
عریزے تھکن سے پہلے ہی سرخ ہورہی تھی سرخ بھورے بالوں کی لٹیں اس کے چہرے پہ جھول رہی تھیں، اس نے مزید بالوں کو جھٹک کر کہا ۔۔
تم اپنی اپنی بیویوں کو مت لٹکانے دینا چہرے پر بال مجھے مت روکو۔۔امی دیکھو ناں یہ نہ کرو وہ نہ کرو یہ نہ پہنو وہ نہ پہنو اب اس نے رونی صورت بنائی تو اس کی امی بیچ میں بول پڑیں ۔۔ارے بھئ اپنا رونا بند کرو اور اپنی شہری سہیلی کو بٹھاؤ ۔
کیا سوچے گی مجھے کھڑے رکھا ہے اور خود کی لڑائیاں ہی ختم نہیں ہورہیں ۔
آؤبیٹی تم بیٹھو یہاں ۔۔
کیسی ہو باجی ؟ مسکراتے ہوئے میں نے اس کی باجی سے پوچھا ۔۔۔اور جواباً وہ مسکراتے ہوئے گھر جانے کو اٹھی ۔۔
امی میرا زیور سنھبال کر یہیں رکھ دو ۔منو کے ابو جب لڑتے ہیں تو بار بار زیور مانگتے ہیں ۔مجھے ڈر ہے کہیں کسی دن مجھ سے چھپا کر نہ لے جائے ۔
عریزے ایک ایک لفظ کو غور سے سن کر آنکھیں شرارتا گھماتی رہی اور کہنے لگی ۔۔
باجی کیا ہی اچھا ہو جو اک کنگن مجھے دیدو ۔
ہائے پتہ نہیں کب میری قسمت میں بھی کنگن لکھے جائیں گے ۔
اس نے اپنی برف سی سفید بازو سے آستین ہٹاکر اپنی کلائی سے بازو تک کا زاویہ بناکر آنکھوں کے سامنے کیا ۔۔۔۔
واہ اوپر والے جسے کلائیاں دیں اسے کنگن پہنانے والا بھی دیدے ناں ۔۔۔
اس نے کی آنکھوں میں شرارت سے چمک ابھری اور اس کے چہرے پہ رنگ آتے جاتے مجھے نظر آرہے تھے۔۔

جاری ہے

ماریہ خان خٹک
ماریہ خان خٹک
میرا نام ماریہ خان ہے خٹک برادری سے تعلق ہے ۔کراچی کی رہائشی ہوں ۔تعلیم ،بچپن اور دوستوں کے ساتھ سندھ کی گلیوں میں دوڑتی رہی ہوں ۔ کتابوں کے عشق اور مطالعے کی راہداری کو عبور کرکے خود قلم اٹھانے کی لگن ہے ۔طالب دعا ہوں اللہ تعالی قلم کا حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *